غزلیں اعجازعبید
غزلیں اعجازعبید گہری جھیل میں کوئی دائرہ سا ابھرا ہے سنگ ریزہ پھر کوئی یاد نے اچھالا ہے شب کی برف باری کی برف اب پگھلتی ہے جو بدن میں زندہ تھا، وہ پرندہ ٹھٹھرا ہے باغ، پھول، پتّی، کھیت، چاند، آسماں ، تارے یوں تو کتنے ساتھی ہیں ، دل مگر اکیلا ہے ریت Read more about غزلیں اعجازعبید[…]
