غزلیں ۔۔۔ ڈاکٹر رؤف خیر

سراب ہے کہیں پانی نہیں نکلتا ہے

تو کام اپنا تیمم سے بھی تو چلتا ہے

وہ اپنے خول سے باہر کہاں نکلتا ہے

ہوا کے زور پہ فوارہ جو اچھلتا ہے

ملال کیا ہو اگر آفتاب ڈھلتا ہے

کہ اس کے بعد مرا چاند تو نکلتا ہے

رکاوٹیں تو اسے روک ہی نہیں سکتیں

ہدف نہیں وہ فقط راستہ بدلتا ہے

بنا ہوا ہے کھلونا ہزار ہاتھوں میں

یہ کس کھلونے پہ نادان دل مچلتا ہے

وہ لاکھ میل سہی ہاتھ کا، اثاثہ تھا

اسی لیے تو وہ کھونے پہ ہاتھ ملتا ہے

بڑی قدیم روایت ہے، ٹوٹتی ہی نہیں

جو شر پسند ہیں ان کو تو خیرؔ کھلتا ہے

٭٭٭

باہر مرے قلم سے جو سچائی آئے گی

جو کچھ ہوا ہے دیکھ کے ابکائی آئی گی

اندھوں میں بیٹھنے سے نہ بینائی آئے گی

ہاتھی کی صرف جزوی شناسائی آئے گی

قانون ایک جیسا نہیں سب کے واسطے

میزان میں کجی تو میاں بھائی آئے گی

کچھ اور ہو گئے ہیں میرے حوصلے بلند

وہ تو سمجھ رہے تھے کہ پسپائی آئے گی

مشکوک راستوں میں خطرناک موڑ ہیں

اندھا کوئی کنواں تو کبھی کھائی آئے گی

بے حس تو ہوکے رہ گیا دیوث کی طرح

اب بھی حیا نہ آئی تو رسوائی آئے گی

اب دعوت گناہ پہ لبیک کیا کہیں

جائے گی ضائع ان کو جو انگڑائی آئے گی

تنقید میری فکر پہ کرنا برا نہیں

اس طرح کم سے کم تجھے گویائی آئے گی

کہتا ہے خیرؔ لہجہ بے باک میں غزل

اللہ جانے کب اسے دانائی آئے گی

٭٭٭

کوئی بھی زور خریدار پر نہیں چلتا

کہ کاروبار تو اخبار پر نہیں چلتا

ہم آپ اپنا گریبان چاک کرتے ہیں

ہمارا بس ہی تو سرکار پر نہیں چلتا

کچھ اور چاہیے تسکین جسم و جاں کے لیے

ہمارا کام تو دیدار پر نہیں چلتا

میں جانتا ہوں مجھے کس کا ساتھ دینا ہے

میں بلی بن کے تو دیوار پر نہیں چلتا

اصول جتنے ہیں لاگو ہمیں پہ ہوتے ہیں

اور ایک یار طرح دار پر نہیں چلتا

انہیں لحاظ نہیں ہے جو میری مرضی کا

تو میں بھی مرضیِ اغیار پر نہیں چلتا

مرے سخن کا بہانہ ہیں قافیہ و ردیف

میں شعر کہتا ہوں کچھ تار پر نہیں چلتا

رؤف خیرؔ پہنچتا وہیں ہے ہر پھر کر

کہ اختیار دل زار پر نہیں چلتا

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے