اکتوبر 3, 2013

تازہ شمارہ

مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔

مجھے کہنا ہے کچھ۔۔۔۔ سمت کا جشن زریں مبارک ہو، زیر نظر شمارہ آپ کے اپنے جریدے ’سمت‘ کا پچاسواں شمارہ ہے۔ کئی لحاظ سے یہ ایک اہم عہد ساز جریدہ رہا ہے، بالکل اسی طرح جیسا کہ جدیدیت کا علم بردار ماہنامہ ’شبخون‘ الہ آباد بھی ایک اور عہد ساز جریدہ رہا ہے۔ اور Read more about مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔[...]

حمدیہ ۱۔۔۔ ظفر اقبال

شورِ دریائے خواب تجھ سے ہے سایۂ آفتاب تجھ سے ہے   تو ہی موضوعِ گفتگو ہے تمام ہر سوال و جواب تجھ سے ہے   میں نے برباد کر لیا خود کو میرا حالِ خراب تجھ سے ہے   وہ کسی اور سے نہیں ممکن جو عذاب و ثواب تجھ سے ہے   کوئی Read more about حمدیہ ۱۔۔۔ ظفر اقبال[...]

حمدیہ ۲۔۔۔ ظفر اقبال

میرا رنگ کلام تجھ سے ہے گم شدہ سا یہ نام تجھ سے ہے   حمد یوں ہی نہیں کیا کرتا کوئی مجھ کو بھی کام تجھ سے ہے   اور کوئی شناخت ان کی نہیں یہ دریچہ، یہ بام تجھ سے ہے   شور ہے دل میں ہر گھڑی، ہر وقت اور یہ رونق Read more about حمدیہ ۲۔۔۔ ظفر اقبال[...]

حمد ۔۔۔ صابر فخر الدین

    وقت تیرا ہے وقت بھی تو ہی اے خدا میرا بخت بھی تو ہی   تو ہی رحمان ہے رحیم بھی ہے کسی درجے میں سخت بھی تو ہی   سارے عالم کا حکمراں بھی تو صاحب تاج و تخت بھی تو ہی   میری سانسوں کی آمد آمد تو اور سانسوں کی Read more about حمد ۔۔۔ صابر فخر الدین[...]

نعت ۔۔۔ غالب عرفان

ملتی نہ حشر میں بھی شفاعت رسول کی ہوتی نہ جو نصیب قیادت رسول کی   خیر البشر کے روپ میں آیا کوئی کہاں کب کس کو مل سکی بھلا سیرت رسول کی   نورِ ازل کا سلسلہ پھیلا تو تا ابد بکھری ہے کائنات میں رحمت رسول کی   معراج کی وہ شب کہ Read more about نعت ۔۔۔ غالب عرفان[...]

ضمیمۂ فاروقی

عمل: جینت پرمار   غزل ۔۔۔ جینت پرمار (نذرِ شمس الرحمٰن فاروقی)   وصال و ہجر کی زنجیر سے گزرتا ہوں غزل میں سلسلۂ میرؔ سے گزرتا ہوں   دکھائی دے تو مجھے کوئی حرفِ تابندہ شب سیاہ کی تحریر سے گزرتا ہوں   میں کائنات کو نقطے میں قید کر لوں گا شہابِ سبز Read more about ضمیمۂ فاروقی[...]

قطعہ تاریخ وفات شمس الرحمٰن فاروقی ۔۔۔ ڈاکٹر رؤف خیر

  شمس رحمن عرف فاروقی تھے جو شب خون کے سپہ سالار   ہاتھ میں لے کے ذو الفقارِ قلم سومناتِ ادب پہ کی یلغار   دہریوں کو نکالا قلعوں سے کر دیے ان کے حوصلے مسمار   زعفرانی تھا گیانؔ یرقانی اس سے دنیا کو کر دیا ہشیار   میرؔ و غالبؔ کے شعر۔ Read more about قطعہ تاریخ وفات شمس الرحمٰن فاروقی ۔۔۔ ڈاکٹر رؤف خیر[...]

’’اب کے دھوئیں میں خون کی سرخی کا رنگ ہے‘‘ ۔۔۔ ناصر عباس نیر

  کووڈ 19 کے سبب سال 2020ء بد ترین سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ حارث خلیق نے اس سال کو اسلامی تاریخ کے سال 619ء کی طرز پر عام الحزن کہا ہے کہ اس برس کتنے ہی اہم اور ممتاز ادیب، ایک ایک کر کے، اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ سب Read more about ’’اب کے دھوئیں میں خون کی سرخی کا رنگ ہے‘‘ ۔۔۔ ناصر عباس نیر[...]

وہ جو چاند تھا سرِ آسماں۔۔۔ عقیل عباس جعفری

شمس الرحمن فاروقی کی یاد میں   وہ سات بھائیوں میں سب سے بڑے اور تیرہ بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔ پڑھنے لکھنے سے دلچسپی ورثے میں ملی تھی۔ دادا حکیم مولوی محمد اصغر فاروقی تعلیم کے شعبے سے وابستہ تھے اور فراق گورکھ پوری کے استاد تھے۔ نانا محمد نظیر نے بھی Read more about وہ جو چاند تھا سرِ آسماں۔۔۔ عقیل عباس جعفری[...]

کئی چاند تھے سرِ آسماں ۔۔۔ اطہر فاروقی

انیسویں صدی کی دلی کے بارے میں بہت کچھ کہا جا چکا ہے، بہت کچھ بھلا دیا گیا ہے اور بہت کچھ مٹا بھی دیا گیا ہے۔ ماضی کو حال میں متشکل کرنے کے لیے ایک ایسے شخص کی ذکاوت درکار ہے جو بہ یک وقت ’اندر کا نقاد‘ اور مورخ ہو۔ شمس الرحمن فاروقی Read more about کئی چاند تھے سرِ آسماں ۔۔۔ اطہر فاروقی[...]

اردو کا شاہکار ناول — کئی چاند تھے سر آسماں ۔۔۔ احمد محفوظ

  اردو کے معروف ادیب اسلم فرخی نے اپنے ایک مکتوب مورخہ 19 ستمبر 2006 مطبوعہ خبرنامہ شب خون نمبر 2 میں لکھا ہے کہ ’’کئی چاند تھے سر آسماں‘‘ نے مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ میرے ہمسائے میں ایک ایسے صاحب رہتے ہیں جو مالیات کے بڑے ماہر ہیں اور بڑے مصروف انسان Read more about اردو کا شاہکار ناول — کئی چاند تھے سر آسماں ۔۔۔ احمد محفوظ[...]

یہ لوح مزار تو میری ہے ۔۔۔ اشعر نجمی

  اگرچہ میں نے آج ہی صبح فیصلہ کیا تھا کہ علی اکبر ناطق کے ‘مرقع فاروقی’ کے بعد میں اپنی وہ یادیں شیئر کروں گا جو فاروقی صاحب سے وابستہ ہیں، لیکن اندر کی گھٹن پل پل بڑھ رہی ہے، وہ بوجھ جو میں اب تک ڈھوتا رہا تھا، ناقابل برداشت ہو گیا ہے، Read more about یہ لوح مزار تو میری ہے ۔۔۔ اشعر نجمی[...]

ایک شہنشاہ کی موت۔۔۔ مشرف عالم ذوقی

  لازم ہے کہ میں اس طرف دیکھوں جدھر سے خوشبوؤں کا کارواں اور موسم بہار کا جنازہ گزرا ہے۔۔ اور حافظ شیرازی نے کہا، ہر روز دِلَم بَزیرِ بارے دِگرست دَر دیدۂ منز ہجر خارے دگرست مَن جہد ہَمی کُنَم، قضا می گویَد بیروںز کفایتِ تو کارے دِگرست ہر روز میرا دل ایک بوجھ Read more about ایک شہنشاہ کی موت۔۔۔ مشرف عالم ذوقی[...]

شمس الرحمن فاروقی : ایک عہد کا مرقع۔۔۔ علی اکبر ناطق

  (میں شروع کرنے ہی والا تھا کہ علی اکبر ناطق مجھ پر سبقت لے گئے۔ خیر، ان کے بعد میں فاروقی صاحب کے حوالے سے اپنی کچھ یادیں قسط وار شیئر کروں گا، لیکن ابھی سے معذرت کر لوں کہ ان یادوں میں شیرینی بھی ہو گی لیکن اس میں تھوڑا بہت تلخابہ بھی Read more about شمس الرحمن فاروقی : ایک عہد کا مرقع۔۔۔ علی اکبر ناطق[...]

شمس الرحمٰن فاروقی: ہند ایرانی تہذیب کی باز یافت ۔۔۔ ڈاکٹر غلام شبیر رانا

  ایک رجحان ساز ادیب کی حیثیت سے شمس الرحمٰن فاروقی نے آٹھ سو تیس صفحات پر مشتمل اپنے یادگار اور معرکہ آرا ناول ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ سے تاریخ ادب میں اپنا دوام ثبت کر دیا۔ زمان و مکان کے ساتھ ساتھ اس ناول کی زبان بھی بدلتی رہتی ہے۔ قدیم زمانے سے Read more about شمس الرحمٰن فاروقی: ہند ایرانی تہذیب کی باز یافت ۔۔۔ ڈاکٹر غلام شبیر رانا[...]

اختر الایمان ۔۔۔ شمس الرحمٰن فاروقی

  اختر الایمان کی زندگی کا بڑا حصہ اگر ناقدری میں نہیں تو نقادوں کی توجہ کے فُقدان میں گذرا۔ سنہ 1940 اور اس کے آس پاس کے تمام نوجوانوں کی طرح اختر الایمان بھی شروع میں ترقی پسند، یا یوں کہیں کہ ترقی پسندوں کے ساتھ تھے۔ اس زمانے کی نظموں میں بھی اختر Read more about اختر الایمان ۔۔۔ شمس الرحمٰن فاروقی[...]

امو جان ولی کا دیوان رباعیات ۔۔۔ شمس الرحمٰن فاروقی

  ’’رباعیات عجائبات‘‘ نام کا یہ مختصر دیوان رباعی کہاں چھپا اور کب، اس کی خبر نہیں۔ امو جان ولی کا دیباچہ (جو خود بمشکل ایک صفحے کا ہے) ہمیں اتنا ہی بتاتا ہے کہ یہ دیوان ۱۳۱۸ ہجری (۱۹۰۰/۱۹۰۱ حالی) میں تیار ہو گیا تھا اور وہ خود اپریل۱۹۰۲میں سرکاری نوکری سے وظیفہ یاب Read more about امو جان ولی کا دیوان رباعیات ۔۔۔ شمس الرحمٰن فاروقی[...]

ایک بھاشا: دو لکھاوٹ، دو ادب ۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی

  ہمارے نامور دوست، بزرگ محقق، مورخ ادب، شاعر اور بزعم خود ماہر لسانیات پروفیسر گیان چند جین نے تاحیات اردو زبان و ادب کی تدریس اور خدمت کی ہے۔ ان کی کئی کتابوں کے بارے میں بے خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ اردو ادب کی تاریخ میں ان کی جگہ مدت مدید Read more about ایک بھاشا: دو لکھاوٹ، دو ادب ۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی[...]

شہناز نبی کی نظمیں ۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی

  شہناز نبی کی یہ نظمیں ایک بہت پیچیدہ ذہن اور با شعور شخصیت کا پتہ دیتی ہیں۔ ابہام اور استعارہ ان نظموں کا بنیادی وصف ہے۔ لیکن یہ بات بھی ظاہر ہے کہ شاعر کو ہم سے توقع ہے کہ ہم اس کی بات سمجھ سکیں گے، یا سمجھنے کی سنجیدہ کوشش ضرور کریں Read more about شہناز نبی کی نظمیں ۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی[...]

کیا ادب سماج پر اثر ڈالتا ہے؟ ۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی

  شاعری، یا فکشن، یا کسی بھی صنف ادب کا اثر سماج پر پڑتا ہے، یہ معاملہ بہت مشکوک ہے۔ اور اگر مشکوک نہیں تو متنازعہ فیہ ضرور ہے۔ ارباب اقتدار، اور خاص کر مستبد اور آمر ارباب اختیار (جیسا کہ سوویٹ روس کا معاملہ تھا) ہر اس شے سے خوف کھاتے ہیں جو کسی Read more about کیا ادب سماج پر اثر ڈالتا ہے؟ ۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی[...]

مرتضیٰ راہی: نکتۂ چند ز پیچیدہ بیانے ۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی

  (غلام مرتضی راہی: پیدائش ۱۹۳۷) جدیدیت کا سورج جب چمکا تو جہاں بہت سی نئی باتیں ظہور میں آئیں وہاں ایک بات یہ بھی ہوئی کہ بہت سے نو عمر شعرا جنھیں اندھیرے ماحول میں اپنی راہ نہیں مل رہی تھی یا جن کی صلاحیتوں پر نئی دریافت کی کرن نہیں پڑی تھی، انھوں Read more about مرتضیٰ راہی: نکتۂ چند ز پیچیدہ بیانے ۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی[...]

شعر شور انگیز ۔۔۔ شمس الرحمٰن فاروقی

  میر کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ ان کے یہاں لہجے کا دھیما پن، نرمی اور آواز کی پستی اور ٹھہراؤ ہے۔ یہ خیال اس قدر عام ہے کہ اسے ہمارے یہاں نقد میر کے بنیادی تصورات میں شمار کیا جاتا ہے۔ میر کے کلام میں سکون وسکوت ہے، ان کے آہنگ Read more about شعر شور انگیز ۔۔۔ شمس الرحمٰن فاروقی[...]

مدیر کے نام خط ۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی

  (شمس الرحمن فاروقی نے ریاض الرحمن شروانی، ایڈیٹر ’کانفرنس گزٹ‘، علی گڑھ کو ایک علمی مراسلہ لکھا تھا۔ یہ مراسلہ ان لوگوں کے لیے یقیناً کار آمد ہو گا جو درست زبان لکھنے سے دلچسپی رکھتے ہیں۔)   مارچ 2011 کے‘گزٹ‘ کی فہرست میں فرحت علی خاں صاحب کے مضمون پر نظر پڑی تو Read more about مدیر کے نام خط ۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی[...]

کیا نقاد نا اہل ہے؟ ۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی

  نقاد کو اتنا بلند اور اہم مرتبہ آپ کیوں دے رہے ہیں؟ کیا آپ نے تنقیدی کتابوں، یا تنقیدی تحریروں کی عمر پر نہیں غور کیا؟ تنقید تو چار دن کی چاندنی ہے (اگر اسے چاندنی کا لقب دیا جا سکے)۔ کم ہی تنقیدیں ایسی ہیں جو اشاعت کے دس پندرہ سال بعد بھی Read more about کیا نقاد نا اہل ہے؟ ۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی[...]

من عرف نفسہ ۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی

  روشنی کی ایک ننھی سی لکیر میرے کمرے کے اندھیرے کا بدن چپکے چپکے ٹٹولتی ہے جس طرح حبشی حسینہ کے ڈھلے صندل کے سے آبنوسی جسم کے اعصاب میں تیز سوئی کی اچانک اک چبھن سرسراتے سانپ کی مانند دوڑاتی ہے خوں جھنجھنا اٹھتے ہیں سارے تار و پو اور پھر آہستہ آہستہ Read more about من عرف نفسہ ۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی[...]

شور تھمنے کے بعد ۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی

  اب شور تھما تو میں نے جانا آدھی کے قریب رو چُکی ہے شب گرد کو اَشک دھو چُکی ہے بھاری ہے مثل موت شہپر ہے سانس کو رُکنے کا بہانہ تسبیح سے ٹُوٹتا ہے دانہ میں نقطہ حقیر آسمانی بے فصل ہے بے زماں ہے تُو بھی کہتی ہے یہ فلسفہ طرازی لیکن Read more about شور تھمنے کے بعد ۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی[...]

رات شہر اور اس کے بچے ۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی

  سرد میدانوں پہ شبنم سخت سکڑی شاہ راہوں منجمد گلیوں پہ جالا نیند کا مصروف لوگوں بے ارادہ گھومتے آوارہ کا ہجوم بے دماغ اب تھم گیا ہے رنڈیوں زنخوں اچکوں جیب کتروں لوطیوں کی فوج استعمال کردہ جسم کے مانند ڈھیلی پڑ گئی ہے سنسناتی روشنی ہواؤں کی پھسلتی گود میں چپ اونگھتی Read more about رات شہر اور اس کے بچے ۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی[...]

غزلیں ۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی

  (جمیلہ فاروقی کی رحلت پر)   اس کو وداع کر کے، میں بے قرار رویا مانند ابر تیرہ، زار و قطار رویا   طاقت کسی میں غم کے سہنے کی اب نہیں ہے اک دل فگار اٹھا، اک دل فگار رویا   اک گھر تمام گلشن، پھر خاک کا بچھونا میں گور سے لپٹ Read more about غزلیں ۔۔۔ شمس الرحمن فاروقی[...]

فانی باقی ۔۔۔ شمس الرحمٰن فاروقی

  مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے وہ دشت سادہ وہ تیرا جہان بے بنیاد   گیارہ سال کی عمر، یعنی سن بلوغ کو پہنچتے پہنچتے مجھے سب کچھ سکھا اور سمجھا دیا گیا تھا۔ مثلاً یہ کہ ہماری انسانی کائنات کے دو نام ہیں: جزیرۂ آلوچۂ سیاہ، اور جمبُ دویپ۔ اور وہ کائناتی Read more about فانی باقی ۔۔۔ شمس الرحمٰن فاروقی[...]

میں کیوں لکھتا ہوں ۔۔۔ رشید امجد

  ’’اور جس نے یہ دعویٰ کیا کہ میں نے اُس کو حقیقتاً پہچان لیا ہے، اُس نے اپنے وجود کو معروف کے وجود سے بھی زیادہ عظیم اور بزرگ تر کر لیا، کیونکہ جو شخص کسی چیز کو اُس کی حقیقت کی تہہ تک پہنچ کر پہچان لیتا ہے وہ دراصل اُس چیز سے Read more about میں کیوں لکھتا ہوں ۔۔۔ رشید امجد[...]

گفتگو۔۔۔ رشید امجد سے ۔۔۔ ڈاکٹر قرۃ العین طاہرہ

  س: لکھنے کی ابتدا کیونکر ہوئی۔ ابتدا میں کن مصنفین سے متاثر ہوئے۔ ادبی ذوق کے نکھار میں کن لوگوں کا حصہ رہا؟ ج: یہ ۱۹۶۰ء کے آغاز کی بات ہے۔ میں ۵۰۱ ورکشاپ میں ٹائم کیپر کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ مجھے پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن میرے مطالعے کا موضوع Read more about گفتگو۔۔۔ رشید امجد سے ۔۔۔ ڈاکٹر قرۃ العین طاہرہ[...]

اُلٹی قوس کا سفر۔۔۔ رشید امجد

  جب سارے کالے طوطے ایک ایک کر کے اپنے گھونسلوں سے اُڑ گئے تو میں نے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ میرے ساتھ وہ دو بھی تھے جنہیں یہ معلوم نہ تھا کہ ہمیں کہاں جانا ہے۔ وہ سر جھکائے چپ چاپ میرے پیچھے پیچھے آ رہے تھے۔ کالے طوطوں کی سیٹیاں ہمارے لیے Read more about اُلٹی قوس کا سفر۔۔۔ رشید امجد[...]

قافلے سے بچھڑا غم ۔۔۔ رشید امجد

  قدموں کے نشان شہر کی ناف تک تو آتے دکھائی دیتے ہیں، آگے پتہ نہیں چلتا۔ بس ایک خراٹے لیتا سناٹا ہے کہ چوکڑی مارے بیٹھا ہے اور وہ جو قافلہ سے بچھڑ گیا ہے، شہر کے بیچوں بیچ اکیلا کھڑا سوال پہ سوال کئے جا رہا ہے۔ سنسان سڑکیں اور ویران گلیاں اس Read more about قافلے سے بچھڑا غم ۔۔۔ رشید امجد[...]

جناب نصیر ترابی سے ایک گفتگو ۔۔۔ روما رضوی

  کس کی یہ کائنات ہے کون ہے اس کا مدعی۔ کس کو ’ثبات‘ چاہئے نرغۂ بے ثبات میں۔   ذہنِ رسا نہ جا سکا حدِ معینات تک۔ کُن کی روش نہ رک سکی راہ معینات میں۔   ان اشعار کو پڑھ کر آپ کو بھی ایسا ہی لگے گا۔ کہ شکوہ جوابِ شکوہ سے Read more about جناب نصیر ترابی سے ایک گفتگو ۔۔۔ روما رضوی[...]

غزلیں ۔۔۔ نصیر ترابی

  زندگی خاک نہ تھی خاک اُڑاتے گُزری تجھ سے کیا کہتے تِرے پاس جو آتے گُزری   دن جو گُذرا، تو کسی یاد کی رَو میں گُذرا شام آئی، تو کوئی خواب دِکھا تے گُزری   اچھے وقتوں کی تمنّا میں رہی عُمرِ رَواں وقت ایساتھا کہ بس ناز اُٹھاتے گُزری   زندگی جس Read more about غزلیں ۔۔۔ نصیر ترابی[...]

خواب سے سانجھ تک ۔۔۔ محمد یعقوب آسیؔ

  کچی اینٹوں اور گارے سے بنی چوڑی چوڑی دیواروں والے بغیر پھاٹک کے کھلے کھلے بڑے بڑے احاطے کے اندر چار چار پانچ پانچ گھروں کے کچے کوٹھے اور کچے صحن، گرد سے اٹی کھلی کھلی گلیاں اور سڑکیں، دور تک بکھرے درخت اور کھیت، اور ان سب کے اوپر لمحہ بہ لمحہ رنگ Read more about خواب سے سانجھ تک ۔۔۔ محمد یعقوب آسیؔ[...]

غزلیں ۔۔۔ محمد یعقوب آسیؔ

  غم ہزاروں دِلِ حزیں تنہا بوجھ کتنے ہیں اور زمیں تنہا   بس گئے یار شہر میں جا کر رہ گئے دشت میں ہمیں تنہا   اپنے پیاروں کو یاد کرتا ہے آدمی ہو اگر کہیں تنہا   تیری یادوں کا اِک ہجوم بھی ہے آج کی رات میں نہیں تنہا   وہ کسی Read more about غزلیں ۔۔۔ محمد یعقوب آسیؔ[...]

مجھے اک نظم کہنی تھی ۔۔۔ محمد یعقوب آسی

  مجھے اک نظم کہنی تھی مجھے مدت کے پژمردہ تفکر کو لہو دینا تھا صدیوں پر محیط اک عالمِ سکرات میں مرتے ہوئے جذبوں کو پھر سے زندگی کی ہاؤ ہو سے آشنا کرنا تھا ہونٹوں پر لرزتے گنگ لفظوں کو زباں دینی تھی اشکوں کے اجالے سے طلسمِ تیرگی کو توڑنا تھا روشنی Read more about مجھے اک نظم کہنی تھی ۔۔۔ محمد یعقوب آسی[...]

میلا کاغذ ۔۔۔ محمد یعقوب آسی

  ذہن کا کورا کاغذ لے کر کب سے بیٹھا سوچ رہا ہوں دیکھ رہا ہوں کرب و بلا کے خونیں منظر سوچ رہا ہوں کیسے کچھ لکھ پاؤں گا لفظوں کے لب سوکھ رہے ہیں سوچ کے بازو ٹوٹ رہے ہیں!   آج مجھے بھی کوفے سے پیغام آتے ہیں سوچ رہا ہوں میں Read more about میلا کاغذ ۔۔۔ محمد یعقوب آسی[...]

