غزلیں ۔۔۔ اعجاز رحمانی

اپنے خونِ وفا میں نہائے ہوئے زخم اپنے بدن پر سجائے ہوئے

قاتلوں سے کہو اب نہ زحمت کریں ہم صلیب اپنی خود ہیں اُٹھائے ہوئے

 

ہر زباں بے سخن ہر جبیں پر شکن وحشت رقص میں انجمن انجمن

کتنا غم ناک ماحول ہے شہر کا اِک زمانہ ہوا مسکرائے ہوئے

 

معتبر کیا ہے اور کیا ہے نا معتبر اپنا اپنا خیال اپنی اپنی نظر

لوگ کانٹوں سے بچتے ہیں گل زار میں ہم گلوں سے ہیں دامن بچائے ہوئے

 

ایک کیا سو نشیمن ہوں میرے اگر وہ بھی قربان گل زار کے نام پر

آشیاں کا نہیں غم مجھے غم یہ ہے پھول شعلوں کی زد میں ہیں آئے ہوئے

 

سطح دریا ہے چشمِ تماشائی میں جھانکتا کون ہے دل کی گہرائی میں

اشک آنکھوں میں اس طرح محفوظ ہیں جیسے موتی صدف ہو چھپائے ہوئے

 

رہ گزاروں کے سب نقش معدوم ہیں پیڑ ہیں بھی تو سائے سے محروم ہیں

جن کو آتا ہے شیشہ گری کا ہنر سنگ ہاتھوں میں ہیں وہ اُٹھائے ہوئے

 

ساغر شب کو لبریز کر دیں گے ہم صبح کو رنگ آمیز کر دیں گے ہم

ضد پہ قائم ہیں اپنی ہوائیں اگر مشعلِ جاں ہیں ہم بھی جلائے ہوئے

 

ہے اسی شہر کا نام شہرِ طرب، لوگ بھی ہیں عجب شہر بھی ہے عجب

پیار ہونٹوں پہ ہے پھول ہاتھوں میں ہیں آستیں میں ہیں خنجر چھپائے ہوئے

 

دِل کی باتوں میں ہر گز نہ آئیں گے ہم اب فریب تبسم نہ کھائیں گے ہم

زندگی بھر کا اعجازؔ ہے تجربہ دوست دشمن ہیں سب آزمائے ہوئے

٭٭٭

 

 

 

راہ بر سو گئے ہم سفر سو گئے

کون جاگے گا ہم بھی اگر سو گئے

 

گیسوئے وقت اب کون سلجھائے گا

بے خبر جاگ اُٹھے با خبر سو گئے

 

یہ ہمارے مقدر کا اندھیر ہے

جب بھی نزدیک آئی سحر سو گئے

 

مِٹ گیا دِل سے کیا خوفِ دار و رسن

لوگ پھولوں پہ کیا سوچ کر سو گئے

 

جس حقیقت سے انکار ممکن نہیں

سو گئی قوم جب دیدہ ور سو گئے

 

اپنی بر بادیاں اپنے ہاتھوں ہوئیں

جا گنا تھا ہمیں ہم مگر سو گئے

 

بے گھروں کو تکلف سے کیا واسطہ

نیند آئی سرِ رہ گزر سو گئے

 

وہ گئے گھر کی رعنائیاں بھی گئیں

یوں لگا جیسے دیوار و در سو گئے

 

تم تو اعجاز ؔ پھولوں پہ بے چین ہو

جن کو سونا تھا وہ دار پر سو گئے

٭٭٭

 

 

 

لاکھ سہی ہونٹوں پہ تبسم طوفاں دِل کے اندر ہے

میرا ایک اک آنسو دریا میری آنکھ سمندر ہے

 

اس کی خوشبو پھیل گئی ہے رنگ فضا میں بکھرے ہیں

وہ میرے گھر آیا ہے یا کوئی خواب کا منظر ہے

 

جاگا جب احساسِ سماعت مجھ کو یہ محسوس ہوا

گھر کے باہر شور کہاں ہے شور تو گھر کے اندر ہے

 

پھول کی نازک پتی سے جب کٹ سکتا ہے ہیرا بھی

سنگ زنو یہ بھول نہ جانا پتھر آخر پتھر ہے

 

اپنوں سے بھی ڈر لگتا ہے دشمن تو پھر دشمن ہے

چھائی ہوئی احساس پہ میرے اندیشوں کی چادر ہے

 

جھوٹ کی کالی دلدل سے میں نکلا تو اِحساس ہوا

سچائی کا سیدھا رستہ چلنا کتنا دُوبھر ہے

 

میرا شکستہ گھر بھی دیکھو شیش محل تو دیکھ چکے

اِک تصویر کے دو رخ ہیں وہ مندر یہ پس مندر ہے

 

سچ ہے یہ اعجازؔ مقولہ نیکی کر دریا میں ڈال

جس کو میں نے ٹوٹ کے چاہا ہاتھ میں اُس کے خنجر ہے

٭٭٭

 

 

 

چڑھتا چاند اُبھرتا سورج اُن کو نظر کیا آئے گا

جن کی آنکھیں دیکھ نہ پائیں عظمت کے میناروں کو

 

زد میں ہوائے دشتِ جنوں کی شہرِ خِرد کا موسِم ہے

سنگ اُٹھائے دیکھ رہا ہوں آئینہ برداروں کو

 

کل بارش دریا کو چڑھا کر بستی تک لے آئی تھی

ہلکا سا سیلاب کا ریلا توڑ گیا دیواروں کو

 

چاند کی دھرتی بنجر دھرتی اپنی سوہنی دھرتی ہے

اس دھرتی نے رنگ دئیے ہیں سورج کو سیاروں کو

 

انساں کو کب راس آتی ہے ایک ذرا سی لغزش بھی

ہم نے سروں سے گرتے دیکھا عظمت کی دستاروں کو

 

اب کوئی طوفان ہمارا رستہ روک نہ پائے گا

ہم نے سفینے پھونک دئیے ہیں توڑ دیا پتواروں کو

 

لاکھ گراں گوشی کا ہے موسِم اپنے کان کھُلے رکھنا

کون سُنے گا ٹُوٹنے والے شیشوں کی جھنکاروں کو

 

فن کے تقاضے پورے کرنا سب کے بس کی بات کہاں

شہرِ ہنر میں بِکتے دیکھا بڑے بڑے فن کاروں کو

 

لاکھ کوئی کم زور ہو لیکن مت سمجھو کم زور جاں

راہ گزر کی ریت بھی اکثر پی جاتی ہے دھاروں کو

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے