خدا کے سائے میں آنکھ مچولی پر ایک مذاکرہ

 

                آدمی، سماج اور خدا

 

شرکاء: مشرف عالم ذوقی، بلند اقبال، نعمان شوق اور رحمن عباس

ٍ

بلند اقبال: کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ انسانی سماج اور حیوانی سماج میں کیا فرق ہوتا ہے ؟ انسانی سماج اور حیوانی سماج میں انسانیت کا فرق ہوتا ہے۔ لیکن انسانیت تو evil genius ہوتی ہے۔ میں Catherine Jinns کے ناول Evil Genius کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ میں بات کر رہا ہوں واقع انسانی مزاج کی۔ انسانی سماج اور حیوانی مزاج میں فرق ہوتا ہے۔ حیوان جب غصے میں آتا ہے تو وہ واقع غصے میں آتا ہے اور جب پیار کرتا ہے تو وہ واقع پیار کرتا ہے، مگر انسانوں کے ساتھ مسئلہ ذرا مختلف ہے۔ انسان جب پیار کرتا ہے تب ضروری نہیں کے وہ پیار کرتا ہے۔ جب نفرت کرتا ہے تب ضروری نہیں کے نفرت کرتا ہو۔ جب غصہ کرتا ہے تب ضروری نہیں کے غصہ کرتا ہو۔ مطلب انسان کے جھوٹ، انسان کی سچائیاں، دشمنیاں، نفرتیں اور پیار میں بہت فرق ہوتا ہے۔ انسانی مزاج ذو معنی ہوتا ہے۔ انسان کے اندرونِ خانہ ان کے کچھ اور معنی ہوتے ہیں۔ انسانی مزاج کے ان ہی رویوں کی وجہ سے ایک ذومعنی اور دوغلی سوسائٹی پیدا ہو گئی ہے۔ ایک ایسی سوسائٹی جس میں انسان کا پتہ نہیں چلتا۔ بات صرف یہاں تک ہوتی تو اور تھی لیکن انسان کا مسئلہ کچھ اور آگے بڑھ گیا ہے۔ انسان نے خدا کے ساتھ بھی کچھ ایساہی دوغلا رشتہ بنا لیا ہے۔ انسان اور خدا کے درمیان بھی ایک چارسوبیسی کا رشتہ پیدا ہو گیا ہے۔ خدا ایک external force ہے یا internal force یہ بحث نہیں ہے یہ علاحدہ نظریات ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ یکسٹرنل یا انٹرنل فورس ہوں تب بھی خود کو دھوکا دینے والی بات بن جاتی ہے۔ خود کو دھوکا دینے یا قدرت کو دھوکا دینے والی بات بھی ایک عجیب بات ہے۔ انسان یہاں بھی کچھ عجیب نظر آتا ہے۔ ایک طرف ہم عبادت کر رہے ہوتے ہیں دوسری طرف ہم چوری چکاری، رشوت خوری اور برائی کر رہے ہوتے ہیں۔ عبادتوں کو بھی ہم نے بنیا کے ترازو میں بدل دیا ہے۔ ایک پلڑا بدی سے بھرا ہوا چلا ہے اور دوسرے پلڑے میں ہم قدرت کو عبادتوں سے راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ میں گزشتہ کئی دنوں سے انسانی مزاج کے اس پہلو پر غور و فکر کر رہا تھا کہ آخر خدا کے ساتھ ہمارا یہ کیسا رشتہ ہے ؟ ہمارا رشتہ اس قدر چارسوبیسی والا اور دوغلا کیوں ہے ؟ کیا واقع خدا کے ساتھ ہماررا کوئی رشتہ ہے ؟ایک مذاکرہ اس موضوع پر کرنا تھا کہ آخر وہ key words کیا ہیں۔

اسی دوران میرے پاس بمبئی سے رحمن عباس کا ناول ’خدا کے سائے میں آنکھ مچولی ‘ آیا۔ یہ خوبصورت ناول اسی موضوع پر لکھا گیا ہے۔ چنانچہ یہ دو باتیں ایک ساتھ جمع ہو گئیں۔ رحمن عباس کے اس ناول کی خوبی یہ کے وہ اس موضوع پر بے رحمانہ انداز میں بحث کرتا ہے۔ ۔ رحمن عباس نوجوان ناول نگار ہیں۔ اس ناول سے پہلے ان کے دو ناول’ نخلستان کی تلاش‘ اور ’ایک ممنوعہ محبت کی کہانی‘ کے عنوان سے شائع ہو چکے ہیں۔ ’ خدا کے سائے میں آنکھ مچولی‘ ان کا تیسرا ناول ہے۔ اس ناول کی چند سطریں ملاحظہ ہوں۔ پھر ہم اس ناول اور اس کے موضوع کے حوالے سے مشرف عالم ذوقی اور نعمان شوق سے بھی گفتگو کریں گے۔ دیکھیں گے وہ اس ناول کے بارے میں، انسان اور قدرت کے درمیان جاری رشتے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ جو کہیں نہ کہیں چارسوبیسی والا رشتہ ہے۔ عبدالسلام اس ناول کا مرکزی کردار ہے۔ رحمن عباس لکھتے ہیں :’عبدالسلام کے مطابق خدا سب کی ڈھال ہے اور چوری چوری چپکے چپکے سب کے ساتھ تھوڑا بہت وقت گزار لیتا ہے۔ توگڑیا، اڈوانی اور مودودی کا خدا ہے۔ اسامہ، صدام اور ملا عمر کا خدا ہے۔ جارج بش، پوتن اور ٹونی بلیر کا خدا ہے۔ میڈونا، مادھوری دکشت اور کرشمہ کپور کا خدا ہے۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ آدمی سوچتا ہے جب تک دوسرے اسے احترام کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے وہ بے آدمی ہے۔ اس احساس کو برداشت کرنے کی صفت انسانی ذہن نے ابھی ایجاد نہیں کی ہے۔ انسان خدا سے کٹ کر خود کر دریافت کرنے کی اجتماعی کوشش کم از کم مزید ۵ ملین برسوں تک نہ کر پائے۔ یا شاید کبھی نہ کر پائے۔ مگر انسان خدا سے جڑا بھی تو نہیں رہتا۔ وہ خدا کو شلوار کی طرح پہن لیتا ہے۔ تلک کی طرح لگا لیتا ہے یا ٹوپی کی صورت اوڑھ لیتا ہے۔ یا مزار کی صورت اس کے گرد قوالیاں منعقد کرتا ہے۔ خدا کو استعمال کرتا ہے، اپنے آپ کو سماج میں مناسب مقام دلوانے کے لیے، قبولیت کے لیے۔ ۔ گویا صحرائے زندگی میں خدا ایک چادر ہے جو ہمارے سروں پر ہمیشہ رہے۔ ڈر ہے اس سائے سے باہر نکلتے ہی دھوپ کی تمازت سے ہمارے دلوں کے نرم ریشے تحلیل ہو جائیں گے۔ ‘ (صفحہ نمبر۲۵)

رحمن عباس ناول میں عبدالسلام کے بارے میں مزید لکھتے ہیں :’ وہ جس عہد میں جی رہا ہے، اس میں مذہب ذات کے اسفل ترین چہرے کو چھپانے کا ایک وسیلہ ہے۔ نمائش پسند لوگوں کا ہتھیار ہے۔ مذہب، افراد کے اچھے برے ہونے کا پیمانہ نہیں ہے۔ بے عقل اور غیر منطقی فکر کے حامل افراد مذہب کی جمالیات کو سمجھ نہیں سکتے۔ وہ لوگ جو جنس اور حسن کی معنویت سے آشنا نہ ہوں خدا سے مربوط نہیں ہو سکتے۔ ‘ (صفحہ نمبر ۲۳)

مذکورہ بالا حوالوں سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ یہ ناول کس ٹمپرا مینٹ کا حامل ہے۔ ناول کے مرکزی کردار کو مزید اجاگر کرنے کے لیے ناول کی کچھ اور سطریں پیش کرتا چلوں۔ ۔ ۔ اس کے بعد نعمان شوق سے اس ناول کے کردار اور ناول کے مرکزی خیال پر بات ہو گی۔ : ’ عبدالسلام کا مشاہدہ تھا کہ پانچ وقت کی نماز پڑھنے اور بات بات پر شریعت کی دال بگھارنے والے افراد زیادہ تر لالچی، مغرور، بزدل، بے علم اور خود پرست ہوتے ہیں۔ مذہب کی روح اور روحانیت کی چاشنی ان کے ضمیر سے کوسوں دور ہوتی ہے۔ ان ساری باتوں نے اس کی دل شکستگی میں اضافہ کیا اور تشکیک اس کی روح میں ایک راہ بھٹکے ہوئے پرندے کی طرح آ کر بس گئی۔ ‘ (صفحہ نمبر ۵۱)

یہ تشکیک ہے جو اس کے دل میں راہ بھٹکے ہوئے پرندے کی طرح آبسی تھی۔ جس کے بعد انسان کا رشتہ خدا سے ویسا ہی ہو جا تا ہے جس کو میں نے چارسوبیسی کا رشتہ قرار دیا ہے۔ یہ موضوع اور اس موضوع پر یہ کتاب بہت اہم ہے۔ یہ ناول ایسا ہے کہ اسے آپ ایک گھنٹے میں پڑھ کر ختم کر دیں گے لیکن اس کے بعد یہ ناول آپ کو بار بار کریدتا رہے گا۔ فی الحال ہم نعمان شوق سے اس ناول پر ان کے خیالات جاننا چاہیں گے۔ نعمان شوق دلی میں رہتے ہیں۔ ان کے اب تک تین شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ (نعمان شوق کا تعارف اور پروگرام میں استقبال، کمرشیل بریک)

 

بلند اقبال: نعمان شوق صاحب آج ’پاس ورڈ‘ پروگرام تھوڑا مختلف ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں قدرت کے حوالے سے کہ ہمارا قدرت کے ساتھ کس طرح کا رشتہ ہے۔ کبھی کبھی ہمیں لگتا ہے کہ جیسا ایماندرانہ رشتہ ہمارا خدا کے ساتھ ہونا چاہئے تھا ویسا نہیں ہے۔ آپ کو نہیں لگتا ہے کہ ہمارا رشتہ خدا کے ساتھ کچھ چاروسوبیسی جیسا ہے۔ ایک طرف تو ہم عبادت کرتے ہیں۔ خدا سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ دوسری طرف ہم زمانے بھر کی برائیاں کرتے ہیں۔ زمانے بھر کے جھوٹ بولتے ہیں اور وہ سارے کام کرتے ہیں قدرت نے جن سے منع کیا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ آپ کا کیا خیال ہے ؟

نعمان شوق: آپ درست کہہ رہے ہیں کہ ہمارا جو خدا سے جو رشتہ ہے وہ بڑا محبت بھرا رشتہ ہوتا ہے۔ لیکن اب جو صورت حال ہے وہ یہ ہے کہ یہ رشتہ بھی’ میرج آف کنوینینس‘ والا ہو گیا ہے۔ جو خدا کے ساتھ بھی ہے۔ مذہب کے ساتھ بھی ہے۔ جہاں ہم کو خدا سے فائدہ ہوتا ہے وہاں ہمارا رشتہ بڑا خدا دوستی والا ہوتا ہے اور جہاں ایسا نہ ہو اور جہاں چیزوں سے ہم کو فائدہ نہ ہو۔ وہاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہماری ایک روایت یہ ہو گئی ہے کہ ہم خدا کا نام لے کر ایک دوسرے کو ڈرانے کا کام لیتے ہیں۔ خدا کا یہ رشتہ انسان نے بنایا ہے، خدا نے نہیں۔ مذہب کے ساتھ جو ریا کاری اور عیاری ہے۔ وہ انسان کی طرف سے ہے۔ انسان اپنے فائدے کے لیے بھی مذہب کو استعمال کرتا ہے۔ بہت ساری اس کی مثالیں ہیں۔ پاکستان میں ان مسائل کو دیکھا گیا ہے۔ ایک فلم’ خدا کے لیے ‘ اس موضوع پر بنی ہے۔

بلند اقبال: نعمان صاحب۔ ۔ رحمن عباس کا ناول ’خدا کے سائے میں آنکھ مچولی‘ ان دنوں میں نے پڑھا ہے۔ اس حوالے سے میں بات کرنا چاہوں گا۔ اس ناول کا بھی بنیادی موضوع بھی یہی ہے۔ ناول کا کردار عبدالسلام بھی کبھی خدا کے ساتھ کبھی کڑواہٹ، کبھی محبت، کبھی خوشی، کبھی ناراضی کے لہجے میں بات کر رہا ہے۔ آپ مجھے یہ بتائیں یہ ناول آپ کو کیسا لگا اور رحمن عباس نے اس ناول کو کس طرح برتا ہے۔ کیا چیز مختلف لگی؟

نعمان شوق: میں فرینکلی آپ سے عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ ناول بہت ہی outstanding ہے اور اس طرح کے ناول بہت کم لکھے گئے ہیں۔ کم از کم میرے علم میں نہیں ہے۔ میں بہت ادنی ٰ سا طالب علم ہوں فکشن کا لیکن جہاں تک میں نے تھوڑے بہت اردو ناول پڑھے ہیں وہاں مجھے ایسا لگا کہ یہ بالکل الگ سا ناول ہے۔ اس ناول میں خدا، کائنات اور انسان کا جو ایک مثلث بنتا ہے۔ ۔ ۔ انسان کس طرح سے خدا کو سمجھتا ہے۔ خدا اور اس کے قوانین کو دوسرے کس طرح سے استعمال کر رہے ہیں۔ اور جو ایک عمومی صورت حال ہے۔ مذہب کے حوالے سے۔ ۔ ۔ اس سے حساس انسان۔ ۔ ۔ کس طرح ان حالات سے بیزار ہے۔ وہ کس طرح جھنجلاتا ہے۔ اس کے باوجود وہ اس صورت حال کو بیان نہیں پاتا۔ ۔ دوسرے اسے پاگل سمجھتے ہیں۔ اسے مجذوب سمجھتے ہیں۔ ۔ میں مذہبی معنی میں اس اصطلاح کا استعمال نہیں کر رہا ہوں۔ اس ناول میں عبدالسلام کا جو کردار ہے۔ وہ بہت اسڑونگ ہے۔ وہ جس طرح سوچتا ہے اسی طرح لوگوں سے بات بھی کرتا ہے۔ ۔ ۔ اس ناول سے پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ مذہب سے دور ہو رہے ہیں وہ اس لیے ہو رہے ہیں کیونکہ مذہب کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں چلی گئی جو مذہب کو نہیں سمجھتے بلکہ وہ لوگ مذہب کو استعمال کرتے ہیں۔ مذہب محبت، بھائی چارے اور امن کا پیغام دیتا ہے لیکن آپ دیکھئے لوگ اللہ اکبر کہہ کر ایک دوسرے کو مار رہے ہیں۔ ہم نعرے بلند کر رہے ہیں اور خون بھی بہا رہے ہیں۔ اسی سبب یہ لڑائیاں ہو رہی ہیں۔ ہم تو مساوات لانے کے لیے آئے تھے۔ اس ناول میں عبدالسلام کا ایک دوست ہے جسے مسجد سے اس لیے نکال دیا گیا تھا کیونکہ وہ وہابی عقیدے کا ماننے والا ہے۔ سوال یہ ہے مذہب میں یہ چیزیں کہاں سے آ رہی ہیں۔ مذہب نے تو سکھایا ہے ہم پڑوسیوں کے سکھ دکھ میں شامل ہوں۔ ان کے کام آئیں۔

بلند اقبال: مغرب میں جو سوسائٹی ہے وہ بہت زیادہ مذہبی نہیں لیکن یہاں کسی حد تک اقدار موجود ہیں۔ تو کیا جہاں مذہب نے اقدار کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے وہاں کچھ سنبھلنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ وہاں سارا ملبہ مذہب پر گرتا ہے۔ یا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ secular سوسائٹی ہونے کچھ فائدہ ہوتا ہے ؟

نعمان شوق: مذہب کا معاملہ یہ ہے کہ ہم نے خدا اور مذہب کو یرغمال بنا لیا ہے۔ ہم سب کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ یہ افسوس ناک صورت حال ہے۔ اگر ہم خود احتسابی کریں گے تو پتہ چلے گا کہ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر ہم جو کام کرتے ہیں وہ مذہب کی تعلیمات کا حصہ نہیں ہے۔ مذہب تو انسانی مفاد کے لیے کام کرتا ہے۔

بلند اقبال: رحمن عباس کے اس نئے ناول اور تجربے کو آپ کیسے دیکھتے ہیں ؟

نعمان شوق: دیکھے ! یہ ناول میرے نکتۂ نظر سے بہت اہم ناول ہے۔ ناول کے حوالے سے اس وقت ہمارے یہاں جو چند نام لئے جاتے ہیں ان میں رحمن عباس کا نام بھی اہم ہے۔ رحمن عباس کے اس ناول ’ خدا کے سائے میں آنکھ مچولی‘ میں ایک حساس آدمی کا مکالمہ ہے۔ اس سماج سے، اس کے معاشرے سے اور اس کے مذہب سے۔ اس ناول میں جو باتیں سامنے آئیں ہیں۔ اگر اسے کسے اور نے لکھا ہوتا اور کچے ہاتھوں سے لکھا گیا ہوتا تو ایسا لگتا کوئی مذہب مخالف ایجنڈہ ہے جس کے تحت یہ لکھا جا رہا ہے۔ لیکن اس ناول کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں اتنی صاف گوئی اور ایمانداری سے چیزیں بیان کی گئی ہیں کہ ایسانہیں لگتا وہ چیخ رہیں۔ بلکہ یہ لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے کا ایک شخص کیسے دنیا کو دیکھتا ہے۔ وہ کتنا sensitive ہے اور دنیا اس کو کتنی odd لگ رہی ہے۔ اور اسی طرح دنیا اسے کتنا الگ اور odd سمجھتی ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار عبدالسلام جن باتوں کو بیان کرتا ہے وہ اس قدر حقیقی اور معنی خیز ہیں کے ایسا لگتا ہے کئی چیزوں سے اچانک پردہ اٹھ گیا ہے۔ مثلاً ناول میں ایک واقعہ ہے کہ عبدالسلام اپنے کمرے میں، اپنے گھر میں magic eye لگاتا ہے جلد بازی میں یا لاپرواہی میں کہہ لیں الٹا لگ جاتا ہے۔ یہ جو عجلت میں، جلد بازی میں magic eyeالٹا لگ گیا ہے، یہ وہ magic eye ہے جس کے ذریعے ہم اس پورے ناول کو دیکھ سکتے ہیں۔

بلند اقبال: آپ نے بہت صحیح بات کہی ہے اور بہت اچھی مثال دی ہے۔ جب ہم دروازے سے باہر دیکھتے ہیں تو دنیا کچھ اور ہوتی ہے اور جب باہر سے اندر دیکھتے ہیں تو اندر کی دنیا کچھ اور ہوتی ہے۔ یہ بہت symbolic expression بھی ہے اپنی ذات کے اندر دیکھنے کا بھی اور باہر دیکھنے کا بھی۔ نعمان بہت بہت شکریہ آپ نے رحمن کے ناول پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور آج کے موضوع پر بھی بات کی۔ دوستوں اب ہم مشرف عالم ذوقی صاحب سے بات کریں گے۔ ۔ (مشرف عالم ذوقی کا تعارف، کمرشیل بریک)

٭٭

 

بلند اقبال۔ مشرف عالم ذوقی دلی سے ہمارے ساتھ ہیں۔ ذوقی صاحب آج Password پروگرام میں خدا اور اس کے انسان کے ساتھ رشتے پر بات کر رہے ہیں۔

