زرد بلون ۔۔۔ نسترن احسن فتیحی

آسیہ گھبرائی ہوئی گھر میں داخل ہوئی۔ ’’ابا کیسے ہیں۔‘‘ اس نے سامنے سے آتی ہوئی ملازمہ سے پوچھا۔

’’ٹھیک ہیں۔۔ سو رہے ہیں۔ ڈاکٹر نے انجکشن دیا ہے۔‘‘

آسیہ نے والد کے کمرے میں جھانکا۔ بستر پر بے ہوش پڑے تھے۔ کتنے کمزور ہو گئے ہیں۔۔ سرخ و سفید رنگ بالکل زرد ہو گیا ہے۔ ’زرد‘ یہ لفظ ذہن میں آتے ہی نظر پھسلتی ہوئی کمرے کے کونے میں پڑے زرد بلون پر ٹھہر گئی۔ سارا قصور اس زرد بلون کا ہی تو ہے۔ اس کا بس چلتا تو اسے اٹھا کر کب کا پھینک چکی ہوتی۔ مگر نہ جانے کون سی منحوس گھڑی تھی کہ یہ زرد بلون اس گھر کا لازمی جز بن گیا تھا۔ وہ لاؤنج میں آ کر صوفے پر ڈھیر ہو گئی۔ سو کیلو میٹر ڈرائیو کر کے گاڑی کس تیزی سے بھگا کر لائی تھی۔ جسمانی سے زیادہ ذہنی تکان تھی۔ یہ بھاگ دوڑ تو اب جیسے روز کے معمول کا حصہ تھا۔ ‍ملازمہ چائے ناشتہ لے آئی۔

چائے پیتے ہوئے اس نے ملازمہ سے پوچھا۔ ’’دورہ شدید تھا۔۔؟ پچھلی بار کی طرح۔‘‘

’’نہیں۔ ہلکا ہی تھا۔۔ میں ڈر زیادہ گئی تھی، اس لئے آپ کو فون کیا، ڈاکٹر صاحب اس وقت گھر پر ہی تھے تو فوراً آ گئے۔ انجکشن لگا دیا ہے۔ کہ کر گئے ہیں جب اٹھیں گے تو بالکل نارمل رہیں گے۔‘‘

آسیہ نے پرس کھول کر ایک زرد بلون کا پیکٹ نکالا۔ اور ملازمہ کی طرف اچھالتے ہوئے ناراضگی سے کہا۔

’’یہ رکھو۔۔ کتنی بار کہا ہے کہ پیکٹ ختم ہونے سے پہلے ہی لا کر رکھ لیا کرو۔‘‘

’’غلطی ہو گئی، بازار گئی تو لینا بھول گئی تھی۔ پھر بعد میں لے آئی۔‘‘

’’تمہاری چھوٹی سی غلطی ایک دن ان کی یا میری جان لے لے گی۔ محلے پڑوس میں تماشہ بنتا ہے وہ الگ۔‘‘

’’جی باجی اس بار بھی سب خیریت پوچھنے کے بہانے آنے لگے اور ایک ہی سوال اس بلون کا کیا قصہ ہے، کچھ لوگ تو مذاق بھی اڑا رہے تھے کہ نوے سال کے بوڑھے کو بلون سے کھیلتے پہلی بار دیکھا ہے۔‘‘

’’وہ نہیں اڑا رہے تھے مذاق۔۔ تم اڑواتی ہو ان کا مذاق۔ جبکہ ان کے دئے گھر میں رہتی ہو، ان کا دیا کھاتی ہو۔ مگر ایک مجبور ضعیف آدمی کا ٹھیک سے خیال نہیں رکھ سکتیں۔‘‘

’’آئندہ غلطی نہیں ہو گی۔ ‘‘

’’خیر جاؤ یخنی بنا لو۔ اٹھ جائیں گے تو میں یخنی پلا دوں گی۔ اور آج واپس نہیں جاؤں گی۔ کل اتوار ہے۔ اس لئے رکوں گی۔‘‘

