پتہ وہی ہے ۔۔۔ اسنیٰ بدر

فون آیا ہے۔۔ ۔ میرے بھائی نے بچپن والا گھر تڑوا کے نئے سرے سے آنگن کمرے بنوائے ہیں باورچی خانے میں پتھر لگوائے ہیں طاق پرانے بھروائے ہیں سب دروازے بدلائے ہیں   جامن، نیم کا پیڑ کاٹ کر نئے قیمتی چکنے گملے منگوائے ہیں ننھے پودے اگ آئے ہیں۔۔ ۔   ابٓی، آپ Read more about پتہ وہی ہے ۔۔۔ اسنیٰ بدر[…]

کیا پکاویں ۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ

آج مجھے یہ معلوم کر کے رہنا ہے کہ مشرق کا کوئی شائستہ و مہذب شخص یعنی شریف زادہ آخر کب تک روز روز ایک ہی گھسے پٹے سوال کا جواب کیسے دے سکتا ہے اور اس دوران وہ مسلسل معقول بھی کیسے رہ سکتا ہے بالخصوص جبکہ سوال کرنے کی نیت بھی یہ ہو Read more about کیا پکاویں ۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ[…]

نظمیں ۔۔۔ حفیظ تبسم

بارش کی خواہش بھی اک موت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   مون سون سے پہلے پانی کی تقسیم پر زمین کے بڑے خداؤں نے اپنے اجلاس کا آغاز گالیوں کی طویل فہرست سے کیا جو جنگ کے دنوں میں ایجاد ہوئیں   امن پسند راہب جنگل میں چھپ گئے اور بدھا کے مجسمے پر بیٹھے پرندے اداس Read more about نظمیں ۔۔۔ حفیظ تبسم[…]

آنگن ۔۔۔۔ محمد احمدؔ

یہ میرا گھر ہے یہ میرا کمرہ کہ جس میں بیٹھا میں اپنے آنگن کو دیکھتا ہوں کشادہ آنگن کہ جس میں مٹی کی سُرخ اینٹیں بچھی ہوئی ہیں کیاریوں میں سجیلے گُل ہیں حسین بیلیں قطار اندر قطار دیوار پر چڑھی ہیں بسیط آنگن کے ایک کونے میں اک شجر ہے شجر کے پتے Read more about آنگن ۔۔۔۔ محمد احمدؔ[…]

نظمیں ۔۔۔ سلیم انصاری

  مشروط واپسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   میں اب بھی بچپنے کی سمت واپس لوٹ سکتا ہوں مگر اک شرط ہے یہ سرحدِ امکان تک پھیلا سمندر وقت کے ساحل پہ بکھری سیپیاں واپس کرے مجھکو گھنا جنگل۔ مرے ہاتھوں کی ساری تتلیاں واپس کرے مجھ کو امنگوں کی پتنگیں آسماں واپس کرے مجھ کو میں اب Read more about نظمیں ۔۔۔ سلیم انصاری[…]

نظمیں ۔۔۔ نجمہ منصور

  کیا تم نے کبھی دیکھا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   کیا تم نے کبھی دیکھا ہے! پولی تھین کے تھیلے میں کوڑا کرکٹ کی بجائے جیتا جاگتا انسان پڑا ہو کیڑے مکوڑے کی طرح   میں نے دیکھا ہے بلکہ روز دیکھتی ہوں اس دوران میرے اندر کا سناٹا اور باہر کا شور آپس میں گتھم Read more about نظمیں ۔۔۔ نجمہ منصور[…]

دو نظمیں ۔۔۔ نصیر احمد ناصر

خواب اور محبت کی کوئی عمر نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ہمیں خبر ہے ہمارے درمیان بے خبری کی دھند پھیلی ہوئی ہے تلاش کے راستے پر چلتے ہوئے ہمارے قدم اپنی منزل نہیں دیکھ پاتے تمہارا اندر میری نظموں سے زیادہ خوبصورت اور اجلا ہے مگر میری عینک کے شیشے روز بروز دبیز ہوتے جا Read more about دو نظمیں ۔۔۔ نصیر احمد ناصر[…]

بیاض عمر کھولی ہے ۔۔۔ ستیہ پال آنند

عجب منظر دکھاتے ہیں یہ صفحے جن پہ برسوں سے دھنک کے سارے رنگوں میں مرے موئے قلم نے گُل فشانی سے کئی چہرے بنائے ہیں کئی گُلکاریاں کی ہیں لڑکپن کے شروع نوجوانی کے بیاض عمر کے پہلے ورق سب خوش نمائی کے نمونے ہیں گلابی، ارغوانی، سوسنی، مہندی کی رنگت کے یہ صفحے Read more about بیاض عمر کھولی ہے ۔۔۔ ستیہ پال آنند[…]

اسد محمد خان کی چند مختصر نظمیں

  (بشکریہ کامران نفیس)   گاربیج کلکٹر ____________________________   رات کو سونے سے پہلے اپنے سارے گیت لکھ لو اپنی ساری نظموں کا املا ٹھیک کر لو صبح کو شاید کفن لے کر مورخ آئے گا رام بابو سکسینہ آئے گا ٭٭ دس از اَ رکارڈِنگ ____________________________   گنا پیلتے ہوئے اور رہٹ چلاتے ہوئے Read more about اسد محمد خان کی چند مختصر نظمیں[…]

عبدالوہاب البیاتی کے ساتھ ایک شام ۔۔۔ شاہین

  ہر گلی کوچے میں لاش اپنی اٹھائے رات آتے ہی کسی اک بالاخانے پر جہاں سائے برہنہ تن کو ڈھانپے ناچتے ہیں یا کہیں اک پارک میں یا پھرکسی نکڑ پہ واقع قہوہ خانے کے دھوئیں میں دفن کر آتے ہو خود کو اپنے چہرے کو چھپائے شرم کے مارے خدا اور عائشہ و Read more about عبدالوہاب البیاتی کے ساتھ ایک شام ۔۔۔ شاہین[…]