ابن کنول کا پس حقیقت کو کسب کرنے کا فن ۔۔۔ پروفیسر عتیق اللہ

ادب، زندگی اور زندگی کی سریت کو گرفت میں لانے کی ایسی کوششوں سے عبارت ہے جسے ہربار ناکامی کا سامنا ہوتا ہے۔ سعی لاحاصل ہی مزید جستجوؤں کو مہمیز کرنے اور تعاقب کی مہم کو سرگرم رکھتی ہے۔ میں نے زندگی کی سریت سے قبل زندگی کا حوالہ دیا ہے اور وہ بھی محض Read more about ابن کنول کا پس حقیقت کو کسب کرنے کا فن ۔۔۔ پروفیسر عتیق اللہ[…]

موت کا خاکہ ۔۔۔ مسعود بیگ تشنہ

  ابنِ کنول کے نام   موت نے ایسا خاکہ کھینچا ابنِ کنول بھی ڈھیر سانس کی ڈوری ایسی کھینچی ہو جائے نہ دیر   ‘بند راستے’ کے یہ فسانے عالمِ آب و گِل کے فسانے خاکے، افسانے، تنقید یہ سب ترتیب و تدوین ہکّا بکّا ہیں سب سارے صدمے میں سب غم کے مارے Read more about موت کا خاکہ ۔۔۔ مسعود بیگ تشنہ[…]

ابنِ کنول صاحب ۔۔۔ ارشاد احمد ارشادؔ

رہا باقی دنیا میں کس کا ہے نام نہیں ہے کسی کو بھی اس میں کلام   ہمیشہ سے ہے جو رہے گا سدا قدیم اور باقی وہ ہے کبریا   وہی سب کا خالق ہے مالک وہی چلے اس کی رہ پر ہے سالک وہی   وہی مارتا ہے جِلائے وہی بگاڑے وہی اور Read more about ابنِ کنول صاحب ۔۔۔ ارشاد احمد ارشادؔ[…]

ابن کنول ۔۔۔ عبد العزیز

آج اسلم پرویز صاحب کی فیس بک پوسٹ سے معلوم ہوا کہ میرے پرانے دوست، رفیق کار، ابن کنول، علیگڑھ میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اگر یہ خبر اسلم پرویز صاحب کے علاوہ کسی اور سے ملی ہوتی تو فوری یقین نہ آتا، یوں تو موت، ہر فرد کا مقدر ہے لیکن آدمی ماٹی Read more about ابن کنول ۔۔۔ عبد العزیز[…]

یہ تھے ابن کنول ۔۔۔ امیر حمزہ

(نوٹ: یہ تحریر ابن کنول سر کی ریٹائرمنٹ کے وقت لکھی گئی تھی، بس لفظ "ہیں” کو "تھے” کر لیجیے گا)   (حمزہ کے بغیر کلاس کیسے ہو سکتی ہے؟ پروفیسر ابن کنول)   ایم فل کا زمانہ تھا اور موجودہ صدر شعبہ کا آفس کلاس روم تھا۔ ابن کنول سر ہماری کلاس لینے پہنچے Read more about یہ تھے ابن کنول ۔۔۔ امیر حمزہ[…]

آہ پروفیسر ابن کنول! ۔۔۔ شمس کمال انجم

وہ خاک نشیں جس کو دنیا ناصر محمود کمال کے نام سے بالکل نہیں جانتی تھی خالد محمود کا آخری خاکہ لکھ کر اچانک خاک کے سپرد ہو کر اپنے چاہنے والوں کو حیران پریشان اور دنیا کو ویران کر گیا۔۔ سب کا خاکہ لکھنے والے خاکی کا خاکہ اب کون لکھے گا؟ شاید سہیل Read more about آہ پروفیسر ابن کنول! ۔۔۔ شمس کمال انجم[…]

پروفیسر ابن کنول ایک اجمالی خاکہ ۔۔۔ ڈاکٹر عزیر احمد

  اصل نام: ناصر محمود کمال قلمی نام: ابن کنول والد: معروف قومی شاعر قاضی شمس الحسن کنول ڈبائیوی تاریخ ولادت: 15؍ اکتوبر 1957 (بہجوئی ضلع مراد آباد) ابتدائی تعلیم: گنور (بدایوں) کے ایک اردو میڈیم اسلامیہ اسکول میں۔ مزید تعلیم: مسلم یونی ورسٹی، علی گڑھ (1967 سے 1978 تک) ایم فل(اردو)، پی ایچ ڈی: Read more about پروفیسر ابن کنول ایک اجمالی خاکہ ۔۔۔ ڈاکٹر عزیر احمد[…]

دوسرا گناہ ۔۔۔ انتظار حسین

اس دن الیملک دستر خوان سے بھوکا اٹھا، اس نے زمران کے سامنے رکھی ہوئی روٹی پر نظر کی، پھر دسترخوان پر چنی ہوئی روٹیوں کو اور لوگوں کو دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا اور یہ وہ لوگ تھے جو دور کی زمین سے چل کر یہاں پہنچے تھے، ان کی زمین ان پر تنگ Read more about دوسرا گناہ ۔۔۔ انتظار حسین[…]

مشتاق دربھنگوی کی یاد میں ۔۔۔ ڈاکٹر عطا عابدی

مشتاقؔ دربھنگوی سے میری ملاقات محلہ املی گھاٹ (دربھنگہ) میں ہوئی تھی، جہاں میرا قیام ہوا کرتا تھا۔ یہ غالباً 1982-83ء کی بات ہے۔ اُنہوں نے اپنے شعری مجموعہ ’’غمِ جاناں‘‘ سے نوازا۔ ’غمِ جاناں‘ کی شاعری غمِ جاناں سے عبارت تھی۔ اُس وقت اُن کی نوجوانی کا عالم تھا، میں خود بھی طفلِ مکتب Read more about مشتاق دربھنگوی کی یاد میں ۔۔۔ ڈاکٹر عطا عابدی[…]

مصحف اقبال توصیفی کی شاعری: ایک منجمد پُر شور دریا ۔۔۔ اسلم عمادی

اُردو کی نئی شاعری اِس معاملے میں بہت خوش بخت ہے کہ اس کے دامن میں کئی نمائندہ اور قابل ذکر شاعر اپنے اپنے منفرد لب و لہجہ (زبان، ڈکشن اور فکر) کے ساتھ رونق پذیر ہیں۔ یہ شاعر ہندوستان، پاکستان اور دوسرے ممالک میں رہتے ہوئے بھی ایک حد تک اسی فکری لہر سے Read more about مصحف اقبال توصیفی کی شاعری: ایک منجمد پُر شور دریا ۔۔۔ اسلم عمادی[…]