’’ٹھیک ہے باجی میں آپ کے لئے کھانا بنا لیتی ہوں۔‘‘

ملازمہ کے جانے کے بعد آسیہ نے والد کے کمرے کا پھر سے ایک چکر لگایا اور واپس لاؤنج میں آ کر صوفے پر نیم دراز ہو گئی۔ اب اس کی بھی تو عمر ہو گئی ہے، ‍ذرا سا میں دل گھبرا جاتا ہے۔ سارے حالات کے بارے میں وہ اب سوچنا بھی نہیں چاہتی۔ صرف زمینی جنگیں تباہی نہیں پھیلاتیں یا بڑے بڑے قلعے کو کھنڈر بنا کر نہیں چھوڑ دیتیں بلکہ انسان کی باطنی جنگیں بھی شخصیت کے بڑے بڑے پہاڑ کو مسمار کر دیتی ہیں۔ فولاد جیسی ہمّت بھربھری مٹّی ثابت ہوتی ہے۔

اسے یاد آیا کہ اس کے ابا کتنے خوب رو اور مضبوط اعصاب کے مالک تھے مگر آج سے تیس سال پہلے اس زرد بلون کا قصہ اس گھر میں رو نما ہوا تھا اور اس کے بعد کا سارا وقت اسی لمحے میں قید ہو کر رہ گیا ہے۔ اور تب سے وہ ایک معمولی سے بلون کے اسیر ہو کر رہ گئے تھے۔ ان کی باطنی جنگ نے ان کی مضبوط شخصیت کے پہاڑ کو کرچی کرچی بکھیر دیا تھا۔ ڈاکٹر بھی کہتے تھے ان کی سانسیں کسی ادھوری خواہش کی تکمیل میں اٹکی ہیں۔ نہ جانے ان کی نفسیات میں کون سی گرہ پھنسی ہے کہ وہ اس غم سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہتے۔

ویسے یہ اندازہ تو ہے ہی کہ عدنان بھائی کی جدائی میں ہی اس زرد بلون کا اسرار چھپا ہے۔ اس کی آنکھ سے آنسو کا ایک قطرہ نکل کر اس کے بالوں میں جذب ہو گیا۔ ابا کی فکر میں وہ اپنے گھر میں بھی چین سے نہیں رہ پاتی۔ تیس سال سے وہ بھی تو اس کرب میں مبتلا ہے، جس میں ابا جی رہے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ابا مسلسل اسی میں جیتے رہے اور وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں میں اسے بھول جاتی ہے۔ تیس سال پہلے عدنان بھائی اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ اچانک ہی بیرون ملک نکل گئے تھے، انہیں معلوم تھا ابا اجازت نہیں دیں گے تو اچانک آ کر بتایا کہ وہ جا رہے ہیں اور جلد ہی انہیں بھی بلا لیں گے۔ جانے کے کچھ عرصے بعد ٹکٹ آیا، مگر ابا اتنے سہل تو کھی نہ تھے۔ ہمیشہ کے غصہ ور مشہور تھے۔ ان کی سنجیدگی اور کم گوئی نے کبھی کسی کو ان سے بے تکلف ہونے ہی نہ دیا۔ بھائی نے ان کا اعتبار توڑا تھا، جانے کی خبر کسی میزائل کی طرح ان پر داغ دیا تھا۔ اس لئے ان کے جانے کے بعد گھر میں قیامت کی خاموشی تھی۔ ابا اپنے کمرے کے ہو کر رہ گئے۔ کسی کو اجازت نہ دی کہ ان کی دلجوئی یا غمگساری کرے۔ ویسے بھی اپنی زندگی کا پہلا غم انہوں نے بڑی خندہ پیشانی سے قبول کیا تھا۔ تو سب کو امید تھی اس غم سے بھی جلد ابر جائیں گے۔

’’باجی سوپ تیار ہے۔‘‘ ملازمہ سر پر کھڑی تھی۔

’’ ٹھیک ہے اٹھیں گے تو میں پلا دوں گی۔ تم جاؤ۔، اچھا سنو ڈاکٹر صاحب نے کچھ کہا ہے کہ وہ پھر آئیں گے یا نہیں؟‘‘

’’شام میں ہاسپٹل سے لوٹیں گے تب آئیں گے باجی۔ وہ ہفتے میں ایک بار ابا جی کو ضرور دیکھنے آتے ہیں آج تو طبیعت ہی خراب ہے۔‘‘

’’ہممم۔۔ یہ اچھا انتظام ہو گیا ابّا کے لئے کہ اس نے باہر والا پورشن ایک ڈاکٹر کو کرائے پر دے دیا۔ ویسے بھی سارا گھر خالی ہی پڑا تھا اب کم از کم کچھ رونق تو رہتی ہے۔ اور وقت بے وقت علاج کی سہولت بھی۔‘‘ اسے یاد آیا۔۔

ابا کا پہلا غم اماں کی موت تھی۔ جنہیں وہ بے حد چاہتے تھے۔ وہ بہت چھوٹی تھی شاید صرف پانچ سال کی۔ اور بھائی دس سال کے۔ کہ اماں کو کینسر تشخیص ہوا وہ بھی کھانے کی نلی کا۔ علامات اتنی دیر سے واضح ہوئی کہ علاج کرانے کا وقت تک نہ ملا چٹ پٹ چلی گئیں۔ اسے تو یاد بھی نہیں کہ اماں کیسی تھیں۔۔ نہ ہی ان کے جانے کا صدمہ اس پر سے گزرا۔ سب کچھ ابا نے اپنی سنجیدگی سے ڈھک دیا۔ ان دونوں بھائی بہنوں کو کبھی کوئی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ جو گزری تنہا ان پر گزری۔ اچھی تعلیم دلائی۔ پہلے اس کی شادی کر دی ابھی وہ گریجویشن ہی کر پائی تھی۔ اس کے جانے کے بعد کہتے اب عدنان کی شادی کر کے ایسی بہو لانی ہے جو گھر کو گھر بنا دے۔ بڑے شوق سے رشتے کے لئے سب سے کہتے۔ چند ہی سالوں میں بھائی کی شادی ہو گئی۔ ایک سال بعد ایک بیٹا بھی ہو گیا۔ اپنی پوری زندگی میں اس نے ابّا کو اتنا خوش کبھی نہ دیکھا تھا۔ اسی زمانے میں وہ جب جب آتی وہ اسے عدنان کے بچپن کی شرارتیں سنایا کرتے۔ وہ چھوٹا تھا تو ایسے کرتا تھا تمہاری امی ناراض ہو جاتیں اگر میں اسے نیچے مٹی میں اتار دیتا۔ اسے یقین ہی نہ آتا یہ ہر وقت خاموش اور سنجیدہ رہنے والے اس کے ابا ہیں۔ وہ شکایت کرتی۔۔ ابا آپ جتنا بھائی کے بیٹے علی کو مانتے ہیں میرے بچوں کو نہیں۔

وہ دل کھول کر ہنستے۔ پگلی ان پر میرا اتنا حق نہیں ان کے دادا کا ہے۔ میرا پوتا مجھے چھوڑ کر تھوڑے ہی چلا جائے گا تمہاری طرح۔

مگر وہ چلا گیا۔۔ ڈیڑھ سال کا ہی تو ہوا تھا۔۔ کچھ دن سے پاؤں پاؤں چلنے لگا تھا۔ ہر وقت ان کے ساتھ لگا رہتا کیونکہ بھابھی نوکری کرتی تھیں۔ بچے کو ملازمہ پر چھوڑ جاتیں جو انہیں پسند نہیں تھا مگر بیٹے بہو کی خاطر چپ رہتے۔ بچہ دادا کے ساتھ زیادہ وقت گزارتا۔

آسیہ کو اچانک خیال آیا ابا اٹھ نہ چکے ہوں۔۔ وہ خیالوں کے گرداب سے نکل آئی۔ ابا کے کمرے میں پہنچی تو وہ جائے نماز بچھا کر سجدے میں تھے۔

ہمیشہ سے نماز کے پابند تھے آج بھی کرسی پر بیٹھ کر نماز نہ پڑھتے۔ بلکہ ‌زمین پرہی اپنی مخصوص جگہ پر جانماز بچھا کر بیٹھ جاتے۔ جیسے جیسے ضعیف ہو گئے تھے ان کے سجدے طویل ہو گئے تھے۔ بلکہ کئی بار تو رکعت پر رکعت ادا کرتے جاتے اور سلام نہ پھیرتے۔ ہر بات کی طرح نماز کی رکعتیں بھی بھول جایا کرتے۔ اگر کچھ نہ بھولتے تو عبادت کرنا یا کمرے کے کونے میں رکھا زرد بلون۔

زرد بلون اسی کونے میں رہتا تھا جہاں پر وہ نماز ادا کرتے تھے۔ وہاں سے کوئی اسے ہٹا نہ سکتا تھا۔ نماز پڑھنے سے پہلے پنکھا تیز چلایا کرتے۔ اور ایسا لگتا کہ زرد بلون بھی ان کی اس عبادت کا ضروری حصہ ہے۔ پنکھے کی تیز ہوا سے کونے میں خاموشی سے پڑا بلون رقص شروع کر دیتا۔ ایسا لگتا کہ وہ انہیں چھیڑ رہا ہے۔ انہیں سجدے میں جانا ہوتا تو وہ عین سجدے کی جگہ پر آ گرتا۔۔ کبھی سجدے میں ہوتے تو ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھتا۔ گویا پوری نماز میں وہ ان کے ارد گرد رقص کرتا رہتا۔ اور وہ پورے انہماک سے اپنی عبادت میں مشغول رہتے۔ نماز ختم کر کے مسکراتی نظروں سے بلون کو دیکھتے رہتے۔ کبھی کبھی ہاتھ بڑھا کر پکڑ بھی لیتے۔ اور دھیرے سے اسے ایک بوسہ دے کر کونے میں ڈال دیتے۔ آج بھی یہی کچھ ہوا۔ آسیہ صبر سے ان کے اور بلون کے اس عجیب رشتے کو دیکھتی رہی۔ جب نماز ختم ہوئی تو اس نے دوڑ کر والد کو سہارا دے کر بستر تک لائ، جانماز موڑی۔ انہیں تکیہ پیچھے لگا کر بٹھاتی ہوئی بولی۔۔ ’’کیسی طبیعت ہے ابّا۔۔‘‘

وہ کچھ نہ بولے بڑی اجنبی نظروں سے اسے دیکھتے رہے۔ آسیہ کا دل کٹنے لگا۔۔ تو یہ اب مجھے بھی نہیں پہچانتے۔

ملازمہ سوپ لے آئی۔ سوپ پلاتے ہوئے آسیہ خود ہی ان سے باتیں کرتی رہی، شکوہ کرتی رہی، آنسو بہاتی رہی اور وہ اسے خالی خالی نظروں سے دیکھتے رہے۔ بچوں کی طرح منھ کھول کر سوپ پی لیتے۔ آسیہ کو یاد آیا اس کے آنے پر کیسے ان کے لبوں پر مسکراہٹ دوڑ جایا کرتی تھی۔ جیسے اب زرد بلون کو دیکھ کر دوڑتی ہے۔ رخصت کرتے وقت وہ کتنے پیار سے اس کی پیشانی پر بوسہ دیتے تھے۔ جیسے اس زرد بلون کو اٹھا کر دیتے ہیں۔ ابا کو حال تو یاد نہیں تھا، مگر ماضی بھی کہاں یاد تھا۔ وہ تو صرف کسی ایک لمحے کی قید میں تھے۔ جب حواس درست تھے تب اپنے جذبات پر قابو رکھتے تھے، اپنے غم چھپا لیتے تھے۔ اب حواس کمزور ہو چکے ہیں تو اپنی بے چینی چھپا نہیں پاتے۔ زرد بلون نہ دیکھیں تو ہسٹریا جیسا دورہ پڑ جاتا ہے۔ جو سامنے آئے اسے دھکا دینے لگتے ہیں، چیخنے لگتے ہیں۔ پچھلی بار تو اس کے سامنے ہی ہوا تھا۔ وہ سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی کہ ایک بلون ہی تو ہے ابھی آ جائے گا۔ مگر انہوں نے اپنا سر دیوار پر مار لیا تھا۔ بار بار کہتے کہ انہیں تصویر بنانی ہے وہ مکمل نہیں ہوتی۔۔ کون سی تصویر ابّا۔۔

وہ کہانی پوری کرنی ہے۔۔ ادھوری کہانی۔

کون سی کہانی وہ روتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔ آپ نے تو کبھی کوئی کہانی نہیں لکھی۔ مگر وہ زور زور سے اپنے سر پر مکا مارتے جیسے کچھ یاد نہیں آ رہا، جیسے کسی ادھوری تصویر کو ذہن میں مکمل کرنا چاہتے ہیں۔

یہ دورہ کسی بھی وقت پڑ جاتا۔ خاص کر جب زرد بلون نظر نہ آتا۔

شام میں ڈاکٹر آئے۔ آسیہ سے تفصیل سے بات کی۔

حالت اچھی نہیں ہے۔۔ بی پی بہت لو ہے۔ نہ جانے کس چیز کا انتظار ہے۔ کس بات میں روح اٹکی ہے۔ آپ لوگ اب کچھ دن ساتھ رہئے۔ ’’ٹھیک ہے ڈاکٹر‘‘ آسیہ نے کہا اور ڈاکٹر کے جانے کے بعد بھابھی کو فون ملایا۔

’’بھابھی۔۔ ابا کی حالت اچھی نہیں، ڈاکٹر نے جواب دے دیا ہے۔‘‘

’’میں کیا کروں آسیہ۔۔‘‘

’’ایک بار تو آ کر مل لیں۔ شاید آپ کو اور ان کو بھی قرار آ جائے۔‘‘

’’کس منھ سے آؤں۔‘‘

’’جب ہم آنا چاہتے تھے وہ اتنے ناراض رہے کہ کبھی اجازت نہیں دی۔ ملنا ہی نہیں چاہتے تھے ہم سے۔ جب وہ نرم پڑے تو عدنان اپنی بیماری اور پریشانی میں یہی سوچتے رہے کہ اب کیسے ملوں اس حالت میں۔ وہ ملنا چاہتے تھے مگر ان کو اس صدمے سے بچانا بھی چاہتے تھے کہ انہیں پتا چلے کہ عدنان کو بھی کینسر ہے۔ عدنان نے ہمیشہ یہی کہا کہ ابّا کو تکلیف دینے کی سزا ملی۔‘‘

’’جانتی ہوں بھابھی بھائی کو زندگی نے مہلت ہی نہ دی

کہ وہ اپنی اس غلطی کا ازالہ کرتے۔‘‘

’’ہاں۔۔ اور عدنان کے جانے کے بعد مجھے حوصلہ نہ ہوا کہ ان سے ملوں اور بتاؤں کہ آپ کا عدنان اس دنیا میں نہیں ہے۔‘‘

’’علی تو ہے نا بھابھی پلیز اسے لے کر آئیے۔ پرانی باتیں چھوڑیے، آپ کی پشیمانی اور ان کا غم شاید علی کو دیکھ کر ختم ہو جائے۔ ویسے بھی اب انہیں کچھ یاد نہیں۔‘‘

’’ٹھیک ہے آسیہ میں علی سے بات کرتی ہوں۔‘‘

والد کی کمزوری اور حالت دیکھ کر آسیہ نے اپنے بچوں کو فون کیا کہ وہ پورا ہفتہ یہاں رکے گی اور ہفتے پر وہ لوگ بھی نانا سے آ کر مل جائیں۔ ہفتے کو بھابھی بھی علی اور اس کی بیوی بیٹے کے ساتھ آ رہی ہیں۔

والد کی حالت ویسی ہی تھی۔ نماز کے لئے اٹھنے کی ضد کرتے تو پکڑ کر آسیہ جاء نماز پر بٹھا دیتی۔ اور وہ گھنٹوں نماز پڑھتے۔ کبھی چپ بیٹھے صرف بلون کو نہارتے۔ نہ مسکراتے نہ اسے اٹھانے کی کوشش کرتے جیسے وہ اب دھیرے دھیرے اس سے بھی اپنا تعلق بھولتے جا رہے تھے۔

اس وقت بھی وہ جا نماز پر بیٹھے تھے۔ آسیہ نے بلون اٹھا کر ان کی گود میں رکھ دیا، تاکہ کچھ تو ان میں کچھ ایسے آ‌ثار نظر آئیں کہ اسے ان کے ٹھیک ہونے کی امید جاگے۔ وہ کبھی آسیہ کو اور کبھی بلون کو دیکھتے۔ اچانک آسیہ کی بیٹی نے آ کر کہا۔ ممی علی بھائی آ گئے۔ آسیہ بیتابانہ دوڑی۔ بھابھی سے گلے مل کر روئی۔ بھتیجے کو پیار کیا۔ ماشاء اللہ بھابھی علی تو بالکل بھائی کی کاپی ہے۔ پھر اس کے ایک سال کے بیٹے کو پیار کیا۔ بچہ نئے لوگوں کو دیکھ کر ماں سے لپٹ گیا۔

’’پہلے ابا سے مل لو علی۔‘‘ ماں نے کہا۔ سب ان کے کمرے کی طرف آئے۔ وہ بے خبر بیٹھے تھے گود میں بلون پڑا تھا۔ اتنے سارے لوگوں کو انہوں نے۔ دروازے پر دیکھا مگر نظروں میں نہ استعجاب ابھرا نہ کوئی پہچان۔ نہ کوئی غصہ اور خوشی۔ علی آگے بڑھا۔ اس نے اپنے بچپن کی تصویروں میں دادا کو دیکھا تھا اور جانتا تھا کہ وہ اسے بہت چاہتے تھے وہ ان کے ساتھ بہت رہا تھا۔ آسیہ کا دل دھڑک رہا تھا اسے یقین تھا کہ ابا علی کو عدنان سمجھیں گے۔ بہو نظروں میں پشیمانی کے آنسو لئے پیچھے کھڑی تھی آسیہ نے علی کی بیوی کو بھی سامنے آنے کو کہا جو اپنے بیٹے کی انگلی تھامے آگے آئی۔ علی دادا کے پاس دو زانو بیٹھ گیا۔۔ ’’دادا پہچانا میں آپ کا علی۔۔‘‘

وہ خالی خالی نظروں سے علی کو دیکھتے رہے۔ علی کی آنکھوں سے آنسو ڈھلکے۔۔ ’’میں نے بہت دیر کر دی پھپھو۔۔ انہوں نے مجھے بھی نہیں پہچانا۔۔‘‘

سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اچانک ان کی نظر علی کے بیٹے پر پڑی۔۔۔۔ ان کی نظروں میں چمک آئی پھر پہچان ابھری۔ وہ مسکرائے۔۔ انہوں نے محبت سے بچے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ وہ نہیں آیا تو بلون اٹھا کر اسے دکھایا۔ وہ ہنستا ہوا آگے بڑھ کر باپ کے مقابل کھڑا ہو گیا۔ علی نے بیٹے کو ان کے قریب کر دیا۔ وہ اسے بلون دے کر اپنے گود میں بٹھانے لگے۔ علی نے مدد کی، بچہ آرام سے بیٹھ کر اس زرد بلون سے کھیلنے لگا۔

اب وہ ضعیف، بچہ اور زرد بلون ایک دوسرے کی گود میں دنیا مافیہا سے بے خبر کھیل رہے تھے۔ اور آسیہ نے سنا کہ وہ واضح طور پر اس بچے کو علی کہہ کر مخاطب کر رہے تھے۔ وہ اس سے کہہ رہے تھے کہ تم مجھے نماز میں بالکل پریشان نہیں کرو گے، میں سجدے میں جاتا ہوں تو تم وہیں آ کر بیٹھ جاتے ہو۔ پھر اچانک انہوں نے اپنے پاس دو زانو بیٹھے علی کی طرف دیکھ کر کہا۔ ’’عدنان یہ بدمعاش بالکل تمہاری طرح مجھے پریشان کرتا ہے نماز پڑھتے وقت میری پیٹھ پر بیٹھ جاتا ہے۔‘‘

سب رو رہے تھے، معلوم نہیں عدنان کے علی میں پھر سے زندہ ہونے پر یا آج تیس سال بعد ان کی ادھوری کہانی مکمل ہونے پر۔ ان کے ذہن کے وہ نامکمل نقوش تکمیل کے مرحلے سے گزر چکے تھے۔ زرد بلون نے تیس سال تک ایک بچے کا کردار نبھانے کے بعد آج اپنی منزل پا لی تھی۔

٭٭٭0

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے