جعلی خطوط کی روایت ۔۔۔ سید نصرت بخاری

خطوط کا انسانی زندگی میں بہت عمل دخل رہا ہے۔ شاید ہی کوئی انسان ایسا ہو گا جس نے کوئی خط لکھا یا لکھوایا نہ ہو، یا کون ایسا شخص ہو گا جس کو کسی نے خط نہ لکھ اہو گا۔ لیکن ایسے لوگ یقیناً بہت کم ہوں گے جنھوں نے فرضی نام سے جعلی خطوط لکھے ہوں۔ یہ کام کرنے والے لوگوں کے پیشِ نظر کئی مقاصد ہوتے ہیں، جن میں دو نمایاں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ان خطوط کی مدد سے کوئی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں دوسرا یہ کہ ان مکاتیب کے ذریعے کسی کو نقصان پہچانا مطلوب ہوتا ہے۔

پہلی قسم کے خطوط لکھنے والے لوگ چالاک، مکار، ذہین اور مدبر ہوتے ہیں۔ کئی سپاہ سالاروں نے جنگ میں فتح حاصل کرنے کے لئے فرضی ناموں سے جعلی خطوط لکھ کر اپنے مقاصد حاصل کیے جن کا ذکر آگے درج ہے۔

دوسری قسم کے خطوط لکھنے والے بزدل، حاسد، کمزور شخصیت اور بیمار ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں یہ عام طور پر گھر کے بھیدی ہوتے ہیں۔ اُن میں سامنے آ کر وار کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ ایسے لوگ بہت خطرناک ہوتے ہیں۔ ایسے کم ظرف لوگوں سے ان کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ بھی محفوظ نہیں رہتے بلکہ گھر کا بھیدی ہونے کی وجہ سے یہ لوگ دوست احباب کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

بعض اوقات یہ جعلی خطوط اتنا نقصان پہنچاتے ہیں کہ صدیاں بھی اس کی تلافی نہیں کر سکتیں۔ ایسا ہی ایک خط حضرت عثمان غنیؓ سے منسوب ہے۔ اگرچہ حضرت عثمان غنیؓ نے اس خط کو اپنا مکتوب ماننے سے انکار کر دیا تھا لیکن اُس کے اثرات آج تک موجود ہیں۔ اسی خط کے نتیجہ میں نہ صرف حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت ہوئی بلکہ یہ خط حضرت امیر معاویہؓ اور حضرت علیؓ کے مابین کئی جنگوں کا سبب بن گیا جس کی وجہ سے مسلمان شیعانِ علیؓ اور شیعانِ معاویہؓ کے دو گروپوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے سے اتنے دور ہوتے چلے گئے ہیں کہ کم از کم اس دنیا میں ان دو گروہوں کی قربت نا ممکن ہے۔ یہی خط حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ اس خط کے متعلق حضرت علامہ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے:

’’اہلِ مصر نے ابنِ ابی سرح کی آ کر شکایتیں کیں۔ حضرت عثمان نے ایک تہدید نامہ عبداللہ بن ابی سرح کو لکھا مگر اس نے اس خط کی کوئی پروا نہ کی اور جن باتوں سے حضرت عثمان غنی نے منع کیا تھا انھیں کرنے لگا اور جو اہلِ مصر حضرت عثمان غنی کے پاس شکایت لے کر آئے گا انھیں قتل کرا دیا۔۔۔ اُدھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو خبر ہوئی تو آپ نے کہلا بھیجا کہ اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ والہ و سلم آپ سے ایسے شخص کے متعلق جس پر قتل کا الزام ہے، کی معز ولی کے متعلق کہتے ہیں مگر آپ کچھ پروا نہیں کرتے اور اس کے معزول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ تھوڑی دیر میں حضرت علی کرم اللہ وجہ تشریف لائے اور آپ نے بھی کہا۔۔۔ آپ اس معاملے میں انصاف کیوں نہیں برتتے؟ آپ]حضرت عثمانؓ[ نے فرمایا کہ لوگ اپنے لیے خود ہی تجویز کر لیں۔ اس پر لوگوں نے محمد بن ابو بکر کا انتخاب کیا۔ چنانچہ آپ نے ان کی تقرری اور عبد اللہ بن سرح کی معزولی کا فرمان تحریر کر دیا۔۔۔ یہ سارا قافلہ محمد بن ابو بکر کے ہمراہ مدینہ طیبہ سے ابھی تیسری ہی منزل پر تھا کہ ان کو ایک حبشی غلام جو اپنی سانڈنی کو اڑائے ہوئے تیزی کے ساتھ لیے جاتا تھا، ملا۔۔۔ صحابی نے اس کو پکڑ لیا۔۔۔ اس نے کہا میں امیر المومنین کا غلام ہوں اور عاملِ مصر کے پاس جاتا ہوں۔ یہ سن کر ایک شخص نے محمد بن ابی بکر کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ عاملِ مصر یہ ہیں۔ اس نے کہا کہ میرے مکتوب الیہ یہ نہیں۔۔۔ اس کی تلاشی لی گئی تو ]مشکیزے سے [ایک خط امیر المومنین کی طرف سے ابنِ ابی سرح کے نام کا نکلا۔۔۔ اس میں لکھا تھا کہ جس وقت تیرے پاس محمد اور فلاں فلاں شخص آئیں تو کسی حیلے سے انھیں قتل کر دینا۔ اس خط کو پڑھ کر تمام آدمی دنگ رہ گئے اور مدینہ طیبہ لوٹنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔۔۔ آپ ]حضرت عثمانؓ[ نے فرمایا میں حلفیہ کہتا ہوں کہ یہ خط میں نے نہیں لکھا اور نہ میں نے کسی کو لکھنے کا حکم دیا اور نہ مجھے اس کے متعلق کچھ معلوم ہے۔۔۔ اس کے بعد لوگوں نے پہچانا کہ یہ مروان کا خط ہے‘‘۔ (۱)

خدا جانے مروان نے کس وقتی فائدے کے حصول کے لیے یہ جعلی خط لکھا تھا، مگر اس خط نے مسلمانوں کو دشمنوں سے بھی زیادہ نقصان پہنچایا۔ کاش یہ خط نہ لکھا جاتا۔ اگر یہ خط نہ لکھا جاتا تو مسلمانوں کی تاریخ کی صورت کچھ اور ہی ہوتی۔ مسلمانوں کے مابین اگر اختلاف ہوتا بھی تو ایسا شدید نہ ہوتا جیسا اب ہے۔ مروان نے اس خط کے ذریعے اسلام کی پر سکون رواں دواں ندی میں ایسا پتھر مارا جو طوفان کی صورت اختیار کر گیا۔ نتیجے کے طور پر ایسا سوراخ ہوا جو اب شگاف کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ اس خط کے اثرات نے مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے قدم روک لیے۔ یہیں سے مسلمان گروہوں میں بٹتے نظر آتے ہیں: جس کی وجہ سے ان کی ترقی، تنزلی میں تبدیل ہوتی نظر آتی ہے۔ بیرونی فتوحات کا سلسلہ موقوف ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ عام مسلمان کو چھوڑیے،اصحاب رسول گروہوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے لگے ہیں۔ مسلمان، مسلمان پر اپنی تلوار کے جوہر آزما رہا ہے۔ اندرونی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے مسلمان کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس خط کی ان مہلک اثرات کے علاوہ ایک اور لحاظ سے بھی اہمیت ہے کہ یہ مسلمانوں کی تاریخ میں پہلا جعلی خط ہے لیکن تاریخ عالم میں ایسے خطوط کی یہ کوئی واحد مثال نہیں۔ محمد قاسم فرشتہ اپنی تالیف تاریخ فرشتہ میں کئی ایک جعلی خطوط کا ذکر کرتا ہے۔ ان میں سے ایک مع سیاق وسباق یوں ہے:

’’راجہ مالدیو نے حکومت وراثت میں حاصل نہیں کی تھی بلکہ اس علاقے کے تمام راجاؤں کو زیر کر کے مہاراجا بنا تھا۔ مظلوم راجاؤں نے موقع پا کر شیر شاہ سے پناہ مانگی۔ شیر شاہ کے مشورے سے ان راجاؤں نے مالدیو کے افسروں اور سرداروں کی طرف سے شیر شاہ کے نام ہندی زبان میں ]جعلی[ خطوط لکھے، جن کا مضمون یہ تھا ’’ہم لوگ مجبوراً مالدیو کی اطاعت کر رہے ہیں اور ہم نے کسی غیبی امداد کے بھروسے پر راجا کے ظلم و ستم برداشت کیے۔ خدا کا شکر ہے کہ آپ جیسا بادشاہ اس ملک پر حملہ آور ہوا ہے تاکہ اس ظالم سے ہمارے بدلے لے۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ جس وقت آپ کی فوج یہاں پہنچ جائے گی، ہم مالدیو سے علیحدہ ہو کر آپ کی مدد کریں گے۔ ان ]جعلی[خطوط کے مضمون کے مطابق شیر شاہ کا ]فرضی[ جواب بھی بادشاہ کی طرف سے اسی طرح لکھا گیا کہ ’’اگر خدا نے چاہا تو میں مالدیو کو شکست دے کر تمھاری داد رسی کروں گا اور تمھارے موروثی علاقے تمھیں دے کر تمھارے مراتب بلند کروں گا۔ تم لوگوں کو چاہیے کہ صبر و سکون کے ساتھ میرا ساتھ دو۔‘‘(۲)

یوں شیر شاہ نے ان جعلی خطوط کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور مطلوبہ مقاصد حاصل کیے۔ جب حیدر علی کمانڈر انچیف بنا تو اس کی انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے میسور کا علاقہ بھی اس کے سپرد کر دیا گیا۔ یہ بات اس کے ایک ساتھی کھانڈے راؤ سے برداشت نہ ہوئی۔ اس نے راجا کو اعتماد میں لے کر ایک سازش تیار کی، جس کی وجہ سے حیدر علی کو وہاں سے بھاگنا پڑا۔ حیدر علی نے کسی معرکہ کے بغیر ہی کھانڈے راؤ سے چھٹکارا حاصل کرنے کا بندوبست سرانجام دیا۔ اس نے جعلی خطوط کا بندوبست کیا جو کھانڈے راؤ کے جرنیلوں کو لکھے گئے تھے اور یہ اہتمام بھی کیا گیا تھا کہ یہ خطوط کھانڈے راؤ کے مخبروں کے ہتھے چڑھ جائیں۔

جعلی خطوط کا یہ سلسلہ ابھی موقوف نہیں ہوا۔ اب بھی جعل ساز اپنے مقاصد کے حصول کے لیے نت نئے انداز سے جعلی خطوط لکھتے اور استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے عہد میں بھی پیسا، شہرت، اور دیگر وقتی مفادات حاصل کرنے کے لیے مشاہیر کے نام سے جعلی خطوط لکھ کر دنیا کے سامنے پیش کیے گئے لیکن ناقدین کی نظروں سے بچ نہ سکے اور مختلف انداز اور زاویوں سے محققین نے جب ان خطوط کا تجزیہ کیا تو وہ جعلی ثابت ہو گئے۔ اُردو ادب میں سب سے اہم خطوط غالب کے ہیں اس لیے سب سے زیادہ جعل سازی بھی غالب کے نام پر ہوئی۔ اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

’’ماسٹر اختر نے پہلے تو علامہ اقبال کے نام غالب کا ایک خط لکھا اور پھر میرے (خلیق انجم) مرتبہ خطوطِ غالب میں شامل غالب کے اصلی خطوط کے عکس نکال کر اس کے الفاظ کاٹ کاٹ کر اپنے لکھے ہوئے خط کے مطابق ترتیب دے دیے۔‘‘(۳)

