مرہموں کی آس میں ۔۔۔۔ ظہیرؔ احمد

زخم ہائے جاں لئے مرہموں کی آس میں کب سے چل رہا ہوں میں دہرِ ناسپاس میں چلتے چلتے خاک تن ہو گیا ہوں خاک میں تار ایک بھی نہیں اب قبا کے چاک میں دل نشان ہو گیا ایکیاد کا فقط رہ گئی ہے آنکھ میں ایک دید کی سکت زہر جو ہوا میں Read more about مرہموں کی آس میں ۔۔۔۔ ظہیرؔ احمد[…]

تین نظمیں ۔۔۔ عارفہ شہزاد

حس لامسہ کو ابد ہے! ____________________________ اکھڑے اکھڑے لفظوں والے! قہر نہیں ہے چھتناروں میں اگتی آنکھیں، آگ ازل سے بستی بستی قریہ قریہ دھوپ جلا ہے ڈرتے ڈرتے راہگیروں کو جھانک رہے ہو چھاؤں، دل کی ہے کھیلے گی کھیل انوکھا! الجھے الجھے تانے بانے روح، بدن کے پوریں، پوروں سے کہتی ہیں، بات Read more about تین نظمیں ۔۔۔ عارفہ شہزاد[…]

پارچہ، اک شعر بے چارہ ۔۔۔ ستیہ پال آنند

…………….عابدہ وقار کی نذر………. پارچہ الوان، ست رنگا، چمکتا بھیگتے رنگوں کی ململ دھوپ اور برسات کا جیسے ملن ہو کھٹا میٹھا، آسمانی، سبز، نیلا، زرد، اُودا پارچہ رنگین، بو قلمون، روشن پارچہ جذبات کے سب رنگ اپنے دل کی دھڑکن میں سمیٹے، شاعرِ ادراک کے جب ذہن میں ابھرا تو اک تصویر سا تھا Read more about پارچہ، اک شعر بے چارہ ۔۔۔ ستیہ پال آنند[…]

آپ ولی نعمت ہیں ۔۔۔ ستیہ پال آنند

میر جملہ ہیں جناب آپ ولی نعمت ہیں اور میں آپ کی پرجا ہوں رعایا ہوں، فقط باج گذار آپ کے خیل و حشم میں ہوں مرے ان داتا دیکھئے میری طرف، عالی جاہ (جیسا کہ آپ کا فرمان ہے، ہاری کے لیے) آپ کے سامنے شرمندہ کھڑا ہوں، مالک جوتا منہ میں لیے اور Read more about آپ ولی نعمت ہیں ۔۔۔ ستیہ پال آنند[…]

کورونا وائرس ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی

ہم کو لگتا تھا سب کچھ ٹھیک ہے۔ لیکن دل میں یہ کھٹکا بھی کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے تبھی تو ننگے پاؤں ۔۔ آدھی رات کو اس کے در پر اس سے ملنے جاتے تھے (وہ کہتا تھا آؤ، بیٹھو تھکے ہوئے سے لگتے ہو) ہم خاموش کہ وہ کچھ بولے ۔۔۔ کچھ Read more about کورونا وائرس ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی[…]

دو نظمیں ۔۔۔ منصف ہاشمی

چاہتوں کا اسیر ________________   جو زیتون اور انجیر کی تسبیح کرتے ہوئے محبتوں، چاہتوں میں تڑپتے ہوئے بنجر زمین کو لہو سے سراب کرتا ہے جو صور اسرافیل کا انتظار کرتا نہیں وہ دار پر لٹکتے ہوئے۔۔۔ سبز کہف کی تلاوت کرتے ہوئے۔۔ وقت سے بہت آگے بہت دور نکل جاتا ہے وہ عزازیل Read more about دو نظمیں ۔۔۔ منصف ہاشمی[…]

مختصر نظمیں۔۔۔ سلیم انصاری

ایک نظم ____________________________   رات جنگلوں میں اتری تھی لیکن۔۔۔۔۔ جگنوؤں نے اسے شہروں کی طرف دھکیل دیا۔۔۔۔ ! ٭٭٭     سمجھوتہ ____________________________     گوندھ کر جذبوں کی مٹی درد کے پیکر مجھے تشکیل کرنے دو کہ اب تو میرے جینے کی یہی صورت بچی ہے ٭٭٭       برہنگی ____________________________   Read more about مختصر نظمیں۔۔۔ سلیم انصاری[…]

نظمیں ۔۔۔ عارفہ شہزاد

ساعتیں ادھوری ہیں ________________ ادھورا چہچہا ہاتھوں کی پوروں نے لکھا ہے ادھوری نظم ہونٹوں نے چنی ہے ادھورا گیت رستے میں کھڑا ہے   پرندے راستہ بھولے ہوئے ہیں گھنے جنگل میں کوئل کوکتی ہے کوئی خواہش ہے اندر ہوکتی ہے!   ہوا کے ہاتھ سے بہتی اداسی خوشی بس پور بھر بالکل ذرا Read more about نظمیں ۔۔۔ عارفہ شہزاد[…]

دو نظمیں ۔۔۔ تنویر قاضی

  ہاتھی کھلونے کی تشکیک ___________________________   سفید ہاتھی ڈرے مہابت کو گھُورتا ہے کھلونا ہاتھی رکھا تھا کمرے کی کارنس پر ذرا سرکتا، اُٹھاتا پاؤں پھلانگتا ہانپتا گیا ہے گلی کی جانب گھروں میں بچوں کے کھیلنے کے کھلونے دیکھے تو سارے ہاتھی چنگھاڑتے، روندتے سڑک روک کر کھڑے ہیں دبیز دلدل میں شہر Read more about دو نظمیں ۔۔۔ تنویر قاضی[…]

نظمیں ۔۔۔ سلیم انصاری

  کاذب یکسانیت ­____________________________   روز سویرے بستر چھوڑنے سے پہلے میں خود سے وعدہ کرتا ہوں آج میں جھوٹ نہیں بولوں گا آج کسی کی دل آزاری نہیں کروں گا آج کسی اندھے کو رستہ پار کراؤں گا آج کسی نادار،یتیم اور بے بس بچّے کے سر پر میں ہاتھ رکھوں گا لیکن۔ سورج Read more about نظمیں ۔۔۔ سلیم انصاری[…]