سواد حرف میں اک عشق بے سپہر کا رنگ ۔۔۔ اعجاز فرخ

1933ء کی شب اپنی ردا درست کر رہی تھی کہ آفتاب رات کو بے حجاب دیکھنے کے لئے صدیوں سے تعاقب میں ہے اور شب تھی کہ اب تک اپنے گیسوئے برہم سنبھال کر چاندنی کی ردا اوڑھ کر نکلتی اور آفتاب کی آہٹ سے پھر چھپ جاتی۔ اودھ کے ایک دیہات سیتا پور میں اسی شب اور دن کی آنکھ مچولی کے درمیانی لمحہ میں ایک نومولود کی پہلی آواز نے جہاں ممتا کے سینے کو ٹھنڈک بخشی۔ باپ کے چہرے کو نوید سحر نے مسرت سے پر نور کر دیا۔ باپ نے نومولود کے کان میں اذاں دے کر نام عبد الستار رکھا۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ گھر کا ماحول تو تھا ہی، اساتذہ نے بھی کوئی کمی نہ رکھی۔ 1948ء میں میٹرک اونچے نشانات سے کامیاب کیا، پھر 1950ء میں آر ٹی ٹی کالج سے انٹرمیڈیٹ میں اول آئے، 1956ء میں اردو مسلم یونیورسٹی میں بحیثیت لکچرر مقرر ہوئے، 1957ء میں پروفیسر رشید احمد صدیقی کی نگرانی میں ’’اردو شاعری میں قنوطیت‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھا اور ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ قاضی عبد الستار ایک مکمل تہذیب، بے باک، خوش لباس، خوش ذوق، خوش بیان، خوش باش، خوش خوراک، صاحب طرز افسانہ نگار، منفرد اسلوب کے ناول نگار اور الفاظ کے بے شمار قبیلوں کے سردار ہیں۔ ان کا طرز بیان کبھی الفاظ کا محتاج نہیں رہا، بلکہ ہر لفظ کو اس پر ناز رہا کہ قاضی اپنے محل استعمال سے الفاظ کو معنی کی نئی خلعتیں اور لفظوں کے قبیلوں کی کنواریوں کو رنگین قباؤں اور پیرہنوں سے ملبوس کر کے چوڑیوں کی کھنک سے طرز سکوت اور خاموشی سے تکلم کا ہنر عطا کر تے ہیں۔ قاضی عبد الستار کو جب مسلم یونیورسٹی میں پروفیسری کے لئے کہا گیا تو انھوں نے یہ شرط رکھی کہ وہ بھی انٹرویو لینے والوں سے تین سوال کریں گے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے، تو قاضی صاحب نے جواب دے دیا کہ مجھے پروفیسری کا خبط نہیں ہے۔ ہندوستان میں اس بے باکی اور وضعداری کی صرف دو ہی مثالیں ملتی ہیں، ایک قاضی عبد الستار اور دوسری زینت ساجدہ، زینت آپا نے تو مڑ کر بھی نہیں دیکھا کئی مہینے پروفیسری انتظار میں رہی، لیکن قاضی صاحب کا بحیثیت پروفیسر انتخاب ہوا، بلکہ قاضی صاحب کا تقرر ہوا تو وہ علی گڑھ میں موجود بھی نہیں تھے۔ قاضی کے پاکستان کے ادبی سفر کے دوران اس وقت کے صدر جناب ضیاء الحق نے قاضی عبد الستار کو پاکستان کی شہریت کے ساتھ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدہ کی پیشکش کی تو قاضی نے اس عذر کے ساتھ مسترد کر دیا کہ جس ملک نے مجھے پدم شری کے اعزاز سے نوازا ہے، میں اس مٹی کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔

حال ہی میں منشی پریم چند تقاریب کے لئے بعض ادیبوں اور دانشوروں کو مدعو کیا گیا تھا، جب پائیلٹ نے ہوائی جہاز کے اڑان کے بعد سیفٹی بیلٹ باندھے رکھنے کا سگنل بجھا دیا تو ہوسٹس نے مشروبات سے تواضع شروع کی، ایسے میں اس کانفرنس کے ایک مندوب مسافر نے ہوسٹس کو بلا کر ڈانٹ پلائی اور کہا کہ میں پدم شری ہوں، مجھے مشروب پہلے پیش کیا جانا چاہیے۔ ’’دروغ برگردن راوی‘‘ سنا ہے کہ اب ایرویز یہ ترغیبی اسکیم کا اعلان کرنے جا رہی ہے کہ وہ تمام معزز ہستیاں جو اس اعزاز سے نوازی گئی ہیں، ان کو دو مشروبات پیش کئے جائیں گے، بشرطیکہ وہ پدم شری کا تمغہ اپنے گلے میں لٹکائے رکھیں، تاکہ ہوسٹس کو شناخت میں سہولت ہو۔ قاضی کے ہندو دوستوں نے کہا کہ ’’آپ صرف یہ تسلیم کر لیں کہ ہندی زبان سے واقف ہیں تو ناول دارا شکوہ پر دو لاکھ کا انعام حاضر ہے ‘‘۔ انھوں نے جواب دیا ’’میں واقعی ہندی نہیں جانتا تو تسلیم کیسے کر لوں، میں اس رقم کے عوض اپنی دیانت تو نہیں بیچ سکتا‘‘، جناب فخرالدین علی احمد نے جو اس وقت صدر ہندوستان تھے قاضی صاحب کو ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آل انڈیا ریڈیو کے باوقار عہدے اور دیگر مراعات سے نوازنا چاہا تو قاضی عبد الستار نے صاف کہہ دیا کہ وہاں بھی سارے کام ہندی میں ہوں گے اور مجھے ہندی نہیں آتی۔

قاضی عبد الستار کے لئے علی گڑھ بیک وقت خطہ امن اور محاذ جنگ رہا ہے، قاضی نے اپنے مخالفین سے برسہا برس خاموش جنگ کی ہے، وہ کبھی کبھی اپنے آپ سے بھی لڑتے ہیں۔ انھیں خاموش رہ کر مخالف کو جھنجھلاہٹ میں مبتلاء کرنے کا ہنر خوب آتا ہے۔ ان کی خاموشی بعض وقت اتنی طویل ہو جاتی ہے کہ مخالف پریشان ہو جاتا ہے۔ انھیں انجمن سے زیادہ تنہائی میں لطف آتا ہے، ان کے خیال میں تخلیق خلوت کی کوکھ میں پرورش پاتی ہے، ان کے تین درجن سے زائد افسانے ان کے ناولوں کی طرح ہندوستان کے دیہات، شہر، محلاتی زندگی اور تاریخ کے پوشیدہ گوشوں کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن ہر تخلیق انسانی نفسیات کی نہ صرف مکمل عکاس ہے، بلکہ تحت الشعور کے نہاں خانے میں پوشیدہ احساس کو شعور کی سطح پر باریاب کرتی ہے۔ ان کے بیشتر افسانوں کا ترجمہ ہندوستان کی مختلف زبانوں میں ہو چکا ہے۔ قاضی عبد الستار کا ادبی سفر شاعری سے شروع ہوا۔ ان کے دادا کے دوست اور سیتا پور کے مشہور شاعر بابو گر بچن لال شیداؔ نے حوصلہ افزائی کی اور بڑی محبت سے اصلاح دے کر وہ غزل کو نہایت مرصع کر دیتے تھے، لیکن قاضی صاحب کو اس سے تسکین نہ ہوتی تھی۔ پھر انہوں نے افسانے اور ناول کی طرف توجہ کی۔ ان کا پہلا افسانہ ’’اندھا‘‘ لکھنؤ کے ایک جریدے ’’جواب‘‘ میں شائع ہوا، لیکن ان کی شہرت ’’کتاب‘‘ لکھنؤ میں شائع ہونے والے افسانے ’’پیتل کا گھنٹہ‘‘ سے ہوئی، جس کی باز گشت سارے ملک میں سنائی دی۔ 1959ء میں پہلا ناول ’’شکست کی آواز‘‘ اور دوسرا ناول ’’شب گزیدہ‘‘ 1962ء میں شائع ہوا۔ چوں کہ قاضی عبد الستار کا تعلق زمیندار گھرانے سے ہے، اسی لئے ان کے ناولوں میں زمینداروں کی طرز زندگی اور معاشرتی نظام کا بہت گہرا مشاہدہ اور تجزیہ ملتا ہے، جس میں زمیندار اور تعلقداروں کا کردار ہی بنیادی ہوتا ہے۔ قاضی عبد الستار نے تاریخ پر کئی افسانے اور ناول لکھے، ان کے فن کا کمال یہ ہے کہ وہ قاری کو ان کی تخلیق کا ایک حصہ بنا دیتے ہیں اور قاری فوراً سفر کر کے خود کو اس ماحول میں موجود پاتا ہے۔ اس طرح قاضی عبد الستار صدیوں کے فرزند ہیں۔ ان کے ناول داراشکوہ۔ صلاح الدین ایوبی، غالب اور ان کے افسانے آنکھیں، نیا قانون، بھولے بسرے اس کی زندہ مثال ہیں۔ ان کے فن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شمس الرحمٰن فاروقی نے کہا کہ ’’ان کا فن ایڈ گر ایلن پو کی یاد دلاتا ہے، ان کے قلم میں گزشتہ عظمتوں اور کھوئے ہوئے ماحول کو دوبارہ زندہ کرنے کی حیرت انگیز قوت ہے‘‘۔ قرۃالعین حیدر کا خیال ہے کہ ’’شب گزیدہ سے بہتر ناول خود قاضی عبد الستار ہی لکھ سکتے ہیں‘‘۔ ممتاز شیریں کا خیال ہے کہ ’’داراشکوہ اردو کا پہلا ناول ہے، جسے ہم دنیا کے بڑے ناولوں کے ساتھ رکھ سکتے ہیں‘‘۔ پروفیسر احسن فاروقی کا خیال ہے کہ، ’’قاضی عبدالستار کے ناولوں سے عالمی معیاروں کی خوشبو آتی ہے‘‘۔ پروفیسر محمد حسن نے کہا کہ ’’ہم قاضی عبدالستار کی بڑائی اس لئے نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ وہ ہمارے زمانے میں ہیں‘‘۔ ہندی کے مشہور ناول نگار ناگارجن نے قاضی عبد الستار کو دوسرا پریم چند کہا ہے۔ میں تو صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ’’اردو کو نثر نوردی کا شوق ہوا تو محمد حسین آزاد سے صحرا میں گل کھلائے اور قاضی عبد الستار کے قلم میں روشنائی سے آبیاری کی تو مغلیہ سلطلنت کی حقیقی شان و شوکت کو قاضی عبد الستار جیسے بوریا نشین کے قدموں میں ڈھیر کر دیا‘‘۔ ان دنوں میری صحت ایسی نہیں کہ میں زیادہ قلمی کام کر سکوں۔ مجھے بڑا قلق ہے کہ میں قاضی عبد الستار اور پروفیسر مجاور حسین رضوی صاحب پر خاطر خواہ نہ لکھ سکا۔ آواز جرس سنائی دے رہی ہے۔ ان چند سطور کو ’’سواد حرف میں اک عشق بے سپہر کا رنگ‘‘ جانئے۔

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے