نظمیں۔۔۔ سلیمان جاذب

  کاش   کاش وہ رات بھی کبھی آئے چاند جب آسماں پہ روشن ہو میرے آنگن میں تو اتر آئے چاندنی یوں سمیٹ لے مجھ کو تیری خوشبو لپیٹ لے مجھ کو میں تری ذات میں سما جاؤں اور تری روح میں اتر جاؤں میری سانسوں میں تیری خوشبو ہو تیرا پیکر ہی میرے Read more about نظمیں۔۔۔ سلیمان جاذب[…]

بارش کے بعد ۔۔۔ اسد قریشی

بارش سے کل رات کی کچی کلی گلاب کی ٹوٹ گری ہے شاخ سے تم کو ہے افسوس بہت!   یاد ہے کیا وہ بچہ تم کو ہاں وہ کچرا چننے والا چھوٹا سا معصوم سا بچہ کاندھے پر تھا تھیلا لادے کل شب وہ اپنے گھر کی چھت کے نیچے دب کر سارا کچرا Read more about بارش کے بعد ۔۔۔ اسد قریشی[…]

اداس شام کی ایک نظم ۔۔۔ نوشی گیلانی

وصال رت کی یہ پہلی دستک ہی سرزنش ہے کہ ہجر موسم نے رستے رستے سفر کا آغاز کر دیا ہے تمہارے ہاتھوں کا لمس جب بھی مری وفا کی ہتھیلیوں پر حنا بنے گا تو سوچ لوں گی رفاقتوں کا سنہرا سورج غروب کے امتحان میں ہے   ہمارے باغوں سے گر کبھی تتلیوں Read more about اداس شام کی ایک نظم ۔۔۔ نوشی گیلانی[…]

مان لو! ۔۔۔ نجمہ منصور

مان لو! وبا نے ہمیں اندر ہی اندر مرنے کا ہنر سکھا دیا ہے اب تنہائی اچھی لگتی ہے اور شور میں موت کی چیخیں سنائی دیتی ہیں چاند میں چرخہ کاتتی بڑھیا بھی اب دکھائی نہیں دیتی چاند اور سورج ان دنوں کئی بار خود کشی کی کوشش کر چکے ہیں مگر مرنا اب Read more about مان لو! ۔۔۔ نجمہ منصور[…]

نظمیں۔۔۔ نصیر احمد ناصر

لال پلکا     لال پلکا اُڑ کے آیا ہے بہت ہی دور سے پیغام لایا ہے سرائے نور سے غٹ غوں، غٹر غوں کھول کر دیکھوں لکھا ہے کیا خطِ تقدیر میں کتنے یگوں کی قید ہے کتنی رہائی ہے مقدم کون سا دن، کون سی لیلیٰ شبِ تاخیر ہے غم کی خبر ہے Read more about نظمیں۔۔۔ نصیر احمد ناصر[…]

نظمیں ۔۔۔ تنویر قاضی

  جون ایلیا کے لئے     اُس کو قید خیال میں کرنا مُشکل جنگلی ہرن کو جال میں کرنا مُشکل ‎‎‎٭٭٭         بُل فائیٹنگ   پھر وہ اُن کے تماشے کے لئے دیوانہ وار جھپٹتا ہے بُل کی آنکھوں میں سُرخ مرچیں ڈال کر مشتعل کیا جاتا ہے لڑائی سے پہلے Read more about نظمیں ۔۔۔ تنویر قاضی[…]

نظمیں ۔۔۔ سلیم انصاری

  مری نظموں کے سادہ لوح قاری   مری نظموں کے سادہ لوح قاری تمہیں کیا علم؟ میں برسوں سے اپنی سوچ کے جنگل میں تم کو بے سبب بھٹکا رہا ہوں بظاہر میری سب نظمیں تمہارے خواب کی مانند لگتی ہیں مگر یہ سچ نہیں ہے مری نظموں کے سارے لفظ کاذب ہیں مری Read more about نظمیں ۔۔۔ سلیم انصاری[…]

دو نظمیں ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی

  میں نے اس کو غور سے دیکھا   ہم دونوں نے مٹی کھودی نیچے دیکھا۔  ہاتھ اُٹھائے ہاتھوں میں۔  یہ کیا مٹی کے نیچے بھی مٹی تھی   دھول میں سر سے پاؤں تک ایسے ہم دونوں اَٹے ہوئے تھے لیکن اس کی آنکھوں میں میں نے ایک چمک دیکھی اس کے گرد اک Read more about دو نظمیں ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی[…]

ایک وہ وقت۔۔۔ اسنیٰ بدر

ایک وہ وقت کہ آپ کی آہٹ کو دالان سمجھتے تھے کاہی ماشی زرد غرارے آپ کے اوپر سجتے تھے   اک وہ وقت کہ جب آنگن میں اجلے بستر لگتے تھے چھڑکاؤ ہوتا تھا دریاں چادر تکیے، مونڈھے تھے   اک وہ وقت کہ ایک جمیلہ روز صبح کو آتی تھی راکھ ہٹا کر Read more about ایک وہ وقت۔۔۔ اسنیٰ بدر[…]

نظمیں ۔۔۔ فرزانہ نیناں

  بیگار   کہاں ہو تم ۔۔۔ ادھر دیکھو قلم کی روشنائی نیلگوں صحرا کی شاموں سے سنہری کاغذوں کی کشتیوں میں ریت بھر کرلا رہی ہے ہوا دھیرے سے نغمے بارشوں کے گا رہی ہے!!! ٭٭٭       پھٹے غبارے   کہاں چھپائی ہے خوشبو تم نے کہاں رکھے ہیں سخن تمہارے نجانے Read more about نظمیں ۔۔۔ فرزانہ نیناں[…]