صدر۔۔۔ اسلم جمشید پوری

آج پورے دس سال بعد وہ اپنے دوست نوشاد کے گھر جا رہا تھا۔ راستے بھر طرح طرح کے خیال اس کے ذہن میں آ رہے تھے۔۔ آخر اس طرح سوچتا وہ نوشاد کے گھر پہنچ گیا۔ عالیشان عمارت دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا۔۔ دس برس قبل اس کے دوست کا ٹوٹا سا کچا Read more about صدر۔۔۔ اسلم جمشید پوری[…]

لامکاں ۔۔۔ڈاکٹر اقبال حسن آزاد

اس چھوٹے سے گھر میں صرف دو کمرے تھے۔ ایک کمرے کو ان لوگوں نے بیڈروم بنا دیا اور دوسرے کو ڈرائنگ روم۔ دونوں کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور دونوں ہی کو گھر کو سجا کر رکھنے کا شوق تھا۔ جب اس چھوٹے سے گھر میں ہر چیز اپنی جگہ پر رکھی جاچکی Read more about لامکاں ۔۔۔ڈاکٹر اقبال حسن آزاد[…]

خدا کا بندہ۔۔۔ مشتاق اعظمی

وہ شہر کی ایک عظیم الشان مسجد تھی۔ ایمان کی حرارت والوں کی شب و روز محنت اور عزم و حوصلے کا نادر کارنامہ۔ آج سے کوئی پچاس برس پہلے اس کی تعمیر میں پورے تین لاکھ روپئے خرچ ہوئے تھے۔ مسجد کی دیواروں اور محرابوں پر جا بجا لال، ہرے ، پیلے اور نیلے Read more about خدا کا بندہ۔۔۔ مشتاق اعظمی[…]

تخلیق کا حشر۔۔۔ علیم صبا نویدی

آج اس کی مانگ کا سیندور اجڑ گیا تھا۔۔ وہ چہرہ، وہ آنکھیں جو کل تک روشن تھیں۔ آج اس میں اداس پن کے گہرے نقوش اجاگر ہو چکے تھے۔ اور بولتے ہوئے بدن کے خد و خال بھی پگھل کر اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں۔ اور وہ زلفیں جن کا شکار اور کمار اور Read more about تخلیق کا حشر۔۔۔ علیم صبا نویدی[…]

جائداد ۔۔۔ کوثر صدیقی

میرے کمرے میں ایک چڑیا کے جوڑے نے گھونسلہ بنا رکھا تھا۔۔ میں دیکھتا ہوں ہر چھٹویں مہینے چڑیا انڈے دیتی تھی۔۔ بچے نکلتے تھے۔ پھر دونوں مل کر دن رات محنت کر کے انھیں پالتے تھے۔۔ پھر اڑنا سکھاتے تھے۔۔ پر آنے کے بعد ایک دن پھر سے اڑ جاتے۔ اور ماں باپ کو Read more about جائداد ۔۔۔ کوثر صدیقی[…]

علاج۔۔۔ سکندر عرفان

وزیر صحت اپنے معائنہ کے دوران مریضوں سے ان کی خیریت پوچھ رہے تھے۔ ان کے ساتھ ان کا پورا عملہ، ڈاکٹر اور نرسیز بھی تھے۔ مریض از راہ اثر اثبات میں سر ہلا کر اپنی کیفیات کا اظہار کر رہے تھے۔ ایک مریض نے بہ مشکل تمام بستر سے اٹھ کر وزیر موصوف کے Read more about علاج۔۔۔ سکندر عرفان[…]

دھوپ کا موسم۔۔۔ خالد عبادی

کچھ دنوں سے اس بستی میں گھاسلیٹ کی افراط ہو گئی تھی۔۔ جھونپڑیوں میں دیوالی اتر آئی تھی۔ لاش کی مٹھی کھل گئی تھی۔ نلوں سے تیز دھار میں پانی آنے لگا تھا۔ ۔۔زندگی کی تعریف بدل گئی تھی۔۔ شاید ان بستیوں میں خدا اتر آیا تھا۔۔ اور دیواریں الیکشن کے پوسٹر پہنے ہوئے تھیں۔ Read more about دھوپ کا موسم۔۔۔ خالد عبادی[…]

ریت کا چشمہ۔۔۔ آنند لہر

جس برتن میں تم نے سورج کو گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس سے اندھیروں کا ایک ایسا دریا بہہ نکلا ہے جو اپنے سمندر کی تلاش میں پہاڑوں کے معصوم بچوں کو بہا کر لے جائے گا۔۔ اندھی صدی بچھڑے ہوئے لمحوں کو پکڑنے کی جب بھی کوشش کرے گی اس کے ہاتھوں Read more about ریت کا چشمہ۔۔۔ آنند لہر[…]

غلطی کا احساس۔۔۔ سالک جمیل

دیکھتے ہی دیکھتے عارف اور عمران کی بیس سال پرانی دوستی دشمنی میں بدل گئی۔۔ ’’آخر اس کی کیا وجہ تھی۔۔!‘‘ عارف نے کسی سے پوچھا۔ ’’یار۔۔ مجھ سے ایک غلطی ہو گئی تھی؟!‘‘۔۔ عارف نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا۔۔ ’’غلطی۔۔ کیسی غلطی؟!‘‘۔۔ پوچھنے والے نے وضاحت چاہی۔ تقریباً ایک سال پہلے کی بات Read more about غلطی کا احساس۔۔۔ سالک جمیل[…]

افسانچہ۔۔۔ شبیر شاکر

تگرد اور کھجور سے بَنی ایک خوبصورت جھونپڑی جس کی چھوٹی سی پنجرہ نما کھڑکی سے ایک خوبصورت اور معصوم چہرے والی لڑکی حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ بغیر دروازہ والی جھونپڑی میں نہ جانے اُس نے اپنے آپ کو کیوں تنِ تنہا قید کیا حالانکہ نہ دور دراز رکاوٹ تھا اور نہ Read more about افسانچہ۔۔۔ شبیر شاکر[…]