چھت، چھتری اور چھاؤں ۔۔۔ تنویر اقبال

(یہ علامتی کہانی ضیا الحق کے دور میں لکھی گئی تھی اور ’تو جبرئیل نے کہا‘ مجموعے میں شامل تھی جسے ضبط کر لیا گیا تھا۔)   سورج اپنا روشن چہرہ چھپائے رات کے غار میں بند ہے۔ کیا باہر اندیشوں اور وسوسوں کے سانپ سرسراتے پھرتے ہیں اور وہ ان کی ہلاکت آفرینی سے Read more about چھت، چھتری اور چھاؤں ۔۔۔ تنویر اقبال[…]

محور اپنا اپنا ۔۔۔ حنیف سیّد

کل دیوے گا، کل پاوے گا کل پاوے گا، کل پاوے گا ’’گیارہ بچّے لائی، کان پھٹّی۔۔۔۔  ! اور راجو ممبر کے یہاں گیارہ سال بعد ہوا، بیٹا۔۔۔۔  !‘‘ صفائی کرمچاری گھسیٹے کی بیوی رنگیلی نے سریلی تان میں کچھ اِس طرح محلے میں کانا پھوسی کی کہ راجو ممبر کی حویلی میں کان پھٹّی Read more about محور اپنا اپنا ۔۔۔ حنیف سیّد[…]

دانہ و دام کی الف لیلہ ۔۔۔ نگہت سلیم

بہت مشکل سے اس نے اپنی آنکھیں کھولیں۔  ۔  غالباً اس کے سر کے پچھلے حصے پر کاری ضرب لگائی گئی تھی۔  ۔  اس نے پیچھے بندھے اپنے ہاتھوں پر رسی کی گرفت کو محسوس کیا اور یہ بھی کہ اس کے جسم پر لباس کے نام پر فقط زیر جامہ ہے۔  وہ کتنے گھنٹے Read more about دانہ و دام کی الف لیلہ ۔۔۔ نگہت سلیم[…]

خاک بدر ۔۔۔ نجیبہ عارف

شہروں سے میرا عجیب سا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔  ایک ایسا رشتہ جو میں کسی کو بتا نہیں سکتی، دکھا نہیں سکتی، سمجھا نہیں سکتی۔  مگر میرے پیٹ کے اندر ناف کے پیچھے اس رشتے کی گرہ پڑ جاتی ہے جو بار بار مجھے اندر سے کریدتی اور خراشتی رہتی ہے۔  جب بھی میں Read more about خاک بدر ۔۔۔ نجیبہ عارف[…]

دو گز زمین ۔۔۔ طارق مرزا

لِز کو مرے ہوئے پورے دو ماہ ہو گئے ہیں لیکن اس کی لاش ابھی تک بے گور و کفن ہے۔ اسپتال والے کہتے ہیں اگر کسی نے لاش کو دفنانے کا بندوبست نہیں کیا تو مجبوراً اسے جلانا پڑے گا۔ لیکن اس کے لئے بھی دفنانے کی نسبت کم سہی، رقم تو درکار ہے۔ Read more about دو گز زمین ۔۔۔ طارق مرزا[…]

آدم خور ۔۔۔ خورشید حیات

کہانی تو ہم سب کے اندر سمندر کی لہروں کی طرح ابھرتی ڈوبتی رہتی ہے۔ سمندر میں میں ہوں۔ مجھ میں سمندر۔ بارش کی بوندیں سمندر میں۔ اور سمندر بارش کی بوندوں میں۔ مجھے قریب سے دیکھو۔ پہچانو! ابھرتی ڈوبتی لہریں تم سے کیا کہہ رہی ہیں؟ آدمی۔! سانپ سے بھی زہریلا آدمی!! آدمی۔ ہرے Read more about آدم خور ۔۔۔ خورشید حیات[…]

سانجھی خوشیاں سانجھے غم ۔۔۔ شائستہ فاخری

اسے معلوم تھا کہ اس کی تحریر میں ایسا کچھ نہیں ہے جو گھر کے نظام کو درہم برہم کر دے۔ شوہر کو کسی پریشانی میں ڈال دے یا پھر وہ خود کسی آفت میں گرفتار ہو جائے۔ پھر بھی اس کے اوپر ایک انجانا خوف مسلط تھا۔ اس کے پیر کپکپا رہے تھے، انگلیاں Read more about سانجھی خوشیاں سانجھے غم ۔۔۔ شائستہ فاخری[…]

برف میں آگ ۔۔۔ شموئل احمد

سلیمان کو اپنی بیوی کسی جز دان میں لپٹے ہوئے مذہبی صحیفے کی طرح لگتی تھی جسے ہاتھ لگاتے وقت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی شادی کو دس سال ہو گئے تھے لیکن وہ اب بھی سلیمان سے بہت کھلی نہیں تھی۔ سلیمان اس کو پاس بلاتا تو پہلے ادھر ادھر جھانک کر Read more about برف میں آگ ۔۔۔ شموئل احمد[…]

آخری خواہش ۔۔۔ نجمہ ثاقب

خادم کو گانا گانے کی عادت تھی۔ مگر خالی خولی عادت سے کہاں کام چلتا ہے۔ گلے میں اگر سر نہ ہو۔ آواز کی لہروں میں محض سیٹیاں بجاتی ہوا بھری ہو تو گانا الٹا گانے والے کے گلے پڑ جاتا ہے۔ مگر خادم کو قدرت نے ایسی آواز بخشی تھی کہ جو ایک مرتبہ Read more about آخری خواہش ۔۔۔ نجمہ ثاقب[…]

گرہ کشائی ۔۔۔ صالحہ رشید

’’ذیشان بیٹے۔۔۔ جلدی کیجئے۔۔۔ لیٹ ہو جائیں گے آپ‘‘ ’’رحیم چاچا۔۔‘‘ ’’جی۔۔۔ سلام بیگم صاحبہ‘‘ ’’گاڑی نکالئے‘‘ ثروت بیگم کی آواز پر رحیم چاچا نے جلدی سے کار کی چابی سنبھالی اور ایک بار پھر۔۔۔ ’’جی بیگم صاحبہ‘‘ کہتے ہوئے صدر دروازے کی طرف ہو لئے۔ ثروت بیگم نے ذیشان کی ٹائی ٹھیک کی۔ سر Read more about گرہ کشائی ۔۔۔ صالحہ رشید[…]