یادیں

کچھ لمحے، جو جی اٹھے تھے کبھی

جو دل کی طرح دھڑکے تھے کبھی

کچھ لمحے! (جواب مر بھی چکے)

ان مردہ لمحوں کی روحیں

احساس کے ویراں کھنڈروں میں

بے چین بھٹکتی پھرتی ہیں

٭٭٭

One thought on “یادیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے