آہِ بے صدا ۔۔۔ وسیم عقیل شاہ

پلیٹ فارم نمبر 3 پر واقع لکڑی کے خستہ تختوں سے بنی اپنی چھوٹی سی دکان ’واسو بک اسٹال‘ میں بیٹھی 21 سالہ آشا آج بھی کسی گہری فکر میں ڈوبی ہوئی تھی۔ فکر کے یہ گہرے سائے آج اُس کے پر کشش سانولے چہرے پر خوف بن کر چھائے ہوئے تھے۔ اُس کے دائیں Read more about آہِ بے صدا ۔۔۔ وسیم عقیل شاہ[…]

17 جنوری 2010 ۔۔۔ ربیعہ سلیم مرزا

کتبے پہ لکھی اس تاریخ کا میری زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس دن میں اچھی بھلی گھر کے کام نبٹا کر پچھلی سردیوں کی قمیض کے پلیٹ ادھیڑ رہی تھی۔ وزن بڑھتا ہے تو جگاڑ سے گذارا چلتا ہے. درد اچانک ہی بائیں بازو سے اٹھ کر دل تک چلا آیا۔ میں بیٹھی بیٹھی Read more about 17 جنوری 2010 ۔۔۔ ربیعہ سلیم مرزا[…]

پانچ ہزار سال پہلے ۔۔۔ ابرار مجیب

ایک ہارر کہانی   جب ہم اس علاقے میں پہنچے تو اندازہ ہوا کہ یہ علاقہ شہری علاقے سے کم از کم سو، سوا سو کیلو میٹر دور ہے اور آس پاس کوئی انسانی آبادی بھی نہیں ہے۔ چند ایک قبائلی گاؤں یہاں سے تین کیلو میٹر کے فاصلے پر تھے۔ اس کا مطلب یہ Read more about پانچ ہزار سال پہلے ۔۔۔ ابرار مجیب[…]

غزلیں ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی

ہاں۔ مرا ذکر درمیان میں تھا تیر لیکن ابھی کمان میں تھا   ناشتہ کر رہا ہوں سب کے ساتھ رات میں اپنے ہی مکان میں تھا   اب یقیں آیا میں اسی کا ہوں میں کسی اور ہی گمان میں تھا   خود کشی تھی کہ قتل تھا میرا کس گلی میں تھا؟ کس Read more about غزلیں ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی[…]

نظمیں ۔۔۔ سلیمان جاذب

سانپ ہمیشہ سانپ رہے گا   کسی بھی رنگ کا ہو کوئی بھی روپ ہو اس کا حسیں دلکش وہ جتنا ہو مگر سن لو ’’سپولا‘‘ سانپ کا بیٹا ہمیشہ سانپ رہتا ہے ٭٭٭         پردیس میں عید   سنو….اے دیس کے لوگو کہ یہ جو عید کا دن ہے اگر پردیس Read more about نظمیں ۔۔۔ سلیمان جاذب[…]

نظمیں ۔۔۔ تنویر قاضی

خاکستری خواب کا موجد بے مثل فکشنسٹ،  قدیم دوست اسلم سراج الدین کی یاد میں   خوابِ خاکستری کا سفر طے نہیں ہو سکا   کُنجِ دل میں کہیں کوئی حسرت اُٹھاتی ہے سر   عشق کے کھیل میں قرمزی حرف جیسے کبوتر تخیّل کی چھتری سے اُتریں غُٹر غُوں .. غُٹر غُوں   تواریخ Read more about نظمیں ۔۔۔ تنویر قاضی[…]

‎وہ لمحہ ۔۔۔ اسنیٰ بدر

‎کل رات کی محفل میں ‎اک رنگ اٹھا دل میں ‎جب رقص قدم اٹھے ‎پتھر کے صنم اٹھے ‎نغموں کا نشہ چھلکا ‎سو رنج و الم اٹھے   ‎اک آن تو سانسوں میں ‎بارود کی وحشت نے ‎کچھ شور کیا برپا   ‎تاریک محلّوں سے ‎کانوں کو سنائی دیں روتی ہوئی ماؤں کی ‎ٹوٹی ہوئی Read more about ‎وہ لمحہ ۔۔۔ اسنیٰ بدر[…]

بیدی کی ’اِندو‘ کے نام ۔۔۔ شناور اسحاق

عورت کا شریر ایک راج محل یے پُر شکوہ پُر اسرار وہ تمہیں اپنا مان کر اِس کی چابیاں تمہیں سونپ دیتی ہے تم عمر بھر اس کی راہداریوں میں دندناتے رہتے ہو بُرجیوں پر کلیلیں کرتے پھرتے ہو   اس راج محل میں مخفی ایک آئینہ خانہ ہے جس کے وسط میں سنہری تپائی Read more about بیدی کی ’اِندو‘ کے نام ۔۔۔ شناور اسحاق[…]

گیبریل گارشیا مارکیز کا ناول ’’تنہائی کے سو سال‘‘ عالمی نو آبادیات و استعمار کے تناظر میں ۔۔۔ ڈاکٹر محمد خرم یاسین

اجالا بہ سبب تاریکی ہے اور تاریکی کے مطالعے کے بنا روشنی کی کھوج ممکن نہیں۔ انسانی زندگیاں کی بیش تر بڑی مشکلات، فطرت کے خلاف خود کو توانا رکھنے کی جستجو کے بجائے خود انسانوں کے تخلیق کردہ مسائل سے نبرد آزما ہونے کے سبب ہیں۔ انسان، جو مادی دنیا میں اپنے مفادات عزیز Read more about گیبریل گارشیا مارکیز کا ناول ’’تنہائی کے سو سال‘‘ عالمی نو آبادیات و استعمار کے تناظر میں ۔۔۔ ڈاکٹر محمد خرم یاسین[…]

محمد اسد اللہ کی انشائیہ نگاری ۔۔۔ ڈاکٹر صبیحہ خورشید

  ادبی اظہار کے دو مشہور اسالیب ہیں، المیہ اور طربیہ۔ یہ دونوں ادب کی مختلف اصناف پر محیط ہیں۔ طنز و مزاح ادب کے تخلیقی اظہار کا ایک رنگ ہے مگر یہ کوئی صنف نہیں ہے۔ اس کے بر عکس انشائیہ ایک غیر افسانوی صنف ادب ہے۔ ناقدین اور ادب کے قارئین کا ایک Read more about محمد اسد اللہ کی انشائیہ نگاری ۔۔۔ ڈاکٹر صبیحہ خورشید[…]