نظمیں ۔۔۔ محمد طارق غازی

 

نظمیں

 

محمد  طارق غازی

 

پیش گوئی

_____________________________

 

جب ہم نہیں ہوں گے تو بہت یاد کروگے

افسوس کروگے کبھی فریاد کروگے

 

تحریر سزاوارِ نظر بھی نہیں فی الحال

اک روز اسی بات کو استاد کروگے

 

وقت آئے گا جب جانوگے تہذیب کی قیمت

ویرانوں کو افکار سے آباد کروگے

 

لوٹاؤگے انسان کا اعزاز بالآخر

اغیار سے آنات کو آزاد کروگے

 

جب ٹوٹ کے بکھرے گا طلسمات تمدن

ان نکتوں سے دنیا نئی آباد کروگے

٭٭٭

 

 

 

سوچ کے نیم وا دریچے سے

_____________________

 

بند گلیاں دکھائی دیتی ہیں

زرد کلیاں دکھائی دیتی ہیں

رنگ رلیاں دکھائی دیتی ہیں

 

ہاں وہ شب جس میں خواب ٹوٹے تھے

عشق روٹھا تھا، ساتھ چھوٹے تھے

جتنے سچے تھے سارے جھوٹے تھے

 

کروٹیں نیم جاں ارادوں کی

آہٹیں کچھ ہیولیٰ سازوں کی

پیچکیں سب الجھتے دھاگوں کی

 

تقویٰ روئے وہاں ریا روئے

تیرگی روئے یا دیا روئے

تم نے جو چاہا وہ کیا، روئے

 

ستم نابکار کا غم کیوں

دشت میں شاخسار کا غم کیوں

دل ویراں بہار کا غم کیوں

غلطی کیسی، کیا پشیمانی

شہر غفلت میں کیسی حیرانی

جوئے خوں میں وہی ہے طغیانی

 

بے سند لفظِ مختصر بھی وہی

خوف اب بھی وہی، خطر بھی وہی

درد اِدھر بھی ہے، درد اُدھر بھی وہی

 

پوچھتی ہیں الم زدہ نسلیں

اب کہو قافلے کہاں بس لیں ؟

پھر بھٹک جائیں ؟ پھر کمر کس لیں ؟

 

رنج خوردہ زمیں سے کیا شکوہ

سجدۂ بے جبیں سے کیا شکوہ

مار کا آستیں سے کیا شکوہ

 

کشتگان فریب، لے آؤ

لاؤ، دامان و جیب لے آؤ

پھر اک اور نگزیب لے آؤ

 

سوچ کے نیم وا دریچے سے

٭٭٭

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے