نظمیں ۔۔۔ تنویر قاضی

  وبا کے دنوں کی تنہائی ____________________________   کائیناتی بھید پانے اور مرضی کی دیر پا قُربت کے لئے سوشل ڈِسٹینسنگ کا تجربہ ضروری ہے تنہائی ایک قیمتی شَے ہے جہاں محبت صحیح معنوں میں آشکار ہوتی ہے خواب در خواب بھی تو سفر جاری رہتا ہے شکیب جلالی، سارہ شگفتہ اور ثروت حسین کو Read more about نظمیں ۔۔۔ تنویر قاضی[…]

ہمیں تو ہیں وہ ۔۔۔ سعود عثمانی

  (میں نے امنڈتے خون کے ساتھ وہ منظر دیکھا جس میں چند سالہ نہتا بچہ مسلح فوجی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا ہوا ہے۔ اس کی آنکھوں میں خون ہے لیکن خوف کا نشان تک نہیں۔ یہ اس کے آباء کی وراثت ہے جو اس تک نسل در نسل منتقل ہوتی آئی Read more about ہمیں تو ہیں وہ ۔۔۔ سعود عثمانی[…]

فیس بک کا موت سے رشتہ ابھی نیا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر ثروت زہرا

  موت نے کوئے ابد سے آ کے خاموشی سے ٹائم لائن پر جگہ بنا لی آئکن۔۔۔۔۔۔ اپنی شکل پہ رکھے جذبوں کی تصویر بنانا بھول گئے ہیں ہند سے۔۔۔۔ لا متناہی گنتی گننے چلے گئے ہیں جلتی بجھتی تصویروں کے سب انگارے راکھ میں ڈھل کر اسٹیٹس کو ڈھانپ چکے ہیں حرف کی دھڑکن Read more about فیس بک کا موت سے رشتہ ابھی نیا ہے ۔۔۔ ڈاکٹر ثروت زہرا[…]

نظمیں ۔۔۔ عارفہ شہزاد

  کتھارسس ¬____________________________   دباؤ، دباؤ کوئی اندرونی دباؤ رگوں کا کھنچاؤ میری کنپٹی کی کوئی رگ دبی ہے یا کچھ بھی نہیں ہے! حلق میں اٹکنے لگی سانس میری کہیں جھنجھناتے ہوئے لفظ چبھنے لگے ہیں میری کلائی سے۔۔ ۔ کاندھے سے۔۔ ۔ باندھی ہوئی ایک اک رگ میں پیوست بس درد ہے اور Read more about نظمیں ۔۔۔ عارفہ شہزاد[…]

صدر کی اجازت سے ۔۔۔ عبیرہ احمد

  پر شکوہ، با تمکیں، خوش خبر، سُخن آثار بزمِ شعر گویاں کے بے شریک منصب دار صاحبِ صدارت کے ساتھ کچھ مصاحب ہیں اولیں صفوں میں کچھ شہر کے چنیدہ لوگ پہلی پہلی کاوش پر طالبِ پذیرائی شاعرہ جھجکتی ہے ملتجی نگاہوں سے دھیمے دھیمے پڑھتی ہے ’’صدر کی اجازت سے ‘‘ صدر کے Read more about صدر کی اجازت سے ۔۔۔ عبیرہ احمد[…]

نظمیں ۔۔۔ کاوش عباسی

  بیچ سمندر ____________________________   جَیسے بیچ سمندر، دُور کہیں پر کوئی کسکتا ڈُوبتا آدمی کُچھ میوزک کی چُپ آوازیں دِل کو رُلاتی رہتی ہَیں وقت ہمارا غم و غُصّہ کا اُلجھا مُرقّع اِن آوازوں ہی میں لرزاں رہتا تھا ہم کِس کِس رُخ کے مسافر دونوں کِس کِس سمت کے ساتھی تھے یہ کَیسا Read more about نظمیں ۔۔۔ کاوش عباسی[…]

مرہموں کی آس میں ۔۔۔۔ ظہیرؔ احمد

زخم ہائے جاں لئے مرہموں کی آس میں کب سے چل رہا ہوں میں دہرِ ناسپاس میں چلتے چلتے خاک تن ہو گیا ہوں خاک میں تار ایک بھی نہیں اب قبا کے چاک میں دل نشان ہو گیا ایکیاد کا فقط رہ گئی ہے آنکھ میں ایک دید کی سکت زہر جو ہوا میں Read more about مرہموں کی آس میں ۔۔۔۔ ظہیرؔ احمد[…]

تین نظمیں ۔۔۔ عارفہ شہزاد

حس لامسہ کو ابد ہے! ____________________________ اکھڑے اکھڑے لفظوں والے! قہر نہیں ہے چھتناروں میں اگتی آنکھیں، آگ ازل سے بستی بستی قریہ قریہ دھوپ جلا ہے ڈرتے ڈرتے راہگیروں کو جھانک رہے ہو چھاؤں، دل کی ہے کھیلے گی کھیل انوکھا! الجھے الجھے تانے بانے روح، بدن کے پوریں، پوروں سے کہتی ہیں، بات Read more about تین نظمیں ۔۔۔ عارفہ شہزاد[…]

پارچہ، اک شعر بے چارہ ۔۔۔ ستیہ پال آنند

…………….عابدہ وقار کی نذر………. پارچہ الوان، ست رنگا، چمکتا بھیگتے رنگوں کی ململ دھوپ اور برسات کا جیسے ملن ہو کھٹا میٹھا، آسمانی، سبز، نیلا، زرد، اُودا پارچہ رنگین، بو قلمون، روشن پارچہ جذبات کے سب رنگ اپنے دل کی دھڑکن میں سمیٹے، شاعرِ ادراک کے جب ذہن میں ابھرا تو اک تصویر سا تھا Read more about پارچہ، اک شعر بے چارہ ۔۔۔ ستیہ پال آنند[…]

آپ ولی نعمت ہیں ۔۔۔ ستیہ پال آنند

میر جملہ ہیں جناب آپ ولی نعمت ہیں اور میں آپ کی پرجا ہوں رعایا ہوں، فقط باج گذار آپ کے خیل و حشم میں ہوں مرے ان داتا دیکھئے میری طرف، عالی جاہ (جیسا کہ آپ کا فرمان ہے، ہاری کے لیے) آپ کے سامنے شرمندہ کھڑا ہوں، مالک جوتا منہ میں لیے اور Read more about آپ ولی نعمت ہیں ۔۔۔ ستیہ پال آنند[…]