غزلیں حیدر قریشی

غزلیں حیدر قریشی آنکھ سے گر کر ٹوٹے خواب کھلونے ہیں اور اب دل کے ، بچوں جیسے رونے ہیں عمرِ لا حاصل کا جو حاصل ٹھہرے کس نے ایسے داغِ ملامت دھونے ہیں درد ہمارے تو انمول نکل آئے گرچہ خرید ے ہم نے اونے پونے ہیں صرف گناہوں کا ہی بوجھ نہیں سر Read more about غزلیں حیدر قریشی[…]

غزلیں – مد حت الاختر

غزلیں مدحت الاختر جانے والے مجھے کچھ اپنی نشانی دے جا روح پیاسی نہ رہے ، آنکھ میں پانی دے جا وقت کے ساتھ خد و خال بدل جاتے ہیں جو نہ بدلے وہی تصویر پرانی دے جا تیرے ماتھے پہ مرا نام چمکتا تھا کبھی ان دنوں کی کوئ پہچان پرانی دے جا جس Read more about غزلیں – مد حت الاختر[…]

غزلِ یوسف علی یوسف و رفیق انجم

غزل رفیق انجم لمحہ لمحہ جلاۓ گی بارش اور کتنا رُلاۓ گی بارش پھر دریچے کھلے ہیں یادوں کے آ کے لوری سناۓ گی بارش کھل گۓ پھر تبسّموں کے گلاب پھر مجھے آزماۓ گی بارش جب نہ پاۓ گی اس کو گلیوں میں ہر طرف پھڑپھڑاۓ گی بارش جل رہی ہیں نظر میں قندیلیں Read more about غزلِ یوسف علی یوسف و رفیق انجم[…]

غزل احتشم اختر

غزل احتشام اختر لبوں پر سرخیاں تھیں، اب کہاں ہیں ہری سب کھیتیاں تھیں، اب کہاں ہیں یہاں اک باغ تھا کچھ روز پہلے حسیں کچھ تتلیاں تھیں، اب کہاں ہیں کنارے پر گھروندے ریت کے تھے ندی تھی، کشتیاں تھیں، اب کہاں ہیں چچا کے گھر میں رونق تو بہت تھی بہو تھی، بیٹیاں Read more about غزل احتشم اختر[…]

غزلیں ۔۔ اعجازعبید

غزلیں اعجاز عبید (1) اگرچہ یادوں نے محفل یہاں سجائ۔۔۔ پر جو نیند آتی ہے سولی پہ بھی،  سو آئ۔۔۔پر۔۔۔۔! سلگتی ریت کو دو دن میں بھول جائیں نہ ہم یہ ایک شعر ہے اپنی برہنہ پائ پر میں فرشِ خاک پہ سوؤں تو سوتا رہتا ہوں ہزار خواب اترتے ہیں چارپائ پر نہ جانے Read more about غزلیں ۔۔ اعجازعبید[…]

غزل عبد اللہ ناظر

غزل عبداللہ ناظر حسین چاند سا چہرہ خمار آنکھوں میں کہاں سے آئے ہو بے اختیار آنکھوں میں نہ وہ چمن ہے نہ رنگِ بہار آنکھوں میں رہا نہ لطفِ نظر اشکبار آنکھوں میں بلا سے وعدہ تجھے اپنا یاد ہو کہ نہ ہو امید قلب میں ہے انتظار آنکھوں میں سزائے وعدہ خلافی ملی Read more about غزل عبد اللہ ناظر[…]

غزلیں۔۔ دلشاد نظمی و منظر ہمدانی

غزل دلشاد نظمی اگرچہ نکتہ چینی ہو رہی ہے مگر مسند نشینی ہو رہی ہے توکل سے فراموشی ہے شاید ہر اک خواہش کمینی ہو رہی ہے میں ہوں تنقید کے نرغے میں لیکن مِری شہرت یقینی ہو رہی ہے کھلیں ہیں بے بصارت خانقاہیں جہاں اب دیدہ بینی ہو رہی ہے دعا کو ہاتھ Read more about غزلیں۔۔ دلشاد نظمی و منظر ہمدانی[…]

غزلیں کلیم حاذق

غزلیں کلیم حاذق صبح نئی آتی ہے راتیں ڈھلتی ہیں آنکھیں لیکن اب بھی رستہ تکتی ہیں پھر بھی چاند نہیں آتا ہے قابو میں لہریں تو ویسے بانہوں میں بھرتی ہیں سانس جلن کے مارے ملتی ہے سینہ اندھیاری راتوں کی شمعیں جلتی ہیں پلکوں پر مہمان چمکتے ہیں جھلمل یادیں دستر خوان بچھائے Read more about غزلیں کلیم حاذق[…]