مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔۔

نیا سال ۲۰۱۴ء مبارک۔ ایک مدت کے بعد آپ سے مخاطب ہوں۔ ’سمت‘ کے دور اول کا پہلا شمارہ دسمبر ۲۰۰۵ء میں نکالا گیا تھا۔ ان دنوں تک اردو تحریر انٹر نیٹ پر خال خال ہی دکھائی دیتی تھی۔ اور ’سمت‘ کے اجراء کا مقصد یہی تھا کہ اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کو Read more about مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔۔[…]

کرب و بلا محمد یعقوب آسی

کرب و بلا محمد یعقوب آسی ذہن کا کورا کاغذ لے کر سوچ رہا ہوں دیکھ رہا ہوں کرب و بلا کے خونیں منظر سوچ رہا ہوں کیسے کچھ لکھ پاؤں گا لفظوں کے لب سوکھ رہے ہیں سوچ کے بازو ٹوٹ رہے ہیں آج بھی شمر اور ابنِ زیاد کے کتنے بھائی راہِ وفا Read more about کرب و بلا محمد یعقوب آسی[…]

عبد السلام عاصم کچھ نہیں افسوس

عبد السلام عاصم کچھ نہیں افسوس عبد السلام عاصم کچھ نہیں افسوس بونے اور کاٹنے کی دنیا میں روز اک سانحہ گزرتا ہے کچھ نہ کچھ روز کھو رہا ہوں میں  یہ بھی طے ہے یہ سلسلہ اک دن طول کھینچے گا قبر تک میری آرزو ہے کہ میرے کتبے پر یہ لکھا ہو کہ Read more about عبد السلام عاصم کچھ نہیں افسوس[…]

اَندھیرے کے کُنویں سے — اِلا پرساد

اَندھیرے کے کُنویں سے اِلا پرساد اندھیرے کے کنویں سے اِلا پرساد —————— اَندھیرے کے کُنویں  سے لگاتار باہر آتے ہوئے کئی بار مُجھے لگا ہے کہ سُورج اور میرے بیچ کی دُوری عارضی ہے وو جو رہ رہ کر میری آنکھیں چوندھِیائ  تھیں وہ محض دھُوپ کے ٹکڑے تھے یا روشنی کی چھایائیں صرف۔ Read more about اَندھیرے کے کُنویں سے — اِلا پرساد[…]

غزل مغنی تبسؔم

غزل مغنی تبسّم غزل مغنی تبسؔم بیداری کے خواب گراں ہیں میرے بھی خوابوں میں آباد جہاں ہیں میرے بھی قیدِ مکاں سے باہر ہیں سب میرے خواب بے تقویم نفس امکاں ہیں میرے بھی میں نے بھی ساحل سے باندھے ہیں پیماں بحر میں تیرے کچھ طوفاں ہیں میرے بھی منزل منزل تیرے کرم Read more about غزل مغنی تبسؔم[…]

غزلیں ۔۔ اعجازعبید

غزلیں اعجاز عبید (1) اگرچہ یادوں نے محفل یہاں سجائ۔۔۔ پر جو نیند آتی ہے سولی پہ بھی،  سو آئ۔۔۔پر۔۔۔۔! سلگتی ریت کو دو دن میں بھول جائیں نہ ہم یہ ایک شعر ہے اپنی برہنہ پائ پر میں فرشِ خاک پہ سوؤں تو سوتا رہتا ہوں ہزار خواب اترتے ہیں چارپائ پر نہ جانے Read more about غزلیں ۔۔ اعجازعبید[…]

غزلیں — عاکف غنی

غزلیں عاکف غنی اُٹھی ہیں دل میں مِرے اضطراب کی لہریں  دکھائی دیتی ہیں ہر سوُ سراب کی لہریں وطن کی شکل بگاڑی ہے ایسی غربت نے اُٹھی بھی کاش کہیں انقلاب کی لہریں میں اپنے یار کی تعریف کس طرح سے کروں برس رہی ہیں مسلسل شہاب کی لہریں یہ کون بیٹھے ہیں میرے Read more about غزلیں — عاکف غنی[…]

غزل وہاب اعجاز

غزل وہاب اعجاز خشک دریا کے وہ کنارے تھے لوگ جو زندگی سے ہارے تھے مل گئے پانیوں میں سب کے سب ریت پر نقش کچھ ابھارے تھے پھر وہ چہرے نظر سے اوجھل ہیں جو مجھے جان سے بھی پیارے تھے بھیگی آنکھیں تھیں، اشک تھے جیسے جھلملاتے ہوۓ ستارے تھے اب تو وہ Read more about غزل وہاب اعجاز[…]

کیک — اصغر وجاہت (ہندی سے )

کیک اصغر وجاہت (ہندی سے ) اُنہوں نے میز پر ایک زوردار گھُونسا مارا اور میز بہُت دیر تک ہِلتی رہی۔ میں کہتا ہُوں جب تک ایٹ اے ٹائیم پانچ سو لوگوں کو گولی سے نہیں اُڑا دِیا جائے گا، حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ اَپنی خاصی سپیکِنگ پاور برباد کر کے وہ ہانپنے لگے۔ Read more about کیک — اصغر وجاہت (ہندی سے )[…]