کلامِ فارسی غالب ۔۔ ترجمہ: مضطر مجاز
مرزا غالبؔ فارسی سے ترجمہ: مضطر مجاز جب ہم نے بابِ ہستی اشیا رقم کیا آفاق کو مرادف عنقا رقم کیا ایماں جو غیب پر ہو تو مٹتے ہیں تفرقے اسماکو چھوڑ چھاڑ مسمیٰ رقم کیا اندوہ غم کے نامے کا عنوان سادہ تھا خطِ شکستِ رنگ بہ سیما رقم کیا قلزم فشانی ِ مژہ Read more about کلامِ فارسی غالب ۔۔ ترجمہ: مضطر مجاز[…]