غالب عرفان: زندگی کس لحن میں منظوم ہے ۔۔۔ ڈاکٹر غلام شبیر رانا

  کراچی سے خبر آئی کہ کہنہ مشق شاعر غالب عرفان (محمد غالب شریف، پیدائش: 1938) اکیس جنوری 2021ء کو خالق حقیقی سے جا مِلے۔ پر خلوص جذبات اور دردمندی سے سرشار احساسات کو اشعار کے قالب میں ڈھالنے ولا جری تخلیق کار رخصت ہو گیا۔ اپنے ذہن و ذکاوت کو رو بہ عمل لاتے Read more about غالب عرفان: زندگی کس لحن میں منظوم ہے ۔۔۔ ڈاکٹر غلام شبیر رانا[...]

غزلیں ۔۔۔ غالب عرفان

شعور، پیاسا سمندر ہے، کیا کیا جائے یہ کائنات کا منظر ہے، کیا کیا جائے   نفس نفس میں مقّید ہوا کا رخ بن کر حیات، میرا مقدر ہے، کیا کیا جائے   نگاہ دیکھ نہ پائی ہے، آج تک جس کو وہ میری روح کے اندر ہے، کیا کیا جائے   بلا رہا ہے، Read more about غزلیں ۔۔۔ غالب عرفان[...]

نثری نظم: ہیئت اور تکنیک کی میزان ۔۔۔ حنیف کیفی

  پچھلی کئی دہائیوں سے اردو میں نثری نظم موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ میرے علم کے مطابق اس بحث کا آغاز 1974 میں ڈاکٹر وزیر آغا کے رسالے ’اوراق‘ میں ’سوال یہ ہے‘ عنوان کے تحت ایک مذاکرے کی شکل میں ہوا تھا۔ اس کے بعد نہ صرف یہ کہ اس موضوع کے دروازے Read more about نثری نظم: ہیئت اور تکنیک کی میزان ۔۔۔ حنیف کیفی[...]

غزل ۔۔۔ حنیف کیفی

  آرزوئیں کمال آمادہ زندگانی زوال آمادہ   زندگی تشنۂ مجال جواب لمحہ لمحہ سوال آمادہ   زخم کھا کر بپھر رہی ہے انا عاجزی ہے جلال آمادہ   کیسے ہموار ہو نباہ کی راہ دل مخالف خیال آمادہ   پھر کوئی نشتر آزما ہو جائے زخم ہیں اندمال آمادہ   ہر قدم پھونک پھونک Read more about غزل ۔۔۔ حنیف کیفی[...]

۲۱ ویں صدی کی دوسری دہائی کے دس بڑے ناول ۔۔۔ ڈاکٹر صلاح الدین درویش

  پچھلے دس برسوں میں اردو کے سب سے اہم ناول کون سے سامنے آئے؟ 2010 سے 2019 تک کے دس برسوں میں متعدد ناول اردو دنیا میں منظر عام پر آئے جن میں سیاسی، سماجی، گھریلو، تاریخی اور ثقافتی مسائل سے متعلق موضوعات کو سمویا گیا ہے۔ ان ناولوں میں سے دس کی درجہ Read more about ۲۱ ویں صدی کی دوسری دہائی کے دس بڑے ناول ۔۔۔ ڈاکٹر صلاح الدین درویش[...]

اردو ناول، پبلیسٹی، گمراہ کن رویہ ۔۔۔ مشرف عالم ذوقی

  مائی ڈیر قاری، وہ ناول آ گیا جس کا انتظار تھا۔ ایک سو پچاس برس کے عرصہ میں یہ پہلا ناول ہے جو مغرب کے شاہکار ناولوں پر حاوی ہے۔ اردو میں ناول کہاں لکھا گیا۔ عینی آپا، تارڑ صاحب، سب بھاڑ ہی جھونکا کئے، ناول تو یہ ہے۔ آجکل فیس بک پر کچھ Read more about اردو ناول، پبلیسٹی، گمراہ کن رویہ ۔۔۔ مشرف عالم ذوقی[...]

ذکیہ مشہدی کے ناول "بلہا کیہہ جاناں میں کون” رشتوں کی طیران پذیری کا بیانیہ ۔۔۔ علی رفاد فتیحی

  اگر ایک جانب عالمگیریت کے اثرات اور تیز رفتار ہجرت کے مواقع نے جنسیت (sexuality) کے نظریہ کو متاثر کیا ہے تو دوسری جانب جزوی طور پر ختم ہو تے تولیدی اختلاط کے قوانین نے بھی بین نسلی اور بین المذہبی شادیوں کے رواج کو عام کر دیا ہے۔ نتیجتاً نسلی اور مذہبی تضاد Read more about ذکیہ مشہدی کے ناول "بلہا کیہہ جاناں میں کون” رشتوں کی طیران پذیری کا بیانیہ ۔۔۔ علی رفاد فتیحی[...]

علی اکبر ناطق کا ناول ’کماری والا’ ۔۔۔ شاہد صدیقی

  علی اکبر ناطق اردو ادب کی اقلیم میں داخل ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے شہرت کی شہہ نشین تک جا پہنچا۔ اس کا ابتدائی تعارف اس کی شاعری اور افسانے تھے۔ دونوں اصناف میں اس نے اردو کے قارئین کو چونکا دیا تھا۔ اس کے اسلوب میں ایک تازگی اور نیا پن تھا۔ اردو Read more about علی اکبر ناطق کا ناول ’کماری والا’ ۔۔۔ شاہد صدیقی[...]

ناول ’مکان‘ کی نیرا: نسوانی کرداروں کی ایک عمدہ و خوبصورت مثال ۔۔۔ محمد الیاس انصاری

  زمانۂ قدیم سے ہی عورت پدر سری سماج میں مسائل سے جوجھ رہی ہے۔ ہر دور میں معاشرے نے اپنے اپنے مزاج و ذوق کی مناسبت سے عورت کو قبول کیا ہے اور اسے نظر انداز بھی کیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سماج کی تشکیل اور بقا میں عورت مرکزی کردار ادا Read more about ناول ’مکان‘ کی نیرا: نسوانی کرداروں کی ایک عمدہ و خوبصورت مثال ۔۔۔ محمد الیاس انصاری[...]

میرواہ کی راتوں ‌کا سحر ۔۔۔ محمد خان داؤد

  رات کافی گزر گئی تھی، یا میں نے گزار دی تھی، وہ اس لے کہ میرے ہاتھ میں ایک کتاب تھی۔ اور میں یہی کوشش کر رہا تھا کہ جب اسے پڑھنے بیٹھا ہوں تو کم از کم ختم ہی کر لوں۔ کیونکہ وہ کتاب محض ایک سو بائیس صفحات پر مشتمل تھی، اور Read more about میرواہ کی راتوں ‌کا سحر ۔۔۔ محمد خان داؤد[...]

ایک دِستوپِئن ( dystopian) معاشرے میں ۔۔۔ شافع قدوائی

  آرویلِئن ساخت (Orwellian structure) پر تشکیل شدہ، مشرف عالم ذوقی صاحب کا تازہ ترین ناول ’مرگ انبوہ‘ ایک ایسی ‘حیرت زدگی’ کا احساس کراتا ہے جو ایسے ملک میں رہنے سے پیدا ہوتی ہے جو خرید و فروخت کی تجارت کے علاوہ کچھ نہیں جانتا۔ اردو میں شاندار، جاندار اور جاذبِ قرات ناولوں کی Read more about ایک دِستوپِئن ( dystopian) معاشرے میں ۔۔۔ شافع قدوائی[...]

اللہ میاں کا کارخانہ ۔۔۔ محسن خان

اقتباس   رات کو تیز ہوا کے ساتھ خوب بارش ہوئی تھی۔ کھیتوں کی مٹی گیلی ہو گئی تھی اور درختوں کے پتّے دھُل کر چمک رہے تھے۔ جب میں بکری کو لے کر قبرستان پہنچا تو میں نے دیکھا اماں اور چچا جان کی قبریں کچھ نیچی ہو گئی تھیں اور ان کے کَتبوں Read more about اللہ میاں کا کارخانہ ۔۔۔ محسن خان[...]

مرگ انبوہ ۔۔۔ مشرف عالم ذوقی

  اقتباس باب اول : موت سے مکالمہ   بلیو وہیل اور پاشا مرزا     ’’اس کھیل میں موت ہے موت سے زیادہ خوبصورت کوئی فنتاسی نہیں کیا ہم میں سے کسی کو پتہ ہے کہ موت کے بعد کی زندگی کیسی ہے؟ سب کچھ ختم یا ایک رقص خلا میں؟ یا ایک نئی Read more about مرگ انبوہ ۔۔۔ مشرف عالم ذوقی[...]

خدا کے سائے میں آنکھ مچولی ۔۔۔ رحمن عباس

  اقتباس   “If you had died young , I would have asked you to get life۔ But you lived long۔ So I shall ask you to come again the way you came before” Things Fall Apart- Chinua Achebe                ٭   مؤذن نے تکبیر پڑھی اور لوگ جمعہ Read more about خدا کے سائے میں آنکھ مچولی ۔۔۔ رحمن عباس[...]

چار درویش اور ایک کچھوا ۔۔۔ سید کاشف رضا

  (ایک ابتدائی اقتباس) ابتدائیہ: راوی کا بیان     پتہ نہیں کب انسانوں نے یہ طے کیا تھا کہ کہانی کو بیان کرنے کے لئے کسی نہ کسی راوی کی موجودگی بھی ضروری ہے۔ مگر ایک کہانی کو ایک راوی کیسے بیان کر سکتا ہے؟ کہانی تو ہر سمت سے دکھائی دیتی ہے تو Read more about چار درویش اور ایک کچھوا ۔۔۔ سید کاشف رضا[...]

مرگ اسرافیل سے ۔۔۔ مشرف عالم ذوقی

  (مشرف عالم ذوقی نے ’مرگ انبوہ‘ نامی ناول سے چار عدد ناولوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے، ’مرگ انبوہ‘ کے بعد دوسرا حصہ ’مردہ خانے میں عورت‘ حال ہی میں شائع ہو چکا ہے۔ تیسرا حصہ ’صحرائے لا یعنی‘ اور چوتھا ’ہائی وے پر کھڑا آدمی‘ ابھی زیر طبع ہیں۔ زیر نظر اقتباس، Read more about مرگ اسرافیل سے ۔۔۔ مشرف عالم ذوقی[...]

گرداب ۔۔۔ شموئل احمد

اقتباس ۱   سر شام افق پر اُگے تنہا ستارے کی بھی اپنی ایک اداسی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔! اس کی آنکھوں میں اداسی کا کچھ ایسا ہی رنگ تھا اور اگر دھند کا کوئی چہرہ ہوتا ہے تو اُس کا چہرہ بھی۔۔۔۔۔ وہ خوب صورت نہیں تھی۔ خط و خال بھی تیکھے نہیں تھے۔ پھر بھی Read more about گرداب ۔۔۔ شموئل احمد[...]

حمد ۔۔۔ کرشن کمار طورؔ

  ہے تپتی دھوپ میں سایا بس ایک اس کا نام تلافیِ غم دنیا بس ایک اس کا نام   شکست و ریخت کے ان تپتے ریگزاروں میں نسیم تازہ کا جھونکا بس ایک اس کا نام   مری رگوں میں ہے جاری اسی کی گرمیِ خوں مرے لبوں سے شناسا بس ایک اس کا Read more about حمد ۔۔۔ کرشن کمار طورؔ[...]

غزلیں ۔۔۔ شہر یار

  میں نے جس کو کبھی بھلایا نہیں یاد کرنے پہ یاد آیا نہیں   عکس مہتاب سے مشابہ ہے تیرا چہرہ تجھے بتایا نہیں   تیرا اجلا بدن نہ میلا ہو ہاتھ تجھ کو کبھی لگایا نہیں   زد میں سرگوشیوں کی پھر تو ہے یہ نہ کہنا تجھے جگایا نہیں   باخبر میں Read more about غزلیں ۔۔۔ شہر یار[...]

غزل ۔۔۔ ظفر اقبال

  مسائل بڑھ گئے ہیں، گفتگو ہونا ضروری ہے ہمارا آپ کا اب روبرو ہونا ضروری ہے   محبت کی ذرا سی تھرتھری کافی ہے دونوں کو نہ میں ہونا ضروری ہے نہ تو ہونا ضروری ہے   خصائل تجھ میں ہوں گے خوب روؤں کے بہت لیکن کوئی اپنا تمہارا رنگ و بو ہونا Read more about غزل ۔۔۔ ظفر اقبال[...]

غزلیں ۔۔۔ عزیز قیسی

  اپنوں کے کرم سے یا قضا سے مر جائیں تو آپ کی بلا سے   گرتی رہی روز روز شبنم مرتے رہے روز روز پیاسے   اے رہ زدگاں، کہیں تو پہنچے منہ موڑ گئے جو رہنما سے   پھر نیند اڑا کے جا رہے ہیں تاروں کے یہ قافلے ننداسے   مُڑ مُڑ Read more about غزلیں ۔۔۔ عزیز قیسی[...]

غزل ۔۔۔ احمد مشتاق

  پھر وہی رات پھر وہی آواز میرے دل کی تھکی ہوئی آواز   کہیں باغ نخست سے آئی کسی کوئل کی دکھ بھری آواز   ابھی چھایا نہیں ہے سناٹا آ رہی ہے کوئی کوئی آواز   پھڑپھڑاہٹ کسی پرندے کی کسی کونپل کی پھوٹتی آواز   ابھی محفوظ ہے ترا چہرہ ابھی بھولی Read more about غزل ۔۔۔ احمد مشتاق[...]

غزل ۔۔۔ ندا فاضلی

  پھر گویا ہوئی شام پرندوں کی زبانی آؤ سنیں مٹی سے ہی مٹی کی کہانی   واقف نہیں اب کوئی سمندر کی زباں سے صدیوں کی مسافت کو سناتا تو ہے پانی   اترے کوئی مہتاب کہ کشتی ہو تہہ آب دریا میں بدلتی نہیں دریا کی روانی   کہتا ہے کوئی کچھ تو Read more about غزل ۔۔۔ ندا فاضلی[...]

غزل ۔۔۔ وزیر آغا

  عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا،رُکنا بھی کیا کِرمکِ شب ہوں مِرا جلنا بھی کیا،بجھنا بھی کیا   اک نظر اُس چشمِ تر کا میری جانب دیکھنا آبشارِ نور کا پھر خاک پر گرنا بھی کیا   زخم کا لگنا ہمیں درکار تھا،سو اُس کے بعد زخم کا رِسنا بھی کیا اور Read more about غزل ۔۔۔ وزیر آغا[...]

غزلیں ۔۔۔ مظفرحنفی

  چار سمتیں ہوں گی پگڈنڈی بدلتی جائے گی یوں ہی چلتا جا، کوئی صورت نکلتی جائے گی   فطرتاً سورج کو جلنا ہے سو جلتا جائے گا برف اپنے آپ گرمی سے پگھلتی جائے گی   ایک ریلے کی کسر ہے ایک جھونکے کی کمی تا کجا یہ مشتِ خاکستر اچھلتی جائے گی   Read more about غزلیں ۔۔۔ مظفرحنفی[...]

غزلیں ۔۔۔ سید امین اشرف

  زیب اس کو یہ آشوب گدائی نہیں دیتا دل مشورۂ ناصیہ سائی نہیں دیتا   کس دھند کی چادر میں ہے لپٹی کوئی آواز دستک کے سوا کچھ بھی سنائی نہیں دیتا   ہے تا حد امکاں کوئی بستی نہ بیاباں آنکھوں میں کوئی خواب دکھائی نہیں دیتا   عالم بھی قفس رنگ ہے Read more about غزلیں ۔۔۔ سید امین اشرف[...]

غزلیں ۔۔۔ نشتر خانقاہی

  ہیبت جلال کس کو، کس کو جمال حیرت سر سے نکال وحشت، دل سے نکال حیرت   معمول کے مطابق لمحے رواں دواں ہیں لیکن ٹھہر گئی ہے شامِ زوال حیرت   سیکھی نہیں جہاں سے شاید جہاں شناسی حیران ہے ابھی تک چشم غزال حیرت   دنیا سے ہے زیادہ حیرت کدہ وہاں Read more about غزلیں ۔۔۔ نشتر خانقاہی[...]

غزلیں ۔۔۔ احمد جاوید

  تھا جانبِ دل صبح دم وہ خوش خرام آیا ہوا آدھا قدم سوئے گریز اور نیم گام آیا ہوا   رقص اور پا کوبی کروں لازم ہے مجذوبی کروں دیکھو تو ہے میرا صنم میرا امام آیا ہوا   ہے ذرہ ذرہ پر صدا اہلاً و سہلاً مرحبا کیا سرزمین دل پہ ہے وہ Read more about غزلیں ۔۔۔ احمد جاوید[...]

غزلیں ۔۔۔ کرشن کمار طور

  بسے کہ اجڑے وہ بازار ہر طرف تو کیا اگر ہمیں رہیں سردار ہر طرف تو کیا   مزا تو تب ہے کہ جانیں وہ میرے دل کا حال ہوئے ہیں جمع اگر یار ہر طرف تو کیا   ہماری آنکھ تک آئے کوئی تو لمحۂ لطف محبتیں ہیں اگر ثمر بار ہر طرف Read more about غزلیں ۔۔۔ کرشن کمار طور[...]

غزلیں ۔۔۔ ایوب خاور

  طلسمِ اسمِ محبت ہے در پئے درِ دل کوئی بتائے اب اِس کا کرے تو کیا کرے دل   فسونِ جنبشِ مژگاں نہ پوچھئے، سرِراہ پکارتے ہی رہے ہم ارے! ارے! ارے دل!   پھر اُس کے بعد ہمیں یہ بھی تو نہیں رہا یاد نظر گِری ہے کہاں، کھو گیا کہاں زرِ دل Read more about غزلیں ۔۔۔ ایوب خاور[...]

غزلیں ۔۔۔ مہتاب حیدر نقوی

  وہ بستیاں، وہ بام، وہ در کتنی دور ہیں مہتاب، تیرے چاند نگر کتنی دور ہیں   وہ خواب جو غبار گماں میں نظر نہ آئے وہ خواب تجھ سے دیدۂ تر کتنی دور ہے   بام خیال یار سے اترے تو یہ کھلا ہم سے ہمارے سشام وسحر کتنی دور ہیں   اے Read more about غزلیں ۔۔۔ مہتاب حیدر نقوی[...]

غزلیں ۔۔۔ فرحت احساس

مرے شعروں میں فن کاری نہیں ہے کہ مجھ میں اتنی ہشیاری نہیں ہے بدن پھر سے اگا لے گی یہ مٹّی کہ میں نے جاں ابھی ہاری نہیں ہے محبت ہے ہی اتنی صاف و سادہ یہ میری سہل انگاری نہیں ہے اسے بچوں کے ہاتھوں سے اٹھاؤ یہ دنیا اس قدر بھاری نہیں Read more about غزلیں ۔۔۔ فرحت احساس[...]

غزل ۔۔۔ شجاع خاور

  ہوتا نہیں اس پر مری باتوں کا اثر کچھ مجھ پر ہی اثر ہوتا ہے ہوتا ہے اگر کچھ   ہے جب سے شکم چین سے بے چین ہے سر کچھ احساس یہ اچھا ہے پر اظہار تو کر کچھ   ہیں قید اِدھر ہم تو اُدھر امن واماں ہے لگتا ہے اب اس Read more about غزل ۔۔۔ شجاع خاور[...]

غزلیں ۔۔۔ راحت حسن

جب سے جانا ہے غمِ زیست سے حاصل کیا ہے میں یہی سوچ رہا ہوں متبادل کیا ہے خواب آنکھوں میں بسائے تو ہوئی یہ خواہش کوئی ہم سے بھی یہ پوچھے کہ غمِ دل کیا ہے لوگ ہر قید سے آزاد ہوئے جاتے ہیں پوچھئے کس سے کہ اب کارِ سلاسل کیا ہے کس Read more about غزلیں ۔۔۔ راحت حسن[...]

غزل ۔۔۔ اصغرؔ شمیم

  میں جاگتا رہا یونہی چھت پر پڑے پڑے کرتا رہا شمار میں اختر پڑے پڑے   دستِ ہنر سے فصلیں اُگا تُو زمین سے بنتا نہیں ہے ایسے مقدر پڑے پڑے   جب جنگ ہی نہیں تو ضرورت نہیں رہی بے دھار ہو گئے ہیں یہ خنجر پڑے پڑے   میں تو گھرا ہوا Read more about غزل ۔۔۔ اصغرؔ شمیم[...]

محمد علی جوہر کی شاعری اور جذبۂ حریت ۔۔۔ پرو فیسر گوپی چند نارنگ

  رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر ایک شیر دل قائد تھے۔ ان کے عزم میں ہمالہ کی سی عظمت، جذبے میں آتش فشاں لاوے کی سی گرمی اور ولولے میں سیل بے پناہ کی سی تندی و تیزی تھی۔ وہ کردار اور گفتار دونوں کے غازی تھے۔ بیسویں صدی کے دور اول میں انہوں Read more about محمد علی جوہر کی شاعری اور جذبۂ حریت ۔۔۔ پرو فیسر گوپی چند نارنگ[...]

بانی: ایک نا مکمل تخلیقی سفر ۔۔۔ فضیل جعفری

  بانی کا پہلا مجموعہ ’’حرف معتبر‘‘ ۱۹۷۱ء میں اور دوسرا یعنی ’’حساب رنگ‘‘ ۱۹۷۶ء میں شائع ہوا۔ ان کتابوں کے پیش نظر کسی قطعیت کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ بانی دس بیس برس اور زندہ رہتے تو ان کی شاعری کن راستوں سے گزرتی اور اردو شاعری، خصوصاً غزل کے سرمایے میں Read more about بانی: ایک نا مکمل تخلیقی سفر ۔۔۔ فضیل جعفری[...]

خطبۂ صدارت ۔۔۔ شہزاد احمد

  (حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے سالانہ اجلاس ۲۰۰۷ء میں دیا گیا)   آج میں آپ کے سامنے کچھ سوال پیش کرنے کی جسارت کروں گا۔ یہ سوال مجھے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں، شاید آپ بھی اسی طرح محسوس کرتے ہوں۔ میرا یہ بھی خیال ہے کہ ادب کو تخصیص کار نہیں Read more about خطبۂ صدارت ۔۔۔ شہزاد احمد[...]

رات شیطانی گئی ۔۔۔ ن۔ م۔ راشد

  رات شیطانی گئی ہاں مگر تم مجھ کو الجھاؤ نہیں میں نے کچل ڈالے ہیں کتنے خوف ان پاکیزہ رانوں کے تلے (کر رہا ہوں عشق سے دھوئی ہوئی رانوں کی بات!) رات شیطانی گئی تو کیا ہوا؟ لاؤ جو کچھ بھی ہے، لاؤ یہ نہ پوچھو راستہ کے گھونٹ باقی ہے ابھی آج Read more about رات شیطانی گئی ۔۔۔ ن۔ م۔ راشد[...]

نذرِ جذبی ۔۔۔۔ منیب الرحمٰن

  (۲۰۰۲ء کے اواخر میں جب میں علی گڑھ گیا تو مجھے عرصۂ دراز کے بعد اپنے شفیق دوست معین احسن جذبی سے ملنے کا موقع ملا۔ یہ نظمیں اسی ملاقات کی یادگار ہیں)   باز جست     چلو کہ شہرِ فراموش کا نشاں ڈھونڈیں وہ بام و در، وہ گلی کوچے، وہ مکاں Read more about نذرِ جذبی ۔۔۔۔ منیب الرحمٰن[...]

کتنی مشکل ہے! ۔۔۔ وزیر آغا

  تھکن آنکھوں کی بھاری چلمنوں سے لگ کے بیٹھی دھند اوڑھے منظروں کو دیکھتی۔۔۔کب دیکھتی ہے! جھکی شاخوں سے چمٹے سبز پتے سکڑتی تتلیاں بن کر ندی پر جھک گئے ہیں ندی کا تہہ نشیں پانی زمیں کی کوکھ میں ٹھہرا ہوا ہے فلک۔۔۔اک گول برتن خاک پر اوندھا پڑا ہے سلو موشن میں Read more about کتنی مشکل ہے! ۔۔۔ وزیر آغا[...]

سٹیپنی سے مکالمہ ۔۔۔ کشور ناہید

  بالوں میں کلر لگا رہی تھی آئینے نے پوچھا یہ ناز و نخرہ کس کے لئے ہے؟ تم وصال کے لیئے دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو جاتی ہو انتظار کرتی ہو ٹکنیشین کا کہ وہ کب گاڑی ٹھیک کر کے لائے گا انٹرنیٹ پر چیٹنگ کے لئے تمہارے بیٹوں کو فرصت نہیں Read more about سٹیپنی سے مکالمہ ۔۔۔ کشور ناہید[...]

ڈرتے ڈرتے دمِ سحر سے ۔۔۔ شفیق فاطمہ شعریٰ

  چاند بیگانہ ہے، کون اس کو کہے گا اپنا اس کے حالات جدا، اس کے مقامات جدا نو دمیدہ کبھی، کامل کبھی، نا پید کبھی بس یہی رنگ تلوّن ہے تشخّص اس کا   تارے سرگوشیاں کرتے رہے، ان کی تب و تاب ان سے اچھی کہ رسائی مرے دل تک پائی چاند نے Read more about ڈرتے ڈرتے دمِ سحر سے ۔۔۔ شفیق فاطمہ شعریٰ[...]

اے وقت ذرا تھم جا ۔۔۔ امجد اسلام امجد

  اک خواب کی آہٹ سے یوں گونج اٹھیں گلیاں امبر پہ کھلے تارے باغوں میں ہنسیں کلیاں ساگر کی خموشی میں اک موج نے کروٹ لی اور چاند جھکا اس پر پھر بام ہوئے روشن کھڑکی کے کواڑوں پر سایہ سا کوئی لرزا اور تیز ہوئی دھڑکن پھر ٹوٹ گئی چوڑی، اجڑنے لگے منظر Read more about اے وقت ذرا تھم جا ۔۔۔ امجد اسلام امجد[...]

آشوب ادب ۔۔۔ قاضی عبد الستار

  مائک پہ وہ کوے کی طرح بول رہے ہیں بلبل جو زمانے کے ہیں خاموش کھڑے ہیں   سب صدر میں بیٹھے ہیں بجاتے تھے جو بھونپو فن کار ہیں جتنے وہ کناروں پہ پڑے ہیں   اس ہاتھ میں تحفے ہیں تو اس ہاتھ میں پرچے دفتر میں مدیروں کے وہ چھپنے کو Read more about آشوب ادب ۔۔۔ قاضی عبد الستار[...]

نظمیں ۔۔۔ گلزار

  بارش آنے سے پہلے ہی۔۔۔   بارش کے آنے سے پہلے ہی بارش سے بچنے کی تیاری جا ری ہے ساری دراریں بند کر لی ہیں اور لیپ کے چھت، اب چھتری بھی مڑھوا لی ہے کھڑکی جو کھلتی ہے باہر اُس کے اُوپر بھی اِک چھجّہ کھینچ دیا ہے مین سڑک سے، گلی Read more about نظمیں ۔۔۔ گلزار[...]

لمحۂ تخلیق ۔۔۔ ساجدہ زیدی

  وہ کیسا سحرِ وجود تھا۔۔۔ بیکراں خلاؤں سے کیسی آواز آ رہی تھی وہ کیسا آغاز تھا۔۔۔۔ وہ کیا تھا وہ کون سا رنجِ نا رسائی تھا حزن ہستی تھا۔۔۔۔۔۔۔ یا سیہ بحرِ بیکراں تھا جہاں مرے روز و شب کا درد آشنا سفینہ سا بہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ کیسا بہتا ہوا سا غم Read more about لمحۂ تخلیق ۔۔۔ ساجدہ زیدی[...]

نظمیں ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی

  دھوپ کیوں نہیں آتی     جانے میرے کمرے میں دھوپ کیوں نہیں آتی   دِن تو دِن ہے راتوں کو جب بھی اُس کے کمرے میں میں نے جھانک کر دیکھا جتنے روزنِ در ہیں کیسے اُن سے چھَن چھَن کر چاندنی اُترتی ہے   اُس کے فرش پر دیکھے میں نے لاکھ Read more about نظمیں ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی[...]

گیند (نظمیں) ۔۔۔ جینت پرمار

  گیند۔ ۱   لکڑی کی الماری سے بنا کر دہ تھی   اک گیند ملی تھی پھٹے پرانے کپڑوں کی   اپنے جنم دن پر ماں نے بنا کر دی تھی رنگ برنگی گیند بہت ہی پیاری ایک اک دھاگے میں اب بھی ہے اس کے لمس کی خوشبو باقی پھٹے ہوئے مرے بچپن Read more about گیند (نظمیں) ۔۔۔ جینت پرمار[...]

نظمیں ۔۔۔ جاوید احمد

  علاقہ ممنوعہ   وہ آدھی رات کی پیاسی اندھیروں میں بھٹکتی لڑکھڑاتی، ہانپتی، گرتی ہوئی پتھر کی دیواروں تک آتی ہے وہ خود کو نیند کی گہرائیوں سے موڑتی خواب آئینوں کو توڑتی اپنا بدن جھنجھوڑتی اپنی زباں کا لمس لمبے اور نکیلے پتھروں پر چھوڑتی اپنا لہو اپنی رگوں سے کھینچ کر اُس Read more about نظمیں ۔۔۔ جاوید احمد[...]

نظمیں ۔۔۔ ظفر گورکھپوری

  مرے چراغوں کو دفن کر دو   اصول، اونچے وِچار حق گوئی کہ جس میں کھولی تھیں تم نے آنکھیں تو میرے بچو!   چراغ کیا کیا دیے تھے دادا نے باپ کو باپ نے یہ ورثہ مجھے تھمایا اور اب بڑھاپے میں میں نے چاہا کہ سارا ورثہ، چراغ سارے میں اپنے بچوں Read more about نظمیں ۔۔۔ ظفر گورکھپوری[...]

نظمیں ۔۔۔ عبد الاحد ساز

  معمول   میری موت جھیل میں پھینکے جانے والے کنکر جیسی ہی تو ہو گی کچھ یاروں پیاروں کے دل میں ہوک کی لہر ابھرتی ہے کچھ لمحوں کو غم کے دائرے پھیلتے ہیں پھر پانی پانی سے مل جاتا ہے دائمی فرقت کا ہر زخم ۔۔۔۔۔۔ چار دنوں میں سل جاتا ہے ٭٭ Read more about نظمیں ۔۔۔ عبد الاحد ساز[...]

تین معصوم نظمیں ۔۔۔ شکیل اعظمی

  سردی   مفلر باندھے سوئٹر پہنے دن بھر باہر کھیلتی ہے شام ہوتے ہی کمبل میں گھس جاتی ہے صبح کو جلدی اٹھتی ہے آستین میں ناک پونچھتی کانپتی ہے ہر دم کچھ اوڑھے رہتی ہے بیچاری کو جانے کیا بیماری ہے ٭٭   گرمی   شام کو باغ سے گھر آتی ہے بستر Read more about تین معصوم نظمیں ۔۔۔ شکیل اعظمی[...]

ایک نظم ۔۔۔ اسنیٰ بدر

  اپنی ایک طالبہ زینب کے نام _____________________   کسے معلوم ہے بارہ برس کی سانولی زینب جب اپنے گھر پہنچتی ہے تو اوروں کی طرح کھانا نہیں کھاتی نہ بستہ پھینک کر بستر پہ گرتی ہے وہ اپنے ساتویں نمبر کے بھائی کو کھلاتی ہے کبھی روٹی پکاتی ہے کبھی سالن چڑھاتی ہے کسے Read more about ایک نظم ۔۔۔ اسنیٰ بدر[...]

ہم دیوانوں کی کیا ہستی ۔۔۔ بھگوتی چرن ورما/ حسن منظر

ہندی نظم: بھگوتی چرن ورما   ہم دیوانوں کی کیا ہستی ہیں آج یہاں کل وہاں چلے مستی کا عالم ساتھ رہا ہم دھول اڑاتے جہاں چلے آئے بن کر سرخوشی ابھی آنسو بن کر بہہ چلے ابھی سب کہتے ہی رہ گئے، ارے! تم کیسے آئے کہاں چلے؟ کس اُور چلے یہ مت پوچھو Read more about ہم دیوانوں کی کیا ہستی ۔۔۔ بھگوتی چرن ورما/ حسن منظر[...]

میں تجھے پھر ملوں گی ۔۔۔ امرتا پریتم/ ترجمہ: ڈاکٹر رینو بہل

پنجابی نظم ۔۔۔ امرتا پریتم   امرتا پریتم کی آخری نظم (امروز کے لیے)   میں تجھے پھر ملوں گی کہاں؟ کس طرح؟ نہیں معلوم شاید تیرے تخیل کی چنگاری بن کر تیرے کینوس پر اتروں گی یا شاید تیرے کینوس کے اوپر ایک رہسیہ مے* ریکھا بن کر خاموش ہوئی تجھے دیکھتی رہوں گی Read more about میں تجھے پھر ملوں گی ۔۔۔ امرتا پریتم/ ترجمہ: ڈاکٹر رینو بہل[...]

افسانچے۔۔۔ جوگندر پال

  ارے ہاں   اس نے اپنی تلاش میں گھر بار تیاگ دیا اور چار کھونٹ گھومتا پھرا، اور تلاش کرتے کرتے بھول گیا کہ وہ کیا تلاش کئے جا رہا ہے۔ مگر ایک دن اچانک اپنے آپ کو پھر اپنے گھر کی چوکھٹ پر پا کر مسرت سے اس کی گھگی بندھ گئی، کہ Read more about افسانچے۔۔۔ جوگندر پال[...]

منظر ۔۔۔ سید محمد اشرف

  عرفان صدیقی کے نام   بالکل اسی جگہ، اسی پل پر کھڑے ہو کر میں نے اس دن سوچا تھا کہ خاموش اونٹوں کی قطار کے ساتھ رمضان کا قافلہ تھوڑی ہی دیر میں رخصت ہونے والا ہی۔ تین میل دور قصبے کی پرانی مسجدوں سے مغرب کی اذان کی آواز، راستے کی دھند Read more about منظر ۔۔۔ سید محمد اشرف[...]

رودِ خنزیر ۔۔۔ صدیق عالم

  میں ان دنوں گودی کے علاقے میں سامان اٹھانے کا کام کیا کرتا۔ شام کی طرف، جب میرے پاس کرنے کو کچھ نہ ہوتا، میں اپنے وقت کو دو حصوں میں بانٹ لیتا۔ سورج ڈوبنے سے قبل میں لوہے کے پُل پر بیٹھا لوگوں کے جوتے پالش کیا کرتا۔ جب میرے پاس پالش کرنے Read more about رودِ خنزیر ۔۔۔ صدیق عالم[...]

تماشا ۔۔۔ منشا یاد

  اندھیرے کا طویل سفر طے کرنے کے بعد وہ سورج طلوع ہونے تک دریا کے کنارے پہنچ جاتے ہیں۔ کنارے پر جگہ جگہ ادھ کھائی اور مری ہوئی مچھلیاں بکھری پڑی ہیں۔ چھوٹا کہتا ہے۔ ’’یہ لدھروں کی کارستانی لگتی ہے ابا۔‘‘ ’’ہاں پتر۔‘‘ بڑا کہتا ہے۔ ’’یہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ ضرورت سے Read more about تماشا ۔۔۔ منشا یاد[...]

نوحہ گر ۔۔۔ سلطان جمیل نسیم

  کسی شریر بچے کی طرح کھڑکی کے ادھ کُھلے پٹ سے ہاتھ بڑھا سورج نے مٹھی بھر دھوپ اس کے چہرے پر پھینکی تو نیند، جو آنکھوں میں پاؤں پسارے پڑی تھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ اس نے آنکھ کھولے بغیر سورج کا ہاتھ پرے کر کے کھڑکی کا پٹ بند کیا اور نیند Read more about نوحہ گر ۔۔۔ سلطان جمیل نسیم[...]

تسبیح کے دانے ۔۔۔ محمد حامد سراج

  یہ ایک دیو کی کہانی ہے اسے بڑی عمر کے لوگ بھی پڑھ سکتے ہیں لیکن کہانی پڑھنے کے دوران آداب ملحوظ خاطر رہیں کیوں کہ اب دادی ماں کہانی نہیں سنایا کرتی ہیں ہم نے بڑی مشکل سے دادی ماں کو اس بات پر رضا مند کیا ہے کہ بچپن میں وہ ہمیں Read more about تسبیح کے دانے ۔۔۔ محمد حامد سراج[...]

سراب ۔۔۔ شموئل احمد

  بدر الدین جیلانی، لیڈی عاطفہ حسین کی میت سے لوٹے تو اداس تھے۔ اچانک احساس ہوا کہ موت برحق ہے۔ ان کے ہم عمر ایک ایک کر کے گذر رہے تھے۔ پہلے جسٹس امام اثر کا انتقال ہوا۔ پھر احمد علی کا اور اب لیڈی عاطفہ حسین بھی دنیائے فانی سے کوچ کر گئی Read more about سراب ۔۔۔ شموئل احمد[...]

مٹی کے بُت ۔۔۔ عباس خان

  مدثر کو اس کے والدین نے ہر طرح سے سمجھایا، دوستوں نے منت سماجت کی اور پڑوسیوں نے کوشش کی لیکن اُس کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی، اُس نے سب کو دو ٹوک الفاظ میں جواب دیا کہ وہ اللہ وسائی سے شادی نہیں کرے گا۔ جب وجہ پوچھی جاتی تو وہ Read more about مٹی کے بُت ۔۔۔ عباس خان[...]

ہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا ۔۔۔ فیروز عابد

  میں شاید پانی میں یا کیچڑ میں گردن تک ڈوبا تھا۔ گلے میں آواز پھنس گئی تھی۔ یہ کیا میں تو گنہ گاروں کی قطار میں کھڑا تھا۔ نیکو کار لوگوں کی قطار بہت لمبی تھی۔ اس کی لمبائی بڑھتی جا رہی تھی۔ اب وہ قطار میری نظروں سے اوجھل ہو کر پتہ نہیں Read more about ہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا ۔۔۔ فیروز عابد[...]

یہ عجیب عورتیں ۔۔۔ نسترن احسن فتیحی

  نظروں کے سامنے گہری دھند تھی۔۔۔ گرد و غبار تھا شاید۔۔۔۔ اس کا چہرہ ذرا سا چمکا تھا۔۔۔۔ اس دھند کے پیچھے۔۔۔ مگر شور اور بھیڑ میں وہ گم ہو گئی۔۔ میں نے اسے دوبارہ دیکھنے کی جستجو کی مگر نہیں۔۔۔۔ دھند بہت گہری ہے۔۔ یہ گرد و غبار نہیں، کہرا ہے شاید یا Read more about یہ عجیب عورتیں ۔۔۔ نسترن احسن فتیحی[...]

دہشت گردب۔۔۔ اکبر حمیدی

  گذشتہ کچھ عرصے سے مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میرے خلاف قومی اور بین الاقوامی طور پر دہشت گردی ہو رہی ہے! کئی ایک شہروں سے کلاشنکوفوں کے چلنے اور بموں کے دھماکوں کی آوازیں مَیں سنتا رہتا ہوں۔ سمندر پار سے بھی ایسی ہی خوفناک آوازیں میری سماعت کا حصّہ بن رہی Read more about دہشت گردب۔۔۔ اکبر حمیدی[...]

رباعیات ۔۔۔ اکرم نقاش

  تصویر کے پردے میں گل انداز بھی ہو اس ساز کے پیچھے کوئی آواز بھی ہو سامان گماں ہو نہ کہیں دید و سماع یہ کیفیت سحر یقیں ساز بھی ہو ٭٭   کچھ پاس تو ہو، ساعتٕ حرماں ہی سہی دے زخم کوئی، صورتِ درماں ہی سہی ہے کچھ تو اثاثہ پسِ دل Read more about رباعیات ۔۔۔ اکرم نقاش[...]