پتھر کی زیان ۔۔۔ شاہ محمد مری

 

میں نے حساب لگایا تو اندازہ ہوا کہ میں آٹھویں نویں جماعت میں ہوں گا جب پتھر کی زبان (1966) میں شائع ہوئی تھی۔ اور وہ (فہمیدہ ریاض) تو اس قدر کم سن تھی۔ جی ہاں فہمیدہ ریاض نو خیز عمر میں صاحب دیوان ہو گئی۔ میوز مہربان تو اس پر شروع سے رہا۔

فہمیدہ نے مروج صنف غزل کو ٹھوکر مار کر پرے کر دیا اور نظم سے ابتدا کر دی۔ واضح رہے کہ اس وقت شعرا، خصوصاً خواتین ابھی تک غزل ہی میں شاعری کر رہی تھیں۔ اس کی ہم عمر اردو شاعر خواتین میں ادا جعفری، شبنم شکیل، پروین شاکر اور زہرا نگاہ تھیں۔

اس کی تو عمر محبت کسی ہے خواہش پتھر والی نہیں ہے اور نہ ہی وہ درویش یا راہبہ کی طرح چھپا دینے والی۔ وہ رومان کرتی ہے۔ حسیائی تجربہ سے مالا مال رومان۔ وہ بغیر قدغن، اور احساسِ مجرم کے، اپنی سرشارمحبت پہ عمل کرتی ہے اور ہر مرحلہ کو من و عن بیان کرتی ہے۔ وہ جیلی حقائق کو انسانی اور جمالیاتی دیدہ زیب پوشاک دے کر سامنے لاتی ہے۔

فہمیدہ محبت میں کامیاب بھی ہوتی ہے، ناکام بھی۔ مگر یہاں پر وہ فیوڈل آہ، کوک، فریاد، سوگ، روگ، خود سوزی اور خود کشی نہیں کرتی۔ وہ اسے عام فطری اور معمول کے صدمے کے بطور لے کر آگے چل پڑتی ہے۔

فہمیدہ کا شعور اسے بتاتا ہے کہ وہ پندرھویں سولہویں صدی کی دیہی فیوڈل رسوم سے وابستہ ہے توقیر عورت نہیں ہے۔ بلکہ وہ بیسویں صدی کے ترقی یافتہ صنعتی شہر کی انسان ہے۔ اسی لیے تو وہ غیر محسوس طور پر فیوڈل ویلیو سسٹم کا دم چھلا عورت بننے کی بجائے نئی پیڑھی میں اس کی قیادت کرتی ہے۔ وہ حیوان ذبن انسانوں کو اشرف المخلوقات دکھائی ہے، وہ زمین و با شعور یستی دکھائی ہے جسے عورت کہتے ہیں۔

اس نے ایسے ایسے عنوان باندھے جن پر آج بھی میدانی زرعی پاکستان کا دانش ور رام رام رام بولتے ہوئے کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے۔ ایک تو عمر لڑکی مسرت کے لمحات کی تمنائیں کرتی، پر حاصل کلمے کی توصیف و خیر مقدم کرتی ہے۔ فہمیدہ نے کبھی بھی اگر، مگر کو قریب آنے نہ دیا۔ اس نے کوئی ذو معنی اور مہمل بات نہ کی۔ اس کی شاعری سیدھی بات کرتی ہے۔ (اور سیدھی بات کا مطلب بے حجاب بات کرنا بالکل نہیں ہوتا۔) وہ اپنے انسان ہونے پر اِتراتی ہے، اپنے عورت ہونے پر تو پا قاعدہ فخر کرتی ہے۔ وہ عورت کو زندگی، زندگی کا جوہر اور زندگی کا ارتقا گردانتی ہے۔ فہمیدہ اپنے قاری کو نظریاتی باتوں میں نہیں، بلکہ انسانی تجربات ہی سے گزار کر بات سمجھاتی ہے۔ وہ لگی لپٹی کو بجیرہ بلوچ میں غرق کر کے کہہ سکتی ہے۔

لوگ ٹھیک کہتے ہیں

وہ یس ایسی چیزیں ہیں

جو کبھی نہیں چبھتیں

ان میں ایک خوشیو ہے

دیکھیے، کس قدر خوبصورتی سے وہ محبت کی بات کرتی ہے۔ وہ کبھی بھی اپنے لفظ کو نے حجاب نہیں ہونے دیتی مگر اسے برقع بھی نہیں پہناتی۔ عام نارمل انسان، انسانی مسائل، انسانی خواہشیں، انسانی محبت اور اس کی سرشاری۔

فہمیدہ عورت کو پاک تخلیق گردانتی ہے۔ وہ عورت کے بدن کو مسکن گناہ قرار دینے والوں کو کیسے جوتے مارتی ہے۔ وہ انسانی تخلیق میں حسین ترین بستی کو شیطان و شہوت کی سوچ سے پرکھنے والے اذبان کے لیے مزدک و موسیٰ بن جاتی ہے۔

میں نے اس کی یہ کتاب کہیں جا کر 5-1974 میں کھول کر دیکھی ہو گی۔ اس میں موجود ذرا یہ شعر دیکھیے جس پر میں بہت دیر رکا تھا:

اصول زندگی ہے یہ، حیات ہے تو آس ہے

دبیز ہوں سیاہیاں تو پھوٹے صبح کی کرن

این اولین کتاب میں موجود ساری شاعری عشقیہ شاعری ہے۔ بہت مترنم مثوازن، ابریشم جیسی نرم شاعری، کانچ جیسی نازک شاعری۔ محبوب کی عدم التفاتی، ہمیشہ کے لیے اس کا فراق۔ پیاسی روح کی شاعرہ۔ پتھر وفا کی فہمیدہ۔

اور جو کہنے سے تھی زباں لاچار

کہہ گہی چور، گرمي رخسار

یا

سنا ہے پچھلے دتوں دوستوں کی محفل میں

چلے تھے آپ کہ تردید جرمِ عشق کریں

مگر جھجک سے گئے کچھ ہمارے نام کے بعد

آپ نے بہت سی لوریاں پڑھی سنی ہوں گی مگر لوری ایسی بھی ہو سکتی ہے۔

تم میں لوگ پائیں گے

ثبت کوکھ پر میری

اس کے پیار کا پوسہ

فہمیدہ ابتدا ہی سے انسانی محسوسات کی خوبصورت نباض و ترجمان رہی ہے۔

منظر نگاری سے بھر پور……..

ذوق وصل کی اب تو

خاک بھی نہیں باقی

رہ گئی تھی اک خواہش

میں نہ اس کو یاد آؤں

ایک تھی خلش دل میں

اس کو دکھ تہ ہو کوئی

اے عزیز اندیشے

آ گلے سے لپٹا لوں

اس کے ساتھ تھا کوئی

مسکرا رہا تھا وہ

……………اور یہ محض تخیل والے مصرعے نہیں ہیں۔ میں اس سے تصدیق لیے بغیر یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ یہ سب اس پہ بیتا تھا۔ میں آپ کو اپنے تبصرے سے پاک اس کی طویل بحر والی نظم ’’کچھ لوگ’’ میں اس کا مشاہدہ ستاتا ہوں۔

