گرے کلر کی افسانہ نگار ۔۔۔ حافظ صفوان محمد

ڈاکٹر نسترن احسن فتیحی میرے استاد پروفیسر ڈاکٹر علی رفاد فتیحی کی اہلیہ ہیں اور علی گڑھ میں رہتی ہیں۔ مجھے پروفیسر صاحب کا ایک لیکچر اٹینڈ کرنے کا موقع ملا۔ اُن کی شخصیت اور علمیت کا اثر مجھ پہ ہمیشہ کے لیے مرتسم ہو گیا۔ یہ مضمون اِنہی احترامی جذبات کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔

ڈاکٹر نسترن بنیادی طور پر ناول نگار ہیں تاہم وہ ناول اور افسانہ دونوں لکھتی ہیں۔ اردو میں بہت سی ایسی ناول نگاریں گزری ہیں جنھوں نے بہترین افسانہ بھی لکھا مثلاً قرۃ العین حیدر، خدیجہ مستور، عصمت چغتائی، وغیرہ۔ اِسی طرح مرد ناول نگاروں میں اعلیٰ درجے کا افسانہ لکھنے والے بھی ہیں جیسے منشی پریم چند، شوکت صدیقی، انتظار حسین، رحمان مذنب، وغیرہ۔ عام طور سے افسانہ نگار اپنی بات کو ڈرامائی موڑ دے کر اُس کا اختتام قاری پر چھوڑ دیتا ہے جب کہ ناول نگار اپنی کہانی کو منطقی انجام تک پہنچاتا ہے اور ناول میں جزئیات نگاری، منظر نگاری اور کردار نگاری بطور صنف اور بطور فن عروج پر نظر آتی ہے۔ افسانے میں چونکہ کردار نگاری کا حیطہ کم سے کم ہوتا ہے اِس لیے کبھی کبھی افسانہ نگار اپنے کرداروں سے انصاف نہیں کر پاتا جس کی وجہ، زیادہ تر، اُس کا اختصار ہوتی ہے۔ بعضے ناول نگاروں کے افسانے اِسی لیے اِتنے چست نہیں ہوتے۔ چنانچہ ضروری نہیں ہے کہ ایک اچھا افسانہ نگار بہترین ناول نگار بھی ہو یا ایک اچھا ناول نگار بہترین افسانہ نگار بھی ہو، مگر جن لوگوں کا یہاں ذکر کیا یہ وہ ہیں جنھوں نے اِن دونوں اصناف کو بھرپور طریقے سے نبھایا۔ ڈاکٹر نسترن اردو ناول و افسانہ نگاروں کی اِسی سنہری زنجیر کی ایک کڑی ہیں۔ مجھے یہاں اُن کی افسانہ نگاری کے حوالے سے چند باتیں کہنی ہیں۔

’’بین کرتی آوازیں‘‘ ڈاکٹر نسترن کے افسانوں کا مجموعہ ہے جو ہندوستان اور پاکستان سے بیک وقت شائع ہوا۔ پاکستان میں یہ پریس فار پیس فاؤنڈیشن کراچی سے شائع ہوا ہے اور ہندوستان میں مرکزی پبلیکیشنز جامعہ نگر نئی دہلی سے۔ کتاب کے دو حصے ہیں۔ پہلے میں 19 افسانے اور دوسرے میں 11 افسانچے۔ اِن گیارہ افسانچوں میں سے ایک تحریر ’نئی عبارت‘ افسانچہ نہیں بلکہ حقوقِ انسانی کی دو ایکٹوسٹ خواتین (سبین محمود از کراچی اور گوری لنکیش از بنگلور) کے لیے خراجِ عقیدت ہے۔ افسانوں کے اِس مجموعے کا ’پیش لفظ‘ معروف پاکستانی افسانہ نگار محترمہ سبین علی (لاہور) نے لکھا ہے اور حق یہ ہے کہ ڈاکٹر نسترن کی تخلیقی نفسیات کی تحلیل پیش کر دی ہے۔

پہلی بات ڈاکٹر نسترن کے افسانوں کے موضوعات کی کیے لیتے ہیں۔ موضوعات کے اعتبار سے اُن کے افسانے ترقی پسند تحریک ہی کی بازگشت اور اُن پر اضافہ ہیں اور اِن میں سماجی نا انصافی، حکومتی اور سماجی جبر، معاشی نا ہمواری، وغیرہ، کے مناظر اور قیل و قال ہے۔ دنیا صنعتی ترقی کے دور سے چھلانگ لگا کر اطلاعیات کے دور میں داخل ہو گئی ہے اور ادب و زندگی کے آپسی تعلق کا جو ایک بالکل نیا فائبر سامنے آ رہا ہے، وہ اِن تمام افسانوں افسانچوں میں موجود ہے۔ یہ افسانے افسانچے آج کے سائبر سماج سے جڑے ہوئے ہیں۔ تاہم سائبر سماج سے جڑاؤ کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ اِن افسانوں افسانچوں میں جدے دیت کا رنگ یا مغربیت مآبی ڈالنے کے لیے مغرب کا ساز و سامان، مصنوعات یا ماحول دکھایا گیا ہے اور مغرب کے مقابلے میں اپنے ملک اور سماج کو ہلکایا گیا ہے۔ ڈاکٹر نسترن کے افسانوں میں اپنے سماج اور اپنے وطن کے لوگوں سے تعلق و محبت ایماناً پائی جاتی ہے۔

سماج اور وطن کا ذکر آیا تو میں یہاں ڈاکٹر نسترن کے ہاں موجود نظریۂ وطن و وطنیت کا خاص طور سے ذکر کرنا چاہوں گا۔ برِصغیر میں جب مسلمانوں کا اقتدار ختم ہو گیا تو مولانا الطاف حسین حالی نے شکوۂ ہند کے نام سے ایک نظم لکھی تھی جس کا یہ شعر ملاحظہ ہو:

رخصت اے ہندوستاں اے بوستانِ بے خزاں

رہ چکے تیرے بہت دن ہم بدیسی میہماں

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حالی کہاں کے بدیسی تھے؟ ذات کے انصاری تھے یعنی جولاہوں کی برادری کے فرد تھے۔ یہ بات میں کسی تحقیر کی بنا پر نہیں کہہ رہا۔ برِ صغیر میں اِس برادری کی دینی خدمات کسی بھی دوسری برادری سے زیادہ ہیں۔ میرے بچپن تک نوے فیصد امام مسجد اِسی برادری سے ہوتے تھے۔ لیکن افسوس کہ حالی اپنی اصل بھلا کر خود کو بدیسی بنا بیٹھے۔ یہی حال علامہ اقبال کا بھی ہے۔ اُن کا ایک شعر ہے:

پھر بلا لے مجھ کو اے صحرائے وسطِ ایشیا

آہ! اِس بستی میں اب میرا گزارا ہو چکا

اب بندہ پوچھے کہ جب آپ خود کو بڑے فخر سے کشمیری برہمن بھی کہتے ہیں تو پھر وسطِ ایشیا کے صحراؤں سے آپ کا کیا لینا دینا ہے؟

اِن تعلیمات کے نتیجے میں اِس علاقے کے لوگوں نے گویا تہیہ کر رکھا ہے کہ یہودیوں کی طرح جہاں بھی رہنا ہے غریب الوطن ہی رہنا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہودی جہاں بھی رہتے ہیں وہاں اپنی علمی اور اقتصادی ترقی کا بہت دھیان رکھتے ہیں البتہ ہم مسلمانوں کا حال غیبی اسباب پر پلنے والے پردیسی مسافر جیسا ہی ہوتا ہے الا ماشاء اللہ۔ جس نے جگہ دے دی وہاں ٹھیہ دے دیا، اٹھا دیا تو خانہ بدوش چل پڑے۔ مسلم ہیں ہم وطن ہیں سارا جہاں ہمارا۔ عرض یہ کرنا ہے کہ ڈاکٹر نسترن کی تحریروں میں اِس قسم کا شناختی بحران نہیں پایا جاتا اور نہ اُنھیں اپنے وطن اور پاسپورٹ پر کوئی شرمساری ہے۔ وہ حکومت اور ریاست کا فرق جانتی ہیں اِس لیے حکومت و ریاست سے گلہ شکوہ بھی اِسی بنیادی فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے کرتی ہیں۔ وطن میں رہتے ہوئے ریاست سے اجنبیت برتنا اور اِس اجنبیت کی آڑ میں ریاست سے ناراضگی کی سرخ لکیر پار کر کے ریاست دشمنوں کی بولی بولنے لگنا اور اُن کا نہ صرف بیانیہ اپنا لینا بلکہ ریاست سے انتقام لینے کے لیے ادب کو استعمال کرنا، وہ خاص چیز ہے جو سرحد کے دونوں طرف کے افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں میں امتیاز پیدا کرتی ہے۔

القصہ ’’بین کرتی آوازیں‘‘ میں ہندوستان سے باہر کے ماحول والا کوئی بھی افسانہ افسانچہ نہیں ہے۔ لیکن اِس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ڈاکٹر نسترن کے ہاں یہ چیز بطور اصول پائی جاتی ہے۔ ضرورت کے مطابق وہ ایسا کر بھی لیتی ہیں مثلاً حال کے ایک افسانے میں اُنھوں نے فلسطین کا ماحول دکھایا ہے۔ اِسی طرح اُن کے سفر نامے میں کوریا کا ذکر ہے۔ وغیرہ۔

کتاب وہ لفظ ہے جو مجھے ڈاکٹر نسترن کے ہاں بیشتر افسانوں افسانچوں میں نظر آیا اور میں اِسے اُن کا کلیدی لفظ سمجھتا ہوں۔ آخر اُن کی گھریلو زندگی بھی کتاب ہی کے گرد گھومتی ہے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تا زندگی تعلق۔ کتاب اور کتاب پڑھتا لڑکا لڑکی اُن کے افسانوں میں نظر آتا ایک عام کردار ہے۔ بطور مثال میں یہاں صرف ایک افسانے ’ہٹلر‘ کا ذکر کرتا ہوں۔ اِس میں بپھرے ہوئے ہجوم میں ماب لنچنگ جیسی کیفیت پیدا ہونے کو ہوتی ہے کہ ایک لڑکا افسانے کی ہیروئن کے بیٹے کے ہاتھ میں پکڑی کتاب کو تمنچے کی ٹھوکر سے نیچے پھینک دیتا ہے اور وہ پائمال ہو جاتی ہے۔ کتاب پھینکنا وہ واضح اشارہ ہے کہ حکومت نے علم کو کس طرح اپنے بوٹوں کے نیچے روند ڈالا ہے، کس طرح یونیورسٹی کو ٹارگٹ کیا ہے، کس طرح طالب علموں کو جائز احتجاج کرنے پر جیلوں میں ٹھونس دیا ہے۔ یہ علامت ہے کہ حکومت ایک اندھی بہری بھیڑ کی تقلید چاہتی ہے جس کے پاس نہ علم کی روشنی ہو نہ وہ معاشی طور پر مستحکم ہو تاکہ یہ اپنی مرضی کی بھیک دے کر اُسے استعمال کرے اور ایک جمہوری ملک کو اپنی آمریت تلے روند سکے۔ ہندوستان کی موجودہ حکومت اور کرونائی بندش کے ایام میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلبہ کے احتجاج پہ پولیس گردی اور تعلیم کی بندش وغیرہ جیسے واقعات جس جس کے علم میں ہیں اُس کے لیے یہ افسانہ بالکل سامنے کی حقیقت ہے۔

یہاں سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ڈاکٹر نسترن حکومتی و ریاستی استبداد اور ظالم و مظلوم کے درمیان آویزش دکھانے کے لیے شیر اور بکری والا روایتی استعارہ استعمال نہیں کرتیں بلکہ ادبی پیرائے اور روا لہجے میں براہِ راست بات کرتی ہیں۔ ایک افسانے میں البتہ شیر موجود ہے جسے لوگوں نے طاقت کی علامت کے طور پر دیکھا۔ لیکن یہ شیر شیر ہی تھا نہ کہ علامتی افسانہ۔

تاہم لسانیات سے گہرے لگاؤ اور سماج کی زندہ رود سے منسلک ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر نسترن ادب اور سائبر ادب کی پہنائیوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ خوب سمجھتی ہیں کہ آج سوشل میڈیائی عوام اور گروپوں کی صورت میں عوام کے گروہ جو ادب کے عنوان سے پیش کردہ ہر کاوش پر بے تحاشہ اچھا یا برا رسپانس دینے لگتے ہیں، یا پرانے محاورے کے مطابق داد سے چھتیں اڑا دیتے ہیں، یہ درست لفظی معنی میں ادب کی تحسین یا فروغ نہیں ہے بلکہ محض ایک لہر ہے جو بہت جلد گزر جاتی (fade away) ہے۔ ذرا سا وقت گزرنے کے بعد کسی کو یاد بھی نہیں رہتا کہ داد کس بات پر دی گئی تھی یا برا کس وجہ سے کہا گیا تھا۔ اور تو اور، جن کی-بورڈ مجاہدین نے یہ فوری رسپانس ریکارڈ کیا ہوا ہوتا ہے اُن کو خود بھی کچھ یاد نہیں ہوتا کہ کی-بورڈ توڑ داد کس لیے دی تھی اور کس چیز پر دی تھی۔ اِس حقیقت کے کامل ادراک کے ساتھ ادب اور سوشل میڈیائی شور شرابے کے درمیان فرق پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر نسترن نے لکھا ہے کہ ’’سوشل میڈیا اور ادب کے درمیان ایک رشتہ ہے لیکن اِس رشتے کے باوجود سوشل میڈیا (کی تحریر) ادب نہیں ہے۔ ادب کے مطالعے کے لیے وقت اور ارتکاز کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ آپ کتاب کے ساتھ جد و جہد کرتے ہیں اور کتاب آپ کے ساتھ جد و جہد کرتی ہے۔ اِس طرح کتاب کے معنی اور مفہوم تک آپ کی رسائی ہوتی ہے۔ گویا ادب آپ کے خیالات کی تشکیلِ نو کرتا ہے اور ایک منفرد زاویے سے سوچنا اور محسوس کرنا سکھاتا ہے۔ شاید سوچنے اور محسوس کرنے کی یہی قوت انسانوں کو مشین پر فوقیت عطا کرے گی۔ اِس لیے ادب میٹافورسز ہے اور بنیادی سطح پر تبدیلی لاتا ہے کیونکہ یہ لوگوں کے دلوں اور روح کو چھوتا ہے۔ ادب کا فوری اثر نہیں ہوتا۔ اِس میں موجود پیغام کو پھیلنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ لیکن جب ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک طویل عرصے تک موجود رہتا ہے۔‘‘ (ص- 15)

البتہ جو چیز ڈاکٹر نسترن کے افسانوں میں خاص طور سے نوٹ کرنے کی ہے وہ یہ کہ ترقی پسندی کے چارٹر کا اوّلین نکتہ یعنی جنسی جانوریت یا مرد و عورت کے تعلقات کی کوئی شکل جو کسی جگہ کے سماج یا مذہب کی نا منظور کردہ ہو اُس کا بیان یا تبلیغ، خوردبین لے کر دیکھیں تب بھی اِن افسانوں میں یہ موضوع نظر نہیں آتا۔ جب میں نے محسوس کیا کہ اِس جہت میں یہ افسانے بالکل ’خالی‘ جا رہے ہیں تو میں نے ڈاکٹر نسترن سے وھاٹس ایپ پر یہ بات پوچھی۔ اُنھوں نے لکھا کہ ’میرے کسی افسانے میں یہ موضوع نہیں ہے۔ میں نے بچپن سے آج تک رشتے اور دوستیوں میں صرف عورت کو عزت ملتے دیکھا ہے۔ معاشرے میں جتنے بھی ایسے واقعات ہو جائیں مگر خود جو احترام پایا ہے وہ مجھے اِس موضوع پر قلم اٹھانے نہیں دیتا۔ اور اگر میں ریپ کے اندھا دھند واقعات ہوتے دیکھ اور سن رہی ہوں تو عورتوں کی بے جا آزادی اور بے راہ روی بھی دیکھ رہی ہوں۔‘ مجھے ایک پڑھی لکھی عورت کے سماجی خرابیوں کے اظہار کے بارے میں اِس متوازن اور اصولی رویے پر از حد خوشی ہوئی حالانکہ ادب کے نام پر کچھ بھی لکھا اور شائع کیا جانا آج کا عام چلن ہے۔ میں باطمینان کہہ سکتا ہوں کہ ڈاکٹر نسترن حقوقِ نسواں کے لیے کام کرتے ہوئے عورت کارڈ استعمال کیے بغیر اپنا نقطۂ نظر وضاحت کے ساتھ پیش کرنے کے فن سے آشنا ہیں۔

سب سے خاص چیز جو ڈاکٹر نسترن کے افسانوں میں دور سے نظر آ جاتی ہے وہ اُن کا تقابلی رویہ ہے۔ بلکہ مجھے کہنے دیجیے کہ اردو کے کلاسیکی محاورے کے مطابق وہ تقابل کیے بغیر نوالہ بھی نہیں توڑتیں۔ نیز اِن افسانوں میں کوئی ہیرو یا ہیروئن انسانی علائق سے ماورا اچھائی یا برائی کا دیومالائی کردار نہیں ہے اور نہ کسی افسانے میں کسی قسم کا یوٹوپیا دکھایا گیا یا اُس کی امید دلائی گئی ہے۔ ڈاکٹر نسترن یکطرفہ الزام لگا کر کسی ایک جنس، ایک فرقے یا ایک شخص کے خلاف کچھ نہیں لکھتیں بلکہ اُن کے ہاں بلیک اینڈ وائٹ سے زیادہ گرے کلر ملتا ہے۔ کوئی ہیرو ہے تو اُس میں سب اچھا ہے اور ولن ہے تو سب خراب، وغیرہ، یہ ٹریٹمنٹ اُن کے ہاں بالکل بھی نہیں ہے۔ چنانچہ میں اُنھیں گرے کلر کی افسانہ نگار کہتا ہوں۔ جن خوبیوں کو سماج کی منظوری ملی ہوئی ہے اور جن خرابیوں پر سماج کی ناپسندیدگی کی مہر لگی ہے وہ اُن کا احترام کرتی ہیں لیکن طرفدار ہو کر سوچنا شاید اُن کے لیے ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ میڈیا کی اٹھائی ہوئی کسی بھی چلتی چلاتی خرابی کے خلاف یا اچھائی کے حق میں جوشیلی علمبردار بن کر سامنے نہیں آتیں۔ اُنھوں نے ایکو فیمنزم پر اُس وقت لکھا جب ابھی اردو میں اِس کا نام بھی کسی نے نہیں سنا تھا۔ وہ خواتین کے حقوق کی ایڈووکیسی کرتی ہیں لیکن پاکستانی سٹائل کی فیمنسٹ اپروچ اور واہیات نعروں والے پلے کارڈز وغیرہ کا اُن کے ہاں شائبہ بھی نہیں ملتا۔ فیمنسٹ عورتوں کے اِس رویے نے غریب اور مجبور پاکستانی عورتوں کا فائدے سے زیادہ نقصان کر دیا ہے۔

کرافٹ کے اعتبار سے ڈاکٹر نسترن کے افسانے میں زیادہ تر تخلیقی اور موضوعاتی اکہر پائی جاتی ہے۔ اُن کا کوئی افسانہ کم لفظوں میں زیادہ پیغام بھرنے کے چکر میں اوور لوڈڈ نظر نہیں آتا۔ بیشتر افسانوں کا پلاٹ بالکل دو جمع دو چار جیسا واضح ہے۔ پلاٹ کی اِسی سادگی کی وجہ سے اِس کتاب کے کچھ افسانے فلمائے جانے کے لیے بالکل تیار نظر آتے ہیں اور کچھ افسانچے شارٹ فلم بن سکتے ہیں۔

زیادہ تر افسانہ نگاروں کی طرح ڈاکٹر نسترن کے ہاں بھی افسانے کو المیہ اختتام کی طرف لے جانے کا رجحان ہے۔ اردو افسانے میں یہ رجحان ترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر آیا ہے اور بہت توانا ہے۔ طربیہ اختتام والا افسانہ ادبی حلقوں میں عام طور پر غیر سنجیدہ افسانہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک اور چیز ڈاکٹر نسترن کے ہاں یہ ہے کہ چونکہ وہ افسانچے مائیکرو فکشن فلیش فکشن وغیرہ وغیرہ جیسی نئی چیزوں کا کم و کاست بہت اچھے سے جانتی ہیں اِس لیے اپنے افسانے کے کہانی پن کو فکشن کے سکۂ رائج الوقت پہ قربان نہیں کرتیں۔

ڈاکٹر نسترن کے افسانوں میں مکالمے کم ہیں اور تبصرے (commentary) بھی مناسب تعداد میں ہیں۔ لیکن اِن تبصروں سے بھاشن والا تصور نہیں ابھرتا اور نہ کسی ادبی یا سیاسی نظریے کے لیے پروپیگنڈہ والی کوئی بات نظر آتی ہے۔ چنانچہ یہ افسانے صرف اور محض ادب ہیں جو ہمارے سماج و زندگی سے مربوط ہے۔

لفظیات کے پیمانے پر دیکھیں تو یہ افسانے کسی بھی خاص زبان یا بولی کے لفظوں اور محاورات سے بوجھل نہیں ہیں بلکہ عام چلتی چلاتی زبان میں لکھے گئے ہیں۔ اردو، ہندی، عربی فارسی یا انگریزی کے کسی بھی لفظ کو نہ تو خاص طور پر بطور متبادل لایا گیا ہے اور نہ کسی زبان کے کسی لفظ کو دھتکارا گیا ہے۔ پوری کتاب میں لسانی بازیگری کا کوئی ایک بھی نمونہ مجھے نہیں ملا۔ افسانوں افسانچوں کے عنوانات میں بھی انگریزی کے لفظ بے تکلف استعمال ہوئے ہیں۔ یہ مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈاکٹر نسترن کے ہاں تطہیرِ زبان (language purism) کے نام پر لسانی چھوت چھات کا کوئی گزر نہیں ہے۔

آخری بات اِن افسانوں کی ریڈایبلٹی کی کیے لیتے ہیں۔ ڈاکٹر نسترن کے افسانے/افسانچے اپنی علمیت، ادبیت اور درست تاریخی شعور کی وجہ سے قاری کو اپنی جانب مبذول رکھتے ہیں۔ سائبر دور کے شور شرابے میں تحریر کے اندر ایسی وجہِ جاذبیت قائم رکھنا ایک باقاعدہ فن بن گیا ہے جس کی ایک خوبصورت مثال افسانوں کا یہ مجموعہ ’بین کرتی آوازیں‘ ہے۔

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے