۔۔۔۔ مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔۔

قارئینِ ’سمت‘ کو نیا سال مبارک ہو۔ دعا ہے کہ یہ سال بر صغیر میں خصوصاً اور تمام عالم میں عموماً خوشیوں۔ مسرت اور امن و امان کا پیغام لے کر آئے۔
پچھلی بار ہم نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ ’سمت‘ کی اب ضرورت نہیں رہی کہ اس کا اجراء محض اس مقصد کے لیے کیا گیا تھا کہ اردو ادب سے وابستہ حضرات کو یہ علم ہو سکے کہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا میں بھی اردو کا چلن ہو سکتا ہے۔ اور اب موبائل فون میں انڈرائیڈ اور آئی فون میں نہ صرف اردو تحریر کا چلن عام ہو گیا ہے، لوگ نہ صرف اردو لکھنے پڑھنے لگے ہیں، بلکہ اردو نستعلیق تحریر بھی آئی فون میں اور کچھ فانٹس کو ’امبیڈ‘ (Embed) کیے جانے کے بعد بغیر فانٹ انسٹال کیے ہوئے کمپیوٹر اور موبائلس پر نظر آنے لگی ہے۔ اس لیے اب ’سمت‘ محض ’ایک اور ادبی آن لائن جریدہ‘ (Just another webzine) بن کر رہ گیا ہے۔ محض عوام کے اصرار پر میں اسے جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ دیکھیے کب تک کامیاب رہتا ہوں۔
پچھلا سال جاتے جاتے اردو دنیائے ادب کو کئی غم دے گیا۔ قاضی عبد الستار، جن سے تھوڑا بہت ربط بھی رہا تھا، اردو فکشن کی آبرو تھے۔ مضطر مجاز، اقبالیات کے ماہر، اقبال اور غالب کے فارسی کلام کے اردو منظوم مترجم اور اہم شاعر، جو حیدر آباد دکن میں ہی تھے اور جن سے کئی بار ملاقاتیں رہیں، فہمیدہ ریاض جو تانیثیت کی علم بردار شاعرہ تھیں اور افسانہ نگار بھی۔ الطاف فاطمہ، سہیل غازی پوری اور آنند لہر بھی اہم مقامات کے حامل رہے۔ اور ۲۹ دسمبر کو جب یہ سطریں لکھی جا رہی تھیں، تو پچھلی رات ہی معلوم ہوا کہ حامدی کاشمیری بھی داغ مفارقت دے گئے۔
یہ صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں؟
باقی لوگوں کو تو اسی شمارے کے یاد رفتگاں حصے میں شامل کر دیا گیا ہے، لیکن اب اتنا وقت نہیں رہا کہ حامدی کاشمیری کی یاد میں بھی کچھ مضامین جمع کیے جا سکیں۔ بہر حال ان کی یاد میں ایک غزل یہاں شامل کی جا رہی ہے۔
امید ہے یہ شمارہ حسبِ معمول پسند کیا جائے گا۔
اپنی آراء اور تخلیقات سے ہمیں نوازتے رہیے۔
ا۔ع۔
٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے