غزلیں

کبھی دھنک سی اُترتی تھی ان نگاہوں میں

وہ شوخ رنگ بھی دھیمے پڑے ہواؤں میں

 

میں تیز گام چلی جا رہی تھی اس کی سمت

کچا ہے عجیب تھی اس دشت کی صداؤں میں

 

وہ اک صدا جو فریبِ صدا سے بھی کم ہے

نہ ڈوب جائے کہیں تُند رو ہواؤں میں

 

سکوتِ شام ہے اور میں ہوں گوش بر آواز

کہ ایک وعدے کا افسوں سا ہے فضاؤں میں

 

مری طرح یونہی گُم کردہ راہ چھوڑے گی

تم اپنی بانہہ نہ دینا ہوا کی بانہوں میں

 

نقوش پاؤں کے لکھتے ہیں "منزل نا یافت”

مرا سفر توہے تحریر میری راہوں میں

٭٭٭

 

 

جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے

یا وہ کوئی ابلیس ہے یا میرا خدا ہے

 

جب سر میں نہیں عشق تو چہرے پہ چمک ہے

یہ نخلِ خزاں آئی تو شاداب ہوا ہے

 

کیا میرا زیاں ہے جو مقابل ترے آ جاؤں

یہ امر تو معلوم کہ تو مجھ سے بڑا ہے

 

میں بندہ و ناچار کہ سیراب نہ ہو پاؤں

اے ظاہر و مو جود مرا جسم دُعا ہے

 

ہاں اس کے تعاقب سے مرے دل میں ہے انکار

وہ شخص کسی کو نہ ملے گا نہ ملا ہے

 

کیوں نورِ ابد دل میں گزر کر نہیں پاتا

سینے کی سیاہی سے نیا حرف لکھا ہے

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے