غزلیں ۔۔۔ عاطف ملک

آباد درد و غم سے ہے کاشانِ عین میم* اشکِ لہو سے لکھا ہے دیوانِ عین میم   تیرِ نظر تھا ان کا، خطا ہوتا کس طرح ہونا تھا جن کو، ہو گئے، اوسانِ عین میم   اس نازنیں کی تابشِ رخسار دیکھ کر ناصح بھی ہو گئے تھے رقیبانِ عین میم   خاکِ وفا Read more about غزلیں ۔۔۔ عاطف ملک[…]

کنگ خان ۔۔۔ داؤد کاکڑ

  ایک دن میں ان کی قبر کے پہلو میں چمن پر چوکڑی مار کر بیٹھا زیرِلب تلاوت کر رہا تھا۔ گرمی تھی اور کھلی دھوپ تھی۔ میری آنکھوں پر دھوپ کی عینک تھی لیکن اس کے باوجود میری آنکھیں بند تھیں تاکہ میں یکسوئی سے تلاوت کر سکوں۔ اچانک مجھے لگا جیسے کسی نے Read more about کنگ خان ۔۔۔ داؤد کاکڑ[…]

کب تک مِرے مولا ۔۔۔ شاذ تمکنت

اِک حرفِ تمنّا ہوں، بڑی دیر سے چُپ ہوں کب تک مرے مولا   اے دِل کے مکیں دیکھ یہ دل ٹوٹ نہ جائے کاسہ مرے ہاتھوں سے کہیں چھوٹ نہ جائے مَیں آس کا بندہ ہوں بڑی دیر سے چُپ ہوں کب تک مرے مولا   سر تا بقدم اپنی مرادوں کو سنبھالے جاتے Read more about کب تک مِرے مولا ۔۔۔ شاذ تمکنت[…]

غزلیں ۔۔۔ نوید ناظم

ہجومِ یاراں کو بھی میں کم تر نہیں سمجھتا پہ دردِ تنہائی سے تو بڑھ کر نہیں سمجھتا   مجھے وہ اندر سے جان پائے یہ چاہتا ہوں وہ جو مِری بات کو بھی اکثر نہیں سمجھتا   اگر مِرا غم نہ ہو تو میں بھی نہیں رہوں گا میں جس سے قائم ہوں تُو Read more about غزلیں ۔۔۔ نوید ناظم[…]

لیاقت علی عاصم کے شعری مجموعے سے ایک انتخاب ۔۔۔ عزیز نبیل

سن 2008ء میں لیاقت علی عاصم بھائی کے تین مجموعے کراچی سے مجھ تک دوحہ قطر پہنچے، رقصِ وصال، آنگن میں سمندر اور نشیبِ شہر۔ اپنے پسندیدہ شاعر کی جانب سے بھیجے گئے اِن تین مجموعوں نے بہت عرصے تک مجھے اپنے سحر میں گرفتار رکھا۔ عاصم بھائی کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیشہ Read more about لیاقت علی عاصم کے شعری مجموعے سے ایک انتخاب ۔۔۔ عزیز نبیل[…]

نظمیں ۔۔۔ عارفہ شہزاد

  تشنگی کی قسم! ­____________________________   یہاں دن رات کے عنصر کی یکجائی کہاں دشوار ہے بس ذائقے ترتیب دیتے ہاتھ میری دسترس میں ہوں ہوا کے پر لگاؤں آسمانوں کے افق چھو لوں ستارے ٹانک دوں چاہوں جہاں سارے میں پھیلوں چاندنی بن کر بھروں مٹھی میں سورج اور آنچل کو دھنک سے رنگ Read more about نظمیں ۔۔۔ عارفہ شہزاد[…]

نظمیں ۔۔ سلمیٰ جیلانی

  پگڈنڈی کا سفر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   کہیں بل کھاتی اور کہیں سیدھی یہ پگڈنڈی کہیں دور سفر کو جاتی ہے دو راہی ساتھ ہو لیتے ہیں پھر راستے بنتے جاتے ہیں قوس و قزح میں مدغم سارے رنگ الگ الگ پھیلتے ہیں آنکھوں میں امید کی جوت جگا کر پھر سمٹ جاتے ہیں ہمسفر منزل Read more about نظمیں ۔۔ سلمیٰ جیلانی[…]