فہمیدہ ریاض: تانیثیت کی علم بردار ۔۔۔ غلام شبیر رانا

فہمیدہ ریاض کا شمار پاکستان میں تانیثیت کی بنیاد گزار خواتین میں ہوتا ہے۔ فہمیدہ ریاض سے مل کر زندگی سے پیار ہو جاتا تھا۔ زندگی بھر خواتین کے حقوق کے لیے جد و جہد کرنے والی اس پر عزم ادیبہ نے تانیثیت کے بارے میں جو واضح موقف اختیار کیا وہ تاریخ کا ایک معتبر حوالہ ہے۔ یہاں تانیثیت کا تاریخی تناظر میں مطالعہ مناسب رہے گا۔ فہمیدہ ریاض کا خیال تھا کہ عالمی ادبیات کا مطالعہ کرنے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ہر عہد میں مفکرین نے وجود زن کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں رنگ، خوشبو اور حسن و خوبی کے تمام استعارے وجودِ زن سے منسوب چلے آ رہے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو عصر حاضر میں تانیثیت کو ایک عالمی تصور کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ علامہ اقبال نے خواتین کے کردار کے حوالے سے لکھا ہے ؎

وجود زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ (1)

دنیا بھر کی خواتین کے لب و لہجے میں تخلیقِ ادب کی روایت خاصی قدیم ہے۔ ہر زبان کے اَدب میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ فہمیدہ ریاض نے اس حقیقت کو واضح کیا کہ نوخیز بچے کی پہلی تربیت اور اخلاقیات کا گہوارہ آغوش مادر ہی ہوتی ہے۔ اچھی مائیں قوم کو معیار اور وقار کی رفعت میں ہمدوش ثریا کر دیتی ہیں۔ انہی کے دم سے امیدوں کی فصل ہمیشہ شاداب رہتی ہے۔ یہ دانہ دانہ جمع کر کے خرمن بنانے پر قادر ہیں تاکہ آنے والی نسلیں فروغِ گلشن اور صوت ہزار کا موسم دیکھ سکیں۔ خلوص و دردمندی، ایثار و وفا، صبر و رضا، قناعت اور استغنا خواتین کا امتیازی وصف ہے۔ تانیثیت کی علم بردار اپنے عہد کی مقبول امریکی شاعرہ لوئیس بوگان (Louise Bogan: 1897-1970) نے کہا تھا:

 

Women have no wilderness in them

They are provident instead

Content in the tight hot cell of their hearts

To eat dusty bread (2)