وہ دنیا کی لمبی راہوں پر چلتے جاتے کچھ ایسے لوگوں سے ملتی ہے جو اسے ہمیشہ باد آتے ہیں۔ حالانکہ وہ لوگ اس کی محبت کے حصے میں نہیں آتے بلکہ راہ بدل کر مڑ کر ہاتھ ہلاتے ہیں، مگر وہ یادوں کی خوشبو بن کر فہمیدہ کے دل کو مہکاتے ہیں۔ اسے زندگانی کے اسی سفر میں ایسا نی ایک شخص ملا تھا۔ فہمیدہ اسے دنیا کے اچھے لوگوں میں سے بھی اچھا قرار دیتی ہے۔ وہ دھیمے لہجے والا تھا۔ وہ دھیرے سے ہنستا تھا، اس کے بولوں میں لاگ نہ تھی لگاوٹ نہ تھی۔ اس کی آنکھیں کھوئی کھوئی تھیں۔ فقرے ٹوٹے ٹوٹے تھے۔ بس پیٹھے سوچا ہی کرتا تھا۔ اور وہ، وہ بات کرتا نی نہ تھا چو فہمیدہ سنتا چاہتی تھی۔ مگر ایسی نرم نگاہی کہ دھوکا ہو جائے۔ اس کے ساتھ اس کا ساتھ خوب رہا مگر وہ محسوس نی نہ کر سکا۔ اور اگر کبھی شاعرہ کے دل کی بات پوچھ لینا بھی تو بہت حیران ہو جاتا، اور اس کی اس حیرانی پر شاعرہ شرمندہ ہو کر رہ جاتی۔

بات فہمیدہ کی شاعری کی ہو رہی ہے، میں اسے جاری رکھوں گا۔ مگر میں اس شخص کے بارے میں سوچ کر کھول رہا ہوں۔ میں اسے مار ڈالتا۔ اس لیے کہ میں کم از کم بدھو پن میں کسی کو اتنا شریک و ثانی نہیں مان سکتا۔

اب آپ اس کی اس خوبصورت نظم کے آخری پانچ مصرعے پڑھ لیں۔ جس کا عنوان ہے "”کچھ لوگ‘‘

اب چہرہ أس کا اجلا ہو، یا آنکھیں اس کی ہوں گہری

یا اس کے پیارے ہونٹوں کی ہر بات لگے ٹھہری ٹھہری

کچھ لوگ جو اچھے ہوتے ہیں اور راہوں میں مل جاتے ہیں

ہیں ان کو اپنے کام بہت، کب اپنا وقت گنواتے ہیں

کپ پیاسے پیاسے رہتے ہیں، کب بجی کو روگ لگاتے ہیں

اب میری طرح لمبی آہ کہہ دیں۔ چائے کا وقفہ کریں۔ باقی بات وقفہ کے بعد پڑھیں۔ یہ وقفہ ضروری ہے، آپ کے ادبی ذوق و لطف کو گہرا اور وسیع اور جمیل و لطیف بنانے کے لیے۔ ہاں وہ آخری پانچ مصرعے دوبارہ پڑھ کر کتاب بند کر دیں۔

٭٭٭٭٭٭٭

فہمیدہ (اس کی ہدایت کے مطابق لفظ Fahmida ہے،Fehmida نہیں) اس ’’تو عمری‘‘ میں کچھ مصرعے کہہ گئی تھی۔ حالانکہ وہ اب آج اس کی موجودہ عمر میں کہنے کے مصرعے تھے

مرے دل میں اک پھول امید کا تھا

اسے وقت کے ہاتھ نے نوچ ڈالا

اب اس زخم سے تجربہ رس رہا ہے

کاش مجھے اپنا پڑھا ہوا ’’پتھر کی زبان‘‘ کا اولین نسخہ مل جائے تا کہ میں دیکھ سکوں کہ میں نے اس پر کیا تبصرے لکھے تھے، یا کون سے صفحے کو پار بار دہرا کر پڑھا تھا۔ شاید یہ مصرعے:

پر ایک خضر پہ رہزن کا شک گزرتا ہے

بر آستین میں خنجر دکھائی دیتا ہے

یا ……..

پرے سرکتا ہی جائے گا کیا سحر کا افق؟

پا شاید یہ والا مصرع

کبھی تو اے خدا، کبھی تو ہم بھی مسکرائیں گے؟

٭٭

(کتاب ’’ایک چھوٹی سی کتاب کی دیوانی: فہمیدہ ریاض‘‘ کا ایک باب)

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے