مجھے کہنا ہے کچھ۔۔۔۔

نیا سال مبارک قارئین! دعا ہے کہ یہ سال با برکت ثابت ہو، اردو دنیا کے لئے بھی اور انسانیت کے لیے بھی۔ آمین۔ یہ شمارہ قدرے تاخیر سے شائع ہو رہا ہے۔ وجہ میری ذاتی مصروفیات رہیں۔ امید ہے کہ قارئین اسے در گذر کر دیں گے۔ زیر نظر شمارہ افسانہ نمبر ہے۔  یہ Read more about مجھے کہنا ہے کچھ۔۔۔۔[…]

مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔

  اردو دنیا ہی نہیں، پوری دنیا ہی آج کل ایک  عجیب دور سے گزر رہی ہے۔  ایک جانب ظلم و ستم کی انتہا کر کے ظالم جشن منا رہے ہیں،  تو دوسری طرف  اسی تاریکی میں ایسی جھلکیاں بھی دکھائی دے جاتی ہیں جن سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ابھی بھی دنیا جینے Read more about مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔[…]

مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔

  دیکھتے دیکھتے پھر جولائی آ گیا اور نیا شمارہ پیش کرنے کا وقت۔ اچانک سیماب اکبر آبادی کا شعر یاد آ گیا۔  اگرچہ زبان کا شعر ہے لیکن دنیا کی بے ثباتی پر پر تاثیر تبصرہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا سے میں اٹھ جاؤں گا دیکھتی کی دیکھتی رہ جائے گی دنیا مجھے اس Read more about مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔[…]

مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔

لیجیے نیا شمارہ حاضر ہے۔ یہ چونتیسواں شمارہ ہے۔ دسمبر ۲۰۰۵ء سے اب تک ’سمت‘ نے گیارہ سال سے زائد سفر کر لیا ہے۔ کسی بھی اردو جریدے کے لیے یہ بات اہمیت رکھتی ہے، وہ چاہے قرطاسی جریدہ ہو یا برقیاتی اور آن لائن۔  اور برقیاتی جریدہ بھی ایسا جو اپنے پہلے شمارے سے Read more about مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔[…]

مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔

  نئے سال کا پہلا شمارہ حاضر ہے۔ ۲۰۱۶ء  تو اردو ادب کے لحاظ سے عام الحزن نکلا۔ خدا نہ کرے کہ نیا سال  ایسا دل خراش ثابت ہو۔ پچھلے سال کے وفیات کی فہرست بھی بنانی مشکل ہے: ندا فاضلی، انتظار حسین،  انور سدید، زبیر رضوی،   پیغام آفاقی، جو گندر پال، خلیق انجم ، Read more about مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔[…]

مجھے کہنا ہے کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔

شاید یہ ’سمت‘ کا آخری شمارہ ہے۔ میں اور ڈاکٹر سیف قاضی اب بزم اردو کو قائم رکھنے کے لیے اپنے پر مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے۔ سیف نے مجھ سے پہلے ہار مان لی ہے۔ میں تو بار بار ہار مان کر پھر کسی نہ کسی طرح  ’سمت‘ اور لائبریری کو جاری رکھتا آیا Read more about مجھے کہنا ہے کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔[…]

مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔۔

لیجئے نیا شمارہ حاضر ہے۔ کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے یہ شمارہ ترتیب دیا گیا ہے۔ احباب جن میں سے کچھ سے میرا تعلق بھی رہا تھا،  اب بہت دور  جا بسے ہیں۔ کس کس کا نام لیجئے! ۔جوگیندر پال، ملک زادہ منظور احمد،  اسلم فرخی،  شکیل الرحمٰن، پروفیسر اسلوب احمد Read more about مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔۔[…]

مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔۔

  رفتگاں کا نوحہ ’سمت‘ کا مقدر بن گیا ہے کچھ عرصے سے۔ جو بادہ کش تھے پرانے، وہ اٹھتے جا رہے ہیں، اور یہ عرصہ جنوری تا مارچ ۲۰۱۶ء تو اردو پر بہت بھاری گزرا ہے۔ ۲۶ جنوری جب ہندوستان میں سارا ملک جشن جمہوریہ منا رہا تھا، لکھنؤ میں اردو کی ایک اہم Read more about مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔۔[…]

مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔

نیا سال مبارک، پچھلے سال کے ختم ہوتے ہوتے جن آفات کا ہم نے سامنا کیا، اس کے ساتھ ہی امید کی کرنیں بھی نظر آئیں۔ تامل ناڈو کے سیلاب کی بہیمت کے ساتھ انسان دوستی کے مناظر جا بجا نظر آئے۔ عدم روا داری کی جو ہوا چلی تھی، اس کا سامنا کرنے کے Read more about مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔[…]

مجھے کہنا ہے کچھ……

تازہ شمارہ حاضر ہے۔ شاید قارئین کو عجیب سا محسوس ہو کہ اس میں شاعری شامل نہیں ہے (سوائے حمد و نعت کے)۔ لیکن اس بار یوں ہی سہی۔ اس بار کہانیاں جو اتنی بہت سی ہیں!! یعنی وعدے کے مطابق اس شمارے میں خصوصی گوشہ مختصر کہانی پر ہے۔ اس سہ ماہی میں ایک Read more about مجھے کہنا ہے کچھ……[…]