عرفانؔ صدیقی … غزل کا ایک نادر لہجہ ۔۔۔ اسلم عمادی

گزشتہ پچاس برس کا دور اُردو غزل کے لیے تجرباتی دور میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ اس دور میں اظہار کے اس تنگ راستہ میں نت نئے انداز کے آہنگ اور اسلوبیاتی پہلوؤں کو بدل بدل کر نہ جانے کتنے خوبصورت اور نادر پرتو پیش کیے گئے ہیں۔ ہر لہجہ اور ہر اُسلوب اپنے Read more about عرفانؔ صدیقی … غزل کا ایک نادر لہجہ ۔۔۔ اسلم عمادی[…]

رشید حسن خان اللہ کو مانتے تھے۔ ایک ردِّ عمل ۔۔۔ حنیف سید

  محبِ مکرم   عالمی فلک ۳ میں شائع محترم رؤف خیر صاحب کے مضمون کے مطابق، رشید حسن خان نے مثنوی سحر البیان کے ایک مخطوطے کی نقل کے لیے کالی داس گپتا رضا سے کہا تھا، جس کو کالی داس گپتا رضا نے محترم رؤف خیر صاحب سے منگوا کر رشید حسن خان Read more about رشید حسن خان اللہ کو مانتے تھے۔ ایک ردِّ عمل ۔۔۔ حنیف سید[…]

لا انتہا ابھی ۔۔۔ کرامت علی کرامتؔ

نہ جانے وہ لوگ گم کہاں ہیں چھلک رہی تھی فلک کے ساغر سے رحمت حق کی تند صہبا فضائے ایام میں محبت کی فاختائیں بھی پنکھ پھیلائے اڑ رہی تھیں دیار حرماں میں جھانکتی تھیں امید فردا کی نرم کرنیں مگر یہ آشوب وقت کا ہے اثر کہ جس سے جھلس گئے ہیں تصوروں Read more about لا انتہا ابھی ۔۔۔ کرامت علی کرامتؔ[…]

مسکراہٹ۔۔۔ ڈی ایچ لارنس / رئیس فروغ

اس نے سوچا، میں رات بھر بیٹھا رہوں گا۔ یہی میری سزا ہے۔ ٹیلی گرام میں ایک سادہ سا جملہ تھا۔ اوفیلیا کی حالت نازک ہے، وہ ٹرین میں سو سکتا تھا، مگر ان حالات میں یہ بات اسے بیہودہ سی لگی۔ اس لئے وہ فرسٹ کلاس کے ڈبے میں تھکا ہوا بیٹھا رہا اور Read more about مسکراہٹ۔۔۔ ڈی ایچ لارنس / رئیس فروغ[…]

نعتیں ۔۔۔ اختر شمار

سوچتے سوچتے جب سوچ اُدھر جاتی ہے روشنی روشنی ہر سمت بکھر جاتی ہے   دھیان سے جاتا ہے غم بے سر و سامانی کا جب مدینے کی طرف میری نظر جاتی ہے   اُڑتے اُڑتے ہی کبوتر کی طرح آخرِ کار سبز گنبد پہ مری آنکھ ٹھہر جاتی ہے   میں گذرتا، تو وہاں Read more about نعتیں ۔۔۔ اختر شمار[…]

دن گزرتے جا رہے ہیں ۔۔۔ اختر شمار

دن گزرتے جا رہے ہیں ہم بھی مرتے جا رہے ہیں بعد تیرے ہم دکھوں کے آنسوؤں کے باد و باراں میں نہتے دل کے ساتھ بے پناہی راستوں پر پاؤں دھرتے جا رہے ہیں دن گزرتے جا رہے ہیں لمحہ لمحہ خوف کے مارے ہوئے رات دن کے وسوسوں میں کیا خبر کیا بیت Read more about دن گزرتے جا رہے ہیں ۔۔۔ اختر شمار[…]