اُستاد فضل حسین شرر کا سفید موتی ۔۔۔ علی اکبر ناطق

وہ ہمارے گھر کے بالکل قریب ہی رہتا تھا لیکن یہ بات میں نہیں جانتا تھا۔ مَیں نے تو اُسے صرف سکول میں دیکھا۔ اُس دن بالکل یہی موسم تھا، اکتوبر کے پہلے دس دن گزر چکے تھے اور دھوپ میں گرمی نہیں تھی۔ وہ کھلے گراونڈ میں کُرسی پر بیٹھا، اتنا پُر سکون تھا، Read more about اُستاد فضل حسین شرر کا سفید موتی ۔۔۔ علی اکبر ناطق[…]

مظفر حنفی مرحوم … چند یادیں، چند باتیں ۔۔۔ ڈاکٹر محمد نعمان خاں

2مظفر حنفی صاحب شعبہ اردو سیفیہ کالج کے طالب علم رہے ہیں لیکن ابتدا میں ان سے زیادہ قربت کا شرف اس وجہ سے حاصل نہیں ہو سکا کہ جب میں نے ۱۹۷۱ء میں سیفیہ کالج میں بی اے سال اوّل کے لیے داخلہ لیا، وہ ایم اے کی تعلیم مکمل کر چکے تھے۔ البتہ Read more about مظفر حنفی مرحوم … چند یادیں، چند باتیں ۔۔۔ ڈاکٹر محمد نعمان خاں[…]

مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔

نئے شمارے کے ساتھ پھر ایک بار آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ اس بار کچھ دن پہلے تک مجھے خوشی تھی کہ اس بار یاد رفتگاں کے گوشے میں کسی کی یادیں شامل نہیں ہوں گی، لیکن پھر یکے بعد دیگرے اختر شمار کے سانحۂ ارتحال کی خبر پاکستان سے اور میرے بزرگ دوست Read more about مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔[…]

نیا نگر، قسط ۔۔۔۳ تصنیف حیدر

فلیٹ کی فضا کچھ سنجیدہ تھی۔ نظر مراد آبادی اپنے بزرگ دوست اور مشاق شاعر نظیر روحانی کے پینتانے بیٹھا، ان کے پانو گود میں رکھے ہلکے ہلکے پنڈلیوں کو داب رہا تھا۔ فرش پر ایک ایش ٹرے رکھا تھا جو کہ سگریٹ کے فلٹروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، دھواں اور بو اب Read more about نیا نگر، قسط ۔۔۔۳ تصنیف حیدر[…]

غزلیں ۔۔۔ صابرہ امین

دردِ ہجراں سے جو سینے میں سسکتی ہے غزل صورتِ اشک اِن آنکھوں سے ٹپکتی ہے غزل   مرے اشکوں کا سمندر بھی بجھا سکتا نہیں آتشِ ہجر میں پیہم جو دہکتی ہے غزل   بیتے لمحات کی بارات گذرتی ہو کہیں ایسے یادوں کے دریچوں سے جھلکتی ہے غزل   اس محبت میں جدائی Read more about غزلیں ۔۔۔ صابرہ امین[…]

غزلیں ۔۔۔ شکیل خورشید

پل تری یاد کے بہانے کے ہم نہ بھولے، نہ تھے بھلانے کے   توڑ ڈالوں نہ کیوں سبھی بندھن ضبط کے، صبر کے، زمانے کے   اب جو بولوں تو کھول کر کہہ دوں بھید سارے جو تھے چھپانے کے   کیسے اس کے بغیر کہہ ڈالوں تھے جو قصے اسے سنانے کے   Read more about غزلیں ۔۔۔ شکیل خورشید[…]

غزلیں ۔۔۔ محمد احمد

اُٹھا رکھوں سبھی کارِ جہاں، کتاب پڑھوں تیاگ دوں یہ جہاں، ناگہاں! کتاب پڑھوں   وہاں پہنچ کے نہ جانے کہاں ٹھہرنا ہو سفر میں ہُوں تو یہاں تا وہاں، کتاب پڑھوں   ابھی تو کیف سے پُر ہے حکایتِ ہستی نئی نئی ہے ابھی داستاں، کتاب پڑھوں   رواں سفینۂ ہستی ہے، رکھ نہ Read more about غزلیں ۔۔۔ محمد احمد[…]

غزلیں ۔۔۔ قمر صدیقی

ہماری نیند کوئی سو گیا ہے کیا جو تھا خوابوں کا زیور کھو گیا ہے کیا   سبھی چہروں پہ ہے کیوں بد حواسی اب سبھی کا جیسے یاں کچھ کھو گیا ہے کیا   کوئی فریاد اب سنتا نہیں وہ بھی کہیں پر چیف جسٹس ہو گیا ہے کیا   یہ کیوں تالاب دریا Read more about غزلیں ۔۔۔ قمر صدیقی[…]

غزلیں ۔۔۔ اسلم عمادی

یہ فیصلہ نہ کر سکے یاں اپنا کون تھا تھا سارا شہر وہم و گماں اپنا کون تھا   جس سے ملے وہ ٹوٹ کے بے ساختہ ملا لیکن شریک درد یہاں اپنا کون تھا   پھیلی تھی چاندنی بھی عجب واہمہ کی طرح وہ اجنبی سا چاند رواں اپنا کون تھا   اک بزم Read more about غزلیں ۔۔۔ اسلم عمادی[…]