امداد امام اثرؔ کی کاشف الحقائق ۔۔۔ امتیاز احمد

امداد امام اثرؔ کی کاشف الحقائق

 

               ڈاکٹر امتیاز احمد

 

 

محمد حسین آزاد کی تصنیف ’’آب حیات‘‘ پہلی بار 1880 میں شائع ہوئی۔ الطاف حسین حالیؔ کی کتاب ’’مقدمۂ شعر و شاعری‘‘ پہلی بار 1893 میں شائع ہوئی اور امداد امام اثر کی کتاب ’’کاشف الحقائق‘‘ پہلی بار 1897 میں شائع ہوئی۔ شبلی نعمانی کی کتاب ’’موازنۂ انیس و دبیر‘‘ پہلی بار 1906 میں شائع ہوئی۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو ’’کاشف الحقائق‘‘ تاریخی اعتبار سے مقدمۂ شعرو شاعری کے بعد اردو تنقید کی دوسری اہم کتاب قرار پاتی ہے۔ مقدمۂ شعر و شاعری کے برعکس یہ کسی دیوان کا مقدمہ نہیں ہے، نہ ہی یہ اپنی شاعری کے Defense میں لکھی گئی ہے۔ بہت واضح الفاظ میں اس کے مقاصد بیان کرتے ہوئے اثرؔ لکھتے ہیں :

’’اس رسالہ کے ملاحظہ سے ناظرین پر روشن ہو گا کہ شاعری کیا شے ہے، اس کی کتنی قسمیں ہیں ؟ ہرقسم کا کیا تقاضا ہے ؟ فطری اور غیر فطری شاعری میں کیا فرق ہے ؟ اور دونوں سے کیا نتائج مرتب ہوتے ہیں ۔ ‘‘                         (کاشف الحقائق۔ ص:۴۸)

اس اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اثرؔ اس کتاب کو نظریاتی تنقید کا نمونہ بنانا چاہتے ہیں ، لیکن درحقیقت یہ نظریاتی تنقید کے ساتھ ساتھ عملی تنقید کا بھی خوب صورت نمونہ ہے۔ اس کتاب میں پہلی بار ہم Criticism اور Criticکی اصطلاحوں سے واقف ہوتے ہیں ۔ اس کے تقاضوں سے واقف ہوتے ہیں ، لیکن اس اصطلاح کا اردو متبادل ہمیں اس کتاب میں نہیں ملتا۔ یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ اثرؔ اردو میں تنقید کا ایک اچھا نمونہ پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ اردو میں ان عناصر کے نہیں ہونے کے شاکی ہیں ۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں :

’’اس وقت تک جو تذکرے فارسی یا اردو کے فقیر کی نظر سے گزرے ہیں ان سے کسی شاعر کے حسن و قبح کلام کا پتہ نہیں لگتا۔ مثلاً کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ خاقانی اور انوری کے قصائد کے امتیازی حسن و قبح کیا ہیں ۔ یا ہلالیؔ اور بیلیؔ کی غزل سرائیوں میں کون شے ممیز کرنے والی ہے۔ اسی طرح اردو کے شعرا کی نسبت کوئی تالیف و تصنیف ایسی نہیں دیکھی جا سکتی کہ مثلاً غالبؔ اور مومنؔ کی غزل کا فرق دکھلائے، یا ان کے کلاموں کے حسن و قبح کو واضح طور پر بتلائے۔ ‘‘ (کاشف الحقائق۔ ص:۲۲-۵۲۰)

لیکن جن مصنّفین نے ایسا کرنے کی کوشش کی ہے وہ ان پر طنز بھی کرتے ہیں :

’’اس زمانہ میں ایک نئی بیماری پیدا ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اکثر ادھورے انگریزی خوانوں کے دماغ میں اس خیال فاسد نے جگہ کر لی ہے کہ ساری خوبیاں یورپ پر ختم ہو گئی ہیں ۔ ایشیا کو خوبی کا کوئی حصہ ملا نہیں ہے۔ ‘‘ (کاشف الحقائق۔ ص:۹۲)

چنانچہ وہ مشرقی اور مغربی ادبیات کے اپنے براہِ راست مطالعہ کی بنیاد پر کچھ اصول و ضوابط مقرر کرتے اور اردو اور فارسی کی الگ الگ اصناف کا مطالعہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

کاشف الحقائق اردو تنقید کی اوّلین اور اہم ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ بعض ناقدین اور محققین نے اسے اردو تنقید کی پہلی کتاب قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کے خیال میں الطاف حسین حالیؔ کی کتاب ’’مقدمۂ شعر و شاعری‘‘ کو اردو کی پہلی تنقیدی تصنیف اس لیے قرار نہیں دیا جا سکتا ہے کہ 1893 میں جب یہ پہلی بار شائع ہوئی اس کی حیثیت ایک خود مکتفی کتاب کی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک دوسری کتاب دیوانِ حالیؔ کا حصہ تھی۔ اس نقطۂ نظر کے ماننے والوں میں پروفیسر احتشام حسین سب سے ممتاز نظر آتے ہیں ۔ ان کے مطابق:

’’شعر و شاعری پر خواجہ الطاف حسین حالیؔ کا مقدمہ ان کے دیوان کے ساتھ پہلی دفعہ 1893 میں شائع ہوا۔ اس کے بعد کسی طرح اسے ایک آزاد اور خود مکتفی تصنیف کی حیثیت حاصل ہو گئی اور وہ برابر دیوان سے الگ شائع ہونے لگا۔ پڑھنے والوں نے بھی ہمیشہ اسے دیوان سے الگ ہی کر کے پڑھا۔ یہاں تک (کہ) بہت سے لوگوں کے لیے وہ دیوان کا مقدمہ نہیں ایک باقاعدہ تنقیدی کتاب ہے۔ جس کی بنیاد پر حالیؔ کو اردو کا پہلا باقاعدہ نقاد تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسے اس کے اصل مقصد یعنی مقدمۂ دیوان کی حیثیت سے دیکھا جائے تو کہہ سکتے ہیں کہ اس کا ناقدانہ پہلو ایک ضمنی حیثیت رکھتا ہے۔ اصلاً مقدمہ محض دیوان کا مقدمہ ہے اور اس کا مطالعہ اسی روشنی میں کرنا چاہیے۔ ‘‘

(عکس اور آئینے از احتشام حسین۔ ص:۱۴۷)

ان کے خیال میں :

’’حالیؔ کا مقصد تنقیدی کی کتاب لکھنا تھا ہی نہیں ۔ وہ تو اپنی شاعری کے سمجھنے اور اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے کچھ ضروری اشارے کر رہے تھے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۱۴۸)

اس کے برعکس امداد امام اثرؔ اپنی کتاب کی ابتدا میں ہی لکھتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ:

’’یہ رسالہ نہ برسبیل تذکرہ لکھا جاتا ہے اور نہ علم عروض سے اس کو کسی طرح کا تعلق ہے۔ اس رسالہ کے ملاحظہ سے حضرات ناظرین پر روشن ہو گا کہ شاعری کیا شے ہے، اس کی کتنی قسمیں ہیں ، ہرقسم کا کیا تقاضا ہے۔ فطری اور غیر فطری شاعری میں کیا فرق ہے اور دونوں کے کیا نتائج مرتب ہوتے ہیں ۔ ‘‘ (کاشف الحقائق۔ ص:۴۸)

اس پوری بحث سے ڈاکٹر محمد خالد سیف اﷲ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ:

’’کاشف الحقائق اردو تنقید کی پہلی باقاعدہ تصنیف ہے۔ ‘‘

(خدا بخش لائبریری جرنل، شمارہ:۱۶۷)

ظاہر ہے ڈاکٹر سیف اﷲ کے اس نقطۂ نظر سے بہت کم لوگوں کو اتفاق ہو گا، لیکن اس بات سے اختلاف مشکل ہے کہ امداد امام اثرؔ کی یہ کتاب اردو تنقید کی اوّلین کتابوں میں سے ایک ہے۔ مقدمۂ شعر و شاعری (1893) اور موازنۂ انیس و دبیر (1906) کے درمیان یہ ایک اہم کڑی (1897) کے طور پر سامنے آتی ہے۔

’’کاشف الحقائق‘‘ اس اعتبار سے خاص طورسے اہم ہے کہ اس کتاب میں پہلی بار رومی شاعر ورجل (Virgil)، ہوریس (Horace)، لوکن (Lucan)، جووینل (Juvenal)، کٹیلس (Katellas)، لکریشنس (Lecretins) اور یونانی شاعروں میں سیفو (Siphu)، پنڈار (Pindar)، اسکائیلس (Aeschylus)، سوفوکلیر (Sophocles)، یوری پیڈیز (Euripides)، ارسٹوفینز (Aristo Phanes) کا ذکر ملتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی اہلِ عرب کی شاعری کا ذکر بھی خاصی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ چنانچہ امراؤالقیس، متنبی، فرزدق، زہیر وغیرہ کی شاعری کے بہ کثرت نمونے موجود ہیں ۔ اسی کے ساتھ ان عربی شاعروں کے کلام کا فارسی اور اردو شاعری سے بھی موازنہ کیا گیا ہے۔

کتاب کا دوسرا حصہ فارسی شاعری کے ذکر سے شروع ہوتا ہے، چنانچہ اس حصہ میں حافظؔ، سعدیؔ، جامیؔ، فغانیؔ، خسروؔ، اہلی شیرازی، علی قلی خاں میلی، ابوطالب کلیم، شیخ علی حزیں ، صائبؔ وغیرہ شعرا کی غزل گوئی کا بہت تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ قصیدہ میں بھی رودکیؔ، فردوسیؔ، سنائیؔ، انوریؔ، خاقانیؔ، سعدیؔ، عرفی شیرازی، قاآنی وغیرہ کی قصیدہ گوئی کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا گیا ہے۔ قطعہ کے ذیل میں فارسی قطعہ نگاروں میں ابن یمین، سعدی، فردوسی، نظامی، سنائی اور غالب کی قطعہ نگاری زیرِ بحث آئی ہے۔ رباعی گوئی میں فردوسی، رومی، خاقانی، انوری، عمر و خیام، سعدی، وغیرہ کا اور مثنوی نگاری میں شاہنامۂ فردوسی، مثنوی مولانا روم اور سعدی کی مختلف مثنویوں کا ذکر ملتا ہے۔

جہاں تک اردو شاعری کا ذکر ہے چوں کہ اثرؔ نے دوسری جلد کا پہلا عنوان فارسی اور اردو شاعری کی ہم مذاقی کو بنایا ہے۔ اس لیے غزل کے ذکر میں فارسی غزل کے ساتھ اردو غزل، قصیدہ کے ذکر میں فارسی قصیدہ کے ساتھ اردو قصیدہ، مثنوی کے ذکر میں فارسی مثنوی کے ساتھ اردو مثنوی، اسی طرح رباعی اور قطع وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔

چنانچہ اردو غزل کے ذکر میں ولی دکنی، مرزا رفیع سودا، خواجہ میر درد، میر تقی میر، مومن خاں مومن، خواجہ حیدر علی آتش، ذوق دہلوی، غالبؔ، ناسخؔ اور رند وغیرہ کا اس طرح ذکر کیا ہے کہ اردو غزل کی مختصر تاریخ بیان ہو گئی ہے۔ قصیدہ میں فارسی قصیدہ نگاروں کے ساتھ اردو قصیدہ نگاروں میں سوداؔ کا ذکر خاصی تفصیل سے کیا ہے۔ اردو کے رباعی گو شعرا میں دردؔ، انیسؔ، دبیرؔ اور مومنؔ خاں کا ذکر ہوا ہے۔ اردو مثنویوں میں مثنوی گلزار نسیم اور سحرالبیان کا خاص طورسے ذکر ہوا ہے۔ مرثیہ میں انیس اور دبیر کے مرثیوں پر تفصیلی گفتگو ملتی ہے۔

بعض ناقدین نے بجا طور پر اس کتاب کو تقابلی تنقید کا نمونہ قرار دیا ہے۔ مختلف فن کاروں اور فن پاروں کا مطالعہ کرتے ہوئے امداد امام اثر بار بار ان فن کاروں اور فن پاروں کا ان کے ہم پایہ یا ملتے جلتے فن کاروں اور فن پاروں سے مقابلہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ کبھی کبھی یہ مقابلے ایک ہی زبان کے فن کاروں اور فن پاروں کے درمیان ہوتے ہیں اور کبھی کبھی یہ دو مختلف زبانوں کے فن کاروں اور فن پاروں کے درمیان۔ چنانچہ ایک جگہ میرحسن کی مثنوی نگاری کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’واقعی میرحسن عجب حیرت انگیز شاعر گزرے ہیں کہ معاملات خارجی و داخلی دونوں کے بیانات پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔ لاریب شیکسپیئر کو معاملات ذہنی کے بیان کی لاجواب قدرت ہے مگر معاملات خارجی کی مصوری میرحسن کے برابر شاعر گرامی نہیں کر سکتا۔ راقم الحروف کی دانست میں اس قدرت کے اعتبار سے میرحسن کو شیکسپیئر پر یقینی ترجیح ہے۔ ‘‘ (کاشف الحقائق۔ ص:۶۵۶)

ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں :

’’امور خارجیہ کا بیان اس ستھرے پن کے ساتھ شیکسپیئر کے کسی پلے میں نظر نہیں آتا ہے۔ صرف سروالٹراسکاٹ ’لیڈی آف دی لیک‘ میں تو البتہ مرقع نگاری دیکھی جاتی ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۶۳۰)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں :

’’بے نظیر کے کنویں میں بند ہونے کے مضامین بھی نہایت شاعرانہ خوبیاں رکھتے ہیں اور اس عاجز کی دانست میں ملا جامی علیہ الرحمہ کے بیان قید چاہ سے جو اُن کی مثنوی یوسف زلیخا میں پایا جاتا ہے زیادہ حسن شاعرانہ رکھتے ہیں ۔ ‘‘ (ایضاً۔ ۶۲۷)

ایک جگہ مثنوی میں پری اور پرستان کے ذکر کے حوالے سے لکھتے ہیں :

’’داستان میں حضرت مصنف پری اور پرستان کا ذکر فرماتے ہیں ۔ یہ ظاہر ہے کہ واقعات کی رو سے کوئی ایسا معاملہ کسی بنی آدم کو پیش نہیں آیا ہے۔ تاریخ و سیر آثار و اخبار وغیرہ میں کہیں نہیں دیکھا جاتا ہے کہ کسی نے کبھی پری دیکھی ہو یا کوئی پری کبھی آدمی کو پرستان میں اُڑا لے گئی ہو۔ اس طور کے غیر معمولی بیانات صرف فسانہ اور شاعری کی تصانیف میں دیکھے جاتے ہیں ، لیکن ایسے بیانات کو غایت شائستگی کی بنیاد پر مذموم نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ بیانات اس غرض سے حوالۂ قلم نہیں کیے جاتے ہیں کہ لوگ انھیں قرین واقعات سمجھیں ۔ ان سے مجرد فسانہ گوئی اور شاعری کی غرضیں متعلق رہتی ہیں ۔ ہر خواندہ آدمی جانتا ہے کہ ایسے بیانات فسانہ نگاروں اور شعرا کی قوت تخیل کے نتائج ہوتے ہیں ۔ کون آدمی ہے جو شیکسپیئر کے اس پلے کو پڑھ کر جس کا نام ’’مڈسمر نائٹس ڈریم‘‘ ہے یہ نہیں سمجھتا ہے کہ اس میں پریوں کا جو ذکر ہے وہ مجرد اس شاعر عدیم المثال کی قوت تخیل کا نتیجہ ہے یا ’’ہیملٹ‘‘ میں جو بھوت کا مذکور ہے وہ شاعرانہ بیان نہیں ہے، یا ’’ایلیڈ‘‘، ’’اینیڈ‘‘ وغیرہ میں جو کثرت کے ساتھ دیوتاؤں کی کارروائیاں اور دیگر عجائبات مندرج ہیں سب کے سب ایسے ایجاد شاعرانہ نہیں ہیں کہ جن کو اس وقت میں کوئی شخص امور واقعی مانتا ہے۔ اسی طرح الف لیلہ میں جو پریوں کی حکایات ہیں وہ تخیلی بیانات نہیں ہیں ۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۶۰۹۔ ۶۱۰)

’’راقم کی دانست میں میر صاحب (میرانیس) کی کیرکٹر نگاری ہومر کی کیرکٹر نگاری سے بڑی معلوم ہوتی ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۶۸۹)

’’ان تینوں شعرائے نامی یعنی ہومر، ورجل اور فردوسی میں صرف ابو الشعرا  ہومر ہی ہے جس کے ساتھ میر صاحب (میرانیس) کا موازنہ صورت رکھتا ہے۔ ورنہ ورجل جو ہومر کا متبع ہے میر صاحب کا ہرگز ہم پایہ قرار نہیں دیا جا سکتا، اور نہ ہم پائیگی کا استحقاق فردوسی کو حاصل ہے۔ میر صاحب کو فردوسی ہند کہنا بے شک میر صاحب کی ایک بڑی ناقدرشناسی ہے۔ حضرات ناظرین، راقم کے اس ریویو پر نظر ڈالیں جسے اس نے کتاب شاہنامہ پر سابق میں لکھا ہے۔ تب طالبان تحقیق پر روشن ہو جائے گا کہ فردوسی میں اور میر صاحب میں کیا فرق حائل ہے۔ میری دانست میں ہومر ایک بڑا رزمی شاعر تھا، لیکن اگر ہومر سیرتھے تو میر صاحب سوا سیر تھے، یا یہ کہ میر صاحب کو سبجیکٹ یعنی شاعری کا موضوع ایک ایسا واقعہ بزرگ ہاتھ لگا ہے کہ جس کا جواب دنیا میں نظر نہیں آتا ہے۔ اس واقعۂ عظیم کے ساتھ واقعہ ٹرائی کو کوئی نسبت حاصل نہیں ہے۔ شاہزادہ ٹرائی کا قصہ ایک نایاب قصہ ہے اور ہر گونہ قابلِ نفرین ہے۔ یہ ہومر ہی کی قابلیت شاعری تھی کہ جس نے اسے قابلِ توجہ بنادیا ہے۔ ورنہ شاہزادہ ٹرائی کے قصے میں کوئی ایسی عظمت کی بات نہیں پائی جاتی ہے جس کی طرف اہلِ مذاق کو کسی طرح کی رغبت خاص پیدا ہوسکے۔ برخلاف اس کے کربلا کا معاملہ ہے کہ نہایت اعلیٰ درجہ کے امور دین، امور اخلاق، امور تدبیر المنزل اور امورسیاست مدن وغیرہ پر مشتمل ہے۔ ایسے معاملات کی طرف توجہ کرنا ہر دین دار، ہر ذی علم، ہر حکیم، ہرفلسفی کا کام ہے۔ یہ واقعہ معاملات عالم کی تمام خوبیوں کا خلاصہ ہے۔ پس کچھ تعجب نہیں اگر میر صاحب کی شاعری کو اس طرح کے ارفع مضامین نے ایک بے قیاس مدد دی ہے جس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک عمدہ سبجیکٹ کے دستیاب ہونے سے میر صاحب ہومر سے سواسیر معلوم ہوتے ہیں ۔ ‘‘ (ایضاً۔ ۶۸۹)

اسی طرح انیس اور ملٹن کی کردار نگاری کا موازنہ کرتے ہوئے اثرؔ لکھتے ہیں :

’’کیرکٹر نگاری کی بحث راقم نے شاہنامہ کے لگاؤ میں کی ہے۔ فردوسی کی کیرکٹر نگاری کا نقص دکھلایا جا چکا ہے۔ اسی کے ساتھ ہومر کی کیرکٹر نگاری کی خوبیاں بھی نہ صرف شاہنامہ کے لگاؤ سے دکھلائی جاچکی ہیں بلکہ خود ہومر کے شاعری کے بیان میں حوالۂ قلم ہو چکی ہیں ۔ لاریب ہومر کی کیرکٹر نگاری بہت اعلیٰ درجہ کی ہے اور ایسی ہی ہے کہ اس کی کیرکٹر نگاری کی بنیاد پر ڈراما جیسی صنف شاعری کا ایجاد ظہور میں آیا۔ اب ہم میرانیس کی کیرکٹر کی خوبیوں کو عرض کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ خوبیاں دشوار پیرایہ رکھتی ہیں اور میر صاحب کی بڑی قابلیت شاعری سے خبر دیتی ہیں ۔ یوں تو میر صاحب کی کیرکٹر نگاری بھی ایجاد ڈراما کے باعث ہوسکتی تھی اگر دنیا میں ڈراما کو وجود نہیں ہوا ہوتا۔ مگر میر صاحب کی کیرکٹر نگاری کی بڑی دشواری یہ ہے کہ میر صاحب کو اپنی کیرکٹر نگاری میں معاملات روحانیہ کو پیش نظر رکھنا پڑا ہے۔ معاملات روحانیہ کا التزام کوئی آسان کام نہیں ہے۔ میر صاحب کے کیرکٹرس وہ اشخاص گرامی ہیں جو واقعہ کربلا سے تعلق رکھتے ہیں ۔ شاہنامہ اور ایلیڈ کے رستم و گیویاہکٹرواکلینر نہیں ہیں ۔ یہ وہ حضرات ہیں کہ امام من جانب اﷲ اور عزیزان و پیروان امام من جانب اﷲ ہیں ۔ یہ سب کے سب ایسے ہیں جو دنیا کو ایک ذلیل شے جانتے اور حیات و ثروت دنیا کو خس برابر نہیں سمجھتے ہیں ۔ ان کے دل توحید و عدل و معرفت کے انوار سے روشن ہیں اور کفر و ظلم و حرص و ہوا کی ظلمتوں سے تمام تر پاک ہیں ۔ یہ سب کے سب ایسے ہی ابرار ہیں کہ معاد و آخرت کے خیالات کے سوا کوئی اس دنیا کا خیال ان کا مرکوز خاطر نہیں ہوسکتا۔ تمام صفات روحانیہ سے متصف ہیں اور ایسے ہی ہیں کہ اپنے کمالات باطنی کے ذریعے سے فعلاً و قولاً دین محمد کو حق ثابت کر سکے ہیں ۔ ملٹن کی رزمی تصنیف جو ’’پیراڈائزلوسٹ‘‘ کے نام سے مشہور ہے ہرچند معاملات عالم بالا سے سراسر تعلق رکھتی ہے مگر روحانی لغزشوں سے خالی نہیں ہے۔ ملٹن نے اس تصنیف نامی میں دکھلایا ہے کہ خدائے تعالیٰ سے شیطان نے کس طرح بغاوت کی، اور نافرمانی سے کس طرح وہ لعین قعر دوزخ میں ڈالا گیا۔ پھر اپنی دریافت کو لے کر اس عاقبت برباد نے کیوں کر خدائے تعالیٰ کے لشکر ملائکہ سے مقابلہ کیا اور کس طرح پر لشکر خدا کو اس نے شکست دی۔ مگر میری دانست میں یہ شاعر نامی اپنی تصنیف گرامی میں شان خداوندی کو اس شکست کے بعد قائم نہیں رکھ سکا ہے۔ ملٹن لکھتے ہیں کہ شیطان نے زمین کے اندر بیٹھ کر لوہے نکالے اور توپیں ڈھالیں اور بارود ترکیب دی۔ جب لشکر ملائکہ سے صف آرائی ہوئی تو اس نے جبریل و میکائیل اور دیگر ملائکہ پر ایسی گولہ باری کی کہ سارے ملائکہ سخت زخمی ہو گئے اور گولیوں کے صدمے سے یہ کیفیت گزری کہ غیر مقرب ملائکہ مقرب ملائکہ پر چوٹ کھا کھا کر گرے۔ بالمختصر لشکر ملائکہ کو سخت ہزیمت نصیب ہوئی۔ جب اس شکست کی خبر خدائے تعالیٰ کو ہوئی تو خدائے تعالیٰ کو سخت تشویش دامن گیر ہوئی۔ جناب باری کو اس کا یقین ہو گیا کہ شیطان اس ذات پاک اور جمیع ملائکہ کو آسمانی مقامات سے نکال پھینکے گا۔ اس حالت بے چارگی میں خدائے تعالیٰ کو چین نہیں آتا تھا۔ حضرت جلّ شانہٗ کو شیطان کے غضب سے بچنے کی کوئی تدبیر نہیں سوجھتی تھی۔ بالآخر حالت پریشانی میں خدا صاحب اپنے اکلوتے بیٹے حضرت مسیح کے پاس تشریف لے گئے اور خدا زادے سے (نعوذ باﷲ) شکست فوج ملائکہ اور اپنی بے بسی کا معاملہ کہہ سنایا۔ خدا زادے نے اپنے پدر محترم کی پریشانیوں کے حالات سن کر نہایت تشفی بخش کلمات فرمائے جس سے فی الجملہ خدا صاحب کو تسکین کی صورت پیدا ہو گئی۔ اس کے بعد خدا زادے ایک تخت نور پر سوار ہو کر شیطان سے مقابلے کو تشریف لے گئے اور شیطان کو شکست فاش دی۔ مصرع اگر پدر نتواند پسر تمام کند۔ ہرچند ’’پیراڈائزلوسٹ‘‘ ایک ایسی تصنیف ہے کہ جس کو تمام تر روحانیت سے تعلق ہے۔ مگر ظاہراً اس کتاب کے بعض معاملات روحانیہ کچھ ایسی بد ترکیبی سے حوالۂ قلم ہوئے ہیں کہ دل میں عظمت پیدا کرنے کے عوض طبیعت کو ان سے تنفر پیدا ہوتا ہے۔ لاریب ملٹن کے بیانات بالا نہ صرف عزت و جبروت خداوندی کو کم کر دینے والے نظر آتے ہیں بلکہ اپنے ابتذالی انداز سے بے حد محقر اور مضحک بھی دکھائی دیتے ہیں ۔ برخلاف اس کے میر صاحب کے بیانات ہیں کہ جس سے خدائے تعالیٰ کی تمجید و تقدیس کی ایسی شکل قائم ہوتی ہے کہ شان کبریائی پیش نظر ہو جاتی ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۶۹۴۔ ۶۹۵)

ظاہر ہے 1897-98 میں اردو میں یہ باتیں بالکل نئی تھیں ۔ تقابلی تنقید کا یہ انداز ابھی رائج نہیں ہوا تھا۔ مغرب سے واقفیت مرعوبیت کی حد تک تھی اور نوآبادیاتی اثرات کے تحت تھی۔ اسی لیے اثرؔ کے یہاں اس نوآبادیاتی مرعوبیت پر کبھی کبھی جھنجھلاہٹ اور غصہ بھی نظر آتا ہے اسے ہم Anti-Colonial اثرات بھی کہہ سکتے ہیں اور کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے، کی کش مکش بھی۔ (ایضاً۔ ص:۶۸۳۔ ۶۱۰)

حالیؔ اور شبلی کی طرح اثرؔ بھی اخلاقی نقطۂ نظر کے حامل نظر آتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی وہ نیچرل شاعری کے علم بردار ہیں اور بار بار اس کا ذکر کرتے ہیں ۔ وہ شاعری کو داخلی اور خارجی کے خانوں میں تقسیم کرتے ہیں اور بعض اصناف کو داخلی شاعری کے خانے میں اور بعض دوسری کو خارجی شاعری کے خانے میں رکھتے ہیں ۔ اسی طرح وہ شعر و ادب کی افادیت کے بھی قائل نظر آتے ہیں اور اپنے دوسرے بڑے ہم عصروں حالیؔ اور شبلیؔ کی طرح مبالغہ کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ وہ صنائع اور بدائع کو بھی ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پست خیالی کو سخت عیب سمجھتے ہیں ۔

رعایت لفظی کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ:

’’رعایت لفظی بجائے خود کوئی شے نہیں ہے، اور شاعری سے اس کو کوئی تعلق ضروری نہیں ہے۔ اگر بے تکلف کسی شعر میں رعایت لفظی کی صورت پیدا ہو جائے تو ایسی رعایت لفظی خالی از لطف متصور نہیں ہے۔ مگر بہ تکلف رعایت لفظی کا التزام صرف ناپسندیدہ ہی نہیں بلکہ سچی شاعری کے بہت منافی ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۸۹)

اسی طرح شوکت لفظی کی بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’بعض اشخاص معاملات فطرت سے ناواقف رہنے کے باعث مجرد شوکت لفظی کو شاعری سمجھنے لگتے ہیں ، اور اسی غلط خیال میں ہمیشہ مبتلا رہ جاتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ مجرد شوکت لفظی کوئی شے نہیں ہے۔ شاعری زنہار شوکت لفظی نہیں ، شاعری کا مدار خوش خیال پر ہے نہ کہ شوکت لفظی پر۔ شاعری کی جان خوش خیال ہے۔ شوکت لفظی شاعری کا جزو بدن نہیں ہے، البتہ شوکت لفظی خلعت فاخرہ کا حکم رکھتی ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۸۷)

’’اس میں شک نہیں کہ اگر موقع کی شوکت لفظی ہوتی ہے تو اس سے شاعری میں ایک دبدبہ پیدا ہوتا ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۸۷)

’’بے موقع شوکت لفظی نہایت نا مطبوع امر ہے۔ اس لیے قابلِ حذر ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۸۸)

اخلاقی نقطۂ نظر کے سلسلہ میں اثرؔ نے باقاعدہ ’’معاملاتِ اخلاق‘‘ کا عنوان قائم کیا ہے۔ اس کے ذیل میں لکھتے ہیں :

’’بدانست راقم شاعری سے کوئی قوی تر آلہ اخلاق آموزی کا دوسرا نہیں ہے … لاریب شاعری بہترین ذریعہ اخلاق آموزی کا ہے۔ بغیرسچی شاعری کے انسان کے قوائے اخلاقیہ ترقی نہیں کر سکتے۔ شاعری میں فلسفہ اخلاقی ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۱۰۰)

’’واضح ہو کہ انسان کی طبیعت سے خشونت رفع کرنے کا وسیلہ شاعری سے بہتر کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے۔ شاعری مزاج انسانی میں عجیب ملابست پیدا کرتی ہے جن کو شاعری کا مذاق صحیح ازروئے فطرت حاصل رہتا ہے، ان کی طبیعت تو یقیناً خشونت سے پاک واقع ہوا کرتی ہے۔ بلاشبہ شاعری خراط کا کام کرتی ہے۔ کندۂ  نا تراش کو بھی چھیل چھال کر درست کر دیتی ہے۔ یہ بات عند التجربہ پایۂ ثبوت کو پہنچی ہے کہ جن کی خلقت میں صفات حمیدہ بہ سبیل فطرت داخل ہیں ۔ بلاشبہ شاعری کا مذاق صحیح ان کی خلقی خوبیوں کو فزوں کر دیتا ہے، اور جب ناہموار مزاجوں پر شاعری اپنا اثر کچھ نہ کچھ پیدا ہی کرتی ہے تو کیا تعجب ہے کہ اچھوں کو اس سے حسب مراد نتائج مرتب ہوں ۔ ‘‘

(ایضاً۔ ص:۱۰۲)

چنانچہ مثنوی میرحسن کی مبالغہ سے تعریف کرنے کے باوجود جہاں اخلاقی معاملات کا بیان آتا ہے اثرؔ میرحسن کی گرفت بھی کرتے ہیں ۔ لکھتے ہیں :

’’یہ ایک اسلامی شاہزادہ اور شاہزادی کی کہانی ہے۔ وصل قبل از نکاح چہ معنی؟ یہ طور زنان بازاری کے سوا اور کس کا ہوسکتا ہے ؟ کسی شریف طبقہ کی ناکد خدا لڑکی تو اس طرح کا فوری وصل گوارا نہیں کر سکتی۔ یہ داستان مثنوی زہر عشق وغیرہ کا اخلاقی انداز رکھتی ہے۔ فرق اسی قدر ہے کہ اس کے بیانات فطرت خوبیوں سے خالی نہیں ہیں ۔ خوب ہوتا اگر میرحسن اس داستان میں انتظار وصل کو دکھاتے اور محبت کی پختگی کی تدریجی حالتوں کو بیان کرتے۔ اس سے داستان کی وقعت بڑھ جاتی۔ اس فوری وصل نے بدر منیر اور بے نظیر کو بے وقر کر دیا۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۶۲۴)

’’اس داستان کے انداز بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بدر منیر اور بے نظیر کی طرح فیروز شاہ اور نجم النساء بھی ناجائز طور پر زن و شوہر کی طرح رہنے لگے۔۔۔۔۔ اس وضع کی مواصلت کسی مذہب میں جائز نہیں ہے۔ بے شک اخلاقی پایہ سے یہ بیان گرا ہوا نظر آتا ہے۔ بہت خوب ہوتا اگر حضرت مصنف نے ان دونوں عورتوں کا قبل از نکاح کنواری حالت میں قائم رہنا بیان فرمایا ہوتا۔ کہانی کے پہلو کو بدل دینے سے یہ لغزش ظہور میں نہیں آتی۔ موجودہ صورت میں اس کہانی کی ایسی ناجائز مواصلت کے باعث معیوب و زشت نظر آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ناجائز مواصلت کے بیانات سے یہ مثنوی بدنام ہو گئی ہے … اگر حضرت مصنف نے بدر منیر اور نجم النساء کو صرف مبتلائے عشق دکھایا ہوتا اور قبل از نکاح آلودہ مواصلت نہ بیان کیا ہوتا تو اس کہانی کا روحانی پہلو بہت ترقی کر جاتا … افسوس ہے کہ بدر منیر اور نجم النساء کے بے نظیر اور فیروز شاہ کے ساتھ ایسی مواصلت دکھائی گئی ہے۔ ‘‘      (ایضاً۔ ص:۶۵۴۔ ۶۵۵)

’’مثنوی کی کہانی جو بے نظیر اور بدر منیر کی ملاقات پر مشتمل ہے اخلاقی تنزل سے خبر دیتی ہے۔ ‘‘

(ایضاً۔ ص:۶۱۵)

’’حضرت مصنف نے اپنے اس طرح کے بیان کی رو سے اس اخلاقی تنزل کی تصویر کھینچی ہے جو عہد محمد شاہ بادشاہ دہلی کی عیاشیوں کا نتیجہ کہا جا سکتا ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۶۱۵)

’’بدر منیر کا ایسا فوٹو کھینچا گیا ہے کہ شرفا کی ناکد خدا لڑکیاں یا شرفا کی عورتیں خدانخواستہ اس طرح کی ہوہی نہیں سکتیں ۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۶۱۵)

امداد امام اثرؔ شاعری کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’یہ رضائے الٰہی کی ایسی نقل ہے جو الفاظ بامعنی کے ذریعے سے ظہور میں آتی ہے۔ رضائے الٰہی سے مراد فطرت اﷲ ہے اور فطرت اﷲ سے مراد وہ قوانین فطرت ہیں جنھوں نے حسبِ مرضی الٰہی نفاذ پایا ہے، اور جن کے مطابق عالم درونی و بیرونی نشوونما پائے گئے۔ پس جاننا چاہیے کہ اس عالم درونی و بیرونی کی نقل صحیح جو الفاظ بامعنی کے ذریعے عمل میں آتی ہے وہ شاعری ہے۔ ‘‘

(ایضاً۔ ص:۸۰)

وہ شاعری کو عبادت کا درجہ دیتے ہیں ۔ چنانچہ لکھتے ہیں :

’’جو شے درحقیقت حکم شاعری کا رکھتی ہے وہ بجائے خود عبادت ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۴)

شاعری کے مختلف مدارج کا بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں :

’’وہ شے جسے عوام شاعری کہتے ہیں اور جس کا تقاضا یہ ہے کہ قوائے شہوانیہ کو حرکت میں لائے، نفس کو بدی کی طرف مائل کرے اور انسان کو ارتکاب معصیت پر آمادگی دلائے وہ زنہار شاعری نہیں ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۴)

امداد امام اثرؔ شاعری اور موسیقی اور شاعری اور مصوری کے رشتے سے بھی بحث کرتے ہیں ۔ لکھتے ہیں :

’’سچی موسیقی جو ایک قسم کی شاعری ہے نہایت پُر تاثر شے ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۴)

وہ موسیقی اور غنا میں فرق کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’وہ شے جسے عوام موسیقی کہتے ہیں اور جس سے نفس حرام کاری، فسق و فجور رندی، اوباشی وغیرہ کی طرف مائل ہو جاتا ہے وہ زنہار موسیقی نہیں ہے۔ وہ درحقیقت غنا ہے اور یہ وہی شے ہے جسے اہلِ تقویٰ اَشدُّ من الزنا سمجھتے ہیں ۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۴)

وہ موسیقی کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں :

’’سنگ دلی اس سے دور ہوتی ہے۔ مزاج میں رحیمی آتی ہے۔ صبر و رضا کی صفتیں پیدا ہوتی ہیں ۔ خیال ایذارسانی اور حق تلفی کا دور ہوتا ہے۔ اپنی بے حقیقی، بے چارگی، بے مائیگی، ہویدا ہو جاتی ہے۔ میلان شروفساد جاتا رہتا ہے۔ انکسار، تحمل، فروتنی، عجز، مروّت، حق پسندی، وفاداری، بے غرضی، سیرچشمی، شجاعت، مردانگی، محبت، دردمندی، خلوص اور بھی دیگر صفات حمیدہ دل میں جگہ کرتے ہیں ۔ خشونت، رعونت، عداوت، خودشناسی، خود غرضی، تکبر، تشنج وغیرہ وغیرہ جو رذیل کیفیات بشریہ ہیں ان کی اصلاح ممیز طورسے ظہور میں آتی ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۴)

اسی طرح مصوری اور شاعری کا تعلق بیان کرتے ہوئے اثر لکھتے ہیں :

’’جو جو امور صحیح مذاق شاعری کے لیے درکار ہیں وہی امور صحیح مذاق مصوری کے لیے بھی درکار ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ مصوری اور شاعری میں اسی قدر مجانست ہے کہ جب انسان کا مذاق مصوری صحیح ہوتا ہے تو شاعری کا مذاق بھی درست ہوتا ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۷۹)

بلکہ تعلق سے ایک قدم آگے جا کر وہ اسے شاعری کی قسم ہی قرار دے دیتے ہیں ۔ لکھتے ہیں :

’’یہ بھی ایک قسم شاعری کی ہے اور جیسا کہ راقم اس کی تعریف لکھ چکا ہے یہ فن بھی رضائے الٰہی کی نقل صحیح ہے۔ صرف فرق یہی ہے کہ یہ نقلِ نقوش اور قلم کاریوں کے ذریعہ سے ظہور میں آتی ہے۔ صفحۂ کاغذ کے یا کاغذ کی ایسی مسطح اشیا پر جو اظہار اس فن کا کیا جاتا ہے اسے مصوری کہتے ہیں ۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۶۶)

امداد امام اثرؔ شاعری کی تقسیم مضامین کے اعتبار سے کرتے ہیں ۔ وہ کائنات اور اشیائے کائنات کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔ ایک کو وہ عالم مادی کا نام دیتے ہیں اور دوسرے کو عالم غیر مادی کا۔ پھر اسی بنیاد پر مضامین شاعری کی بھی تقسیم کرتے ہیں ۔ لکھتے ہیں :

’’پس جب عالم دو نہج پر واقع ہے یعنی مادی اور غیر مادی تو مضامین بھی جو اُن سے متعلق ہوں گے ضرور ہے کہ ہم رنگ نہ ہوں ۔ چنانچہ حقیقت حال بھی یہی ہے کہ جو مضامین اشیائے فی الخارج سے تعلق رکھتے ہیں اُن کا رنگ جدا ہے، اور (جو) امور ذہنیہ سے متعلق ہیں اُن کی کیفیت کچھ علاحدہ ہے۔ اسی فرق رنگ کے اعتبار سے شاعری دو قسم پر تقسیم پاتی ہے۔ یعنی شاعری متعلق عالم خارج جسے بہ زبان انگریزی آبجکٹیو (Objective) کہتے ہیں اور شاعری متعلق بہ عالم ذہن جسے بہ زبان انگریزی سبجیکٹو (Subjective) کہتے ہیں ۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۸۳۔ ۸۴)

سرسید اور ان کی تحریک کے علم برداروں کی طرح اثرؔ بھی نیچرل شاعری کے علم بردار نظر آتے ہیں ۔ چنانچہ وہ بار بار فطری شاعری کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں ۔ میرحسن اور ان کی مثنوی کے ذکر میں لکھتے ہیں :

’’فقیر کی دانست میں فارسی اور اردو کے کسی مثنوی نگار نے میرحسن کے برابر فطرت نگاری کا لطف نہیں دکھلایا ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۸۹)

’’واقعی میرحسن کی فطرت نگاری بڑے غضب کی ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۹۸)

’’حضرت مصنف بڑے نیچرل شاعر تھے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۶۱۶)

’’واقعی فطرت نگاری حضرت مصنف پر ختم ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۶۲۱)

’’ذیل کا سین نہایت فطری رنگ رکھتا ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۶۲۲)

’’واقعی حضرت مصنف بڑے نیچرل شاعر ہیں ۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۶۵۰)

’’ظاہر ہے یہ وہ چیز نہیں ہے جسے شبلی خوش رنگ اور رنگ برنگ کے پھولوں کی تصویر کھینچنے سے تعبیر کرتے ہیں ۔ ‘‘ (شعر العجم جلد اوّل۔ ص:۴۶)

اس فطرت نگاری کی مختلف شقوں کا ذکر کرتے ہوئے اثرؔ لکھتے ہیں کہ:

’’اوّل یہ کہ اس کی زبان فطری سلانست رکھتی ہے۔ ‘‘ (کاشف الحقائق۔ ص:۵۸۹)

’’دوم یہ کہ جو قصہ منظوم کیا گیا ہے اس کے اجزا تناسب کے اعتبار سے خوب ہیں ۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۸۹)

’’سوم یہ کہ تشبیہات و استعارات فطری انداز رکھنے کے باعث مخالف مذاق صحیح نہیں ہیں ۔ ‘‘

(ایضاً۔ ص:۵۸۹)

’’چہارم یہ کہ مبالغے اناپ شناپ نہیں ہیں ۔ ان کا اعتدال ایسا ہے کہ سچّی شاعری کے منافی نہیں ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۸۹)

’’پنجم یہ کہ رسم و رواج ملک کے بیانات بڑی صحت کے ساتھ حوالۂ قلم ہوئے ہیں ۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۸۹)

’’ششم یہ کہ جو سین یعنی معاملۂ خارجی بیان ہوا ہے تصویر کا حکم رکھتا ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۸۹)

’’ہفتم یہ کہ تمام امور ذہنیہ اور واردات قلبیہ پیرایۂ شاعری میں بڑی راستی اور پُر تاثیری کے ساتھ زیب رقم ہوئے ہیں ۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۸۹)

’’ہشتم یہ کہ ہرجزو قصہ کچھ نہ کچھ اخلاقی یا تمدنی نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۸۹)

’’نہم یہ کہ تمام امور ذہنیہ و معاملات خارجیہ کے بیانات فطری اسلوب رکھتے ہیں ۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۸۹۔ ۵۹۰)

ایک دوسری جگہ مذکورہ نکات کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے :

’’ان کی تشبیہات کے اس قدر مطبوع ہونے کا ظاہراً سبب یہی معلوم ہوتا ہے کہ تشبیہات میں بھی وہ فطرت کی راہ سے انحراف نہیں فرماتے ہیں ۔ یہ ایک خاص بات ہے جو ہر شاعر کو نصیب نہیں ہوتی۔ دوم یہ کہ ان کے استعارات اُن کی تشبیہات کی طرح فطری انداز کے ہوتے ہیں ، اور کبھی احاطۂ فطرت سے باہر نہیں جاتے۔ سوم یہ کہ ان کی مبالغہ پردازی جادۂ فطرت سے دور نہیں پڑتی ہے۔ اس لیے ان کے مبالغے مبالغہ کی طرح نفرت انگیز نہیں ہوتے۔ چہارم یہ کہ سلسلۂ بیان ایسا فطری ہوتا ہے کہ نفس دین کو اس سے آسائش نصیب ہوتی ہے۔ پنجم ہے کہ کلام میں ہر جگہ تناسب موجود ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۶۰۷)

اسی طرح واسوخت کے ذیل میں لکھتے ہیں :

’’اس کے جتنے مضامین ہیں غیر فطری، مہمل اور ناپاک ہیں ۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۶۸۲)

یہی نہیں عرفیؔ کا ذکر کرتے ہوئے ایک شعر کی تعریف میں لکھتے ہیں :

’’یہ ایک نیچرل تعریف گھوڑے کی ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۲۱۲)

اسی سلسلہ میں میرانیس کے یہاں پائی جانے والی گھوڑے کی تعریف کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

’’جہاں انھوں نے گھوڑے کی تعریف لکھی ہے ایسی نیچرل خوبیاں پائی جاتی ہیں کہ سامع کو حیرت دامن گیر ہوتی ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۲۱۲)

مذکورہ نظریاتی بنیادوں پر اثرؔ عملی تنقید کی جو عمارت تعمیر کرتے ہیں اس میں غزل، قصیدہ، مرثیہ اور مثنوی کی بڑی اصناف کے ساتھ ساتھ، سلام، مسدس، قطعہ، رباعی، واسوخت، مثلث، مخمس، تضمین، مخمس وغیرہ جیسی اصناف اور ہئیتیں بھی شامل ہیں ۔ اثرؔ کو اردو کے تنقید نگاروں میں خاص طورسے یہ امتیاز حاصل ہے کہ انھوں نے اظہار کی ان چھوٹی چھوٹی اصناف کو بھی اپنے مطالعہ کا موضوع بنایا ہے جن پر عام لوگوں نے توجہ نہیں دی ہے۔ ظاہر ہے یہ جامعیت اثرؔ کو دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔

مثال کے طور پر قطعہ کے بارے میں اثرؔ کا خیال ہے کہ:

’’عروضی ترکیب اس صنف شاعری کی وہی ہے جو قصیدہ کی ہے۔ الّا یہ کہ اس صنف شاعری میں ہمیشہ مطلع ندارد ہوتا ہے، اور اشعار کے عدد چار سے کم نہیں ہوتے۔ مضامین کے اعتبار سے یہ صنف شاعری ایک اعلیٰ درجہ رکھتی ہے۔ اس کے مضامین کو مسائل اخلاق و حکمت پر مشتمل ہونا چاہیے۔ قطع نگاری کا تقاضا یہی ہے، مگر بعض شعرا نے اس صنف شاعری کو پست مضامین کی بندش سے درجۂ ابتذال کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہو کہ قطعہ نگاری کے لیے داخلی شاعری درکار ہے۔ چنانچہ فارسی اور اردو کے جتنے عمدہ قطعات ہیں اسی پہلو کے مضامین سے مزین نظر آتے ہیں ۔ مگر اس جگہ ایک امر قابلِ گزارش یہ ہے کہ قطعہ نگاری میں شاعر کو یہ بات ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہیے کہ اس کا کلام غزلیت کا رنگ پیدا نہ کرے۔ اِلّا اس حال میں کہ قطعہ بند اشعار وہ کسی غزل میں موزوں کرنے کو ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۲۹)

رباعی کے سلسلہ میں بھی اثرؔ نے بہت بنیادی اور ضروری باتیں لکھی ہیں ۔ لکھتے ہیں :

’’رباعی وہ صنف شاعری ہے جس کے لیے حکیمانہ مضامین کی حاجت ہے۔ شاعر کو لازم ہے کہ مسائل اخلاق و تمدن و معاشرت و مذہب و دیگر مضامین جلیلہ سے اپنے کلام کو زینت دے۔ اگر پست خیال کی طرف اس کے کلام کو میلان ہو گا تو اس کی رباعی نگاری با مراد تاثیر پیدا نہ کر سکے گی۔ جاننا چاہیے کہ جیسی عالی خیالی قطعہ نگاری کے لیے درکار ہے اس صنف شاعری کو بھی اسی قدر اس کی حاجت ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ قطعہ میں گنجائش مضامین زیادہ ہے۔ اس لیے کہ قطعہ صرف چار مصرعوں میں محدود نہیں رہتا، اور رباعی کو چار مصرعوں کے سوا چارہ نہیں ۔ چوں کہ یہ صنف شاعری عروضی ترکیب کی رو سے بہت محدود صورت ہے شاعر کو لازم ہے کہ منقح مسائل کو اس طرح موزوں کرے کہ تھوڑے لفظوں سے بہت معنی پیدا ہوں اور چوتھا مصرعہ بہت پُر مضمون اور پُر زور اور ایسا ہو کہ گویا ہرسہ مصرعہ ہائے سابق کا خلاصہ یا نتیجہ ہو۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۴۲)

مثنوی کے سلسلہ میں اثرؔ نے جن مسائل پر خاص طورسے بحث کی ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں :

’’مضامین کے اعتبار سے جو وسعت اس صنف شاعری کو حاصل ہے کسی اور صنف کو نہیں ہے۔ ‘‘

(ایضاً۔ ص:۵۵۹)

’’مثنوی نگاری کے لیے شاعر کو بڑی اطلاع عام کی حاجت ہے۔ اسے معاملات عالم سے بہ حد طاقت بشریہ پورے طور پر باخبر ہونا چاہیے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۶۰)

’’مثنوی نگاری صرف اس شاعر سے حسب مراد انجام پا سکتی ہے کہ جس کو امور ذہنی اور معاملات خارجی کو بھی موزوں کرنے کی صلاحیت معقول حاصل رہتی ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۶۰)

اس سلسلہ میں اثرؔ کی یہ بات خاص طورسے بہت اہم معلوم ہوتی ہے کہ:

’’فارسی کی تمام بڑی مثنویوں کے مقابل میں اردو کی مثنوی بہت زیادہ نیچرل پیرایۂ بیان رکھتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ فارسی کے مثنوی نگار شعرا عموماً فطرت نگاری کا کم مذاق رکھتے ہیں ۔ ‘‘

(ایضاً۔ ص:۵۷۱)

اسی طرح جامی کی یوسف زلیخا اور فردوسی کی یوسف زلیخا کا مقابلہ کرتے ہوئے اثرؔ نے ایک بہت اہم بات کہی ہے۔ یعنی یہ کہ:

’’فردوسی نے اپنی مثنوی کے لیے وہی رزمی بحر اختیار کی ہے جو شاہنامہ کی ہے اور خلاف تقاضائے قصہ یوسف و زلیخا بیانات کا انداز بھی رزمی رکھا گیا ہے۔ فردوسی کے انداز بیان کی بدولت حضرت یوسف رستم نما معلوم ہوتے ہیں ۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۷۳)

اردو میں رزمیہ مثنویوں کی کمی کے سلسلہ میں اثرؔ نے یہ بہت پتے کی بات کہی ہے کہ اردو میں رزمیہ شاعری کا بہترین موضوع واقعاتِ کربلا ہیں اور ان کے بیان کو انیسؔ نے اپنی انتہا پر پہنچا دیا ہے، لیکن اگر اسے کوئی ایسا شاعر نصیب ہو جاتا جو مثنوی میں اسے پیش کرنے کا حوصلہ پیدا کر سکتا تو بہت خوب صورت رزمیہ مثنوی وجود میں آسکتی تھی۔

اردو کی بزمیہ مثنویوں میں سحرالبیان خاص طورسے اثرؔ کی توجہ کا مرکز بنی ہے، اور اسے انھوں نے ہر طرح سے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے۔ میرحسن کو انھوں نے الہامی شاعر، فطرت نگار، اردو کا شیکسپیئر وغیرہ مختلف ناموں سے یاد کیا ہے۔

مرثیہ کے باب میں اثرؔ نے انیسؔ کے مراثی پر بہ کثرت مثالوں سے بحث کی ہے۔ اس سلسلے میں خاص طورسے انھوں نے میرانیس کے مرثیوں اور ملٹن کی نظم جنت گم گشتہ کی کردار نگاری کا خوب صورت تجزیہ کیا ہے۔ شبلیؔ اور حالیؔ کی طرح وہ بھی اس کے اخلاقی پہلو کے قائل نظر آتے ہیں ۔

قصیدہ کے سلسلے میں اثرؔ کا نقطۂ نظر وہی ہے جو مولانا الطاف حسین حالیؔ کا ہے۔ وہ شاعری کی دوسری اصناف کی طرح اس سے بھی نیچرل شاعری کا تقاضا کرتے ہیں اور نہیں پاتے ہیں ۔ ان کے خیال میں اس صنف کو درباری شاعروں کی جھوٹی مدح سرائی نے خراب کیا ہے۔ اسی لیے وہ لکھتے ہیں :

’’قصیدہ میں بھی نیچرل مضامین کی حاجت ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۰۱)

ان کے خیال میں :

’’یہ قصیدہ کی شان سے ہے کہ اس میں توحید، عدل، نبوت، امامت، معاد و تمدن، معاش، معاشرت و دیگر امور دینی و دنیوی کے مضامین جگہ پائیں یا اخلاقی معاملات از قسم صداقت و خلوص و شجاعت و ہمت، فتوت و مروّت و سخاوت وغیرہ موزوں کیے جائیں ۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۰۱)

چنانچہ جہاں انھوں نے سوداؔ کے قصائد کی واقعہ نگاری، نیچرل بیانات اور فطری تشبیہات کی تعریف کی ہے وہیں ذوقؔ کے قصائد کے بارے میں یہ لکھنے سے بھی گریز نہیں کرتے کہ:

’’بلاشبہ اس شاعر گرامی کی فکر بہت عالی ہے، بندش مضامین استادانہ ہے اور روش ادائے مطلب کی خوب و مرغوب ہے مگر وہ دل آویزی جو نیچرل کلام کی ہوا کرتی ہے اس کا جلوہ کسی قصیدہ میں نمایاں نہیں ۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۲۰)

اسی طرح عرفی شیرازی کے قصیدہ   ؎  ہرسوختہ جانیکہ بہ کشمیر درآید، کے بارے میں لکھتے ہیں :

’’اگر مولانا عرفی کو نیچرل شاعری کا مذاق ہوتا تو کشمیر کی تعریف میں ایسا کو ڈھنگا قصیدہ تصنیف نہ فرمائے ہوتے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۴۹۱)

’’سارا قصیدہ پڑھ جائیے کہیں بھی کسی سینری کا بیان حوالۂ قلم نظر نہیں آتا۔ البتہ ہر جگہ مبالغوں کی بھرمار ہے جس سے طبیعت کو شگفتگی خاطر کا نصیب ہونا معلوم۔ کشمیر کے وصف میں اگر یہ قصیدہ لکھا گیا تھا تو ضرور تھا کہ کشمیر کا بیان فطری رنگ رکھتا۔ کشمیر ایک دلچسپ جگہ ہے، اس کا سچا بیان ضرور ہے کہ مسرت خیز ہو۔ اس کے جبال، صحرا، چشمے، سبزہ زار، مرغ زار، لالہ زار، جنگل، وحوش و طیور اور ہزاروں اقسام کے ازہار و اثمار ایک نیچرل شاعر کے لیے سرمایۂ کثیر کا حکم رکھتے ہیں ۔ ‘‘                                            (ایضاً۔ ص:۴۹۱)

ان کے خیال میں :

’’لاریب اردو کی قصیدہ گوئی بہت اصلاح طلب ہو رہی ہے۔ واقعی جو اس وقت کی قصیدہ گوئی ہے شاعری کو بدنام کرنے والی ہے۔ ایسی قصیدہ گوئی صرف شاعر اور اس کے ممدوح کو ذلیل نہیں کرتی ہے بلکہ تمام ان اقوام کو جو اردو کو اپنی مادری زبان جانتے ہیں ۔ بہت جائے افسوس ہے کہ ابھی تک اردو کی قصیدہ گوئی نے کسی قسم کی اصلاح کی صورت نہیں دیکھی ہے۔ حاجت مند شعرا جو ریاستوں میں حصول رزق کی نظر سے مارے پھرتے ہیں وہی پرانا راگ گایا کرتے ہیں ۔ ممدوح کو سخاوت میں حاتم، شجاعت میں رستم، عدل میں نوشیرواں ، حکمت میں لقمان لکھا کرتے ہیں ۔ سپاہ ممدوح کو مورد ملخ بتاتے ہیں ۔ اس کے تابع فرمان آفتاب ماہتاب، فلک، ملک، ابر، باد، آتش، خاک، قضا و قدر سب ہی کو کر دیتے ہیں ۔ اس کی تلوار کو برق، ہاتھی کو کوہ اور گھوڑے کو ہوا کہا کرتے ہیں ۔ اس کی عمر کو عمر خضر سے بھی طویل تر چاہا کرتے ہیں اور اسی طرح کے سیکڑوں نا مربوط مضامین حوالۂ قلم کیا کرتے ہیں … لاریب حال کی قصیدہ گوئی نہایت درجہ ابتذال کو پہنچ گئی ہے حتیٰ کہ گدائی کی صورتوں میں سے یہ بھی ایک صورت ہو رہی ہے۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۵۰۰۔ ۴۹۹)

باوجودیکہ غزل کی تعریف کرتے ہوئے اثرؔ اس کے لغوی مفہوم کا حوالہ دیتے ہیں لیکن ان کی نظر میں اس کے زیادہ وسیع معنی و مفہوم پر بھی ہے۔ چنانچہ اس کا اصطلاحی مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’اصطلاح میں اس سے وہ صنف شاعری مراد ہے جس میں ایسے مضامین جو اعلیٰ درجہ کے واردات قلبیہ اور ارفع درجہ کے اور ذہنیہ سے خبر دیتے ہیں حوالۂ قلم کیے جاتے ہیں ۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۳۶۹)

ان کے خیال میں :

’’اس صنف کا یہی تقاضا ہے کہ امور داخلی کے سوا امور خارج قلم بند نہ ہوں ، اور اگر ہوں بھی تو داخلی پہلو کی آمیزش سے خالی نہ ہوں ۔ ‘‘ (ایضاً۔ ص:۳۶۹)

وہ غزل گو سے اعلیٰ درجہ کے دل و دماغ کا تقاضا کرتے ہیں ، اور اس کے لیے جو ہدایت نامہ جاری کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ:

۱۔         غزل کی زبان سلیس ہونی چاہیے

۲۔        اسے صنائع بدائع کا محتاج نہیں ہونا چاہیے

۳۔        حتی الامکان تشبیہ، استعارہ سے پرہیز کرنا چاہیے

۴۔        مبالغہ سے پرہیز کرنا چاہیے

۵۔        اگر تشبیہ، استعارہ کا استعمال کیا جائے تو اس میں بھی فطری خوبیاں پائی جانی چاہئیں

۶۔        پھبتی، ضلع جگت وغیرہ سے پرہیز کرنا چاہیے

۷۔        رعایت لفظی سے پرہیز کرنا چاہیے

۸۔        مضامین داخلی اور ارفع درجہ کے ہوں جس سے ’’انسان کے عالم باطنی کا شرف ظاہر ہوسکے۔ جن سے انسان نمونۂ قدرت خداوندی سمجھا جائے ‘‘ اور اس کی اخلاقی خوبیوں اور روحانیت …؟ عرفان حق کا پتہ چلتا ہو۔

۹۔         عشق پیرایۂ عشق میں نہ دکھایا جائے، عشقیہ مضامین بھی ایسے انداز میں پیش کیے جائیں کہ سننے والے کا ذہن معشوق حقیقی کی طرف متوجہ ہو جائے۔

۱۰۔       وصال و فراق کے مضامین فطری انداز میں پیش کیے جائیں ۔ ان میں بے حیائی کا عنصر نہ ہو۔

۱۱۔        ہوا و ہوس کے مضامین مذاق صحیح پر بار نہ ہوں

۱۲۔       کوئی خیال پستی کی طرف مائل نہ ہو

۱۳۔       شوخی ہو، لیکن مائل بہ بے حیائی نہ ہو

۱۴۔       مکروہ مضامین سے پرہیز کرنا چاہیے

۱۵۔       مضامین قلبیہ اس انداز میں پیش کیے جائیں کہ سننے والے کے دل پر اثر کریں

۱۶۔       فطرت کی پیروی کرنی چاہیے

۱۷۔      مضامین حکمت غزل کے پردے میں بیان کیے جائیں

۱۸۔       قرب سلطانی سے پرہیز کرنا چاہیے

۱۹۔       عشق بازاری سے پرہیز کرنا چاہیے

ان نکات پر غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کم و بیش یہ وہی باتیں ہیں جنھیں حالی نے انتہائی جامع انداز میں مقدمۂ شعر و شاعری میں پیش کر دیا ہے۔ اثرؔ کے یہاں وہی باتیں زیادہ وضاحت کے ساتھ پیش کی گئی ہیں ۔

مختصر یہ کہ امداد امام اثرؔ بعض باتوں میں اختلاف کے باوجود مجموعی طور پر حالیؔ کے متبعین میں ہی نظر آتے ہیں ۔ وہ حالیؔ سے استفادہ بھی کرتے ہیں ، اتفاق بھی کرتے ہیں اور ہر بڑے ذہن کی طرح اختلاف بھی کرتے ہیں ۔

 

 کتابیات

 

۱۔         کاشف الحقائق                             مرتبہ پروفیسر وہاب اشرفی

۲۔        مشرقی شعریات اور تنقید کی روایت            از پروفیسر ابوالکلام قاسمی

۳۔        دیوانِ امداد امام اثرؔ                                  مرتبہ ڈاکٹر سرور الہدیٰ

۴۔        امداد امام اثر: حیات و خدمات                     از ڈاکٹر امتیاز عالم

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے