عبد السلام عاصم کچھ نہیں افسوس

عبد السلام عاصم کچھ نہیں افسوس عبد السلام عاصم کچھ نہیں افسوس بونے اور کاٹنے کی دنیا میں روز اک سانحہ گزرتا ہے کچھ نہ کچھ روز کھو رہا ہوں میں  یہ بھی طے ہے یہ سلسلہ اک دن طول کھینچے گا قبر تک میری آرزو ہے کہ میرے کتبے پر یہ لکھا ہو کہ Read more about عبد السلام عاصم کچھ نہیں افسوس[…]

Default title

مستقبل راشد عباسی   مستقبل راشد عباسی اُس کے ماتھے پر اک بوسہ اور آنکھوں پر دو پھر ہم دونوں جاگتی آنکھوں یونہی جائیں سو لے کر دل میں لاکھوں خدشے جانے کل کیا ہو ***

اَندھیرے کے کُنویں سے — اِلا پرساد

اَندھیرے کے کُنویں سے اِلا پرساد اندھیرے کے کنویں سے اِلا پرساد —————— اَندھیرے کے کُنویں  سے لگاتار باہر آتے ہوئے کئی بار مُجھے لگا ہے کہ سُورج اور میرے بیچ کی دُوری عارضی ہے وو جو رہ رہ کر میری آنکھیں چوندھِیائ  تھیں وہ محض دھُوپ کے ٹکڑے تھے یا روشنی کی چھایائیں صرف۔ Read more about اَندھیرے کے کُنویں سے — اِلا پرساد[…]

ماضی کی کلیاں سارہ جبین

ماضی کی کلیاں سارہ جبیں ُ بہت بھینی بھینی  کبھی   اپنی اپنی کبھی اجنبی سی  فضاؤں میں مہکیں وہ ماضی کی کلیاں کتابیں  پرانی  اور الفاظ ادھورے کبھی خواب ٹوٹے  کبھی اشک جھلکے کبھی رنگ بکھرے یہ تصویر تیری  یہ یادیں مہکتی کنول خوبصورت  رہے نقشِ ماضی نگاہوں میں میری بہت بھینی بھینی  کبھی اپنی Read more about ماضی کی کلیاں سارہ جبین[…]

غزلیں – صادق اندوری

غزلیں صادق اندوری غزلیں صادق اندوری مہک رہا ہے بدن سارا کیسی خوشبو ہے یہ تیرے لمس کی تاثیر ہے کہ جادو ہے تمھارا نرم و سبک ہاتھ چھو گیا تھا کبھی یہ کیسی آگ ہے ، سوزاں ہر ایک پہلو ہے ہے کس قدر متوازن نگاہ و دل کا ملاپ کہ جیسے دونوں طرف Read more about غزلیں – صادق اندوری[…]

غزل مغنی تبسؔم

غزل مغنی تبسّم غزل مغنی تبسؔم بیداری کے خواب گراں ہیں میرے بھی خوابوں میں آباد جہاں ہیں میرے بھی قیدِ مکاں سے باہر ہیں سب میرے خواب بے تقویم نفس امکاں ہیں میرے بھی میں نے بھی ساحل سے باندھے ہیں پیماں بحر میں تیرے کچھ طوفاں ہیں میرے بھی منزل منزل تیرے کرم Read more about غزل مغنی تبسؔم[…]

غزلیں حیدر قریشی

غزلیں حیدر قریشی آنکھ سے گر کر ٹوٹے خواب کھلونے ہیں اور اب دل کے ، بچوں جیسے رونے ہیں عمرِ لا حاصل کا جو حاصل ٹھہرے کس نے ایسے داغِ ملامت دھونے ہیں درد ہمارے تو انمول نکل آئے گرچہ خرید ے ہم نے اونے پونے ہیں صرف گناہوں کا ہی بوجھ نہیں سر Read more about غزلیں حیدر قریشی[…]

غزلیں – مد حت الاختر

غزلیں مدحت الاختر جانے والے مجھے کچھ اپنی نشانی دے جا روح پیاسی نہ رہے ، آنکھ میں پانی دے جا وقت کے ساتھ خد و خال بدل جاتے ہیں جو نہ بدلے وہی تصویر پرانی دے جا تیرے ماتھے پہ مرا نام چمکتا تھا کبھی ان دنوں کی کوئ پہچان پرانی دے جا جس Read more about غزلیں – مد حت الاختر[…]

غزلِ یوسف علی یوسف و رفیق انجم

غزل رفیق انجم لمحہ لمحہ جلاۓ گی بارش اور کتنا رُلاۓ گی بارش پھر دریچے کھلے ہیں یادوں کے آ کے لوری سناۓ گی بارش کھل گۓ پھر تبسّموں کے گلاب پھر مجھے آزماۓ گی بارش جب نہ پاۓ گی اس کو گلیوں میں ہر طرف پھڑپھڑاۓ گی بارش جل رہی ہیں نظر میں قندیلیں Read more about غزلِ یوسف علی یوسف و رفیق انجم[…]