گرے ایریا (Gray Area) ۔۔۔ مجید اختر

وہ جو ہمیں دھوکہ دیتے ہیں کوئی جواز تو رکھتے ہوں گے اپنے من میں کھوٹ چھپائے ہم انجان سے بن جاتے ہیں وہ بھی سچے، ہم بھی برحق اپنے تئیں ہم سب سچے ہیں، خالص بھی ہیں گرد ہمارے جتنے سنگی، ساتھی ہیں یا رشتہ دار، محلّہ والے، مولوی، مُلّا، سَنت، پروہت سب سچے Read more about گرے ایریا (Gray Area) ۔۔۔ مجید اختر[…]

نظمیں ۔۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی

  خاک زاد __________________   کسی سے کچھ نہیں لیا کسی کو کچھ نہیں دیا تو جیسے خالی ہاتھ آئے تھے، چلے گئے تمام عمر ایک رہگذر بس ایک موڑ پر نہ جانے کس کے انتظار میں کھڑے رہے   عجیب خواہشیں کوئی طلسم۔ ایسی سیمیا کریں یہ اپنی خاک۔ اس کی مانگ میں مہ Read more about نظمیں ۔۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی[…]

عشق کرنے کا مزہ ہی کچھ ہے ۔۔۔ انور شمیم

(گلزار کے لیے ایک نظم)   سہل ہوتے ہوئے، پنہاں، وہ عیاں ہے جتنا کرۂ ارض و سماں گھیرتا ہے اور نقطے میں سمٹتا ہے تو کھو جاتا ہے اپنی ہی کاہکشاں وسعت میں خوب صورت کہ جو آنکھوں کو بھلی لگتی ہے جیسے وہ خواب ہمارے ہوں میاں! خوب صورت سی زمیں آسماں تاروں Read more about عشق کرنے کا مزہ ہی کچھ ہے ۔۔۔ انور شمیم[…]

نظمیں ۔۔۔ فرزانہ نیناں

کھیل __________________     کائی ہری تھی، ہری رہی کہیں اندر ہی اندر میں برسوں نڈھال رہی پہلے تو صرف اپنی دھڑکن سنی تھی میں نے بجلی چمک گئی تو اک راہ جگمگائی اور دور سے کسی کی آواز مجھے سنائی جوں ہی قریب پہنچی جانے کہاں وہ کھوئی نہ پاس آئی میرے اور نہ Read more about نظمیں ۔۔۔ فرزانہ نیناں[…]

نظمیں ۔۔۔ تنویر قاضی

  رات کی پہنائی میں گِرتی ہوئی ایک اور رات _________________________________   راتوں میں اک رات ڈھونڈتے خود بھی ہو جاتے ہیں رات بھیگے بال و پر کے ساتھ سپید کبوتر اُوپر اُڑتے کالے ہرن کو دے نہیں سکتے مات دیکھ نہ پائے منقاروں پر چُبھتی چھِلتر جنت کے اشجار کی اتنے مہین لکھے تھے Read more about نظمیں ۔۔۔ تنویر قاضی[…]

ہوا کے لئے ایک نظم ۔۔۔۔ سلیم انصاری

ہوا خوشبوئیں اپنے دامن میں بھر کے ہر اک سمت یوں بانٹتی پھر رہی ہے کہ جیسے یہ مامور اسی کام پر ہو مگر۔ اس سے پوچھو بجھایا ہت کتنے چراغوں کو اس نے بکھیرا ہے کتنے گلوں کو زمیں پر اجاڑے ہیں کتنے نشیمن پرندوں کے اس نے گرائے ہیں کتنے درختوں سے پتّے Read more about ہوا کے لئے ایک نظم ۔۔۔۔ سلیم انصاری[…]

پتہ وہی ہے ۔۔۔ اسنیٰ بدر

فون آیا ہے۔۔ ۔ میرے بھائی نے بچپن والا گھر تڑوا کے نئے سرے سے آنگن کمرے بنوائے ہیں باورچی خانے میں پتھر لگوائے ہیں طاق پرانے بھروائے ہیں سب دروازے بدلائے ہیں   جامن، نیم کا پیڑ کاٹ کر نئے قیمتی چکنے گملے منگوائے ہیں ننھے پودے اگ آئے ہیں۔۔ ۔   ابٓی، آپ Read more about پتہ وہی ہے ۔۔۔ اسنیٰ بدر[…]

کیا پکاویں ۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ

آج مجھے یہ معلوم کر کے رہنا ہے کہ مشرق کا کوئی شائستہ و مہذب شخص یعنی شریف زادہ آخر کب تک روز روز ایک ہی گھسے پٹے سوال کا جواب کیسے دے سکتا ہے اور اس دوران وہ مسلسل معقول بھی کیسے رہ سکتا ہے بالخصوص جبکہ سوال کرنے کی نیت بھی یہ ہو Read more about کیا پکاویں ۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ[…]

نظمیں ۔۔۔ حفیظ تبسم

بارش کی خواہش بھی اک موت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   مون سون سے پہلے پانی کی تقسیم پر زمین کے بڑے خداؤں نے اپنے اجلاس کا آغاز گالیوں کی طویل فہرست سے کیا جو جنگ کے دنوں میں ایجاد ہوئیں   امن پسند راہب جنگل میں چھپ گئے اور بدھا کے مجسمے پر بیٹھے پرندے اداس Read more about نظمیں ۔۔۔ حفیظ تبسم[…]

آنگن ۔۔۔۔ محمد احمدؔ

یہ میرا گھر ہے یہ میرا کمرہ کہ جس میں بیٹھا میں اپنے آنگن کو دیکھتا ہوں کشادہ آنگن کہ جس میں مٹی کی سُرخ اینٹیں بچھی ہوئی ہیں کیاریوں میں سجیلے گُل ہیں حسین بیلیں قطار اندر قطار دیوار پر چڑھی ہیں بسیط آنگن کے ایک کونے میں اک شجر ہے شجر کے پتے Read more about آنگن ۔۔۔۔ محمد احمدؔ[…]