فہمیدہ ریاض نے مدلل انداز میں قارئین کو اس جانب متوجہ کیا کہ فنون لطیفہ اور ادب کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جہاں با صلاحیت خواتین نے اپنی فقید المثال کامرانیوں کے جھنڈے نہ گاڑے ہوں۔ آج تو زندگی کے ہر شعبے میں خواتین نے اپنی بے پناہ استعداد کار سے اقوام عالم کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہے کہ خواتین نے فنون لطیفہ اور معاشرے میں ارتباط کے حوالے سے ایک مضبوط پُل کا کردار ادا کیا۔ فہمیدہ ریاض کو اس بات کا قلق تھا کہ آج کے مادی دور میں فرد کی بے چہرگی اور عدم شناخت نے گمبھیر صورت اختیار کر لی ہے۔ ان لرزہ خیز، اعصاب شکن اور صبر آزما حالات میں بھی انھوں نے خواتین کو اس جانب متوجہ کیا کہ ہر فرد کو اپنی حقیقت سے آشنا ہونا چاہیے۔ فہمیدہ ریاض اس بات پر دل گرفتہ تھیں کہ مسلسل شکست دل کے باعث مظلوم طبقہ بالخصوص پس ماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کو محرومیوں کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ ظالم و سفاک، موذی و مکار استحصالی عناصر نے اپنے مکر کی چالوں سے اُداس نسلیں در بہ در، بے خانماں عورتیں خاک بہ سر، رُتیں بے ثمر، کلیاں شر ر، زندگیاں پرخطر، آہیں بے اثر ہو اور گلیاں خوں میں تر کر دی ہیں۔ فہمیدہ ریاض نے اپنے طرز عمل سے اس امر کی صراحت کر دی کہ خواتین نے ہر عہد میں جبر کی مزاحمت کیا، استبداد کے سامنے سپر انداز ہونے سے انکار کیا، ہر ظالم پہ لعنت بھیجنا اپنا شعار بنایا اور انتہائی نا مساعد حالات میں بھی حریتِ ضمیر سے جینے کا راستہ اختیار کیا۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں تیسری دنیا کے ترقی پذیر ممالک کا معاشرہ بالعموم مردوں کی بالادستی کے تصور کو تسلیم کر چکا ہے۔ اس قسم کے ماحول میں جب کہ خواتین کو اپنے وجود کے اثبات اور مسابقت کے لیے انتھک جد و جہد کرنا پڑے، خواتین کے لیے ترقی کے یکساں مواقع تخیل کی شادابی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ فہمیدہ ریاض جیسی جری، پر عزم اور اہل وطن سے والہانہ محبت کرنے والی خواتین کی فکری کاوشیں سفاک ظلمتوں میں ستارۂ سحر کے مانند ہیں۔ انھوں نے کٹھن حالات میں بھی حوصلے اور امید کا دامن تھام کر سوئے منزل رواں دواں رہنے کا جو عہد وفا استوار کیا اسی کو علاج گردش لیل و نہار بھی قرار دیا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہر شعبۂ زندگی میں خواتین بھرپور اور اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ عالمی ادبیات کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ سماجی زندگی کے جملہ موضوعات پر ادب سے تعلق رکھنے والی خواتین نے اشہبِ قلم کی جو بے مثال جولانیاں دکھائی ہیں ان کے اعجاز سے طلوع صبح بہاراں کے امکانات روشن تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

تانیثیت کو فہمیدہ ریاض نے ایک ایسی مثبت سوچ، مدبرانہ تجزیہ اور دانش ورانہ اسلوب سے تعبیر کیا جس کے اہداف میں خواتین کے لیے معاشرے میں ترقی کے منصفانہ اور یکساں مواقع کی فراہمی کو یقینی بنانے کا واضح لائحہ عمل متعین کیا گیا ہو۔ ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ خواتین کسی خوف و ہراس کے بغیر کاروانِ ہستی کے تیز گام قافلے میں مردوں کے شانہ بہ شانہ اپنا سفر جاری رکھ سکیں۔ روشنی کے اس سفر میں انھیں استحصالی عناصر کے مکر کی چالوں سے خبردار کرنا تانیثیت کا اہم موضوع رہا ہے۔ ایک فلاحی معاشرے میں اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ معاشرے کے تمام افراد کو ہر قسم کا معاشرتی تحفظ فراہم کیا جائے کیونکہ ہر فرد کو ملت کے مقدر کے ستارے کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ تانیثیت نے حق و انصاف کی بالا دستی، حریتِ فکر، آزادی ٔ اظہار اور معاشرے کو ہر قسم کے استحصال سے پاک کرنے پر اصرار کیا۔ فہمیدہ ریاض کو اس بات پر گہری تشویش تھی کہ فکری کجی کے باعث بعض اوقات تانیثیت اور جنسیت کو خلط ملط کر دیا جاتا ہے حالانکہ تانیثیت اورجنسیت میں ایک واضح حد فاصل ہے بل کہ یہ کہنا درست ہو گا کہ تانیثیت اپنے مقاصد کے اعتبار سے جنسیت کی ضد ہے۔ تانیثیت کے امتیازی پہلو یہ ہیں کہ اس میں زندگی کی سماجی، ثقافتی، معاشرتی، سیاسی، عمرانی اور ہر قسم کی تخلیقی اقدار و روایات کو صیقل کرنے اور انھیں مثبت انداز میں بروئے کار لانے کی راہ دکھائی جاتی ہے۔ اس میں خواتین کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے فراواں مواقع کی جستجو پر توجہ مرکوز رہتی ہے۔

