ایک ہی راستہ۔۔۔! بس۔۔! ۔۔۔ حنیف سید

  ’’اپنے وفا دار کتے کو پھانسی پر لٹکا کر تم نے ہی انعام میں ہیرے کی انگوٹھی پائی تھی، مجھ سے۔۔۔ ؟‘‘کافی انتظار کے بعد جب بادشاہ کو ایک سمت سے چرواہا اپنی بھیڑیں لاتا دکھائی دیا تو بادشاہ نے سرپٹ گھوڑا دوڑاتے ہوئے اس کے قریب پہنچ کر اُس کو پہچاننے کی کوشش Read more about ایک ہی راستہ۔۔۔! بس۔۔! ۔۔۔ حنیف سید[…]

نظمیں۔۔۔ سلیمان جاذب

  کاش   کاش وہ رات بھی کبھی آئے چاند جب آسماں پہ روشن ہو میرے آنگن میں تو اتر آئے چاندنی یوں سمیٹ لے مجھ کو تیری خوشبو لپیٹ لے مجھ کو میں تری ذات میں سما جاؤں اور تری روح میں اتر جاؤں میری سانسوں میں تیری خوشبو ہو تیرا پیکر ہی میرے Read more about نظمیں۔۔۔ سلیمان جاذب[…]

پیکج ۔۔۔ توصیف بریلوی

’’ہے سوئیٹی…! آج سنیما چلو گی…؟‘‘ واصف نے آتے ہی سوال کیا۔ ’’آج موڈ نہیں ہے۔‘‘ ’’اوہ کم آن…سوئیٹی!‘‘ ’’سمجھا کرو واصف…‘‘ ’’اچھا میری بات سنو…اگر تمہیں فلم پسند نہ آئے تو ہم واپس آ جائیں گے ڈئیر۔‘‘ ’’آں …او کے۔‘‘ ’’سوئیٹی ایک بات بولوں …؟‘‘ ’’بات ہی بولنی تھی تو سنیما لانے کی کیا Read more about پیکج ۔۔۔ توصیف بریلوی[…]

بارش کے بعد ۔۔۔ اسد قریشی

بارش سے کل رات کی کچی کلی گلاب کی ٹوٹ گری ہے شاخ سے تم کو ہے افسوس بہت!   یاد ہے کیا وہ بچہ تم کو ہاں وہ کچرا چننے والا چھوٹا سا معصوم سا بچہ کاندھے پر تھا تھیلا لادے کل شب وہ اپنے گھر کی چھت کے نیچے دب کر سارا کچرا Read more about بارش کے بعد ۔۔۔ اسد قریشی[…]

چھت، چھتری اور چھاؤں ۔۔۔ تنویر اقبال

(یہ علامتی کہانی ضیا الحق کے دور میں لکھی گئی تھی اور ’تو جبرئیل نے کہا‘ مجموعے میں شامل تھی جسے ضبط کر لیا گیا تھا۔)   سورج اپنا روشن چہرہ چھپائے رات کے غار میں بند ہے۔ کیا باہر اندیشوں اور وسوسوں کے سانپ سرسراتے پھرتے ہیں اور وہ ان کی ہلاکت آفرینی سے Read more about چھت، چھتری اور چھاؤں ۔۔۔ تنویر اقبال[…]

اداس شام کی ایک نظم ۔۔۔ نوشی گیلانی

وصال رت کی یہ پہلی دستک ہی سرزنش ہے کہ ہجر موسم نے رستے رستے سفر کا آغاز کر دیا ہے تمہارے ہاتھوں کا لمس جب بھی مری وفا کی ہتھیلیوں پر حنا بنے گا تو سوچ لوں گی رفاقتوں کا سنہرا سورج غروب کے امتحان میں ہے   ہمارے باغوں سے گر کبھی تتلیوں Read more about اداس شام کی ایک نظم ۔۔۔ نوشی گیلانی[…]

نظیرؔ کی نظم ’ہنس نامہ‘ کا تجزیاتی مطالعہ ۔۔۔ غلام شبیر رانا

نظیر اکبر آبادی (1735۔1830) نے تخلیق فن کے لمحوں میں اپنے معاصر شعرا سے الگ راہ اپنائی۔ بر صغیر کی معاشرتی زندگی کے بارے میں اپنے ذاتی تجربات، مشاہدات اور احساسات کو اشعار کے قالب میں ڈھالتے وقت نظیر اکبر آبادی نے اپنی تخلیقی بصیرت، جرأت اظہار، حقیقت نگاری اور فطرت نگاری کی مظہر انفرادیت Read more about نظیرؔ کی نظم ’ہنس نامہ‘ کا تجزیاتی مطالعہ ۔۔۔ غلام شبیر رانا[…]

مان لو! ۔۔۔ نجمہ منصور

مان لو! وبا نے ہمیں اندر ہی اندر مرنے کا ہنر سکھا دیا ہے اب تنہائی اچھی لگتی ہے اور شور میں موت کی چیخیں سنائی دیتی ہیں چاند میں چرخہ کاتتی بڑھیا بھی اب دکھائی نہیں دیتی چاند اور سورج ان دنوں کئی بار خود کشی کی کوشش کر چکے ہیں مگر مرنا اب Read more about مان لو! ۔۔۔ نجمہ منصور[…]

میرا جی اور شونیتا کا تصور ۔۔۔ نادیہ عنبر لودھی

وحشت میں انسان کا آخری سہارا مذہب ہوتا ہے اور جس کے پاس یہ سہارا نہ ہو تو اس کی داخلی شخصیت ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے۔ میرا جی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا انہوں نے اپنی وحشت کو خود پر طاری کر لیا اور اسی وحشت نے انہیں ختم کر دیا۔ میراں جی کے Read more about میرا جی اور شونیتا کا تصور ۔۔۔ نادیہ عنبر لودھی[…]

نظمیں۔۔۔ نصیر احمد ناصر

لال پلکا     لال پلکا اُڑ کے آیا ہے بہت ہی دور سے پیغام لایا ہے سرائے نور سے غٹ غوں، غٹر غوں کھول کر دیکھوں لکھا ہے کیا خطِ تقدیر میں کتنے یگوں کی قید ہے کتنی رہائی ہے مقدم کون سا دن، کون سی لیلیٰ شبِ تاخیر ہے غم کی خبر ہے Read more about نظمیں۔۔۔ نصیر احمد ناصر[…]