ہجرت ۔۔۔ غضنفر

  وہ آغوش جس میں پلے اور پل کر جواں ہم ہوئے ہیں اسے چھوڑنے کی تدابیر کرنے میں مصروف ایسے ہوئے ہیں کہ زنداں سے قیدی رہائی کی راہوں کی تعمیر کرنے میں مشغول ہوتے ہیں جیسے وہ آغوش جس میں جواں ہم ہوئے ہیں اسے چھوڑ کر دور جانے کے احساس سے جو Read more about ہجرت ۔۔۔ غضنفر[…]

کڑوا تیل ۔۔۔ غضنفر

  ’’اس گھانی کے بعد آپ کی باری آئے گی۔ تب تک انتظار کرنا پڑے گا۔ ‘‘شاہ جی نے میرے ہاتھ سے تلہن کا تھیلا لے کر کولھو کے پاس رکھ دیا۔ ’’ٹھیک ہے۔ ‘‘ میں دروازے کے پاس پڑے ایک اسٹول پر بیٹھ گیا۔ کولھو کسی پائدار لکڑی کا بنا تھا۔ اور کمرے کے Read more about کڑوا تیل ۔۔۔ غضنفر[…]

غزلیں ۔۔۔ مظفرؔ حنفی

  غنچوں سے، کہکشاں سے، صدف سے پکارنا اس کا مجھے چہار طرف سے پکارنا   اچھا تو آپ دیکھنا چاہیں گے اصلیت قاتل کو جاں نثاروں کی صف سے پکارنا   گھر جل رہا ہے اور بجھاتا نہیں کوئی سیلاب کو ہماری طرف سے پکارنا   پھر ملکۂ بہار کا مجھ گرد باد کو Read more about غزلیں ۔۔۔ مظفرؔ حنفی[…]

غزلیں ۔۔۔۔ خالد اقبال یاسرؔ

دو غذلہ   ایسا ہی ہے اُدھر وہ اِدھر مختلف نہیں لگتا ہے مختلف وہ مگر مختلف نہیں   شجرے تو اپنے اپنے ہیں طینت ہے مشترک اشجار مختلف ہیں ثمر مختلف نہیں   ایسا نہ ہو کہیں کہ سبھی ہوں ملے ہوئے مخبر ہے کوئی اور خبر مختلف نہیں   اس مرتبہ نتیجہ کہیں Read more about غزلیں ۔۔۔۔ خالد اقبال یاسرؔ[…]

ادب برائے ریڈیو ۔۔۔ محمد اسد اللہ

  ادب اور ریڈیو کا تعلق ریڈیو سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ یہاں ریڈیو سے مراد ہمارا وہ پرانا ریڈیو ہرگز نہیں جو جنگلو ریڈیو میکینک کی دکان میں جلاوطنی کے پانچ سال گزار کر لوٹا ہے اور اب حشرات الارض کا بسیرا ہے۔ جس میں ایک ہی مقام پر دوسٹیشنوں کی جدید و قدیم Read more about ادب برائے ریڈیو ۔۔۔ محمد اسد اللہ[…]

ناول ’پانی‘ کے خالق غضنفر کیا انٹرنیٹ ادبی مافیا کا شکار ہیں ؟ ۔۔۔ سید مکرم نیاز

  بلاشبہ آج ہم انٹرنیٹ کے اس "گوگل ایج [Google Age]” میں جی رہے ہیں جہاں خزانۂ معلومات محض ایک کلک کی دوری پر دستیاب ہے۔ انگریزی چونکہ بین الاقوامی زبان ہے لہذا اس کے ذریعے کسی بھی قسم کی معلومات کا حصول نا ممکن نہیں، لیکن یہ بات شاید پرنٹ میڈیا کے قارئین کو Read more about ناول ’پانی‘ کے خالق غضنفر کیا انٹرنیٹ ادبی مافیا کا شکار ہیں ؟ ۔۔۔ سید مکرم نیاز[…]

غزل ۔۔۔ عارفہ شہزاد

  ہنس رہی ہوں کہ روئی کیوں آخر بات سمجھے یہ کوئی کیوں آخر   رنگ کچے نکل بھی سکتے ہیں تو نے چنری بھگوئی کیوں آخر   دیکھتے بھالتے کی نادانی چھاچھ میں نے بلوئی کیوں آخر   اک پسند اس کی دھیان میں آئی مہک اٹھی رسوئی کیوں آخر   جو بھی سوچا Read more about غزل ۔۔۔ عارفہ شہزاد[…]

سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’’ نیا قانون‘‘ ایک نئی قرأت۔۔ ۔ جاوید اختر

    سعادت حسن منٹو اور افسانہ نگاری کے اہم ستون ہیں۔ پریم چند کے اصلاحی اور معاشرتی افسانے کے بعد اہم افسانہ نگاروں کی صف میں کرشن چندر، بیدی اور عصمت کے ساتھ منٹو کا نام بھی شامل ہے۔ ۱۹۳۵ء کے بعد ترقی پسند نظریئے کے تحت افسانے کا موضوع طبقاتی کشمکش اور سماج Read more about سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’’ نیا قانون‘‘ ایک نئی قرأت۔۔ ۔ جاوید اختر[…]

ڈے لائیٹ سیونگ۔۔۔ عاطف ملک

  پس منظر : حکومتِ نے کچھ عرصہ قبل کے نام پر گھڑی کی سوئیاں ایک گھنٹہ آگے کر دی تھیں۔ یہ افسانہ اُسی فیصلے کے تناظر میں لکھا گیا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے، ایک لمحہ جو اُس نے گذارا نہیں، ایک پل جس میں اُس نے سانس نہیں لیا، جو اُس پر نہیں Read more about ڈے لائیٹ سیونگ۔۔۔ عاطف ملک[…]