عالمی ادب اور تانیثیت کو تاریخی تناظر میں دیکھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یورپ میں تانیثیت کا غلغلہ پندرہویں صدی عیسوی میں اٹھا اوراس میں مد و جزر کی کیفیت سامنے آتی رہی۔ جمود کے ماحول میں یہ ٹھہرے پانی میں ایک پتھر کے مانند تھی۔ اس کی دوسری لہر 1960 میں اٹھی جب کہ تیسری لہر کے گرداب 1980 میں دیکھے گئے۔ ان تمام حالات اور لہروں کا یہ موہوم مد و جزر اور جوار بھاٹا اپنے پیچھے جو کچھ چھوڑ گیا اس کا لب لباب یہ ہے کہ خواتین کو اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں حریت ضمیر سے جینے کی آزادی ملنی چاہیے۔ تاریخی تناظر میں دیکھا جائے اور ہر قسم کی عصبیت سے گلو خلاصی حاصل کر لی جائے تو یہ بات ایک مسلمہ صداقت کے طور پر سامنے آتی ہے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے اسلام نے خواتین کوجس عزت، تکریم اور بلند مقام سے نوازا اس سے پہلے ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ تبلیغ اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر خلافت راشدہ کے زمانے تک اسلامی معاشرے میں خواتین کے مقام اور کردار کا حقیقی انداز میں تعین کیا جا چکا تھا۔ اس عہد میں مسلم خواتین ہر شعبہ زندگی میں فعال کردار ادا کر رہی تھیں۔ اسلام نے زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کو یکساں مواقع اور منصفانہ ماحول میں زندگی بسر کرنے کی ضمانت دی۔ آج بھی اگر وہی جذبہ بیدار ہو جائے تو آگ بھی انداز گلستاں پیدا کر سکتی ہے۔

فہمیدہ ریاض اس بات سے مطمئن تھیں کہ نو آبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد پاکستان میں میں تانیثیت کے حوالے سے تنقیدی مباحث روز افزوں ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستانی خواتین تیشۂ حرف سے فصیلِ جبر کو منہدم کرنے کی مقدور بھر سعی کر تی نظر آتی ہیں۔ ایسے تمام تار عنکبوت جو کہ خواتین کی خوش حالی اور ترقی کے اُفق کو گہنا رہے ہیں انھیں نیست و نابود کرنے کا عزم لیے پاکستانی خواتین اپنے ضمیر کی للکار سے جبر کے ایوانوں پر لرزہ طاری کر دینے کی صلاحیت سے متمتع ہیں۔ ان کا نصب العین یہ ہے کہ انسانیت کی توہین، تذلیل، تضحیک اور بے توقیری کرنے والے اجلاف و ارزال اور سفہا کے کریہہ چہرے سے نقاب اٹھانے میں کبھی تامل نہ کیا جائے اور ایسے ننگ انسانیت درندوں کے قبیح کردارسے اہلِ درد کو آگاہ کیا جائے۔ یہ صور تِ حال فہمیدہ ریاض کے لیے حوصلے اور امید کی نقیب تھی کہ تانیثیت نے تمام خفاش منش عناصر کو آئینہ دکھایا ہے اور زندگی کی حقیقی معنویت کو اجاگر کیا ہے۔ تانیثیت کا دائرہ کار تاریخ، علم بشریات، عمرانیات، معاشیات، ادب، فلسفہ، جغرافیہ اور نفسیات جیسے اہم شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔ تانیثیت میں تحلیل نفسی کو کلیدی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ تانیثیت کے مطابق معاشرے میں مرد اور عورت کو برابری کی سطح پر مسائل زیست کا حل تلاش کرنا چاہیے اوریہ اپنے وجود کا خود اثبات کرتی ہے۔ فہمیدہ ریاض اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتی تھیں کہ تانیثیت نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے تشدد، استحصال، جنسی جنون اور ہیجان کی مسموم فضا کا قلع قمع کرنے اور اخلاقی بے راہ روی کو بیخ و بن سے اُکھاڑ پھینکنے کے سلسلے میں جو کردار ادا کیا وہ ہر اعتبار سے لائق تحسین ہے۔ زندگی کی اقدارِ عالیہ کے تحفظ اور درخشاں روایات کے قصرِ عالی شان کی بقا کی خاطر تانیثیت نے ایک قابل عمل معیار وضع کیا جو کہ خواتین کو حوصلے اور اعتماد سے آگے بڑھنے کا ولولہ عطا کرتا ہے۔ اخلاقی اوصاف کے بیان میں بھی تانیثیت نے گہری دلچسپی لی۔ قدرت کا ملہ نے ان اوصاف حمیدہ سے خواتین کو نہایت فیاضی سے متمتع کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قدرتی عنایات کا دل نشیں انداز میں بیان بھی اس کا امتیازی وصف ہے۔ ان فنی تجربات کے ذریعے جدید اور متنوع موضوعات سامنے آئے اور نئے امکانات تک رسائی کو یقینی بنانے کی مساعی کا سلسلہ چل نکلا۔

فہمیدہ ریاض کے اسلوب کا مطالعہ کرنے سے اس بات پر پختہ یقین ہو جاتا ہے کہ قدرت کے اس وسیع نظام میں جمود اور سکون بہت محال ہے۔ زندگی حرکت اور حرارت سے عبارت ہے۔ کسی بھی عہد میں یکسانیت کو پسند نہیں کیا گیا اس کا سبب یہ ہے کہ یکسانیت سے ایک مشینی سی صورت حال کا گمان گزرتا ہے۔ اس عالم آب و گل میں سلسلۂ روز و شب ہی کچھ ایسا ہے کہ مرد اور عورت کی مساوی حیثیت کے بارے میں بالعموم تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ تانیثیت نے اس اہم موضوع پر توجہ مرکوز کر کے بلا شبہ اہم خدمت انجام دی۔ فہمیدہ ریاض نے تانیثیت پر مبنی نظریے (Feminist Theory) میں خواتین کو مژدۂ جاں فزا سنایا کہ قید حیات اور بند غم سے دل برداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ زندگی تو جوئے شیر، تیشہ اور سنگ گراں کا نام ہے۔ عزت اور وقار کے ساتھ زندہ رہنا، زندگی کی حیات آفریں اقدار کو پروان چڑھانا، خوب سے خوب تر کی جستجو کرنا، ارتقا کی جانب گامزن رہنا، کامرانی اور مسرت کی جستجو کرنا، اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا، حریت فکر اور آزادیِ اظہار کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہ کرنا، تخلیقی فن کار کی انا اور خود داری کا بھرم بر قرار رکھنا اور اپنے تخلیقی وجود کا اثبات کرنا خواتین کا اہم ترین منصب ہے۔ تانیثیت نے افراد، معاشرے، علوم اور جنس کے حوالے سے ایک موزوں ارتباط کی جانب توجہ مبذول کرائی۔ ممتاز نقاد ٹیری ایگلٹن (Terry Eagleton)نے لکھا ہے:

‘‘Feminist theory provided that precious link between academia and society as well as between problems of identity and those of political organization ,which was in general harder and harder to come by in an increasingly conservative age.‘‘(3)

تانیثیت کو ادبی حلقوں میں ایک نوعیت کی تنقید سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ خواتین جنھیں معاشرے میں ایک اہم مقام حاصل ہے ان کی خوابیدہ صلاحیتوں کو نکھارا جائے۔ ادب اور فنونِ لطیفہ کے شعبوں میں انھیں تخلیقی اظہار کے فراواں مواقع فراہم کیے جائیں۔ یہ حقیقت کسی سے مخفی نہیں کہ مغرب میں تانیثیت کو سال 1970 میں پذیرائی ملی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یورپی دانش وروں نے اس کی ترویج و اشاعت میں گہری دلچسپی لی۔ اس طرح رفتہ رفتہ لسانیات اور ادبیات میں تانیثیت کو ایک غالب اور عصری آگہی کے مظہر نظریے کے طور پر علمی اور ادبی حلقوں نے بہت سراہا۔ سال 1980 کے بعد سے تانیثیت پر مبنی تصورات کو وسیع تر تناظر میں دیکھتے ہوئے اس کی سماجی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس طرح ایک ایسا سماجی ڈھانچہ قائم کرنے کی صورت تلاش کی گئی جس میں خواتین کے لیے سازگار فضا میں کام کرنے کے بہترین مواقع ادستیاب ہوں۔ پاکستان میں فہمیدہ ریاض اور ان کی ہم خیال خواتین نے تانیثیت کے فروغ کے لیے بے مثال جد و جہد کی اور خواتین کو ادب کے وسیلے سے زندگی کی رعنائیوں اور توانائیوں میں اضافہ کرنے کی راہ دکھائی۔ ان کا نصب العین یہ تھا کہ جذبات، تخیلات اور احساسات کو اس طرح الفاظ کے قالب میں ڈھالا جائے کہ اظہار کی پاکیزگی اور اسلوب کی ندرت کے معجز نما اثر سے خواتین کو قوت ارادی سے مالا مال کر دیا جائے اور اس طرح انسانیت کے وقار اور سر بلندی کے اہداف تک رسائی کی صورت پیدا ہو سکے۔ اس عرصے میں تانیثیت کی باز گشت پوری دنیا میں سنائی دینے لگی۔ خاص طور پر فرانس، برطانیہ، شمالی امریکہ، ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور کینیڈا میں اس پر قابل قدر کام ہوا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ تانیثیت کی شکل میں بولنے اور سننے والوں کے مشترکہ مفادات پر مبنی ایک ایسا ڈسکورس منصۂ شہود پر آیاجس میں خواتین کے منفرد اسلوب کا اعتراف کیا گیا۔

اکثر کہا جاتا ہے کہ نسائی جذبات میں انانیت نمایاں رہتی ہے مگر یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ان کے جذبات میں خلوص، ایثار، مروّت، محبت اور شگفتگی کا عنصر ہمیشہ غالب رہتا ہے۔ تانیثیت نے انسانی وجود کی ایسی عطر بیزی اور عنبر فشانی کا سراغ لگایا جو کہ عطیۂ خداوندی ہے۔ اس وسیع و عریض کائنات میں تمام مظاہر فطرت کے عمیق مشاہدے سے یہ امر منکشف ہوتا ہے کہ جس طرح فطرت ہر لمحہ لالے کی حنا بندی میں مصروف عمل ہے اسی طرح خواتین بھی اپنی تسبیح روز و شب کا دانہ دانہ شمار کرتے وقت بے لوث محبت کو شعار بناتی ہیں۔ خواتین نے تخلیق ادب کے ساتھ جو بے تکلفی برتی ہے اس کی بدولت ادب میں زندگی کی حیات آفریں اقدار کو نمو ملی ہے۔ موضوعات، مواد، اسلوب، لہجہ اور پیرایۂ اظہار کی ندرت اور انفرادیت نے ابلاغ کو یقینی بنا نے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ تانیثیت کا اس امر پر اصرار رہا ہے کہ جذبات، احساسات اور خیالات کا اظہار اس خلوص اور دردمندی سے کیا جائے کہ ان کے دل پر گزرنے والی ہر بات بر محل، فی الفور اور بلا واسطہ انداز میں پیش کر دی جائے۔ اس نوعیت کی لفظی مرقع نگاری کے نمونے سامنے آتے ہیں کہ قاری چشم تصورسے تمام حالات کا مشاہدہ کر لیتا ہے۔ تیسری دنیا کے پس ماندہ، غریب اور وسائل سے محروم ممالک جہاں بد قسمتی سے اب بھی جہالت اور توہم پرستینے پنجے گاڑ رکھے ہیں، وہاں نہ صرف خواتین بل کہ پوری انسانیت پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا جاتا ہے۔ راجہ اندر قماش کے مسخرے خواتین کے در پئے آزار رہتے ہیں۔ ان ہراساں شب و روز میں بھی خواتین نے اگر

حوصلے اور اُمید کی شمع فروزاں رکھی ہے تو یہ بڑے دل گردے کی بات ہے۔ خواتین نے ادب، فنون لطیفہ اور زندگی کے تمام شعبوں میں مردوں کی ہاں میں ہاں ملانے اور ان کی کورانہ تقلید کی مہلک روش کو اپنانے کے بجائے اپنے لیے جو طرز فغاں ایجاد کی بالآخر وہی ان کی طرز ادا ٹھہری۔ جولیا کرسٹیوا (Julia Kristeva) نے اس کے بارے میں لکھا ہے:

‘‘Truly feminist innovation in all fields requires an understanding of the relation between maternity and feminine creation‘‘(4)

فہمیدہ ریاض نے مردوں کی بالادستی اور غلبے کے ماحول میں بھی حریت فکر کی شمع فروزاں رکھی اور جبر کا ہر انداز مسترد کرتے ہوئے آزادیِ اظہار کو اپنا نصب العین ٹھہرایا۔ ان کی ذہانت، نفاست، شائستگی، بے لوث محبت اور نرم و گداز لہجہ ان کے اسلوب کا امتیازی وصف قرار دیا جا سکتا ہے۔ انھیں اپنے آنسو ہنسی کے خوش رنگ دامنوں میں چھپانے کا قرینہ آتا تھا۔ ان کی سدا بہار شگفتگی کا راز اس تلخ حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ معاشرتی زندگی کو ہجوم یاس کی مسموم فضا سے نجات دلائی جائے اور ہر طرف خوشیوں کی فراوانی ہو۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ فہمیدہ ریاض کی تخلیقی تحریروں میں پائی جانے والی زیرِ لب مسکراہٹ ان کے ضبط کے آنسووئں کی ایک صورت ہے ان کا زندگی کے تضادات اور بے اعتدالیوں پر ہنسنا اس مقصد کی خاطر ہے کہ کہیں عام لوگ حالات سے دل برداشتہ ہو کر تیر ستم سہتے سہتے رونے نہ لگ جائیں۔ تانیثیت کے حوالے سے فہمیدہ ریاض نے خواتین کے مزاج، مستحکم شخصیت اور قدرتی حسن و خوبی کی لفظی مرقع نگاری پر توجہ دی۔ قدرتِ کاملہ نے فہمیدہ ریاض کو جن اوصافِ حمیدہ، حسن و خوبی اور دل کشی سے نوازا ہے اس کا بر ملا اظہار ان کی تحریروں میں نمایاں ہے۔ ان کی تحریریں ایسی دل کش ہیں کی ان کی اثر آفرینی کا کرشمہ دامن دل کھینچتا ہے۔ جمالیاتی احساس اور نزاکت بیان کے ساتھ جذبوں کی تمازت، خلوص کی شدت، بے لوث محبت، پیمان وفا کی حقیقت اور اصلیت اور لہجے کی ندرت سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تخلیقات کے سوتے حسن فطرت سے پھوٹتے ہیں۔ فہمیدہ ریاض نے ان موضوعات کو بھی اپنے اسلوب میں جگہ دی ہے جو خواتین کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور عام خواتین ان پر کچھ نہیں کہتیں۔ فہمیدہ ریاض کی طرح فرانس سے تعلق رکھنے والی شاعرہ، ڈرامہ نگار، تانیثیت کی علم بردار، فلسفی، ادبی نقاد اور ممتاز ماہر ابلاغیات ہیلن سکسوس (Helen Cixous) نے اس موضوع پر جرأت مندانہ موقف اپنانے پر زور دیا ہے اور خواتین کے جسمانی حسن، جنس، جذبات اور احسات کے اظہار کے حوالے سے لکھا ہے:

‘‘Write yourself ,your body must be heard’’(5)

تانیثیت کے موضوع پر فہمیدہ ریاض کے خیالات کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ تانیثیت کی اس صد رنگی، ہمہ گیری، دل کشی اور موضوعاتی تنوع کے متعلق ما رکسزم، پس نو آبادیاتی ادب، ادبی تنقید اور تانیثیت پر وقیع تحقیقی کام کرنے والی کلکتہ یونیورسٹی (بھارت) اور امریکہ کی سال 1865 میں قائم ہونے والی کارنل یونیورسٹی (Cornell University) اور سال 1754 میں قائم ہونے والی کولمبیا یو نیورسٹی(Columbia University) امریکہ میں تدریسی خدمات پر مامور رہنے والی ادبی تھیورسٹ گائتری چکراورتی سپی واک (Gyatri Chakaravorty Spivak ) نے لکھا ہے:

Feminism lives in the master -text as well as in the pores. It is not determinant of the last instance. I think less easily of changing the world, than in the past.’’(6)

جبر کا ہر انداز مسترد کرتے ہوئے فہمیدہ ریاض نے استبدادی طاقتوں کے بارے میں جو نظمیں لکھیں ان میں ’خانہ تلاشی‘، ’کوتوال بیٹھا ہے‘، کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے (طویل نظم) اور ’بعد میں جو کچھ یاد رہا‘ گہری معنویت کی حامل ہیں۔ اپنی شاعری میں فہمیدہ ریاض نے جو منفرد لہجہ اپنایا ہے اس کی باز گشت عالمی ادب میں بھی سنائی دیتی ہے۔ اس کی نظمیں ’آج شب‘، ’اب سو جاؤ‘، ’گڑیا‘، ’اک عورت کی نرم ہستی‘، ’وہ اک زن ناپاک ہے‘، ’مقابلہ حسن‘، ’لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا‘، ’چادر اور چار دیواری‘، ’انقلابی عورت‘ اور ’گرہستن‘ پڑھنے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خواتین کے بارے میں یہ نظمیں عام روش سے ہٹ کر لکھی گئی ہیں۔ تانیثیت کے موضوع پر فہمیدہ ریاض کی گل افشانیِ گفتار قابل توجہ ہے:

تصویر

مرے دِل کے نہاں خانے میں اِک تصویر ہے میری

خدا جانے اِسے کس نے بنایا، کب بنایا تھا

یہ پوشیدہ ہے میرے دوستوں اور مجھ سے بھی

کبھی بھُولے سے لیکن میں اِسے گر دیکھ لیتی ہوں

اِسے خود سے مِلاؤں تو مِرا دِل کانپ جاتا ہے

فہمیدہ ریاض کو اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ قحط الرجال کے موجودہ دور میں بے کمال لوگوں کی پانچوں گھی میں ہیں اور اہلِ کمال کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ اس عہدِ نا پرساں میں وقت کے اس سانحہ کو کس نام سے تعبیر کیا جائے کہ یہاں جاہل اپنی جہالت کا انعام ہتھیانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جس معاشرے میں ساغر صدیقی، رام ریاض، اطہر ناسک، اسحاق ساقی، فضل بانو، خادم مگھیانوی اور امیر اختر بھٹی جیسے تخلیق کار کسمپرسی کے عالم میں زینۂ ہستی سے اتر جائیں ،اس معاشرے کی بے حسی کے بارے میں دو رائیں نہیں ہو سکتیں۔ جب کوئی معاشرہ کسی مصلحت کے تحت شقاوت آمیز نا انصافیوں پر چُپ سادھ لے، مظلوم کی حمایت میں تامل کرے اور ظالم کے ہاتھ مضبوط کرے تو یہ بات اس معاشرے کی بے حسی کی علامت ہے۔ اس قسم کی اجتماعی بے حسی کسی بھی قوم کی بقا کے لیے انتہائی بُرا شگون ہے۔

ادب کے بعض سنجیدہ قارئین کا خیال ہے کہ فہمیدہ ریاض کے اسلوب کی پذیرائی کرنے میں بالعموم تامل کا اظہار کیا جاتا رہا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اپنے شعری مجموعے ’’بدن دریدہ‘‘ کے آغاز میں فہمیدہ ریاض نے حالات کے جبر کو محسوس کرتے ہوئے مرزا اسد اللہ خان غالب ؔ کا یہ شعر شامل کر کے اپنے جذبات کا اظہار کر دیا ہے:

گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو، کہ میں

جاں دادۂ ہوائے سرِ رہ گزار تھا

٭٭

مآخذ

۱۔ علامہ محمد اقبال ڈاکٹر: ضرب کلیم، کلید کلیات اقبال، اردو، مرتب احمد رضا، 2005، صفحہ 106

  1. David Lodge: Modern Criticism and Theory, Pearsom Education Singapore 2004, Page 308
  2. Terry Eagleton: Literary Theory , Minnesota, 1998, Page. 194 London
  3. Ross Murfin: The Bedford Glossary of Critical and literary terms Bedford books. Bostan, 1998, Page 123
  4. David Lodge: Modern Criticism and Theory, Pearsom Education Singapore 2004, Page 491

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے