ڈاکٹر سکندر حیات میکن بطور محقق ۔۔۔ قیصر شہزاد ساقیؔ

تحقیق حق کی تلاش ہے، ایک جستجو ہے جو کئی بکھری اور پراگندہ کڑیوں کو ایک مربوط زنجیر میں جوڑ دیتی ہے۔ تحقیق جہاں علم و ادب میں کئی اضافے کرتی ہے وہاں کئی فرسودہ اور کہنہ روایات کے حصار میں شگاف بھی ڈالتی ہے۔ تحقیق ایک وقت طلب کام ہے اور اس ریاضت و مجاہدے کے دوران منزل کو جا لینے کی چاشنی ہی محقق کا واحد سہارا ہوتی ہے۔

ڈاکٹر سکندر حیات میکن تحقیق کے صبر آزما اسرار و رموز سے کما حقہ آگاہ ہیں۔ ان تھک محنت، ادب سے وابستگی اور سچائی کی تلاش کی تحریک یہ ایسے ہتھیار ہیں جن سے وہ لیس ہیں۔ آج جب کہ سندی تحقیق کئی مصلحتوں کی پروردہ ہو چکی ہے، محقق و نگران ہر دو سہل پسندی کا شکار ہو چکے ہیں اور تحقیق فقط ایک رسمی کارروائی بن کے رہ گئی ہے یقین نہیں آتا کہ میکن صاحب جیسے محقق بھی ہیں۔

ڈاکٹر میکن اپنی لگن کے پکے اور محنت سے نہ گھبرانے والے محقق ہیں۔ انھوں نے اس عہد اور بالخصوص جدیدیت و ما بعد جدیدیت کے نامور نقاد ناصر عباس نیرؔ کی نگرانی میں ’’اردو میں ادبی تحقیق [آزادی کے بعد]‘‘ کے عنوان سے ایک ہزار سے زائد صفحات کا غیر معمولی ضخامت پر مشتمل مقالہ لکھ کر ادبی حلقوں میں بہت جلد اپنا لوہا منوا لیا۔ آج کل ایسے سخت کوش اور ادب کے پرستار بہت کم ملتے ہیں۔

پارسنس نے کہا تھا مقالہ طویل نہ ہو کہ عمریں بیت جائیں لیکن میکن صاحب نے طوالت کو اپنی تحقیق کی رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ انتہائی مشکل حالات میں شبانہ روز ماخذات کی جستجو میں سرگرداں میکن صاحب نے طویل مقالے کو مقر رہ وقت پر اپنے تمام مندرجات و لوازمات کے ساتھ قارئین کے پیشِ خدمت کر دیا ہے۔ ان کی اس صفت کمیاب کے بارے میں سید معین الدین عقیل رقم طراز ہیں:

’’سکندر حیات صاحب کا ذوق و شوق اور تحقیق اور کے موضوعات و مسائل سے ان کی دلچسپی آج یونیورسٹیوں میں ایک قدرے کمیاب صفت ہے جو آج کے نو وارد مصنفین اور محققین میں شاذ ہی نظر آتی ہے‘‘

میکن صاحب نے بہت جلد اپنے کام کو ادبی حلقوں میں منوا لیا یہ ان کی محنتِ شاقہ کا نتیجہ تھا کہ اس عہد کے بڑے بڑے اہلِ قلم حضرات ان کے کام کی پذیرائی کی اور ان کی مزید ترقیوں کی پیشین گوئی ہے۔

گورنمنٹ کالج شاہ پور کے شعبہ اردو سے منسلک سکندر حیات میکن کا تنقیدی سفر بہت پہلے شروع ہو چکا تھا۔ لیکن تحقیقی بھول بھلیوں میں ان کی آمد کتاب ’’اردو میں سوانحی تحقیق [نمائندہ موضوعات کا مطالعہ و جائزہ]‘‘ سے مشروط ہے۔ اردو کے جن دو ادباء کو سوانحی حوالے سے اہمیت حاصل ہے وہ اقبال اور غالب ہیں۔ ڈاکٹر میکن نے اس کتاب میں ماہرینِ اقبالیات و غالبیات کا ایک مبسوط جائزہ پیش کیا ہے جو کہ اپنی مثال آپ ہے اس کے علاوہ متفرقات کو بھی شامل کر کے انھوں نے تقریباً تمام اہم سوانحی کتابوں کا احاطہ کر لیا ہے۔ غرض پہلی ہی کتاب ایک معتبر حوالہ ٹھہری۔ اس کے بعد پے در پے ان کی نگارشات ادبی خانوادوں میں نظر آنے لگیں۔ ان کی ہر نئی آنے والی کتاب اپنے تحقیقی اسلوب اور محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انھوں نے اپنے اسلوب کو گراں بار لفظیات اور فضول کی موشگافیوں سے پاک رکھ کے ایک سادہ اور مربوط اندازِ تحریر اپنایا ہے تسلسل جس کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ اکتوبر ۲۰۱۸ء میں ان کی کتاب ’’غیر افسانوی نثر پر تحقیق [آزادی کے بعد]‘‘ مثال پبلشرز، فیصل آباد سے شائع ہو کر قارئین کے ہاتھوں تک پہنچ چکی ہے۔ یہ کتاب در اصل ان کے مقالے کا آخری باب ہے جس میں غیر افسانوی نثر پر تحقیق کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب چھ (۶) ابواب پر مشتمل ہے۔

بابِ اول ’’اردو میں ادبی تحقیق کی روایت۔۔ ۔۔ ۱۹۴۷ء تک‘‘ میں ڈاکٹر میکن نے تحقیق کے فضائل پر روشنی ڈالی ہے اس کے بعد تحقیق کے آغاز و ارتقا ء پر مفصل انداز میں روشنی ڈالی ہے تحقیق کے آغاز کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’آزادی سے قبل اردو میں ادبی تحقیق کی جو بنیادیں قائم کی گئی ہیں آج انھی بنیادوں پر نو وارد محققین نے اپنی اپنی تحقیقی عمارتیں مستحکم کی ہیں۔ بلا شبہ کسی بھی کام کا آغاز و ارتقاء مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔‘‘

مصنف نے حوالوں کی مدد سے اردو تذکروں کو تحقیق کی پہلی کڑی قرار دیا ہے لیکن وہ تذکروں کی پیش کش کے لحاظ سے تھوڑے مطمئن نظر نہیں آتے لکھتے ہیں:

’’تذکروں میں ادبی شخصیات کے حالات اور ان کے کلام کا نمونہ اور کہیں کہیں تبصرہ بھی جمع کر دیا جاتا ہے حالات زندگی زندگی کے بارے میں کوئی خاص تحقیق نہیں کی جاتی تھی اور بہت مختصر انداز میں حالات بیان کیے جاتے تھے یہاں تک کہ بعض اوقات سنۂ پیدائش اور وفات کا حال بھی نہیں کھلتا تھا‘‘

لیکن جیسے جیسے تذکرے ارتقاء کی منزلیں طے کرتے گئے ان کا انداز بھی اتنا ہی بہتر ہوتا گیا۔ ڈاکٹر میکن عبوری عہد کی کتاب ’’آبِ حیات‘‘ کو تذکرہ نویسی کی کمزوریوں سے بچنے اور تاریخ نویسی کی طرف منطقی و مربوط انداز میں پہلا قدم کہا ہے۔ لیکن اس کے فرضی قصے پھر بھی تحقیقی نقطہ نظر سے ایک بڑی خامی ہے۔ تحقیق کے پہلے زمانہ ان کے بقول سر سید، حالیؔ، شبلیؔ اور آزادؔ کا زمانہ ہے ان کے بعد محمود شیرانی جیسے محقق کا نام آتا ہے جو صحیح معنوں میں تحقیق کا حق ادا کرتا ہے لیکن دستارِ فضیلت مولوی عبد الحق کے سر پرسجائی جاتی ہے۔

یہ کارواں قاضی عبد الودود کے تحقیقی کارناموں سے ہوتا ہوا مسعود حسن رضوی کے تقسیم سے پہلے کے تحقیقی کاموں کا اضافہ کرتے ہوئے مولوی محمد شفیع پر جا رکتا ہے اس باب میں ڈاکٹر میکن نے بڑے خوبصورت پیرایہ اظہار اختیار کرتے ہوئے اردو ادب میں تحقیق کے آغاز و ارتقاء پر روشنی ڈالی ہے جو کی ان کے ہی مزاج کا حصہ ہے۔

دوسرے باب میں غیر افسانوی نثر کی دو بڑی جہات آپ بیتی و سوانح پر ہونے والی تحقیق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ مطالعہ ’’اردو میں فنِ سوانح نگاری کا ارتقا‘‘[۱۹۶۱ء] از الطاف فاطمہ سے شروع ہو کر پروفیسر ڈاکٹر پرویز پروازی کی کتاب ’’پس نوشت اور پس پس نوشت‘‘ [۲۰۰۷ء] پر ختم ہوتا ہے۔ جو کہ تمام نمائندہ اور حوالہ جاتی کتابوں پر تبصرہ کی صورت میں موجود ہے اور کتابوں کے مندرجات کا جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے ان کے تحقیقی معیار کو بھی پرکھا گیا ہے۔

تیسرا باب ’’اردو طنز و مزاح پر تحقیق‘‘ ہے جس کے اندر ظریفانہ و مزاحیہ ادب پر تحقیق کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا کا مقالہ ’’اردو ادب میں طنز و مزاح‘‘ [۱۹۵۸ء] طنز و مزاح کے موضوع پر پہلی تحقیقی کوشش تھی۔ اردو طنز و مزاح پر تحقیق کا سلسلہ کافی دراز ہے جس کو مصنف نے چالیس صفحات میں دس معیاری کتابوں اور متفرقات میں چند غیر اہم کتابوں کے حوالوں کو دسترس میں لیا ہے۔ ڈاکٹر میکن نہ صرف ماخذات و حوالہ جات تک رسائی رکھتے ہیں بلکہ ان تمام حوالہ جاتی کتب کا غائر مطالعہ کر کے ان کے اوپر اپنی رائے بھی دیتے ہیں جو بغیر کسی عقیدت و احترام کے بے لاگ ہوتی ہے۔ ہمسایہ ملک میں شائع ہونے والی کتب تک رسائی بھی ان کی تحقیق کی ایک خوبی ہے۔

غیر افسانوی نثر میں مکتوب نگاری کا بھی شمار ہوتا ہے۔ خط ایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے جس سے بڑی شخصیات کی نجی زندگی میں جھانکنے کا موقع ملتا ہے۔ خطوط پر تحقیق تھوڑی مختصر ہے لیکن اتنی بھی نہیں کہ مصنف بلا ذکر کیے آگے بڑھ جاتے۔

باب پنجم اردو انشائیے پر تحقیق کو زیرِ بحث لاتا ہے۔ اس باب میں اردو انشائیے کے تحقیقی کارنامے جو اکثر سرگودھا کی مٹی سے ہی پنپے تھے انتہائی عرق ریزی کے ساتھ اکھٹے کر دئیے گئے ہیں۔ آخری باب میں اردو سفر نامے پر تحقیق کو قلم زد کیا گیا ہے جو کہ ایک طویل بحث پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد ماحصل میں تمام تحقیق کو مربوط اور جامع انداز میں اس کا مقام طے کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

قصہ مختصر ڈاکٹر میکن اپنے اس علمی کارنامے کی وجہ سے ادب کے اندر ایک نئی پر مستند آواز بن کے ابھرے ہیں۔ ڈاکٹر گیان چند جین نے ماخذات اور تحقیقی کاموں کی فہرست کی تیاری پر جو زور دیا تھا اور رفیع الدین ہاشمی کے کام کی جو ستائش کی تھی۔ ہاشمی صاحب کے شاگردِ رشید نے اس کام کو تھوڑا اور بڑھاوا دیا ہے اور دلی مبارک باد کا مستحق ٹھہرا ہے۔

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے