غزل سرور عالم راز
غزل سرور عالم راز کوئی تم سا ہو کج ادا نہ کبھو ایک وعدہ کیا وفا نہ کبھو! زخمِ دل، زخمِ جان ، زخم جگر لوہو ایسا کہیں بہا نہ کبھو ایک دریائے دردِ بے پایاں “عشق کی پائی انتہا نہ کبھو“ کوچہ کوچہ ، گلی گلی دیکھا آہ! اپنا پتا ملا نہ کبھو! سوچتا Read more about غزل سرور عالم راز[…]
