اردو کی شعری و نثری اصناف ۔۔۔۔ پروفیسر مجید بیدار/ مبصر: ڈاکٹر محمد عبد العزیز سہیل

 

 

 

پروفیسر مجید بیدار جامعہ عثمانیہ کے ایک مقبول ، فعال اور متحرک استاد اردو رہے ہیں۔ تدریسی سرگرمیوں کے علاوہ تصنیف و تالیف، نصاب کی تیاری، جامعات میں ممتحن کے فرائض انجام دینا اور  دیگر فروغ اردو کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ان کا شمار جنوبی ہند کے ان صاحب علم و دانش میں ہوتا ہے جنہوں نے درس و تدریس کے پیشہ سے وابستہ رہتے ہوئے ایک کامیاب قلمکار و ادیب کی حیثیت سے سماج میں اپنا اونچا مقام بنا یا ہے۔ جامعہ عثمانیہ کے دار الترجمہ پر کیا گیا انکا تحقیقی کام آج بھی اس موضوع پر سند کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ایک اچھے مبصر، نقاد اور محقق بھی ہیں۔ پروفیسر صاحب حالیہ دنوں اردو کی قدیم جامعہ عثمانیہ یونیورسٹی سے سبکدوش ہوئے ہیں لیکن ان کی یہ سبکدوشی دراصل ان کے پیشہ تدریس سے رہی جب کہ آج بھی وہ علمی میدان میں متحرک اور فعال ہیں اور اپنے قلم سے نئی نئی تخلیقات کو وجود بخش رہے ہیں مختلف جامعات میں بحیثیت ریسورس پرسن مدعو کئے جاتے ہیں۔ اور وظیفہ پر سبکدوشی کے بعد اب وہ اردو کے تقریباً تمام ہی سمیناروں میں لازمی طور پر مدعو کئے جاتے ہیں اور اپنی بلیغ خطابت اور تجربات سے شمع اردو کے پروانوں کو علم و ادب کی روشنی فراہم کرتے ہیں۔

انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے اس دور میں جب کہ کتاب کا مفہوم بدل گیا ہے۔ اور لوگ آن لائن مطالعے کو ترجیح دے رہے ہیں کتاب کی روایتی طبع شدہ حالت اپنی اہمیت رکھتی ہے۔ اردو کی درسی تصانیف اور حوالہ جاتی کتب کی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ عصر حاضر کے اردو ادب کے طالب علموں اور اردو ادب کی شعری و نثری اصناف کا بھر پور تعارف حاصل کرنے والوں کے لئے ’’اردو ادب کی شعری و نثری اصناف‘‘ کے موضوع پر پروفیسر مجید بیدار کی حوالہ جاتی تصنیف منصہ شہود پر آئی ہے۔ زیر نظر تصنیف کی اشاعت سے قبل پروفیسر صاحب کی ایک درجن سے زائد تصانیف منظر عام پر آ چکی ہے اور اہل علم و ادب سے داد تحسین وصول کر چکی ہے۔ جن میں دار الترجمہ جامعہ عثمانیہ کی ادبی خدمات 1979ئ، دکنی تذکرے 1985ئ، ناول اور متعلقات ناول1990ئ، خونی جادوگر(بچوں کا ادب)1965ء، صوتی درس1993ٰء، نثری بیانیہ2005ء، دکنی نثر پر ایک نظر2007ء، ڈوبتے ابھرتے جزیرے2011ء، اور دانشور ڈاکٹر زور شامل ہیں۔

زیر تبصرہ کتاب ’’اردو ادب کی شعری و نثری اصناف‘‘ پر وفیسر صاحب کی تحقیقی و تنقیدی تصنیف ہے جس میں اردو شاعری اور نثر کی اصناف کی ہئیت اور اس کے اجزائے ترکیبی کے ساتھ ساتھ اس صنف کے تاریخی پس منظر اور آغاز و ارتقاء کو تحقیق و تنقید کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی نصابی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ کالج اور یونیورسٹی کے طلباء کو اردو کی شعری و نثری اصناف اور فن کی باریکیوں سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔ اور اس طرح کی کتابوں سے طلباء میں ادب شناسی کی بنیاد تعمیر ہوتی ہے۔

پروفیسر مجید بیدار تحقیق و تنقید کے میدان میں بلند مرتبہ رکھتے ہیں ترجمہ نگاری میں انہیں کمال حاصل ہے اچھے معلم کے ساتھ ساتھ وہ ایک شاعر کا درجہ بھی رکھتے ہیں ان کا خصوصی میدان غیرافسانوی نثر ہے جس میں انہوں نے بہت ہی مبسوت کام انجام دیا ہے۔ اردو ادب میں شعری و نثری اصناف پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں بالخصوص نثری ادب اور خاص کر غیر افسانوی ادب بہت کم ہی کوئی تصنیف اس موضوع پر نظر آئے گی۔ زیر نظر کتاب کو پیش کرنے کا متمہ نظر تخلیق کار کے سامنے یہی رہا ہو گا کہ جو کمی اس میدان میں محسوس کی گئی ہے اس کو تکمیل پر پہنچایا جائے ساتھ ہی اصناف کی ہئیت اور اجزاء کے ساتھ تاریخی پس منظر اور اس کے آغاز و ارتقاء پر جائزہ لیا جائے۔

