گُم شُدہ شہر کی کہانی ۔۔۔ محمد جمیل اختر

آدھی رات کو اُس نے اپنے گھر کے دروازے پہ دستک دی تو اُسے یوں محسوس ہوا کہ وہ ساری عُمر دستک دیتا رہے گا اور یہ دروازہ کبھی بھی نہیں کھُلے گا۔۔۔ وہ جوان ہو گیا تھا لیکن اُس کا دل پانچ سال کے بچے جیسا تھا، اُس نے بہت چاہا کہ وہ بڑا Read more about گُم شُدہ شہر کی کہانی ۔۔۔ محمد جمیل اختر[…]

سید محمد اشرف کی کہانی روگ کے پاگل ہاتھی اور لکڑ بگھا اور مردے کا سکسر ۔۔۔ مشرف عالم ذوقی

’’ہاں سرکار۔‘‘ وہ رو رہا تھا۔ مرتے مرتے رو رہا تھا۔ گاؤں والے کہہ رہے تھے کہ جنگلی جانوروں کو انہوں نے کبھی روتے نہیں دیکھا، میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سرکار وہ مر رہا تھا، اس کا سینہ زور زور سے ہل رہا تھا اور آنکھوں سے آنسوؤں کی دھار بے Read more about سید محمد اشرف کی کہانی روگ کے پاگل ہاتھی اور لکڑ بگھا اور مردے کا سکسر ۔۔۔ مشرف عالم ذوقی[…]

رشتوں کی تراش ۔۔۔ ڈاکٹر شائستہ فاخری

    برسات کی شام جتنی خوشگوار ہوتی ہے اکثر کمرے کے اندر کی زندگی اتنی ہی گھٹن بھری ہو جاتی ہے۔ کم سے کم مس زرین ناڈیاولا کا سوچنا یہی تھا۔ اس لئے جب ایسی شام میں ان کی سانسیں گھٹنے لگتیں، جی گھبرانے لگتا، کمرے کی تنہائی کاٹنے لگتی، پیارا چھوٹا سا گھر Read more about رشتوں کی تراش ۔۔۔ ڈاکٹر شائستہ فاخری[…]

کھوکھلی کگر ۔۔۔ احمد رشید

’’زندگی میں کبھی کبھی ایسے پل بھی آتے ہیں کہ انسان بے حقیقت پریشان ہو جاتا ہے۔ ‘‘ وہ خود کلام ہوتا ہے اور سوچتا ہے یہ کیسی رات ہے جو اضطراب میں ڈوبی ہوئی ہے۔۔ آلامِ روزگار، نہ غمِ عشق ہے۔۔ آلامِ روزگار ہے نہیں کہ جینے کا مقصد دنیا نہیں اس لیے کبھی Read more about کھوکھلی کگر ۔۔۔ احمد رشید[…]

خالی ڈبے ۔۔۔ فرحانہ صادق

اچھے ماموں سے میرا رشتہ سگے ماموں بھانجی کا نہ تھا۔کبھی چھٹپن میں امی نے انہیں اپنا بھائی بنایا اور مرتے دم تک اس رشتے کو نبھاتی رہیں۔ اگلے زمانے میں منہ بولے رشتوں کی بھی حرمت ہوا کرتی تھی اب تو خیر سگے رشتوں کی بھی نہ رہی۔ اس منہ بولے رشتے کے علاوہ Read more about خالی ڈبے ۔۔۔ فرحانہ صادق[…]

دو افسانے ۔۔۔ عمار نعیمی

تنقید نہیں اصلاح السلام علیکم دوستو! اس خاکسار کو لوگ الحاج چودھری محمد نعمت اللہ آنسو کے نام سے جانتے ہیں۔۔ یوں تو خاکسار کا ذاتی پرنٹنگ پریس کا کام ہے لیکن ادب و سخن سے محبت ادبی حلقوں تک کھینچ کر لے آئی۔۔ آج یہاں خاکسار کی اپنی پہچان ہے۔۔ میں چاہتا ہوں کہ Read more about دو افسانے ۔۔۔ عمار نعیمی[…]

پریم لتا ۔۔۔ وفا نقوی

پنکھے پر لٹکی ہوئی لاش اور ٹیبل پر رکھے سوسائڈ نوٹ نے اسپیکٹر اودھیش کمار پانڈے کے سامنے ساری کہانی بیان کر دی تھی۔ سوسائڈ نوٹ میں لکھا ہوا تھا۔ میں پریم لتا۔ میری موت کا ذمے دار کوئی ایک شخص نہیں بلکہ پورا سماج ہے۔ خاص طور سے میرے پتی پرمیشور جمنا پرشاد شرما Read more about پریم لتا ۔۔۔ وفا نقوی[…]

وصیت ۔۔۔ دیوی ناگرانی

چھت اور مکان گھر نہیں ہوتے، ان میں ضرورت ہے ان دریچوں کی جہاں سے آتی جاتی تازہ ہوا تن من کو چھو لے، اور صرف اپنے لمس سے ہی سہلا کر زندہ ہونے کا احساس جگا دے۔۔ کبھی ایسی ہوائیں بھی ہوتی ہیں، جو بے رخی اور دھار دار ہوتی ہیں، تن من کو Read more about وصیت ۔۔۔ دیوی ناگرانی[…]

خاکی ابلیس۔۔۔۔ عبداللہ خان

گٹر کا گندا، بدبو دار، گہرے مٹیالے کا پانی، چہار سُو رواں دواں تھا۔ ، چہار سُو رواں دواں تھا۔۔ ہر کوئی اپنا دامن بچاتا ہوا، کبھی یہاں، تو کبھی وہاں، چھلانگیں لگاتا ہوا چلا جا رہا تھا۔۔ کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کہ شہر کے بلدیاتی نظام کو کسی کی نظر لگ گئی تھی Read more about خاکی ابلیس۔۔۔۔ عبداللہ خان[…]

زرقا الیمامہ۔۔۔ غلام ابن سلطان

بابا فتح خان اور اس کی اہلیہ باختر کا شمار اقلیم معرفت کے پُر اسرار افراد میں ہوتا تھا۔۔ یہ صابر و شاکر میاں بیوی سب کے لیے فیض رساں تھے اور ہر کسی کی خیر مانگتے تھے۔۔ قادر مطلق نے اِنھیں مستقبل کے بارے میں پیش بینی کی معجز نما صلاحیت ودیعت کی تھی۔۔ Read more about زرقا الیمامہ۔۔۔ غلام ابن سلطان[…]