مشرف عالم ذوقی: بلند صاحب یہ خوشی کا مقام ہے کہ ان دنوں ہمارے یہاں بہت سارے ناول لکھے جا رہے ہیں، مثلاً پیغام آفاقی کا ناول ’ پلیتہ‘، غضنفر کا’ مانجھی‘، شائستہ فاخری کا ناول’ نادیدہ بہاروں کے نشان‘، نورالحسنین کا ناول اور رحمن عباس کا یہ ناول جس پر آج ہم بات کر رہے ہیں۔ رحمن عباس کے اس ناول کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ یہ ایک مشکل ناول ہے اور کئی قرأت کا مطالبہ کرتا ہے اگر آپ نے Oscar Wilde کے ناول پڑھے ہیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ آ سکر وائلڈ کے ناول کی طرح یہاں بھی قدم قدم پر پر اسراریت کے ساتھ فلسفوں کے دھند بھی نظر آتی ہے۔ یہ ناول پہلی قرأت میں ’ خدا کی بستی‘ کی یاد تازہ کراتا ہے۔ خدا کی بستی کوئی بڑا ناول نہیں تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ’خدا کی بستی‘ پانچ سوسے زائد صفحات پر مشتمل تھا اور رحمن عباس کا یہ ناول آرنسٹ ہیمنگ وے کے ناول The old man and the أقدم قدم پر پر اسرار لعزع و حواصSea کی طرح محض سو صفحات پر مشتمل ہے۔ مگر جیسے ’بوڑھے آدمی اور سمندر ‘ کو اس کے موضوع کے لحاظ سے ہم آج بھی یاد کرتے ہیں اسے طرح رحمن عباس کے ناول کو بھی اپنے موضوع کے لحاظ سے برسوں یاد کیا جائے گا۔ ایک بات اور بھی ہے ’خدا کی بستی‘ کا کینواس چھوٹا تھا۔ ’ خدا کی بستی‘ میں ڈکنس کے ناولوں کے طرز پر کردار بحال کئے گئے تھے۔ مگر موضوع میں فکر کے عناصر کم تھے۔ رحمن عباس کے اس ناول میں فکر حاوی ہے اگر اس کے clauses کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ خدا کے سائے میں آنکھ مچولی کھیلنے والوں نے خود کو محبت سے دور کر دیا ہے۔ بلند اقبال صاحب، اصل میں اس ناول کا موضوع یہی’ محبت ‘ہے۔ اسی لیے عبدالسلام جیسا کردار، دنیا کی عیاری اور مکاری سے گزرنے کے بعد آخر میں اپنے لیے موت کا انتخاب کر لیتا ہے۔

بلند اقبال: صحیح! میں جو باتیں کرنا چاہتا تھا وہ ناول کا بھی موضوع ہے۔ ہمارا قدرت سے رشتہ اس قدر دوغلا کیوں ہے۔ یہی بنیادی موضوع ناول کا بھی ہے۔

مشرف عالم ذوقی: اگر آپ نے اس ناول کا مطالعہ کیا ہے تو آخر میں ایک جملہ آتا ہے کہ محبت نہ ہو تو آدمی دل کے پراسرار کنویں میں گر کر مر جائے گا۔ اصل میں یہ جملہ اس ناول کی کلید اور کنجی ہے۔ دیکھا جائے تو مکمل ناول اس جملے کے ارد گرد گھومتا ہے۔ یہ جملہ عبدالسلام کی ڈائری میں لکھا ہوا ملتا ہے۔ اسی طرح ایک اور جملہ بہت اہم ہے کہ’ خدا کے بغیر اس تنہا زندگی میں معنویت کون پیدا کر سکتا ہے۔ سوائے محبت کے ‘۔ ۔ ۔ یہاں اشارہ واضح ہے۔ جب ہم محبت کرتے ہیں تو خدا کے زیادہ قریب ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ عشق عبادت ہے۔ یہ ناول بڑا ہے، بہت بڑا ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ ’خدا کے سائے میں آنکھ مچولی ‘ کو لے کر رحمن عباس بہت آگے تک نکل تو گئے لیکن آگے چل کر وہ ایک جگہ چک گئے اور انھوں نے عبدالسلام کی ذات کو مار ڈالا۔ مجھے لگتا ہے اگر وہ اس کردار کو نہیں مارتے۔ ۔ تو پھر اسی کا ایک دوسرا پہلو ہے کہ دنیا آج بھی اتنی خراب نہیں ہے۔ یہاں آج بھی بہت اچھے لوگ بستے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ رحمن عباس کے ناول کے کردار عبدالسلام کو( اس کے معیار کے مطابق )جو لوگ ملے وہ بہت اچھے لوگ نہ ہوں۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسی خدا کے سائے میں سیاست بھی چل رہی ہے۔ اسی کے سائے میں نفرت، عیاری اور مکاری کی داستانیں بھی لکھی جا رہی ہیں۔ میرا سوال یہی ہے کہ عبدالسلام (جو بہت خوب صورت کردار ہے ) اس کو وہ چیزیں۔ ۔ ۔ جو اسے زندگی سے قریب کر سکتی تھیں، کیا نظر نہیں آئیں ؟ جب کہ اس کی محبت بھی شامل تھی اور بہت ممکن تھا کہ اگر وہ اپنی محبت کو بہت positive انداز میں لیتا تو وہ موت کے راستے کا انتخاب نہیں کرتا۔

بلند اقبال: ذوقی صاحب !ناول کے حوالے سے آپ نے دلچسپ باتیں کی ہیں۔ اچھا تجزیہ پیش کیا ہے۔ میرا آج کا سوال بھی یہی ہے کہ ہمارا خدا سے رشتہ اتنا کمزور کیوں ہے۔ برائے راست کیوں نہیں ہے۔ کوئی کمینٹ؟

مشرف عالم ذوقی: میں ایک بات اور کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے یہاں جو ناول ان دنوں میں آئے ہیں مثلاً پیغام آفاقی کا ناول ’پلیتہ‘ اس میں بھی کردار ہے مر جاتا ہے بلکہ اس کی موت کے بعد کہانی شروع ہوتی ہے۔ یہاں بھی یہی بات ہے کہ عبدالسلام مر جا تا ہے۔ خالد جاوید کا ناول ہے ’ موت کی کتاب‘ اس میں بھی ایک طرح کی negativity ہے۔ مجھے لگتا ہے ہمارے فن کار زندگی کا وہ چہرہ دیکھ رہے ہیں جہاں کچھ باقی نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے دنیا اتنی خراب نہیں ہوئی ہے جتنی ہم محسوس کر رہے ہیں۔ ابھی بھی بہت کچھ باقی ہے۔ دنیا آج بھی بہت خوب صورت ہے۔ رحمن عباس کے اس سے پہلے جو ناول ہیں ’نخلستان کی تلاش‘ جو بہت مقبول ہوا تھا اس کے بعد ان کا دوسرا ناول ’ایک ممنوعہ محبت کی کہانی‘ ان ناولوں میں negativity نہیں ہے۔ مثبت اشارے ہیں۔ اس ناول میں اگر رحمن عباس نے ناول کے آخر میں مرکزی کردار کو مارا نہیں ہوتا تو یہ اس وقت کا اہم ترین ناول ہوتا۔ اس کے باوجود یہ بڑا ناول ہے۔ جس طرح بمبئی کے کردار لے کر رحمن عباس نے ناول لکھا ہے۔ اس طرح کے کردار بہت دیر بعد ہمارے سامنے آئے ہیں۔ حالانکہ یہ ہمارے آس پاس کے کردار ہیں۔ ندا فاضلی نے جو بات کہی تھی کہ ایک آدمی میں کئی آدمی رہتے ہیں۔ ۔ ۔ یہ ناول وہاں کی عورتوں کے جنسی اور مذہبی فرسٹریشن کو بیان کرتا ہے۔ مذہب نے کس طرح سے بہت ساری چیزوں کو چھپا لیا ہے۔ ۔ ۔ ایسا لگتا ہے عبدالسلام جو کچھ دیکھ رہا تھا اس دنیا کو دیکھنے کی اس میں طاقت نہیں تھی۔

بلند اقبال: مشرف عالم صاحب اس تجزیے کے لیے شکریہ۔ آپ نے ناول کے پس منظر میں ہمارے آج کے موضوع پر بھی روشنی ڈالی۔ اب ہم رحمن عباس سے (جو اس کتاب کے مصنف ہیں ) ان سے بات کریں گے۔ ( کمرشیل بریک)

٭٭

 

بلند اقبال: آداب رحمن عباس! کچھ اپنے ادبی سفر کے بارے میں لوگوں کو بتائیں۔ آپ نے کب لکھنا شروع کیا اور اب تک کیا کچھ آپ نے کیا ہے۔ ؟

رحمن عباس: آداب! جی ہاں ! میں نے ایم اے کا امتحان دینے کے فوراً بعد افسانے لکھنے شروع کیا۔ ایک کہانی میں نے اردو کے مشہور افسانہ نگار نیر مسعود کو بھیجی کہ وہ ایک نظر اس کہانی کو دیکھ لیں۔ یہ کہانی ان کو بہت پسند آئی اور انھوں نے ’ شب خون‘ میں اشاعت کے لیے بھیج دی تھی۔ اس طرح میری ادب میں انٹری ہوئی، پھر میں نے چار پانچ برسوں تک کہانیاں لکھیں۔ ۲۰۰۴ء میں میرا پہلا ناول ’نخلستان کی تلاش‘ اور پھر ۲۰۰۹ء میں میرا دوسرا ناول ’ایک ممنوعہ محبت کی کہانی ‘ شائع ہوا۔ اور اس سال ’خدا کے سائے میں آنکھ مچولی‘۔ ۔ یہ میرا تیسرا ناول ہے۔

بلند اقبال:رحمن عباس آپ کے بارے میں ہمیں بڑی متضاد خبریں سننے ملی ہیں کہ آپ کا پہلا ناول ’نخلستان کی تلاش‘ اس میں کچھ موضوعات ایسے تھے جس پر لے دے ہوئی تھی۔

رحمن عباس : جی، ’نخلستان کی تلاش‘ پر بہت ہنگامہ ہوا۔ یہاں بھی اور کچھ دوسری جگہوں پر بھی۔ مجھے ایسا لگتا ہے اس ناول کو پوری طرح سمجھا نہیں گیا۔ یہ ناول ہندستان کی مختلف یونی ورسٹیزز میں پڑھنے والے مسلم طلبہ کی ذہنی روش کو پیش کرتا ہے اور یہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ کشمیر کی تحریک کے ان پر کیا نفسیاتی اثرات پڑے۔ اس ناول میں دو صفحات کا جو بیان ہے ( محبت کا) اس پر کچھ لوگوں کو اعتراض ہے۔ افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ اس ناول پر ۲۰۰۵ء سے فحاشی کا مقدمہ چل رہا ہے ممبئی کی عدالت میں۔ اور اس کی وجہ سے مجھے بھی خاصی دقت ہوئی ہے۔ میری ملازمت سے بھی مجھے رزائن دینا پڑا تھا۔ ایک خاص طرح کے طبقے نے انتظامیہ کو pressurize کیا تھا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کے دو دن مجھے جیل میں بھی رہنا پڑا۔ لیکن میرا خیال ہے کہ میں نے جو کچھ بھی لکھا ہے وہ میرے کردار کی نفسیات کا حصہ ہے۔ وقت یہ ثابت کر دے گا کہ میری تحریر کسی طرح سے فحش نہیں ہے۔ بلکہ وہ انسان کی روح کی گہرائی کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ یہی ایک تنازعہ اس ناول کے ساتھ ہوا لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ ہندستان اہم لکھنے والوں نے اس ناول کی تائید کی اور کھل کر وہ میری حمایت میں نظر آئے۔

بلند اقبال: بہت اچھے رحمن، اس بات سے اندازہ ہو رہا ہے کہ ہم اس وقت ایک ایسے ناول نگار سے بات کر رہے ہیں جو باغی ہے اپنے وقت کا۔ ۔ جب ہم افسانے کے حوالے سے بات کر تے ہیں تو منٹو کا نام ہمارے سامنے آتا ہے۔ اسی طرح جب ہم ناول پر بات کریں گے تو ہمارے سامنے رحمن عباس کا نام آ رہا ہے جس نے ایسے موضوع کو چھوا ہے جس کو چھونے سے لکھنے والے تذبذب کا شکار ہوتے ہیں۔ رحمن عباس آپ کے اس ناول کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ آپ روایت سے کچھ ہٹ کر ناول لکھ رہے۔ اس لیے ناول پر بات کرنے سے پہلے ہم کچھ روایت پر بات کریں گے۔ آپ نے جس غیر روایتی انداز میں ناول لکھے ہیں اس کے بارے میں کچھ کہئے۔ ۔ ۔

رحمن عباس: میں مختصراً آپ کو یہ بتا دوں کے میں نے بمبئی یونی ورسٹی سے ۱۹۹۶ء میں اردو اور اس کے بعد ۲۰۰۴ ء میں انگریزی ادب سے ایم اے کیا ہے۔ میری تعلیم اور تربیت میں دونوں زبانوں کا اور دونوں زبانوں کی ادبی روایت کا حصہ ہے۔ میں نے دونوں زبانوں کا فکشن پڑھا تھا۔ اس لیے جب میں نے ناول لکھنے کی کوشش کی تو ایک طرف میرے سامنے گابریل گارسیا مارکیز تو ایک طرف میلان کنڈیرا تھے۔ ایک طرف ورحان پاموک تھے تو ایک طرف کافکا تھے۔ ایک طرف افریقی ناول نگار تھے جن میں آپ چنوا آباچے کا نام لے سکتے ہیں۔ اس لیے میرے لیے فارم کا تجربہ صرف وہ نہیں تھا جو فارم کے تجربے اردو میں ہوئے۔ مثلاً عینی آپا یا عبداللہ حسین نے جس طرح سے ناول لکھے یا عصمت چغتائی نے جس طرح سے ناول لکھے۔ میں اس فارم کو سمجھ رہا تھا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں جس عہد میں جی رہا ہوں اس عہد میں یہ فارم میرا بہت زیادہ ساتھ نہیں دے سکتے۔ دوسری طرف جب میں نے افسانہ نگاری کی شروعات کی۔ اس وقت جدیدیت کا دور تھا۔ میری خود ابتدائی کہانیاں formlessکہانیاں ہیں۔ لیکن جب میں نے مڑ کر دیکھا تو مجھے لگا یہ اتنا پے چیدہ فارم کہ اب میں خود جب انھیں پڑھتا ہوں تو سمجھ نہیں پاتا۔ تب میں نے فارم کی دریافت کرنے کی کوشش کی اور فارم پر توجہ دی۔ اسی لیے میرے ان ناولوں میں جہاں سبجیکٹ مختلف ہے وہیں قارئین کو فارم کے تجربات نظر آتے ہیں۔ اس طرف بہت سارے لکھنے والوں نے بھی توجہ دی ہے کہ میرے یہاں جو فارم کا تجربہ ہے وہ پے چیدہ ہونے کے باوجود قارئین کی دلچسپی کو برقرار رکھتا ہے۔ جس طرح کنڈیرا اور پاموک کے فارم کے تجربے اپنی ساری پیچیدگی کے باوجود قارئین کو باندھ کر رکھتے ہیں۔ میں نے ایسے ہی تجربے کو اردو میں برتنے کی کوشش کی ہے۔

بلند اقبال: بہت خوب! اب ہم آپ کے ناول کے کردار عبدالسلام کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ میرے لیے عبدالسلام فکر و آگہی کا سمبل ہے۔ یہ شاید representation ہے ہمارے پورے سماج کا اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ یہ بڑا متضاد کردار ہے۔ عبدالسلام کا جو رشتہ خدا سے ہے وہ رشتہ روایتی نہیں ہے۔ یہ رشتہ صرف اور صرف جنت اور دوزخ کے درمیان بٹا ہوا نہیں ہے۔ بلکہ یہ وہ رشتہ ہے جو محبت کا رشتہ ہے۔ جس میں روٹھنا اور منانا بھی ہے اور طنز کرنا بھی ہے۔ انگلی اٹھنا بھی ہے اور چلانا بھی ہے۔ اور رونا بھی ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جو بڑا genuine ہے، محبت سے بھرا ہوا ہے اور متضاد بھی ہے۔ آپ نے اس متضاد رشتے کو، متضاد کردار کو اتنے غیر روایتی انداز پیش تو کیا آپ کو ایسا نہیں لگا کہ جو انجام عبدالسلام کا ہوا، جو آپ بھی جانتے ہیں اور ہم بھی جانتے ہیں، تو کیا آپ کو یہ ڈر نہیں کہ روایتی تنقید نگار اس ناول کے کا بھی وہی انجام کر دیں گے۔

رحمن عباس: مجھے لگتا ہے کہ زمانہ بدل رہا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح مغرب میں نطشے نے جس طرح سے اس بات کا اعلان کر دیا تھا کہ خدا کی موت واقع ہو چکی ہے۔ وہ مغرب کی ذہنی تاریخ اور مغرب کی سماجی صورت حال کی پیداوار تھی۔ لیکن جہاں تک مشرق اور مشرقی اذہان کا تعلق ہے۔ وہاں خدا آج بھی سب سے زیادہ مقدس اور با معنی تصور ہے۔ اس مقدس اور بامعنی تصور کے باوجود خدا کا اطلاق اور مذہبی تعلیمات کا اطلاق ہمیں عام زندگی میں نظر نہیں آتا۔ ہمیں ایک متضاد صورت حال نظر آتی ہے۔ جس میں افراد جو کہتے ہیں اور سوچتے ہیں اس کا تعلق ان کے اعمال سے نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ عبدالسلام ایک ایسے کردار کے طور پر سامنے آتا ہے جو قدامت پرست اور دقیانوسی معاشرے میں زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کوشش کے ساتھ ساتھ وہ خود ایک طرح کی شخصیت کے کرائسس کا شکار ہو گیا ہے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح سے جو حقیقتیں اس کے اطراف ہیں ان کو فراموش کرے۔ وہ اس کے تریاق کے طور پر محبت میں سہارا یا پناہ تلاش کرتا ہے لیکن اسے بہت بعد میں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اس کی یہ جستجو بھی اس کے کام نہیں آئی۔ بالآخر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ( جو عناصر ہوتے ہیں )۔ ۔ جو کسی بھی کردار کو اس کے معاشرے میں پیوست رکھتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ کوئی بھی تناور درخت اسی وقت مضبوط کھڑا رہتا ہے جب اس کی جڑیں بہت مضبوط ہوں۔ لیکن جب کردار جو ایک عام آدمی ہے اور جو چیزیں اس کے معاشرے میں باندھ کر رکھتی ہیں ( ان میں سب سے اہم ہے )۔ ۔ مذہب، خاندان، اس کی زبان، اس کے خدا، اس کا تعلیمی نظام اگر یہی عناصر کمزور نظر آئیں۔ ان کی بنیادیں کمزور ہو گئی ہوں۔ تو پھر ذات کاکرائسس شروع ہوتا ہے۔ ذات کے اس کرائسس میں، آج کی صدی میں جو intelligentia ہے , غور و فکر کرنے والا، سوچنے والا طبقہ ہے وہ کہیں نہ کہیں عبدالسلام کی طرح زندگی گزار رہا ہے۔ دوہری زندگی جی رہا ہے۔ اس کے زندگی کی صداقتیں کچھ اور ہیں۔ اس کے باطن میں جاری کرب کچھ اور ہے۔ اور سماجی سطح پر جن لوگوں کے ساتھ اس کے روابط ہیں۔ اس سطح پر وہ کسی اور صورت حال میں زندہ رہنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ اس کیفیت اور اس ناول کے بارے میں نے ایک hint دیا تھا کہ جو بات فلسفۂ وجودیت کی کلید ہے کہ essence existence precede یعنی پہلے وجود پھر ذات کا جوہر۔ ۔ ۔ یہ وجود ذات کے جوہر کی دریافت سے پہلے اپنے آپ سے الجھ رہا ہے۔ اپنے مسائل سے الجھ رہا ہے۔ اپنے اطراف اس نے جس طرح سے مذہب، تعلیم، خاندان اور افراد۔ ۔ اور جتنے نظریات ہیں ان نظریات کے کھوکھلے پن کو دیکھا۔ اس کے بعد وہ خود کو ان کے ساتھ پیوست نہیں رکھ سکا۔ شاید اسی لیے وہ کرائسس کا شکار ہو گیا۔ ( کمرشیل بریک)

٭٭

 

بلند اقبال: ناظرین یہ موضوع جس پر ہم رحمن عباس کے ناول کے حوالے سے بات کر رہے ہیں یوں بھی ہمارے سماج کو بہت reflect کرتا ہے۔ عبدالسلام در اصل میرا اور آپ کا کردار بھی ہو سکتا ہے۔ ہمیں جاننا ہے کہ عبدالسلام جیسا متضاد کردار جو ہمارے سماج میں پیدا ہوتا ہے وہ کن اسباب کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جب ہماری moral values خدا کی طرف سے آتی ہیں تو پھر ہماری ساری برائیوں کا ملبہ بھی خدا کی طرف گرتا ہے۔ دیکھتے ہیں رحمن عباس کا کیا خیال ہے اس بارے میں۔

رحمن عباس : مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ہمیں تھوڑا ماضی کی طرف جانا چاہئے۔ خاص کر بر صغیر میں مسلمانوں کی جو تاریخ ہے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد جو صورت حال پیدا ہوئی اس سے مسلمان ایک طرح کے فرسٹریشن میں چلے گئے تھے۔ اس کے بعد سرسید نے کچھ کوشش کی تعلیم کا احیاء ہو، لیکن اچانک ہم دیکھتے ہیں کہ ۱۹۴۷ ء میں ہندستان دو ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے۔ اس کے بعد ایک طرح کی صورت حال پیدا ہو تی ہے جس میں کرائسس ہیں۔ مذہب کے کرائسس بھی ہیں۔ اسی دوران مذہب نے ایک بڑی عجیب کروٹ لی اور وہ رہی انتہا پسندی کی، رجعت پسندی کی، ماضی کی طرف بہت تیزی سے واپس جانے کی، مراجعت کی۔ مجھے ایسا لگتا ہے یہ بنیاد کہیں نہ کہیں پورے طریقے سے مذہب کا ہمارا جو فلسفہ ہے، ہمارا جو نظریہ ہے اس سے میچ نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر طرف برصغیر میں خاص کر ان دونوں ملکوں میں، تمام مذاہب میں ایک خاص طرح کی تحریک نے جنم لیا جو انسانی اخلاقیات کے بجائے، مذہبی اخلاقیات پر زور دیتی ہے۔ اس میں بھی کوئی قباحت نہیں ہے کیونکہ مذہبی اخلاقیات بھی بنیادی طور پر انسانی اخلاقیات کا ہی ایک حصہ ہیں۔ لیکن چونکہ مذہب ایک بہت نظام ہے۔ ایک بہت بڑا سسٹم ہے۔ اس لیے جب تک آپ تعلیم کے زیور سے آراستہ نہ ہوں۔ ۔ آپ عرفان اور آگہی کے مدارج سے گزرنے کی صفات اپنے اندر نہ رکھتے ہوں۔ آپ، اس کے تقدس، اس کی عظمت کو پا نہیں سکتے۔ اسی سبب آج ہم دیکھتے ہیں۔ ۔ چونکہ ہمارا معاشرہ تعلیم سے محروم ہے، ہمارے یہاں ہندستان میں آج بھی ۵۰ فی صد مسلمان تعلیم سے محروم ہیں۔ پاکستان کی صورت حال بھی کچھ اس سے زیادہ اچھی نہیں ہے۔ تب جب ایک معاشرہ جس کے پاس مذہب کا زیور اتنی بڑی امانت ہے، لیکن چونکہ تعلیم اس کے پاس نہیں ہے۔ چنانچہ وہ مذہب کی حقیقت، اس کی صداقت اور اس کے حسن کا سمجھ نہیں سکتا۔ جو آدمی اس قابل ہی نہیں ہے کہ وہ کسی عبارت کے متن، قران کی کسی آیت کو یا اللہ کے رسول کی حدیث کو اور اس کی عظمت کو اپنے طور پر پڑھ کر سمجھ نہیں سکتا۔ اس کے مفاہیم کی گہرائی تک پہنچ نہیں سکتا تب اس کی روح میں وہ شادابی، وہ حسن کیسے آئے گا جو مذہب پیدا کرنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ کہ ایک بہت بڑی اکثریت دونوں ممالک میں یا اس پوری کمیونٹی میں جسے ہم اردو کے دائرے میں محدود کریں اس میں ایک بڑا طبقہ ایسا نظر آتا ہے جو مذہب کا نام لینے والا ضرور ہے، جو مذہب پر جان دینے کے لیے تیار ہے لیکن مذہب کے حسن سے مذہب کے تقاضوں سے اور مذہب کی عظمت سے واقف نہیں ہے۔ اسی لیے ان کا وجود خلاء میں نظر آتا ہے۔

بلند اقبال:لیکن رحمن یہاں مغرب میں جو سوسائٹی ہے جو بڑی حد تک سیکولر ہے۔ اس میں مورل ویلوز زیادہ نظر آتی ہیں نسبتاً مشرق کے۔ ۔ مشرق میں مذہب اور مورل ویلوز کی زیادہ باتیں ہوتیں ہیں، عمل نہیں۔ یہاں بچے، صحافی عام لوگ زیادہ سچ بولتے ہوئے مل جاتے ہیں۔ عام آدمی سچ بولتا ہے۔ ایماندار ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ نماز پڑھ رہے ہیں، چرچ بھی جار رہے اور جھوٹ بول رہے ہیں پھر نماز پڑھ رہے ہیں پھر چرچ جا رہے ہیں۔ مورل ویلوز کا تعلق مذاہب سے جوڑا جاتا ہے لیکن ہے نہیں، اس کا کیا سبب ہے ؟

رحمن عباس : آپ نے درست کہا ہے۔ لیکن دیکھئے جو بات مغرب کے ساتھ بہت اچھی ہوئی وہ یہ ہے کہ وہاں انسانی اخلاقیات کا فروغ ہوا ہے۔ انسانی اخلاقیات کو بنیادی انسانی اخلاقیات کے طور پر قبول کیا گیا ہے۔ جس میں وہ چیزیں جنھیں ہم مورالیٹی کے ساتھ مشرق میں جوڑ کر دیکھتے ہیں وہ پورے طریقے سے شامل ہیں۔ مغرب کا تعلیمی نظام اور اخلاقیات کا تصور۔ ۔ اور یہ تصور انھیں کسی نے عطا نہیں کیا ہے۔ اس کے لیے انھوں نے جد و جہدیں کی ہیں۔ فرانس کا انقلاب ہو یا امریکہ کا انقلاب ہو، یہ انقلاب ہوا میں نہیں آئے ہیں۔ یہ کسی ایک آدمی کے تصور سے نہیں آیا ہے۔ اس کے پیچھے پوری سائیکی کام کرتی ہے۔ در اصل سائیکی کا ڈفرینس ہے۔ ہمارے یہاں ہم ہر چیز کو تاریخ کے تناظر میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم اپنی زندگی اپنے اعمال کا احتساب نہیں کرنا چاہتے۔ ہم جن چیزوں پر زور دیتے ہیں وہی چیزیں ہماری زندگی سے عنقا ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ہم سچ بولنے والی سوسائٹی بھی نہیں رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناول میں، میں نے وارث علوی کا ایک جملہ نقل کیا ہے :’ ایسی دنیا میں زندہ رہنے کا کیا فائدہ، جہاں آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، زبان اس کا جھٹلاتی ہے۔ ‘ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہمارا جو اردو کا معاشرہ ہے۔ جو کہیں نہ کہیں مذہبی اقدار کو اپنی اقدار کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے۔ لیکن ان اقدار کا اس کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ بنیادی طور پر بڑی حد تک دوغلا، کھوکھلا اور کمزور معاشرہ ہے۔

بلند اقبال: رحمن عباس آنے والے وقت میں آپ کیا دیکھتے ہیں۔ چونکہ گلوبل ورلڈ ہے، ہم ایک نئی civilization میں شامل ہو گئے ہیں۔ تو کیا وقت کے ساتھ ہماری فکر ہماری سوچ اور ہماری آگہی میں تبدیلی آئے گی؟

رحمن عباس:ہمیں ہمیشہ پر امید ہونا چاہیے لیکن امکانات بہت زیادہ روشن نہیں ہیں۔ اس کی وجہ دیکھئے کہ ہمارے اخبارات، ہمارے اخبارات کا منشا کیا ہے ؟اخبارات کس طرح کے نظریات کو پروموٹ کر رہے ہیں ؟آپ دیکھئے ہماری لیڈر شپ، ہماری لیڈر شپ ہمیں کس طرف لے جا رہی ہے ؟دونوں ملکوں میں۔ ۔ آپ دیکھئے ہمارا تعلیمی نظام۔ ۔ ہماری جو بنیادی کمزوریاں ہیں اگر ہم نے ان کمزوریوں کی طرف توجہ نہیں دی۔ ۔ ۔ ہماری زبان کا جو Ethos ہو گیا ہے۔ ۔ ہماری زبان کا جو مزاج ہو گیا ہے۔ ہر چیز کو، ہر چیز کا ایک طرح سے مذہبی کرن کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ حد تو یہ ہوئی کہ اب ہمارے یہاں کچھ جماعتیں ایسی نکل آئی ہیں جو غزل کے اندر سے بھی ایسے الفاظ کو نکال باہر کرنا چاہتی ہیں جس میں کسی طرح کی آزاد خیالی کی ان کو بو آئے۔ جب معاشرہ اتنا زیادہ سکڑنے لگے تب امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ لیکن ہم کو ہمت نہیں ہارنا چاہیے۔ خاص طور پر ادیب، فن کار اور تخلیقی فن کار کو کبھی ہارنا نہیں چاہیے۔ ادیب خواب دیکھتا ہے۔ میں اپنے معاشرے کی ترقی، میں اپنی زبان کی ترقی اور میں اپنی زبان میں آزاد خیالی کا خواب دیکھتا ہوں اور یہ خواب مجھے مجبور کرتا ہے کہ میرے جو تاثرات ہیں، میرے جو خیالات ہیں، میرے جو احساسات ہیں ان کو قلم بند کروں۔ اور یہ جو تحریک ہے ہم سب کی، اس تحریک کا ہم میں ہونا بہت ضروری ہے۔ جب تک یہ تحریک ہم میں رہے گی۔ ہماری زبان بھی ترقی کرے گی۔ اور ہماری زبان میں جو عناصر در آئے ہیں ان کا بھی کہیں نہ کہیں سے سد باب ہو گا۔

بلند اقبال: بہت خوب رحمن، آپ نے بہت اچھے اور بہت ہی مدلل انداز میں ہم سے بات کی۔ موضوع پر بھی اور ناول کے حوالے سے بھی۔ روایت پر بھی اور ناول جس طرح سے لکھا جا رہا ہے اس پر بھی۔ آپ جو تجربات کر رہے ہیں وہ بلاشبہ appreciating ہیں۔ ہم نے آپ کے حوالے سے کئی ایک معتبر ادیبوں سے بھی گفتگو بھی کی اور ان کے کمینٹس سے بھی اندازہ ہوا کہ آپ کا مستقبل بہت روشن ہے۔ (ناظرین سے مکالمہ) ناظرین رحمن عباس سے گفتگو سے اندازہ ہو رہا ہے ہم مسلسل ان موضوعات پر سوچ رہے ہیں۔ اور ان پر نڈر اور بہادری سے لکھ رہے ہیں۔ ان کا یہ ناول ’ خدا کے سائے میں آنکھ مچولی‘ در اصل ایسا ہی ایک اشارہ ہے۔ میں چاہوں گا کہ ان کے ناول کی چند اور سطریں آپ کے سامنے پڑھوں۔ اور پھر آپ سے اجازت چاہوں۔ کیوں کہ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کا solution بہت مشکل ہے۔ لیکن keyword کہیں نہ کہیں تو ہو گا۔ ہمارے پروگرام کا password کہیں نہ کہیں تو ہو گا۔ چند سطریں سنئے، یہ وہی کردار ہے جس کے حوالے سے ہم بات کر رہے تھے : ’’ عبدالسلام شاید خدا کو صداقت سمجھتا ہے۔ جسے اجتماعی آنکھ اور عبادتوں کے سلسلوں سے دریافت نہیں کیا جا سکتا۔ ہر روح ایک انفرادی تجربہ ہے اور ہر روح کا خدا سے رشتہ اس کے انفرادی وجود اور فہم کی سطحوں سے تشکیل ہو گا۔ خدا بے ہیئت، لا ماضی، عدم خواہش، لامکاں اور لا مستقبل ہے۔ انسان ماضی، خواہش، مکان اور مستقبل سے مربوط ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی ضرورت اور پیداوار ہیں۔ ‘‘ ناظرینِ کرام یہ جملے سنئے خصوصی طور پر : ’’ خدا اور انسان کے درمیان جو رشتہ ہے اسے آگہی کے ایک مخصوص نقطے پر محسوس کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد زندگی کے تصرف کا عرفان حاصل ہوتا ہے۔ ایک ایسا عرفان جس سے خاموشی، مسکراہٹ اور محبت کی حقیقی معنویت آدمی پر آشکار ہوتی ہے۔ عرفانِ نفس سے زندگی ایک تجرباتی صداقت بن کر پر لطف ہو جاتی ہے۔ ‘‘۔ ۔ جی ہاں ! عرفانِ نفس سے۔ ۔ یہ ہے وہ کلیدی نکتہ جو مجھے سمجھ میں آیا۔ جس وقت ہمارے consciousness سے consciousness ڈولوپ ہو جائے۔ جب ہم سمجھ جائیں ہماری صداقت کیا ہے۔ تو ہمارا خدا سے واقعتاً رشتہ پیدا ہو جاتا ہے۔ پھر نمازوں کے درمیان ہم کوئی برائی نہیں کرتے۔ کیونکہ ہم نماز ہی میں رہتے ہیں۔ ہم خدا کی صداقت میں رہتے ہیں۔ خدا ہمارے اندر اتر آتا ہے۔ ۔ ۔ رحمن عباس میں پھر ایک بار آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں بہت خوش ہوا آپ کا ناول پڑھ کر، سچ پوچھئے تو میں تھوڑا jealous بھی ہوا ناول پڑھ کر کاش میں آپ جیسا لکھتا۔

رحمن عباس: میں بھی آپ کا اور آپ کے channel کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اس ناول کا نوٹس لیا اور اس ناول پر یہ مذاکرہ منعقد کیا۔ اور مجھے بھی اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع عنایت کیا۔

بلند اقبال: شکریہ رحمن۔ ۔ یوں ہی لکھتے رہیے اور یوں ہی ہمارے سوچ کے دائروں کو وسیع کرتے رہیے۔

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے