اس کا دل تو اچھا دل تھا

ایک ہے ایسی لڑکی جس سے تم نے ہنس کر بات نہ کی

کبھی نہ دیکھا اس کی آنکھوں میں چمکے کیسے موتی

کبھی نہ سوچا تم نے ایسی باتیں وہ کیوں کہتی ہے

کبھی نہ سوچا ملتے ہو تو گھبرائی کیوں رہتی ہے

کیسے اس رخسار کی رنگت سرسوں جیسی زرد ہوئی

جب تک ملی نہیں تھی وہ تم سے وہ ایسی تنہا تو نہ تھی

مَل کر آنکھ بہانے سے وہ کب تک آنسو روکے گی

اس کے ہونٹوں کی لرزش بھی تم نے کبھی نہیں دیکھی

کس ایسی سنسان سڑک پر اسے اکیلا چھوڑ دیا

اس کا دل تو اچھا دل تھا جس کو تم نے توڑ دیا

وہ کچھ نادم، وہ کچھ حیراں، رستہ ڈھونڈھا کرتی تھی

ڈھلتی دھوپ میں اپنا بے کل سایہ دیکھ کے ہنستی تھی

آخر سورج ڈوب گیا اور راہ میں اس کو شام ہوئی

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے