اکتوبر 3, 2013

تازہ شمارہ

مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔

نئے سال کا پہلا شمارہ حاضر ہے، لیکن اس شمارے کے بارے میں بہت سی باتیں کرنے کو جی چاہ رہا ہے۔ پہلی بات یاد رفتگاں کے سلسلے میں، جن دو ادیبوں کو شمارے میں یاد کیا گیا ہے، ان سے میری ذاتی یادیں وابستہ ہیں۔ منیب الرحمان صاحب علی گڑھ میں ہمارے پڑوسی تھے۔ Read more about مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔[...]

نعت ۔۔۔ محمد عادل فراز

سر پہ سایۂ رحمت آسرا محمدؐ کا بھا گیا ہے نظروں کو راستہ محمدؐ کا   عرش پر قدم ان کے کرسی و قلم ان کے کہکشانِ عالم ہے نقش پا محمدؐ کا   دل کے صحنِ خانہ سے خوشبوئیں سی آتی ہیں جب زبان کرتی ہے تذکرہ محمدؐ کا   ذکر خود محمدؐ کا Read more about نعت ۔۔۔ محمد عادل فراز[...]

دوسرا گناہ ۔۔۔ انتظار حسین

اس دن الیملک دستر خوان سے بھوکا اٹھا، اس نے زمران کے سامنے رکھی ہوئی روٹی پر نظر کی، پھر دسترخوان پر چنی ہوئی روٹیوں کو اور لوگوں کو دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا اور یہ وہ لوگ تھے جو دور کی زمین سے چل کر یہاں پہنچے تھے، ان کی زمین ان پر تنگ Read more about دوسرا گناہ ۔۔۔ انتظار حسین[...]

نیا سال ۔۔۔ مخدوم محی الدین

کروڑوں برس کی پُرانی کہن سال دُنیا یہ دُنیا بھی کیا مسخری ہے نئے سال کی شال اوڑھے بہ صد طنز ہم سب سے یہ کہہ رہی ہے کہ میں تو نئی ہوں ہنسی آ رہی ہے ٭٭٭

گرے جاتے ہیں پتے شاخسار زندگانی سے (منیب الرحمن کی یاد میں ) ۔۔۔ سرور الہدیٰ

اب تاریخ یاد نہیں کہ منیب الرحمن کو جامعہ میں پہلی اور آخری مرتبہ کب دیکھا تھا۔ اتنا یاد ہے کہ وہ علی گڑھ سے شہریار صاحب کے ساتھ دہلی آئے تھے اور جامعہ میں ان کے لئے ایک ادبی محفل کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس انعقاد میں عبید صدیقی کا اہم کردار تھا۔ Read more about گرے جاتے ہیں پتے شاخسار زندگانی سے (منیب الرحمن کی یاد میں ) ۔۔۔ سرور الہدیٰ[...]

لوبان کا دھواں: منیب الرحمٰن کی شاعری کا سر نامہ ۔۔۔ شاہین

منیب الرحمٰن اب سے پچاسی برس قبل ۱۸؍ جولائی ۱۹۲۴ء کو آگرے میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے تاریخ اور فارسی میں ایم اے کیا۔ ۱۹۴۵ء میں لندن گئے جہاں کی یونیورسٹی سے ۱۹۵۳ء میں جدید فارسی شاعری پر پی ایچ ڈی لے کر ہندوستان لوٹے۔ لندن میں اپنے آٹھ سالہ قیام کے دوران Read more about لوبان کا دھواں: منیب الرحمٰن کی شاعری کا سر نامہ ۔۔۔ شاہین[...]

لفظوں کے بازیگر۔ اردو کے نامور شاعر ڈاکٹر منیب الرحمن سے گفتگو ۔۔۔ گوہر تاج

مجھے ڈیٹرائیٹ میں منعقد ہونے والی شعری نشستوں میں شرکت کا بارہا موقعہ ملا جہاں اکثر داد و تحسین اور واہ واہ کے شور و شین میں جب ایک شاعر کے نام کا اعلان کیا جاتا ہے تو ایک لمحہ کو ان کے استقبال میں خاموشی سی طاری ہو جاتی ہے اور تب ایک سیدھے، Read more about لفظوں کے بازیگر۔ اردو کے نامور شاعر ڈاکٹر منیب الرحمن سے گفتگو ۔۔۔ گوہر تاج[...]

نظمیں ۔۔۔ منیب الرحمن

نقلی پھول   میں نے جب پہلے پہل دیکھا تھا یہ مجھے کتنے بھلے لگتے تھے تم نے گلدان میں رکھا تھا انہیں تھی مرے کمرے کی زینت ان سے اور اب تھک گئیں آنکھیں میری دیکھتے دیکھتے صورت ان کی یہ مہکتے ہیں، نہ کمھلاتے ہیں دن انہیں چھو کے نکل جاتے ہیں کاش Read more about نظمیں ۔۔۔ منیب الرحمن[...]

ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی، ایک پیاری شخصیت، ایک پیارا شاعر ۔۔۔ سہیل انجم

علی بھائی (ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی) سے پہلی ملاقات کب ہوئی اور کیسے ہوئی یہ تو یاد نہیں لیکن میں نے پندرہ بیس سال کے تعلق کے عرصے میں ان کو ہمیشہ یکساں پایا۔ وہی شرافت، وہی شائستگی، وہی خندہ پیشانی، وہی خوش اخلاقی، وہی انکساری، وہی حسن سلوک اور وہی محبت اور وہی Read more about ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی، ایک پیاری شخصیت، ایک پیارا شاعر ۔۔۔ سہیل انجم[...]

اخلاص و اشتیاق کا پیام، جناب احمد علی برقیؔ کے نام ۔۔ تابشؔ الوری

حضرت برقیؔ نے بھیجا دلنشیں شعروں کا ہار فکر خیز و معنی انگیز و بلاغت آشکار   لفظ تابندہ نگینوں کی طرح ترشے ہوئے حسنِ صورت، حسن فن، حسن نظر کے شاہکار   شعر و فن میں کہکشاں احساس کی اتری ہوئی ندرتِ فن رفعت افکار کے آئینہ دار   قادر الالفاظ پختہ فکر برقیؔ Read more about اخلاص و اشتیاق کا پیام، جناب احمد علی برقیؔ کے نام ۔۔ تابشؔ الوری[...]

برقیؔ اعظمی کی اردو شاعری ۔۔۔ اسرار احمد رازی قاسمی

سید صباح الدین عبد الرحمن مرحوم سابق ڈائریکٹر دار المصنّفین و مدیر ماہنامہ معارف کے شاگردِ رشید ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں ہے۔ موصوف 1977 سے تا حال دہلی میں مقیم ہیں۔ ان کا تعلق ہندوستان کی مردم خیز سرزمین اعظم گڑھ شہر کے محلہ باز بہادر کے ایک علمی Read more about برقیؔ اعظمی کی اردو شاعری ۔۔۔ اسرار احمد رازی قاسمی[...]

نعت ۔۔۔ عبدالرحمٰن جامیؒ، ترجمہ: احمد علی برقی اعظمی

گُل اَز رَخت آموختَہ نازُک بَدَنی را بُلبِل ز تو آموختَہ شَیرِیں سُخَنی را   ہر کَس کہ لَبِ لَعل تِرا دِیدَہ بہ دِل گُفت حقا کہ چہ خوش کَندَہ عَقِیقِ یَمَنی را   خَیّاطِ اَزل دوختہ بَر قامَتِ زیبا دَر قَد تو اِیں جامۂ سَروِ چَمَنی را   دَر عِشقِ تو دندان شَکَستَہ اَست Read more about نعت ۔۔۔ عبدالرحمٰن جامیؒ، ترجمہ: احمد علی برقی اعظمی[...]

غزلیں ۔۔۔ احمد علی برقی اعظمی

امن عالم کی فضا آئیے ہموار کریں چھوڑ کر بغض و حسد پیار کا اظہار کریں   دیں گے کب تک ہمیں ناکردہ گناہی کی سزا فرد جرم اپنی بھی کہہ دو کہ وہ تیار کریں   چاہتا کیا ہے بتا مفسد دوراں کھل کر ’’کتنے آنسو ترے صحراؤں کو گلزار کریں‘‘   خانہ دل Read more about غزلیں ۔۔۔ احمد علی برقی اعظمی[...]

اک دفعہ میں کسی گنجان نگر سے گزرا۔۔!! ۔۔۔ والٹ وھٹ مین/ عبد الرؤف

انتخاب و ٹائپنگ : احمد بلال   اک دفعہ میں کسی گنجان نگر سے گزرا ایک رونق تھی عیاں شہر کے بام و در سے فن تعمیر کی تابندہ مثالیں دیکھیں شہر کی رسم و روایات بھی تھیں پیش نظر مری آنکھوں نے اس انداز سے سب کچھ دیکھا کہ میرے ذہن میں باقی رہے Read more about اک دفعہ میں کسی گنجان نگر سے گزرا۔۔!! ۔۔۔ والٹ وھٹ مین/ عبد الرؤف[...]

جھرّیاں ۔۔۔ ابراہیم ایم جُبیرا/ انگریزی سے ترجمہ : عطا صدیقی

شہر کے کاروباری علاقے کے قلب میں واقع یہ گھر ایک اونچا یک منزلہ مکان تھا جس کو یہ فوائد حاصل تھے کہ ایک طرف تو جب مطلع صاف ہوتا شمال میں واقع پہاڑ کا تھوڑا بہت نظارہ کیا جا سکتا تھا اور دوسری طرف جنوب سے اُمسائی ہوا کے وہ جھونکے آ جاتے تھے Read more about جھرّیاں ۔۔۔ ابراہیم ایم جُبیرا/ انگریزی سے ترجمہ : عطا صدیقی[...]

منٹو۔ نوری نہ ناری، ممتاز شیریں پتی ورتا ناری ۔۔۔ ڈاکٹر رؤف خیر

مکتبۂ شعر و ادب لاہور (۷۔ ڈی بلاک سی، سمن آباد لاہور) کے زیر اہتمام دو بالکل ایک جیسی کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ دونوں پر تاریخ اشاعت درج نہیں ہے۔ ایک ٹھنڈا گوشت اور دوسری دھواں۔ دونوں کراؤن سائز پر ہیں اور دونوں کے سرورق پر منٹو کے صرف چہرے کا پنسل سکیچ ہے۔ ٹھنڈا Read more about منٹو۔ نوری نہ ناری، ممتاز شیریں پتی ورتا ناری ۔۔۔ ڈاکٹر رؤف خیر[...]

امتیاز علی خان عرشی: اردو کے متنی تحقیق اور انتقادات کے بنیاد گذار اور جدید تفہیمی ماہر غالبیات ۔۔۔ احمد سہیل

شان نزول ستر کی دہائی میں جب میں نے جدید ادبی نظریات اور بالخصوص ساختیات اور اس کے اطلاقی اور عملیاتی پہلوں پر کام کرنا شروع کیا تو یہ کرید بھی ہوئی کہ اردو میں ساخیتاتی لسانی اور ادبی نظرئیے میں کن مثالوں کے ساتھ اس نظرئیے اور مناجیات کا اطلاق کیا جائے؟ پہلے تو Read more about امتیاز علی خان عرشی: اردو کے متنی تحقیق اور انتقادات کے بنیاد گذار اور جدید تفہیمی ماہر غالبیات ۔۔۔ احمد سہیل[...]

مصحف اقبال توصیفی کی شاعری: ایک منجمد پُر شور دریا ۔۔۔ اسلم عمادی

اُردو کی نئی شاعری اِس معاملے میں بہت خوش بخت ہے کہ اس کے دامن میں کئی نمائندہ اور قابل ذکر شاعر اپنے اپنے منفرد لب و لہجہ (زبان، ڈکشن اور فکر) کے ساتھ رونق پذیر ہیں۔ یہ شاعر ہندوستان، پاکستان اور دوسرے ممالک میں رہتے ہوئے بھی ایک حد تک اسی فکری لہر سے Read more about مصحف اقبال توصیفی کی شاعری: ایک منجمد پُر شور دریا ۔۔۔ اسلم عمادی[...]

مشتاق دربھنگوی کی یاد میں ۔۔۔ ڈاکٹر عطا عابدی

مشتاقؔ دربھنگوی سے میری ملاقات محلہ املی گھاٹ (دربھنگہ) میں ہوئی تھی، جہاں میرا قیام ہوا کرتا تھا۔ یہ غالباً 1982-83ء کی بات ہے۔ اُنہوں نے اپنے شعری مجموعہ ’’غمِ جاناں‘‘ سے نوازا۔ ’غمِ جاناں‘ کی شاعری غمِ جاناں سے عبارت تھی۔ اُس وقت اُن کی نوجوانی کا عالم تھا، میں خود بھی طفلِ مکتب Read more about مشتاق دربھنگوی کی یاد میں ۔۔۔ ڈاکٹر عطا عابدی[...]

مظفر حنفی مرحوم … چند یادیں، چند باتیں ۔۔۔ ڈاکٹر محمد نعمان خاں

2مظفر حنفی صاحب شعبہ اردو سیفیہ کالج کے طالب علم رہے ہیں لیکن ابتدا میں ان سے زیادہ قربت کا شرف اس وجہ سے حاصل نہیں ہو سکا کہ جب میں نے ۱۹۷۱ء میں سیفیہ کالج میں بی اے سال اوّل کے لیے داخلہ لیا، وہ ایم اے کی تعلیم مکمل کر چکے تھے۔ البتہ Read more about مظفر حنفی مرحوم … چند یادیں، چند باتیں ۔۔۔ ڈاکٹر محمد نعمان خاں[...]

اُستاد فضل حسین شرر کا سفید موتی ۔۔۔ علی اکبر ناطق

وہ ہمارے گھر کے بالکل قریب ہی رہتا تھا لیکن یہ بات میں نہیں جانتا تھا۔ مَیں نے تو اُسے صرف سکول میں دیکھا۔ اُس دن بالکل یہی موسم تھا، اکتوبر کے پہلے دس دن گزر چکے تھے اور دھوپ میں گرمی نہیں تھی۔ وہ کھلے گراونڈ میں کُرسی پر بیٹھا، اتنا پُر سکون تھا، Read more about اُستاد فضل حسین شرر کا سفید موتی ۔۔۔ علی اکبر ناطق[...]

نظمیں ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی

ناشکری   ہم کو تو جینا بھی اچھا لگتا ہے لیکن کیوں اچھا لگتا ہے جب ہر شئے ہم سے چھنتی جاتی ہے جب پہلے کچھ تھا اور اب کچھ ہے جب ہر شئے معدوم ہوئی جاتی ہے جب ہر شئے … اب وہ زیادہ تھی یا کم ہو ایسی کون سی دولت اس نے Read more about نظمیں ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی[...]

ستیہ پال آنند اور میں ۔۔۔ گلزار

چھُّٹی کے دن۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند اور میں ’کوسموس‘۱ جیبوں میں بھر کر اکثر چاند کے پیچھے والے آسمان میں جا کر کھیلا کرتے ہیں۔   سات ستارے اوپر کے، دو نیچے رکھ کر نو پتّھروں کا پٹھّو کھیلیں ’کرمچ‘ والی چاند کی گیند اتار کے لے جائیں دونوں!   کبھی کبھی "انٹی” ہوتی ہے۔ Read more about ستیہ پال آنند اور میں ۔۔۔ گلزار[...]

نظمیں ۔۔۔ ستیہ پال آنند

خانۂ مجنونِ صحرا گرد بے دروازہ تھا   کوئی دروازہ نہیں تھا قفل جس کا کھولتا سر نکالے کوئی سمت الراس بھی ایسی نہیں تھی جس سے رستہ پوچھتا ایک قوسِ آسماں حّدِ نظر تک لا تعلق سی کہیں قطبین تک پھیلی ہوئی تھی دھند تھی چاروں یُگوں کے تا بقائے دہر تک … اور Read more about نظمیں ۔۔۔ ستیہ پال آنند[...]

نظمیں ۔۔۔ غضنفر

جڑوں سے اُکھڑنے کا کرب   دل و جاں میں کبھی ایسا کوئی کلّہ نہیں پھوٹا کہ اس مٹّی میں کوئی جڑ نہیں اپنی ہمیشہ ہی لگا ہم کو کہ ہم بھی تو اسی مٹّی سے نکلے ہیں اسی کے خون سے سینچی گئی ہے زندگی اپنی اسی کا رس رگ و پے میں سرایت Read more about نظمیں ۔۔۔ غضنفر[...]

نظمیں ۔۔۔ گلناز کوثر

تم کہاں گئے؟     تم بُری بلا کے پنجے سے کیوں بچ نہ سکے کس موہ میں آنکھیں بند کیے پاپی پاتال میں اتر گئے کس مُورکھ چَھل نے دھیان کی جھیل میں اگن بھری تُم نُور کے ایک سمندر سے کیوں ٹُوٹ گئے؟ تُم رُوٹھ گئے؟ کب کام دیو نے مَن کی پاوَن Read more about نظمیں ۔۔۔ گلناز کوثر[...]

نظمیں ۔۔۔ تنویر قاضی

رنگ ریز   جتنے رنگ ہیں تیرے انگ لگے اُن رنگوں سے کائنات کا جلتا کینوس تلچھٹ تلچھٹ اپنی کاوش اپنے ہی اطراف گرا دیتا ہے آہستہ آہستہ زائل ہوتے زاویئے اور خطوط منہ تکتے رہ جاتے ہیں لا متناہی نیلے خیمے والے اونٹ بڑے سرکش ہیں اس تقسیم پر بندوبست رکھو خیمے کی رفو Read more about نظمیں ۔۔۔ تنویر قاضی[...]

نظمیں ۔۔۔ فرزانہ نیناں

ریت کے پیکر   سرخ پھولوں کی یہ بیلیں جنگلوں میں اُگ رہی تھیں دشت کی ہیبت سے خائف مجھ سے رہتی تھیں گریزاں چودھویں کی رات میں خوشبو سے جلتے ہوئے کتنے جسموں کے ستونوں سے لپٹنا تھا انہیں میں نے ان کے رنگ سے ہر انگ اپنا بھر لیا دور تک پھیلے ہوئے Read more about نظمیں ۔۔۔ فرزانہ نیناں[...]

نظمیں ۔۔۔ شیخ خالد کرّار

زہر مہرہ     جاں بلب ہوں درونِ ذات کالا پڑ گیا ہوں پیاس شدت کی ہے سینے میں جلن آنکھوں پہ سوجن ہے گاؤں جب بھی جائیے گا دادی اماں کو بتا کر میری خاطر زہر مہرہ لائیے گا میں نے خود کو ڈس لیا ہے ۔۔۔۔ ۔۔     گراؤنڈ زیرو     Read more about نظمیں ۔۔۔ شیخ خالد کرّار[...]

بدلتے رنگ ۔۔۔ اسلم جمشید پوری

یونیورسٹی کے کھلے سبزہ زار میں وہ سب ایک گروہ کی شکل میں بیٹھے تھے۔ نیچے دور تک پھیلی ہری گھاس اور اوپر پیلی پیلی دھوپ گویا ہرے رنگ کے شلوار جمپر اور پیلا دوپٹہ اوڑھے کوئی حسینہ لیٹی ہوئی ہو۔ ’’یار، یہ کون ہیں۔‘‘ مو ہن نے اکرم کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھتے Read more about بدلتے رنگ ۔۔۔ اسلم جمشید پوری[...]

چوٹ، نوٹ کی ۔۔۔ حنیف سیّد

عروسِ فطرت بھرپور جوانی کا جام پیے، سولہ سنگار کیے، سیکڑوں ارمان لیے، چاندی کی ڈولی میں سوار، لیے انکھیوں میں پیار، اپنے سجنا کے دوار، ہولے ہولے کھسک رہی تھی۔ اُس کے خوابوں کا شہزادہ چاند ابلقِ ایام کی لگامیں کسے، ستاروں کے درمیاں بسے، کہکشاں نما راستے پر اپنی منزل کی جانب گامزن Read more about چوٹ، نوٹ کی ۔۔۔ حنیف سیّد[...]

چھوٹی حویلی ۔۔۔ اعجاز عبید

(نا مکمل ناول کا  ایک حصہ) قاضی عبد الستار کے نام ( 1) مسجد سے فجر کی نماز کے بعد نمازی دھیرے دھیرے مگر اس طرح نکلنے لگے کہ جیسے دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں کہ چلو۔ اس جھنجھٹ سے چھٹی ملی، اب کام سے لگیں گے۔ مسجد کے دروازے پر بوڑھا رحیما Read more about چھوٹی حویلی ۔۔۔ اعجاز عبید[...]

غزلیں ۔۔۔ فیصل عجمی

یہ آسمان کوئی فسانہ تو ہے نہیں ہم اس کو دیکھتے ہیں، گرانا تو ہے نہیں   پہنیں گے خاکدان کا زربفت پیرہن یاروں نے اس کا دام چکانا تو ہے نہیں   مٹھی میں ایک زہر ہے، دنیا کہیں جسے سب سے چھپائے پھرتے ہیں، کھانا تو ہے نہیں   مانگا ہے عشق بھی Read more about غزلیں ۔۔۔ فیصل عجمی[...]

غزلیں ۔۔۔ فرحت عباس شاہ

(غالبؔ کی زمینوں میں)   صبح الم کہے شب ہجراں اٹھائیے کس کس جگہ سے درد کا ساماں اٹھائیے   ہم نے کہا کہ تنگ نہ کیجئے ہمیں حضور کہنے لگے کہ نخرۂ جاناں اٹھائیے   کتنا کہا تھا عشق سے باز آئیے جناب چلیے اب عمر بھر دل ویراں اٹھائیے   ہے فکر پر Read more about غزلیں ۔۔۔ فرحت عباس شاہ[...]

غزلیں ۔۔۔ مہتاب حیدر نقوی

پھر کسی خواب کی پلکوں پہ سواری آئی خوش امیدی کو لئے باد بہاری آئی   پھول آئے ہیں نئ رت کے نئی شاخوں پر موجۂ ماہ دل آرام کی باری آئی   نامرادانہ کہیں عمر بسر ہوتی ہے شادکامی کے لئے یاد تمہاری آئی   اور پھر پھیل گیا رنگ محبت رخ پر لالۂ Read more about غزلیں ۔۔۔ مہتاب حیدر نقوی[...]

غزلیں ۔۔۔ سعید

خوشا کہ محفلِ عرق و ایاغ روشن ہو ملے ہیں یار تو شامِ فراغ روشن ہو   بھڑک رہی ہے سبھی جا ہوس لکیروں میں کہیں تو جادۂ دل کا سُراغ روشن ہو   میں تھک گیا ہوں ستارے کشید کرتے ہوئے خدائے شب مرے سینے کا داغ روشن ہو   کبھی تو یوں بھی Read more about غزلیں ۔۔۔ سعید[...]

غزلیں ۔۔۔ ڈاکٹر رؤف خیر

بادل سہی وہ خاک اڑا کر گزر گیا جھونکا ہوا کا تھا اِدھر آیا اُدھر گیا   تھا جس کو پار کرنا وہی پار کر گیا یوں ورنہ کیسے کیسوں کا دریا اتر گیا   میں جانِ انجمن ہوں مری جان قدر کر آنے کا لوٹ کر میں نہیں ہوں اگر گیا   چہرے ہوئے Read more about غزلیں ۔۔۔ ڈاکٹر رؤف خیر[...]

غزلیں ۔۔۔ ڈاکٹر فریاد آزرؔ

چھوٹی چھوٹی خواہشوں کے درمیاں الجھے رہے عمر بھر ہم لوگ بھی آز ؔر کہاں الجھے رہے   اک ہمیں تھے حضرتِ حاتم کے رشتہ دار کیا زندگی بھر امتحاں در امتحاں الجھے رہے   اس نے رکھا تھا چھپا کر نکتۂ حسنِ عروج اور ہم بھی داستاں در داستاں الجھے رہے   ہم نے Read more about غزلیں ۔۔۔ ڈاکٹر فریاد آزرؔ[...]

غزلیں ۔۔۔ سلیم انصاری

یہ زمیں مٹّی کی ہے یہ آسماں مٹّی کا ہے سچ تو یہ ہے زندگی کا ہر نشاں مٹّی کا ہے   دشت کو گلزار کرنے میں جنوں سے بھی گئے اور مجھ پر قرض کتنا مہرباں مٹی کا ہے   دفن ہیں اس میں مری بچپن کی سب محرومیاں وہ جو دریا کے کنارے Read more about غزلیں ۔۔۔ سلیم انصاری[...]

غزلیں ۔۔۔ سید عاطف علی

جو ہم نہ ہوں تو ہے کس کام کی یہ رعنائی ڈبو کے چھوڑے گا تم کو یہ زعم یکتائی   اگر چہ کہہ تو دیا تم نے جو میں چاہتا تھا وہ زیر و بم نہ تھے لیکن شریک گویائی   چراغ ڈستے رہے میری تیرہ راتوں کو سحر نہ بن سکی تریاق زہر Read more about غزلیں ۔۔۔ سید عاطف علی[...]

غزلیں ۔۔۔ محمد صابر

رقص کرتے ہوئے سائے کا سراپا رکھ لے آدمی سوچ میں رہتا ہے کہ کیا کیا رکھ لے   میں مداری ہوں مرا کام تماشہ کرنا اس کی مرضی ہے وہ جس وقت تماشہ رکھ لے   چکھ کے باقی کا یہاں پھینک دیا ہے میں نے جس نے رکھنا ہے بڑے شوق سے دریا Read more about غزلیں ۔۔۔ محمد صابر[...]

غزلیں ۔۔۔ جلیل حیدر لاشاری

چوٹ لگی ہے تو جانا ہے سچی بات بھی افسانہ ہے   ایسے دل کی آس بندھی ہے اس نے واپس کب آنا ہے !   سب کا ہے جب خاک مقدر کیا کھونا پھر کیا پانا ہے   ایک نئے انداز میں سب نے بات پرانی دہرانا ہے   کون ہمیشہ ساتھ رہا ہے Read more about غزلیں ۔۔۔ جلیل حیدر لاشاری[...]

غزلیں ۔۔۔ مقبول حسین

جو درس دیتے تھے کوئی نہ پی پلا کے ملے کسی حسیں کو ملے خود تو لڑکھڑا کے ملے   اسے کہو کہ وُہ مجھ سے بھی مسکرا کے ملے رقیب کو جو ہمیشہ ہی کھلکھلا کے ملے   وُہ کاش مجھ سے ملے فاصلے مٹا کے سبھی اگر گلے نہ ملے ہاتھ ہی ملا Read more about غزلیں ۔۔۔ مقبول حسین[...]

نیا نگر ۔۔۔ تصنیف حیدر

قسط ۴   تاریکی ابھی ڈھلی نہیں تھی، جھٹپٹا ہی تھا۔ مجید صاحب گھر پر بیٹھے معقول نقوی سے کسی معاملے پر سنجیدہ گفتگو کر رہے تھے کہ اتنے میں مرزا امانت ایک شخص کو اپنے ساتھ لے کر حاضر ہوا۔ ڈرائنگ روم میں کچھ دوسرے شاگرد بھی بیٹھے تھے جو آپس میں چپکے چپکے Read more about نیا نگر ۔۔۔ تصنیف حیدر[...]