غزل احتشم اختر

غزل احتشام اختر لبوں پر سرخیاں تھیں، اب کہاں ہیں ہری سب کھیتیاں تھیں، اب کہاں ہیں یہاں اک باغ تھا کچھ روز پہلے حسیں کچھ تتلیاں تھیں، اب کہاں ہیں کنارے پر گھروندے ریت کے تھے ندی تھی، کشتیاں تھیں، اب کہاں ہیں چچا کے گھر میں رونق تو بہت تھی بہو تھی، بیٹیاں Read more about غزل احتشم اختر[…]

غزلیں ۔۔ اعجازعبید

غزلیں اعجاز عبید (1) اگرچہ یادوں نے محفل یہاں سجائ۔۔۔ پر جو نیند آتی ہے سولی پہ بھی،  سو آئ۔۔۔پر۔۔۔۔! سلگتی ریت کو دو دن میں بھول جائیں نہ ہم یہ ایک شعر ہے اپنی برہنہ پائ پر میں فرشِ خاک پہ سوؤں تو سوتا رہتا ہوں ہزار خواب اترتے ہیں چارپائ پر نہ جانے Read more about غزلیں ۔۔ اعجازعبید[…]

غزل عبد اللہ ناظر

غزل عبداللہ ناظر حسین چاند سا چہرہ خمار آنکھوں میں کہاں سے آئے ہو بے اختیار آنکھوں میں نہ وہ چمن ہے نہ رنگِ بہار آنکھوں میں رہا نہ لطفِ نظر اشکبار آنکھوں میں بلا سے وعدہ تجھے اپنا یاد ہو کہ نہ ہو امید قلب میں ہے انتظار آنکھوں میں سزائے وعدہ خلافی ملی Read more about غزل عبد اللہ ناظر[…]

غزلیں۔۔ دلشاد نظمی و منظر ہمدانی

غزل دلشاد نظمی اگرچہ نکتہ چینی ہو رہی ہے مگر مسند نشینی ہو رہی ہے توکل سے فراموشی ہے شاید ہر اک خواہش کمینی ہو رہی ہے میں ہوں تنقید کے نرغے میں لیکن مِری شہرت یقینی ہو رہی ہے کھلیں ہیں بے بصارت خانقاہیں جہاں اب دیدہ بینی ہو رہی ہے دعا کو ہاتھ Read more about غزلیں۔۔ دلشاد نظمی و منظر ہمدانی[…]

غزلیں کلیم حاذق

غزلیں کلیم حاذق صبح نئی آتی ہے راتیں ڈھلتی ہیں آنکھیں لیکن اب بھی رستہ تکتی ہیں پھر بھی چاند نہیں آتا ہے قابو میں لہریں تو ویسے بانہوں میں بھرتی ہیں سانس جلن کے مارے ملتی ہے سینہ اندھیاری راتوں کی شمعیں جلتی ہیں پلکوں پر مہمان چمکتے ہیں جھلمل یادیں دستر خوان بچھائے Read more about غزلیں کلیم حاذق[…]

غزلیات — نوید صادق و علی عدنان

غزلیں نوید صادق تصویر کا جو دوسرا رخ تھا، نہیں دیکھا ہم نے کبھی امکان کا رستہ نہیں دیکھا جس حال میں، جس جا بھی رہی، خود سے رہے دور اک شخص بھی اپنی طرف آتا نہیں دیکھا اک غم کہ ہمیں راس بہت تھا، سو نہیں ہی مدت سے نمِ چشم کو رسوا نہیں Read more about غزلیات — نوید صادق و علی عدنان[…]

غزلیں — عاکف غنی

غزلیں عاکف غنی اُٹھی ہیں دل میں مِرے اضطراب کی لہریں  دکھائی دیتی ہیں ہر سوُ سراب کی لہریں وطن کی شکل بگاڑی ہے ایسی غربت نے اُٹھی بھی کاش کہیں انقلاب کی لہریں میں اپنے یار کی تعریف کس طرح سے کروں برس رہی ہیں مسلسل شہاب کی لہریں یہ کون بیٹھے ہیں میرے Read more about غزلیں — عاکف غنی[…]

غزل وہاب اعجاز

غزل وہاب اعجاز خشک دریا کے وہ کنارے تھے لوگ جو زندگی سے ہارے تھے مل گئے پانیوں میں سب کے سب ریت پر نقش کچھ ابھارے تھے پھر وہ چہرے نظر سے اوجھل ہیں جو مجھے جان سے بھی پیارے تھے بھیگی آنکھیں تھیں، اشک تھے جیسے جھلملاتے ہوۓ ستارے تھے اب تو وہ Read more about غزل وہاب اعجاز[…]

کیک — اصغر وجاہت (ہندی سے )

کیک اصغر وجاہت (ہندی سے ) اُنہوں نے میز پر ایک زوردار گھُونسا مارا اور میز بہُت دیر تک ہِلتی رہی۔ میں کہتا ہُوں جب تک ایٹ اے ٹائیم پانچ سو لوگوں کو گولی سے نہیں اُڑا دِیا جائے گا، حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ اَپنی خاصی سپیکِنگ پاور برباد کر کے وہ ہانپنے لگے۔ Read more about کیک — اصغر وجاہت (ہندی سے )[…]