غزلیں ۔۔۔ ڈاکٹر فریاد آزرؔ

چھوٹی چھوٹی خواہشوں کے درمیاں الجھے رہے عمر بھر ہم لوگ بھی آز ؔر کہاں الجھے رہے   اک ہمیں تھے حضرتِ حاتم کے رشتہ دار کیا زندگی بھر امتحاں در امتحاں الجھے رہے   اس نے رکھا تھا چھپا کر نکتۂ حسنِ عروج اور ہم بھی داستاں در داستاں الجھے رہے   ہم نے Read more about غزلیں ۔۔۔ ڈاکٹر فریاد آزرؔ[…]

غزلیں ۔۔۔ ڈاکٹر رؤف خیر

بادل سہی وہ خاک اڑا کر گزر گیا جھونکا ہوا کا تھا اِدھر آیا اُدھر گیا   تھا جس کو پار کرنا وہی پار کر گیا یوں ورنہ کیسے کیسوں کا دریا اتر گیا   میں جانِ انجمن ہوں مری جان قدر کر آنے کا لوٹ کر میں نہیں ہوں اگر گیا   چہرے ہوئے Read more about غزلیں ۔۔۔ ڈاکٹر رؤف خیر[…]

غزلیں ۔۔۔ سعید

خوشا کہ محفلِ عرق و ایاغ روشن ہو ملے ہیں یار تو شامِ فراغ روشن ہو   بھڑک رہی ہے سبھی جا ہوس لکیروں میں کہیں تو جادۂ دل کا سُراغ روشن ہو   میں تھک گیا ہوں ستارے کشید کرتے ہوئے خدائے شب مرے سینے کا داغ روشن ہو   کبھی تو یوں بھی Read more about غزلیں ۔۔۔ سعید[…]

غزلیں ۔۔۔ مہتاب حیدر نقوی

پھر کسی خواب کی پلکوں پہ سواری آئی خوش امیدی کو لئے باد بہاری آئی   پھول آئے ہیں نئ رت کے نئی شاخوں پر موجۂ ماہ دل آرام کی باری آئی   نامرادانہ کہیں عمر بسر ہوتی ہے شادکامی کے لئے یاد تمہاری آئی   اور پھر پھیل گیا رنگ محبت رخ پر لالۂ Read more about غزلیں ۔۔۔ مہتاب حیدر نقوی[…]

غزلیں ۔۔۔ فرحت عباس شاہ

(غالبؔ کی زمینوں میں)   صبح الم کہے شب ہجراں اٹھائیے کس کس جگہ سے درد کا ساماں اٹھائیے   ہم نے کہا کہ تنگ نہ کیجئے ہمیں حضور کہنے لگے کہ نخرۂ جاناں اٹھائیے   کتنا کہا تھا عشق سے باز آئیے جناب چلیے اب عمر بھر دل ویراں اٹھائیے   ہے فکر پر Read more about غزلیں ۔۔۔ فرحت عباس شاہ[…]

غزلیں ۔۔۔ فیصل عجمی

یہ آسمان کوئی فسانہ تو ہے نہیں ہم اس کو دیکھتے ہیں، گرانا تو ہے نہیں   پہنیں گے خاکدان کا زربفت پیرہن یاروں نے اس کا دام چکانا تو ہے نہیں   مٹھی میں ایک زہر ہے، دنیا کہیں جسے سب سے چھپائے پھرتے ہیں، کھانا تو ہے نہیں   مانگا ہے عشق بھی Read more about غزلیں ۔۔۔ فیصل عجمی[…]

چھوٹی حویلی ۔۔۔ اعجاز عبید

(نا مکمل ناول کا  ایک حصہ) قاضی عبد الستار کے نام ( 1) مسجد سے فجر کی نماز کے بعد نمازی دھیرے دھیرے مگر اس طرح نکلنے لگے کہ جیسے دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں کہ چلو۔ اس جھنجھٹ سے چھٹی ملی، اب کام سے لگیں گے۔ مسجد کے دروازے پر بوڑھا رحیما Read more about چھوٹی حویلی ۔۔۔ اعجاز عبید[…]

چوٹ، نوٹ کی ۔۔۔ حنیف سیّد

عروسِ فطرت بھرپور جوانی کا جام پیے، سولہ سنگار کیے، سیکڑوں ارمان لیے، چاندی کی ڈولی میں سوار، لیے انکھیوں میں پیار، اپنے سجنا کے دوار، ہولے ہولے کھسک رہی تھی۔ اُس کے خوابوں کا شہزادہ چاند ابلقِ ایام کی لگامیں کسے، ستاروں کے درمیاں بسے، کہکشاں نما راستے پر اپنی منزل کی جانب گامزن Read more about چوٹ، نوٹ کی ۔۔۔ حنیف سیّد[…]