اس تصنیف کے دیباچہ میں اس تخلیق کے وجود میں آنے کا مقصد بیان کرتے ہوئے پروفیسرصاحب نے لکھا ہے۔

’’غرض اپنی چونتیس سالہ تدریسی خدمات کی انجام دہی کے دوران ادب کی تدریس کے موقع پر درپیش مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کتاب کی تحریر کا بیڑا اٹھایا جا رہا ہے بلاشبہ یہ کتاب شعری اور نثری اصناف پر میرے تجربات اور احساسات کا قیمتی ذخیرہ ہے‘‘۔ (ص۱۲)

زیر نظر کتاب کو تین موضوعات کے تحت تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا عنوان ’’شاعری کے دو مختلف انداز‘‘ کے تحت شاہنامہ، مرثیہ، رزم نامہ، غزل، مثنوی، قصیدہ، نعتیہ قصیدہ، شخصی مرثیہ، قطعہ، رباعی، ، موضوعاتی نظم، نیچرل نظم کے علاوہ دیگر نظمیں اور شاعری کی جدید اصناف شامل ہیں۔ دوسرا عنوان’’افسانوی اصناف‘‘ کے تحت داستاں، ناول، افسانہ، ڈرامہ، ناولٹ کو پیش کیا گیا ہے۔ اورتیسرا موضوع ’’اردو کی غیر افسانوی نثری اصناف‘‘ میں تذکرہ، سفرنامہ، مضمون، خطوط، سوانح، انشائیہ، خودنوشت، آپ بیتی، خاکہ، دیباچہ، رپورتاژ، مراسلہ، روزنامچہ، تبصرہ، مقالہ، لغت نویس، طنز و ظرافت کو شامل کیا گیا ہے۔

زیر تبصرہ کتاب کے پہلے موضوع میں پروفیسر مجید بیدار نے جدید نظم کے تصورات کو پیش کیا ہے انہوں نے علم عروض کو شاعری کیلئے لازمی قرار دیا ہے اور شعر میں آمد اور آورد کیا ہے اس کو واضح کرتے ہوئے رزمیہ شاعری اور بزمیہ شاعری کے فرق کو اجاگر کیا ہے ساتھ ہی شاعر اور ناظم کے فرق کو بھی سمجھایا ہے۔ دوسرے موضوع میں ’’افسانوی نثر کے تحت نثر کی قسمیں، افسانوی نثر کا وصف، نثر کے افسانوی انداز سے متعلق معلومات فراہم کی گئی ہے۔ کتاب کا تیسرا اور آخری موضوع میں غیر افسانوی نثر کا احاطہ کیا گیا ہے۔ جس میں اردو کی غیر افسانوی نثری اصناف، غیر افسانوی نثر کے ابتدائی نقوش، صحافتی اور ترسیلی اصناف، عدم فوقیت کا احساس، ہر صنف کا منفرد انداز، غیر افسانوی نثر کے حدود، نئی روایات، غیر افسانوی نثر کے امکانات سے متعلق بحث کی گئی ہے اور ان کی اہمیت کا اجاگر کیا گیا ہے۔

پروفیسر صاحب نے غیر افسانوی نثر کے امکانات سے متعلق اپنے تاثر میں لکھا ہے۔

’’عصر حاضر کے تمام مسائل کی نمائندگی غیرا فسانوی نثر کے ذریعہ ممکن ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض افسانوی نثرنگاروں نے تخلیقی حسیت کے ساتھ سماجی بے راہ روی پر اظہار خیال کیا ہے لیکن عام انسانوں کی معلومات میں اضافہ کے لیے غیر افسانوی نثر ہی اپنی کارکردگی کے جھنڈے لہراتی دکھائی دیتی ہے‘‘(ص۱۶۱)

غرض یہ کہ پروفیسر صاحب نے اردو کی تمام اصناف کا مکمل اور سلیقے سے احاطہ کیا ہے اور کسی موضوع کو تشنہ نہیں چھوڑا، جدید اصناف کا بھی تذکرہ اس کتاب میں شامل ہے انہوں اختصار اور جامع انداز میں اصناف کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور سماجی تبدیلی میں ادب کسطرح اپنا حصہ ادا کرسکتا ہے اس بات کو بیان کیا ہے جو لائق تحسین ہے۔ میں پروفیسر صاحب کی اس تصنیف کی اشاعت پر صمیم قلب سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ان کی یہ تصنیف اردو درس وتدریس میں معاون ثابت ہو گی ساتھ ہی تشنگان علم کی پیاس کو بجھائے گی۔ ضرورت ہے کہ اس سے خاطر خواہ استفادہ کیا جائے۔ اسکولس، کالجس اور جامعات میں اسطر ح کی تصانیف کو کتب خانہ کی ضرورت بنایا جائے۔

280صفحات اور خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ اس کتاب کی قیمت نہایت واجبی  200روپئے رکھی گئی ہے جو ہدیٰ بک ڈپو پرانی حویلی، انجمن ترقی اردو ہال، حمایت نگر حیدرآباد سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

٭٭٭

One thought on “اردو کی شعری و نثری اصناف ۔۔۔۔ پروفیسر مجید بیدار/ مبصر: ڈاکٹر محمد عبد العزیز سہیل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے