نظمیں ۔۔۔ شیخ خالد کرّار

زہر مہرہ     جاں بلب ہوں درونِ ذات کالا پڑ گیا ہوں پیاس شدت کی ہے سینے میں جلن آنکھوں پہ سوجن ہے گاؤں جب بھی جائیے گا دادی اماں کو بتا کر میری خاطر زہر مہرہ لائیے گا میں نے خود کو ڈس لیا ہے ۔۔۔۔ ۔۔     گراؤنڈ زیرو     Read more about نظمیں ۔۔۔ شیخ خالد کرّار[…]

نظمیں ۔۔۔ فرزانہ نیناں

ریت کے پیکر   سرخ پھولوں کی یہ بیلیں جنگلوں میں اُگ رہی تھیں دشت کی ہیبت سے خائف مجھ سے رہتی تھیں گریزاں چودھویں کی رات میں خوشبو سے جلتے ہوئے کتنے جسموں کے ستونوں سے لپٹنا تھا انہیں میں نے ان کے رنگ سے ہر انگ اپنا بھر لیا دور تک پھیلے ہوئے Read more about نظمیں ۔۔۔ فرزانہ نیناں[…]

نظمیں ۔۔۔ تنویر قاضی

رنگ ریز   جتنے رنگ ہیں تیرے انگ لگے اُن رنگوں سے کائنات کا جلتا کینوس تلچھٹ تلچھٹ اپنی کاوش اپنے ہی اطراف گرا دیتا ہے آہستہ آہستہ زائل ہوتے زاویئے اور خطوط منہ تکتے رہ جاتے ہیں لا متناہی نیلے خیمے والے اونٹ بڑے سرکش ہیں اس تقسیم پر بندوبست رکھو خیمے کی رفو Read more about نظمیں ۔۔۔ تنویر قاضی[…]

نظمیں ۔۔۔ گلناز کوثر

تم کہاں گئے؟     تم بُری بلا کے پنجے سے کیوں بچ نہ سکے کس موہ میں آنکھیں بند کیے پاپی پاتال میں اتر گئے کس مُورکھ چَھل نے دھیان کی جھیل میں اگن بھری تُم نُور کے ایک سمندر سے کیوں ٹُوٹ گئے؟ تُم رُوٹھ گئے؟ کب کام دیو نے مَن کی پاوَن Read more about نظمیں ۔۔۔ گلناز کوثر[…]

ہمارے منصب میں ۔۔۔ یاسمین حمید

بعض لوگوں کو اداس پیدا کیا گیا اور اداس رکھا گیا تا کہ وہ دنیا کو خوبصورت بنائیں ہمیں دکھ سے محبت ہو گئی سورج مکھی کے بیج ہماری مٹھیوں سے پھسل کر زمین میں چٹکے اور فاختاؤں کے انڈے محفوظ ہوئے ہم نے حوض کی تصویر بنائی اور پانی کے رنگ کو بدل دیا Read more about ہمارے منصب میں ۔۔۔ یاسمین حمید[…]

نظمیں ۔۔۔ غضنفر

جڑوں سے اُکھڑنے کا کرب   دل و جاں میں کبھی ایسا کوئی کلّہ نہیں پھوٹا کہ اس مٹّی میں کوئی جڑ نہیں اپنی ہمیشہ ہی لگا ہم کو کہ ہم بھی تو اسی مٹّی سے نکلے ہیں اسی کے خون سے سینچی گئی ہے زندگی اپنی اسی کا رس رگ و پے میں سرایت Read more about نظمیں ۔۔۔ غضنفر[…]

نظمیں ۔۔۔ ستیہ پال آنند

خانۂ مجنونِ صحرا گرد بے دروازہ تھا   کوئی دروازہ نہیں تھا قفل جس کا کھولتا سر نکالے کوئی سمت الراس بھی ایسی نہیں تھی جس سے رستہ پوچھتا ایک قوسِ آسماں حّدِ نظر تک لا تعلق سی کہیں قطبین تک پھیلی ہوئی تھی دھند تھی چاروں یُگوں کے تا بقائے دہر تک … اور Read more about نظمیں ۔۔۔ ستیہ پال آنند[…]

ستیہ پال آنند اور میں ۔۔۔ گلزار

چھُّٹی کے دن۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند اور میں ’کوسموس‘۱ جیبوں میں بھر کر اکثر چاند کے پیچھے والے آسمان میں جا کر کھیلا کرتے ہیں۔   سات ستارے اوپر کے، دو نیچے رکھ کر نو پتّھروں کا پٹھّو کھیلیں ’کرمچ‘ والی چاند کی گیند اتار کے لے جائیں دونوں!   کبھی کبھی "انٹی” ہوتی ہے۔ Read more about ستیہ پال آنند اور میں ۔۔۔ گلزار[…]

نظمیں ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی

ناشکری   ہم کو تو جینا بھی اچھا لگتا ہے لیکن کیوں اچھا لگتا ہے جب ہر شئے ہم سے چھنتی جاتی ہے جب پہلے کچھ تھا اور اب کچھ ہے جب ہر شئے معدوم ہوئی جاتی ہے جب ہر شئے … اب وہ زیادہ تھی یا کم ہو ایسی کون سی دولت اس نے Read more about نظمیں ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی[…]

نظمیں۔۔۔ سلیمان جاذب

  کاش   کاش وہ رات بھی کبھی آئے چاند جب آسماں پہ روشن ہو میرے آنگن میں تو اتر آئے چاندنی یوں سمیٹ لے مجھ کو تیری خوشبو لپیٹ لے مجھ کو میں تری ذات میں سما جاؤں اور تری روح میں اتر جاؤں میری سانسوں میں تیری خوشبو ہو تیرا پیکر ہی میرے Read more about نظمیں۔۔۔ سلیمان جاذب[…]