اتنی مدت کے بعد ۔۔۔ ادریس آزاد

اتنی مدت کے بعد لَوٹا ہوں لوگ اپنی گلی کے یاد نہیں حافظے پر بھی اعتماد نہیں کون رہتا تھا اِس محلے میں کس کی خاطر میں روز بن ٹھن کر گھر سے سہ پہر میں نکلتا تھا کون خوش ہوتا، کون جلتا تھا نام کس کا لہُو میں چلتا تھا اتنی مدت کے بعد Read more about اتنی مدت کے بعد ۔۔۔ ادریس آزاد[…]

تتلیوں کا سال ۔۔۔ سعید خان

(2021 کی آخری نظم)   تتلیوں کے برس اتنی جلدی نہ جا ۔۔۔ بر سبیلِ ہوس ، جب مری وادیوں کے تناور گرائے گئے آنکھ نے چار عشروں تلک نا مکمل بہاروں کی کترن چُنی عرش نے آخرش دستِ زیبا پہ رخصت کی مہندی رکھی زرد چادر پہ چاروں طرف سبز چاندی اترنے لگی سرمئی Read more about تتلیوں کا سال ۔۔۔ سعید خان[…]

اداس شام کی ایک نظم ۔۔۔ نوشی گیلانی

  وصال رت کی یہ پہلی دستک ہی سرزنش ہے کہ ہجر موسم نے رستے رستے سفر کا آغاز کر دیا ہے تمہارے ہاتھوں کا لمس جب بھی مری وفا کی ہتھیلیوں پر حنا بنے گا تو سوچ لوں گی رفاقتوں کا سنہرا سورج غروب کے امتحان میں ہے   ہمارے باغوں سے گر کبھی Read more about اداس شام کی ایک نظم ۔۔۔ نوشی گیلانی[…]

نظمیں ۔۔۔ نجمہ منصور

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے؟   کیا تم نے کبھی دیکھا ہے! پولی تھین کے تھیلے میں کوڑا کرکٹ کی بجائے جیتا جاگتا انسان پڑا ہو کیڑے مکوڑے کی طرح   میں نے دیکھا ہے بلکہ روز دیکھتی ہوں اس دوران میرے اندر کا سناٹا اور باہر کا شور آپس میں گتھم گتھا ہو Read more about نظمیں ۔۔۔ نجمہ منصور[…]

گرے ایریا (Gray Area) ۔۔۔ مجید اختر

وہ جو ہمیں دھوکہ دیتے ہیں کوئی جواز تو رکھتے ہوں گے اپنے من میں کھوٹ چھپائے ہم انجان سے بن جاتے ہیں وہ بھی سچے، ہم بھی برحق اپنے تئیں ہم سب سچے ہیں، خالص بھی ہیں گرد ہمارے جتنے سنگی، ساتھی ہیں یا رشتہ دار، محلّہ والے، مولوی، مُلّا، سَنت، پروہت سب سچے Read more about گرے ایریا (Gray Area) ۔۔۔ مجید اختر[…]

نظمیں ۔۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی

  خاک زاد __________________   کسی سے کچھ نہیں لیا کسی کو کچھ نہیں دیا تو جیسے خالی ہاتھ آئے تھے، چلے گئے تمام عمر ایک رہگذر بس ایک موڑ پر نہ جانے کس کے انتظار میں کھڑے رہے   عجیب خواہشیں کوئی طلسم۔ ایسی سیمیا کریں یہ اپنی خاک۔ اس کی مانگ میں مہ Read more about نظمیں ۔۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی[…]

عشق کرنے کا مزہ ہی کچھ ہے ۔۔۔ انور شمیم

(گلزار کے لیے ایک نظم)   سہل ہوتے ہوئے، پنہاں، وہ عیاں ہے جتنا کرۂ ارض و سماں گھیرتا ہے اور نقطے میں سمٹتا ہے تو کھو جاتا ہے اپنی ہی کاہکشاں وسعت میں خوب صورت کہ جو آنکھوں کو بھلی لگتی ہے جیسے وہ خواب ہمارے ہوں میاں! خوب صورت سی زمیں آسماں تاروں Read more about عشق کرنے کا مزہ ہی کچھ ہے ۔۔۔ انور شمیم[…]

نظمیں ۔۔۔ فرزانہ نیناں

کھیل __________________     کائی ہری تھی، ہری رہی کہیں اندر ہی اندر میں برسوں نڈھال رہی پہلے تو صرف اپنی دھڑکن سنی تھی میں نے بجلی چمک گئی تو اک راہ جگمگائی اور دور سے کسی کی آواز مجھے سنائی جوں ہی قریب پہنچی جانے کہاں وہ کھوئی نہ پاس آئی میرے اور نہ Read more about نظمیں ۔۔۔ فرزانہ نیناں[…]

نظمیں ۔۔۔ تنویر قاضی

  رات کی پہنائی میں گِرتی ہوئی ایک اور رات _________________________________   راتوں میں اک رات ڈھونڈتے خود بھی ہو جاتے ہیں رات بھیگے بال و پر کے ساتھ سپید کبوتر اُوپر اُڑتے کالے ہرن کو دے نہیں سکتے مات دیکھ نہ پائے منقاروں پر چُبھتی چھِلتر جنت کے اشجار کی اتنے مہین لکھے تھے Read more about نظمیں ۔۔۔ تنویر قاضی[…]

ہوا کے لئے ایک نظم ۔۔۔۔ سلیم انصاری

ہوا خوشبوئیں اپنے دامن میں بھر کے ہر اک سمت یوں بانٹتی پھر رہی ہے کہ جیسے یہ مامور اسی کام پر ہو مگر۔ اس سے پوچھو بجھایا ہت کتنے چراغوں کو اس نے بکھیرا ہے کتنے گلوں کو زمیں پر اجاڑے ہیں کتنے نشیمن پرندوں کے اس نے گرائے ہیں کتنے درختوں سے پتّے Read more about ہوا کے لئے ایک نظم ۔۔۔۔ سلیم انصاری[…]