غالب کے جعلی خطوط کا دل چسپ ترین معاملہ ’’نادر خطوطِ غالب‘‘ ہے۔ غالب کے اس مجموعے کے مرتب سید محمد اسماعیل رسا ہمدانی گیاوی ہیں۔۔۔ جب خطوط کا یہ مجموعہ شائع ہوا تو دونوں (مالک رام، قاضی عبدالودود) نے اس مجموعے کے تمام خطوط کو غالباً ایک کے علاوہ جعلی قرار دے دیا۔۔۔ جلال صاحب نے غالب کے خطوط کا ایک (جعلی) مجموعہ تیار کیا تھا لیکن ماہرینِ غالب کے تیور دیکھ کر خائف ہو گئے۔‘‘(۴)

’’صفیر بلگرامی نے اپنے اور مرزا غالب کے درمیان کچھ جعلی خطوط وضع کر لیے۔‘‘(۵)

’’رسا ہمدانی نے غالب کے رنگ میں خطوط وضع کیے جن کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ سروشِ سخن کے مصنف صفیر کے شاگرد تھے۔‘‘(۶)

پروفیسر شیخ عطا اللہ نے عباس علی خان کے انتیس خطوط اپنی مرتبہ کتاب اقبال نامہ جلد اول میں شامل درج کیے،جنھیں ڈاکٹر محمد دین تاثیر نے دلیل کے ساتھ جعلی قرار دیا۔ اسی طرح نیاز فتح پوری نے مجلہ ’’نقاد‘‘ کے مدیر نظام الدین شاہ دل گیر کو ایک خاتون قمر زمانی بیگم کے فرضی نام سے کئی خطوط لکھے، پہلا خط یہ ہے

’’آپ اس خط کو دیکھ کر کہیں گے کہ یہ لکھنے والی کون ہے۔۔۔ بھائی جان قبلہ کے پاس عرصے تک ’’نقاد‘‘ آتا رہا۔ چوری چھپے میں بھی اسے دیکھ لیا کرتی تھی۔ ماشا اللہ کیا طرزِ تحریر ہے اور کیا پیارا کلام ہے۔۔۔ اب آپ یہ بتائیے کہ اگر کوئی دکھیا آپ سے ملنا چاہے تو کیوں کر ملے۔۔۔ اگر آپ تشریف لا کر میری عزت بڑھائیں تو میں بہت شکر گزار ہوں گی۔۔۔ نقاد میں آپ کی تصویر دیکھ چکی ہوں لیکن اب سامنے بیٹھ کر آپ سے حالِ دل کہنے کو دل چاہتا ہے۔ للہ ملاقات کیجیے۔‘‘(۷)

اس کے بعد کئی خطوط لکھے گئے۔ جس کا مقصد دل گیر کے آتشِ شوق کو بھڑکانا تھا اور وہاں سے حسبِ توقع جو اب آنے پر یقیناً نیاز فتح پوری اور ان کا گروہ لطف اندوز ہوتا ہو گا۔ اس طرح کا خطرناک گھٹیا مذاق اور گری ہوئی حرکت اُردو ادب میں پڑھی نہ سنی۔ اس غلیظ حرکت کا انکشاف دل گیر کی زندگی ہی میں ہو گیا تھا اور بقول ڈاکٹر فتح پوری ’’دوستوں کی یہ دل چسپ شرارت دل گیر کے لیے زندگی کا المیہ بن گئی۔‘‘(۸)

ہمارے معاشرے میں اس قسم کی شرارت کے کسی انسان پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، یہ ہر کسی کو معلوم ہے، لیکن افسوس کہ آج تک کسی نے ان کی اس شرارت کی مذمت نہ کی۔ اس جان لیوا چھیڑ خانی کے خلاف کوئی آواز تو بلند ہونی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اہلِ علم اس جان لیوا ظلم کو شرارت کہ کر آگے بڑھ گئے۔ بعض علما نے دبے لفظوں میں اس طرح نیاز فتح پوری کا دفاع بھی کیا کہ ’’نیاز فتح پوری۔۔۔ خلوصِ دل سے یہ چاہتے تھے کہ نقاد از سرِ نو شائع کیا جائے۔۔۔ جب دلگیر صاحب رضامند نہ ہوئے تو انھوں نے دلگیر کی طبیعت کا اندازہ کر کے۔۔۔ قمر زمانی بیگم کے فرضی نام سے دلگیر کو دہلی سے ایک خط لکھا۔۔۔ اس کے بعد سیکڑوں خط آئے۔۔۔ ایک خط میں نقاد کو دوبارہ جاری کرنے پر اصرار کیا گیا ہے۔‘‘(۹)

دل گیر کو بعد میں لکھے گئے چند خطوط کے کچھ حصے بھی دیکھ لیجیے ’’چلیے آپ سچے اور ہم جھوٹے۔ اقرارِ جرم اور پھر دل گیر کے سامنے، میں اس پر کیوں نہ ناز کروں۔۔۔ کوشش کر رہی ہوں کہ آپ اسے اخیر دسمبر میں دلی میں ملاقات کی صورت نکل آئے۔۔۔ اگر زحمت نہ ہو تو نقاد کے سارے پرچے بھجوا دیجیے۔۔۔ میرے دونوں خط آپ کو مل گئے ہوں گے۔ صرف ایک کا جواب آپ نے دیا۔ یہ بھی غنیمت ہے۔ میں کیا کرتی اگر آپ ایک کا جواب بھی لطف نہ فرماتے۔۔۔ میں لیڈیز کانفرنس کی تیاریاں کر رہی ہوں اس لیے جلد مضمون بھیجنے کا وعدہ تو نہیں کرتی لیکن یہ یقین دلاتی ہوں کہ آپ چاہے خفا ہو جائیں نقاد کو ناراض نہیں کروں گی۔۔۔ آپ کے سر کی قسم جس وقت ۵ جنوری کو آپ کے تینوں خط ایک ساتھ ملے جو بریلی سے لکھے گئے تھے۔ سر پیٹ لیا۔ جی چاہتا تھا کہ کپڑے پھاڑ کر باہر نکل جاؤں اور اپنے دل گرفتہ دل گیر کو جس طرح بنے منا لاؤں۔‘‘(۱۰)

ان خطوط کے مطالعے سے یہ بات تو ظاہر ہو جاتی ہے کہ یہ خطوط محض ’’نقاد‘‘ کے اجرا کے لیے نہیں لکھے گئے تھے بلکہ اس سازش کا مقصد دل گیر کو بدنام اور شرم سار کرنا تھا، اور یہ خطوط کسی بد نیتی کی غرض سے لکھے گئے تھے۔

ایک جعلی خط قرۃ العین حیدر کی زندگی میں بھی طوفان لایا تھا۔ اس واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک دوست کو خط میں لکھتی ہیں کہ: ”وہ خوف ناک واقعہ گو باسی ہو چکا ہے اس لحاظ سے مگر اس کا ذرا سا پوسٹ مارٹم ضروری ہے۔۔۔ میں نے کہا۔۔۔ یہ خط جعلی ہے”(۱۱)۔

۲۰۰۰ء میں ایسے ہی ایک جعلی خط کے حوالے سے تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ خط مشاہیر ادب بالخصوص معروف محققین کو لکھا گیا تھا۔ اس خط پر مکتوب نگار کی حیثیت سے لطیف الزماں خاں کا نام درج تھا لیکن لطیف الزمان نے اسے اپنا مکتوب ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا خیال یہ تھا کہ انھیں اور خط میں جن شخصیات کی ذات پر کیچڑ اچھالا گیا تھا، انھیں بدنام کرنے کے لیے اس خط کو ان سے منسوب کیا گیا۔ لطیف الزمان خاں اپنی صفائی پیش کرتے لکھتے ہیں ’’یقین کے ساتھ تو نہیں کہہ سکتا لیکن میرا شبہ یقین کی حد تک ہے کہ معین صاحب نے یا ان کے ایما پر ان کے کسی حواری نے یہ بے ہودہ حرکت کی کہ کمپیوٹر پر ایک نہایت رکیک تحریر کمپوز کرائی، نیچے میرا نام کمپوز کرایا۔ مختلف حضرات کو لاہور سے پوسٹ کر دیا۔ اس نامعقول عبارت میں مشفق خواجہ صاحب اور محترم ڈاکٹر وحید قریشی صاحب کو نامرد کہا گیا اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے بے ہودہ الفاظ استعمال کیے گئے۔‘‘(۱۲)

حال کے برسوں میں ہند و پاک اور عالمی سیاست کے چوباروں میں بھی ایسے فعلی یا فرضی خطوط سامنے آئے ہیں۔ جیسے قطری شہزادے کا وہ جعلی خط جس نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی پاکبازی کا ناکافی ثبوت فراہم کیا۔

جعلی اور فرضی خطوط لکھنے والوں کے پیش نظر معمولی مقصد نہیں ہوتا۔ بعض اوقات تو وہ ان خطوط کے ذریعے فوری مالی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں،اگر مالی فائدہ کا حصول مقصد نہ ہو تو پھر یہ خطوط یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ اگر جعل سازی پکڑی نہ جائے تو یہ خطوط دیر تک ماحول پر اثر انداز ہو سکتے ہیں،اسی سییہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ خطوط لکھنے والے لوگ عام ذہنی سطح کے لوگ نہیں ہوتے بلکہ ان کی ذہانت کا معیار عام آدمی کی ذہانت سے بلند ہوتا ہے۔ اس حوالے سے انھوں نے اسے ایک ہنر بنا کر خط کا مقام و مرتبہ بلند کیا۔ یہ الگ بات کہ بعض لوگوں نے اس ہنر کو مثبت استعمال کیا اور بعض تخریب کی طرف نکل گئے۔

 

حوالے:

(۱) حضرت علامہ جلال الدین سیوطی، تاریخ الخلفاء (مترجم: محمد الیاس عادل) مشتاق بک کارنر اُردو بازار لاہور،س ن، ص۳۲۰۔

(۲) محمد قاسم فرشتہ، تاریخ فرشتہ، جلد اول(مترجم: عبد الحئی خواجہ) شیخ غلام حسین اینڈ سنز لاہور،س ن،ص ۶۴۳۔

(۳) خلیق انجم (مضمون) غالب کی مکتوب نگاری، مرتب: پروفیسر نذیر احمد، غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی، ۲۰۰۳ء،ص ۵۷۔

(۴) خلیق انجم (مضمون) غالب کی مکتوب نگاری، مرتب: پروفیسر نذیر احمد، غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی، ۲۰۰۳ء، ص۶۰۔

(۵) ڈاکٹر گیان چند جین، تحقیق کا فن، مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد، طبع دوم ۲۰۰۲ء،ص ۳۴۰

(۶) ڈاکٹر گیان چند جین، تحقیق کا فن، مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد، طبع دوم ۲۰۰۲ء،ص ۳۵۰۔

(۷) ڈاکٹر فرمان فتح پوری، تنقیدی شذرات، الوقار پبلی کیشنز لاہور، ۲۰۰۵ء،ص ۱۲۸۔

(۸) ڈاکٹر فرمان فتح پوری، تنقیدی شذرات، الوقار پبلی کیشنز لاہور، ۲۰۰۵ء،ص ۱۳۳۔

(۹) ڈاکٹر فرمان فتح پوری، تنقیدی شذرات، الوقار پبلی کیشنز لاہور، ۲۰۰۵ء،ص ۱۲۸

(۱۰) قمر زمانی بیگم، نقوش، خطوط نمبر، ادارہ فروغ اُردو لاہور، ۱۹۶۸ء، ص۲۹۸۔

(۱۱) قرۃ العین حیدر کے خطوط ایک دوست کے نام، مرتب: خالد حسن، سٹی پریس بک شاپ، صدر کراچی، ۲۰۰۰، ص۴۲

(۱۲) لطیف الزمان خان، مکاتیبِ مشاہیر بنام حق نواز، مرتب: سید نصرت بخاری، جمالیات پبلی کیشن، اٹک، ۲۰۱۲ء، ص ۲۲۸

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے