اکتوبر 3, 2013

تازہ شمارہ

۔۔۔۔ مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔۔

قارئینِ ’سمت‘ کو نیا سال مبارک ہو۔ دعا ہے کہ یہ سال بر صغیر میں خصوصاً اور تمام عالم میں عموماً خوشیوں۔ مسرت اور امن و امان کا پیغام لے کر آئے۔ پچھلی بار ہم نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ ’سمت‘ کی اب ضرورت نہیں رہی کہ اس کا اجراء محض اس مقصد Read more about ۔۔۔۔ مجھے کہنا ہے کچھ ۔۔۔۔۔[...]

نعت رسولﷺ ۔۔ عبید الرحمٰن نیازی

  مانگنے سے قبل ہی منشا میسّر ہو گیا جو کہیں ممکن نہ تھا، وہ ان کے در پر ہو گیا   چشمۂ حکمت رواں تھا ان کی چوکھٹ پر سدا جس کو اک قطرہ ملا وہ خود سمندر ہو گیا   نرمیِ کردار کے تابع ہوا ہر سخت دل ضربِ رحمت جب پڑی، پتھّر Read more about نعت رسولﷺ ۔۔ عبید الرحمٰن نیازی[...]

پتھر کی زیان ۔۔۔ شاہ محمد مری

  میں نے حساب لگایا تو اندازہ ہوا کہ میں آٹھویں نویں جماعت میں ہوں گا جب پتھر کی زبان (1966) میں شائع ہوئی تھی۔ اور وہ (فہمیدہ ریاض) تو اس قدر کم سن تھی۔ جی ہاں فہمیدہ ریاض نو خیز عمر میں صاحب دیوان ہو گئی۔ میوز مہربان تو اس پر شروع سے رہا۔ Read more about پتھر کی زیان ۔۔۔ شاہ محمد مری[...]

فہمیدہ ریاض: تانیثیت کی علم بردار ۔۔۔ غلام شبیر رانا

فہمیدہ ریاض کا شمار پاکستان میں تانیثیت کی بنیاد گزار خواتین میں ہوتا ہے۔ فہمیدہ ریاض سے مل کر زندگی سے پیار ہو جاتا تھا۔ زندگی بھر خواتین کے حقوق کے لیے جد و جہد کرنے والی اس پر عزم ادیبہ نے تانیثیت کے بارے میں جو واضح موقف اختیار کیا وہ تاریخ کا ایک Read more about فہمیدہ ریاض: تانیثیت کی علم بردار ۔۔۔ غلام شبیر رانا[...]

فہمیدہ ریاض سے گفتگو ۔۔۔ خرم سہیل

فہمیدہ ریاض: ترقی پسند، صوفی، فیمینسٹ شاعرہ   فہمیدہ ریاض نے ایم اے کے بعد لندن سے فلم ٹیکنک میں ڈپلوما بھی حاصل کیا۔ طالب علمی کے زمانے میں پہلی نظم لکھی، جو ’’فنون‘‘ میں شایع ہوئی، جب انہوں نے ریڈیو پاکستان کے لیے خبریں پڑھنے کی ابتدا کی، اس وقت ان کا پہلا شعری Read more about فہمیدہ ریاض سے گفتگو ۔۔۔ خرم سہیل[...]

ایک رات کی کہانی

بڑی سہانی سی رات تھی وہ ہوا میں انجانی کھوئی کھوئی مہک رچی تھی بہار کی خوشگوار حدت سے رات گلنار ہو رہی تھی رو پہلے سپنے سے، آسمان پر سحاب بنکر بکھر گئے تھے اور ایسی اک رات ایک آنگن میں کوئی لڑکی کھڑی ہوئی تھی خموش۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ تنہا Read more about ایک رات کی کہانی[...]

پتھر کی زبان

اسی اکیلے پہاڑ پر تو مجھے ملا تھا یہی بلندی ہے وصل تیرا یہی ہے پتھر مری وفا کا اجاڑ، چٹیل، اداس، ویراں مگر میں صدیوں سے، اس سے لپٹی ہوئی کھڑی ہوں پھٹی ہوئی اوڑھنی میں سانسیں تری سمیٹے ہوا کے وحشی بہاؤ پر اڑ رہا ہے دامن سنبھال لیتی ہوں پتھروں کو گلے Read more about پتھر کی زبان[...]

باکرہ

  اُس کی اُبلی ہوئی آنکھوں میں ابھی تک ہے چمک اور سیاہ بال ہیں بھیگے ہوئے خوں سے اب تک تیرا فرمان یہ تھا اِس پہ کوئی داغ نہ ہو سو یہ بے عیب اچھوتا بھی تھا اَن دیکھا بھی بے کراں ریگ پہ سرگرم لہو جذب ہوا دیکھ چادر پہ مری ثبت ہے Read more about باکرہ[...]

یادیں

کچھ لمحے، جو جی اٹھے تھے کبھی جو دل کی طرح دھڑکے تھے کبھی کچھ لمحے! (جواب مر بھی چکے) ان مردہ لمحوں کی روحیں احساس کے ویراں کھنڈروں میں بے چین بھٹکتی پھرتی ہیں ٭٭٭

اس کا دل تو اچھا دل تھا

ایک ہے ایسی لڑکی جس سے تم نے ہنس کر بات نہ کی کبھی نہ دیکھا اس کی آنکھوں میں چمکے کیسے موتی کبھی نہ سوچا تم نے ایسی باتیں وہ کیوں کہتی ہے کبھی نہ سوچا ملتے ہو تو گھبرائی کیوں رہتی ہے کیسے اس رخسار کی رنگت سرسوں جیسی زرد ہوئی جب تک Read more about اس کا دل تو اچھا دل تھا[...]

غزلیں

کبھی دھنک سی اُترتی تھی ان نگاہوں میں وہ شوخ رنگ بھی دھیمے پڑے ہواؤں میں   میں تیز گام چلی جا رہی تھی اس کی سمت کچا ہے عجیب تھی اس دشت کی صداؤں میں   وہ اک صدا جو فریبِ صدا سے بھی کم ہے نہ ڈوب جائے کہیں تُند رو ہواؤں میں Read more about غزلیں[...]

طیراً ابابیل ۔۔۔ فہمیدہ ریاض

  نئے ہفتے کا پہلا دن سب سے مشکل تھا۔ دفتر میں چھ افراد پر مشتمل ایک پوری ٹیم اس کی منتظر تھی۔ نئی ڈکشنری کا پراجیکٹ شروع ہو چکا تھا۔ افسر خاتون سے فرمائش کی گئی تھی کہ پہلے وہ نئی ڈکشنری کے ’’اصولیات تالیف‘‘ بتائے۔ ’’اصولیات تالیف، یا خدا!‘‘ اس نے دل ہی Read more about طیراً ابابیل ۔۔۔ فہمیدہ ریاض[...]

سواد حرف میں اک عشق بے سپہر کا رنگ ۔۔۔ اعجاز فرخ

1933ء کی شب اپنی ردا درست کر رہی تھی کہ آفتاب رات کو بے حجاب دیکھنے کے لئے صدیوں سے تعاقب میں ہے اور شب تھی کہ اب تک اپنے گیسوئے برہم سنبھال کر چاندنی کی ردا اوڑھ کر نکلتی اور آفتاب کی آہٹ سے پھر چھپ جاتی۔ اودھ کے ایک دیہات سیتا پور میں Read more about سواد حرف میں اک عشق بے سپہر کا رنگ ۔۔۔ اعجاز فرخ[...]

نصف صدی کی ہم سفری: قاضی عبد الستار ۔۔۔ مظفر حسین سید

  ع۔ عالم میں تجھ سے لاکھ سہی، تو مگر کہاں قاضی عبد الستار صاحب کی مراجعت جہان دگر صرف ایک قد آور ادیب وو قلم کار کی رحلت نہیں، بلکہ ایک عہد کا اختتام ہے، ایک دور کا انجام بے خیر ہے اور ایک مخصوص و منفرد نثری اسلوب کی وفات حسرت آیات ہے۔ Read more about نصف صدی کی ہم سفری: قاضی عبد الستار ۔۔۔ مظفر حسین سید[...]

قاضی عبد الستار اور افسانے کی تنقید ۔۔۔ نوشاد منظر

پدم شری قاضی عبد الستار کا شمار ان ادیبوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اردو اور ہندی دونوں ہی زبانوں میں یکساں مقبولیت حاصل کی، ان کی بعض کہانیاں مثلاً بادل، رضو باجی، روپا، پیتل کا گھنٹہ، دیوالی اور میراث وغیرہ ایسی کہانیاں ہیں جو ہندی میں بار بار شائع ہوئیں، ان کے کئی ناول Read more about قاضی عبد الستار اور افسانے کی تنقید ۔۔۔ نوشاد منظر[...]

قاضی عبد الستارکی افسانہ نگاری اور ‘‘پیتل کا گھنٹہ’’ کا تجزیاتی مطالعہ ۔۔۔ صغیر افراہیم

  تمہید _______   ۱۹۴۷ء سے پہلے کے افسانوں کا واضح مقصد یہ تھا کہ ان کے ذریعے انسانی ذہن کو تبدیل کیا جائے اور اسے سیاسی، سماجی اور معاشی نا برابری کے برتا ؤ کے خلاف تیار کیا جائے لہٰذا تقسیم ہند تک جن موضوعات پر خوب لکھا گیا وہ غلامی کی زنجیریں توڑنے Read more about قاضی عبد الستارکی افسانہ نگاری اور ‘‘پیتل کا گھنٹہ’’ کا تجزیاتی مطالعہ ۔۔۔ صغیر افراہیم[...]

رضو باجی ۔۔۔۔ قاضی عبد الستار

  سیتا پور میں تحصیل سدھالی اپنی جھیلوں اور شکاریوں کے لیے مشہور تھی۔ اب جھیلوں میں دھان بویا جاتا ہے۔ بندوقیں بیچ کر چکیّاں لگائی گئی ہیں، اور لایسنس پر ملے ہوئے کارتوس ’’بلیک‘‘ کر کے شیروانیاں بنائی جاتی ہیں۔ یہاں چھوٹے چھوٹے قصبوں کا زنجیرا پھیلا ہوا تھا، جن میں شیوخ آباد تھے Read more about رضو باجی ۔۔۔۔ قاضی عبد الستار[...]

آہ! مضطرؔ مجاز: ایک تعارفی خاکہ ۔۔۔۔ ڈاکٹر عزیز سہیل

حیدرآباد دکن میں جن شاعروں اپنے فن کی بدولت ایک منفرد پہچان بنائی ہے ان میں ایک معتبر نام جناب مضطر مجاز صاحب کا تھا وہ نہ صرف ایک ممتاز شاعر تھے بلکہ انہوں نے غالب اور اقبال کی بیشتر فارسی نظموں/غزلوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے انہوں نے بحیثیت صحافی روزنامہ منصف میں Read more about آہ! مضطرؔ مجاز: ایک تعارفی خاکہ ۔۔۔۔ ڈاکٹر عزیز سہیل[...]

كلام مضطر مجازؔ

  موت کا المیہ _______   وہ اپنے برفیلے ہاتھوں میں میرے جسم کی گرمی بھر لے گی اور آنکھوں کی بلوری شمعیں بجھ جائیں گی لیکن جب دیکھے گی مجھ کو ان پھولوں کی کومل کومل مسکانوں میں ان کے ہاتھوں کی جنبش میں ان کے لہو کی گردش میں جب دیکھے گی میری Read more about كلام مضطر مجازؔ[...]

آنند لہر کی افسانہ نگاری ۔۔۔ ریاض احمد میر

اردو افسانہ نگاری پر آج تک اتنا لکھا جا چکا ہے کہ مزید لکھنے کی گنجائش بہت کم ہے اس لئے میں صرف یہاں پر ذکی انور کی افسانہ نگاری سے متعلق اس تعریف کو دہراؤں گا جس میں انھوں نے کہا ہے کہ’ ’ایک عمدہ مختصر افسانہ وہ ہے جس میں ایجاز و اختصار Read more about آنند لہر کی افسانہ نگاری ۔۔۔ ریاض احمد میر[...]

دوسری سوچ ۔۔۔ آنند لہر

لوگوں کے گھروں میں کام کرتے کرتے اس کا بدن تقسیم ہو گیا تھا، کسی گھر میں اگر ہاتھ اچھے طریقے سے کام کرتے تھے تو دوسرے گھروں میں پاؤں۔ کسی گھر میں پورا جسم بھی کام کرتا تھا۔ سامنے والی پڑوسن کے برتن کھردرے تھے اور سخت بھی اور لوگ تھوکتے بھی ان میں Read more about دوسری سوچ ۔۔۔ آنند لہر[...]

الطاف فاطمہ سے ماہ پارہ صفدر کی گفتگو

اگست 2017 میں ہوئی گفتگو   تاریخی شہر لاہور کے ایک قدیمی علاقے میں الطاف فاطمہ کی رہائش گاہ ’کنج گلی‘ میں بیٹھے ہوئے میں سوچ رہی تھی، کہ اس گلی کے مکینوں کو یہ علم ہی نہیں کہ ان کے درمیان دنیائے ادب کی وہ ہستی مقیم ہیں ساٹھ کے عشرے میں جن کے Read more about الطاف فاطمہ سے ماہ پارہ صفدر کی گفتگو[...]

سہیلؔ غازی پوری: وسیع الموضوعات شاعر ۔۔۔ شبیر ناقدؔ

اقلیمِ شعر و سخن فاخر و نازاں ہے کہ اسے اعلیٰ پائے کے شعرا میسر آئے جن کے تخلیقی جواہر پاروں کی بدولت آج شہری تاریخ مالا مال ہے فکر و فن کے مشاہیر نئی نسلوں کے لیے مینارِ نور کی طرح ہوتے ہیں چند ایک موضوعات و اصناف پر تو ہر شاعر طبع آزمائی Read more about سہیلؔ غازی پوری: وسیع الموضوعات شاعر ۔۔۔ شبیر ناقدؔ[...]

غزلیں ۔۔۔ سہیلؔ غازی پوری

  فصیل ہجر پر اترا ہے مہتاب شناسائی چمک اٹھا ہے اک مدت کے بعد ایوان تنہائی   لکھا جو کچھ ہے دیواروں پر وہ پڑھنے سے کیا حاصل ادھر سے پھیر لو نظریں یہی ہے شرط دانائی   میں اپنی ذات کے اندر اگر خوش ہوں تو پھر مجھ کو پریشاں کسی طرح باہر Read more about غزلیں ۔۔۔ سہیلؔ غازی پوری[...]

کہمن ۔۔۔ سہیلؔ غازی پوری

  دِکھاوا _______   منظر:   میری بیگم کی ایک سہیلی تھی جو کہ تہذیب نو کی تھی حامل کام جو بھی وہ سوچ لیتی تھی اُس کو کرتی تھی، چاہے ہو مشکل اُس کا شوہر کہیں پہ نوکر تھا جس کو رزق حلال تھا حاصل اپنی بیوی کے اِک دکھاوے سے بن گیا کچھ Read more about کہمن ۔۔۔ سہیلؔ غازی پوری[...]

غزل ۔۔۔ حامدی کاشمیری

نگاہ شوق کیوں مائل نہیں ہے کوئی دیوار اب حائل نہیں ہے سحر دم ہی گھروں سے چل پڑے سب کوئی جادہ کوئی منزل نہیں ہے سبھی کی نظریں ہیں کشتی کے رخ پر مگر اس بحر کا ساحل نہیں ہے کریں کس سے توقع منصفی کی کوئی ایسا ہے جو قاتل نہیں ہے ٭٭٭

نظمیں۔۔۔ عارفہ شہزاد

  گیت ہوا کا ­__________   تیری دھوپ کی نرمی اوڑھوں اور بھی کھلتی جاؤں دن اور رات مہکتے جائیں پہروں یوں مسکاؤں ساگر ایک اشارہ کر دے لہروں میں لہراؤں ہر اک بوند سے ایسے لپٹوں میں بارش ہو جاؤں اے رے دور مسافر! کیسے من تیرا بہلاؤں؟ ٭٭٭         کون Read more about نظمیں۔۔۔ عارفہ شہزاد[...]

دو نظمیں ۔۔۔ کاوش عباسی

  وہی غم ­____________________________   زندگی آج بھی میرے لئے اِک چُبھتا سوال ’’آرزو کیا، مِری تقدِیر، مِری حَد کیا ہے سِرّ تسکین و ظفر یابی کی اَبجد کیا ہے ”   دُور تک یاد کے خُلیوں میں سمایا ہوا اِک شخص مِری عُمر برابر وہ مِرا عکس چُلبلاتا سا، مچَلتا سا وہ بچپن وہ Read more about دو نظمیں ۔۔۔ کاوش عباسی[...]

کچھ مختصر نظمیں ۔۔۔ سبین علی

  گلہ ­__________   گلہ نہ کرتے تو کیا ہوتا؟ گر چپ ہی رہتے تو کیا ہوتا؟ کھنچی ڈور کے سرے ہاتھوں پر پھرنے سے یوں زخم نہ آتے خسارہ کم ہی ہوتا نا آخر!!! ٭٭٭         رنج ­__________   قفس میں جکڑے وہ پرندے جو پشیمانی کے بیضے سے جنم لیتے Read more about کچھ مختصر نظمیں ۔۔۔ سبین علی[...]

کلیات حفیظ جونپوری، ایک لا ثانى سرمایہ کی بازیافت ۔۔۔ ایس ایم عباس

جعلی خطوط کی روایت ۔۔۔ سید نصرت بخاری

خطوط کا انسانی زندگی میں بہت عمل دخل رہا ہے۔ شاید ہی کوئی انسان ایسا ہو گا جس نے کوئی خط لکھا یا لکھوایا نہ ہو، یا کون ایسا شخص ہو گا جس کو کسی نے خط نہ لکھ اہو گا۔ لیکن ایسے لوگ یقیناً بہت کم ہوں گے جنھوں نے فرضی نام سے جعلی Read more about جعلی خطوط کی روایت ۔۔۔ سید نصرت بخاری[...]

ڈاکٹر سکندر حیات میکن بطور محقق ۔۔۔ قیصر شہزاد ساقیؔ

تحقیق حق کی تلاش ہے، ایک جستجو ہے جو کئی بکھری اور پراگندہ کڑیوں کو ایک مربوط زنجیر میں جوڑ دیتی ہے۔ تحقیق جہاں علم و ادب میں کئی اضافے کرتی ہے وہاں کئی فرسودہ اور کہنہ روایات کے حصار میں شگاف بھی ڈالتی ہے۔ تحقیق ایک وقت طلب کام ہے اور اس ریاضت و Read more about ڈاکٹر سکندر حیات میکن بطور محقق ۔۔۔ قیصر شہزاد ساقیؔ[...]

غزل ۔۔۔ حفیظ جونپوری

  بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے   نہیں مرتے ہیں تو ایذا نہیں جھیلی جاتی اور مرتے ہیں تو پیماں شکنی ہوتی ہے   دن کو اک نور برستا ہے مری تربت پر رات کو چادر مہتاب تنی ہوتی ہے   تم بچھڑتے ہو جو Read more about غزل ۔۔۔ حفیظ جونپوری[...]

چوزہ۔ شگفتہ اور وینٹی لیٹر مشین ۔۔۔ محمد جمیل اختر

ٹی وی چل رہا ہے، جس پر ایک خاتون عجیب بے ہودہ انداز میں تقریر کر رہی ہے۔ اُس کی آواز اتنی بری ہے یا شاید میرے کانوں کو بری لگ رہی ہے کہ میں ایک لفظ بھی نہیں سن سکتا۔ لیکن میں ٹی وی بند نہیں کر سکتا، کمرے کے کونے میں ایک چُوزہ Read more about چوزہ۔ شگفتہ اور وینٹی لیٹر مشین ۔۔۔ محمد جمیل اختر[...]

گھٹن بھرا کہرا ۔۔۔ دیوی ناگرانی

نینی تال، 5 جون 2012 پیاری دیپا، تمہارا خط ملا، پڑھ کر لگا کہ تم میرے بارے میں جاننے کے لئے زیادہ فکر مند بھی ہو اور پریشان بھی۔ کیوں نہ رہو گی، میں فیروز پور سے اپنا سب کچھ راتوں رات سمیٹ کر، تم سے بنا کچھ کہے، بنا کچھ بتائے یہاں نینی تال Read more about گھٹن بھرا کہرا ۔۔۔ دیوی ناگرانی[...]

خوف ۔۔۔ داؤد کاکڑ

  اسے ہوش آیا تو چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا۔  اس نے خاموشی سے کچھ سن گن لینے کی کوشش کی لیکن مکمل سناٹا تھا یہاں تک کہ زمینی حشرات بھی خاموش تھے۔  ہاں، البتہ دل دھڑکنے کی دھم دھم ضرور محسوس ہو رہی تھی۔  وہ یکسوئی کے ساتھ کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہا Read more about خوف ۔۔۔ داؤد کاکڑ[...]

جی بہتر ۔۔۔ عمار نعیمی

"ایوب صاحب یہ کیا؟ آج تو بدھ ہے اور آج کے دن تو گروپ میں شاعری پوسٹ کرنا منع ہے۔ بقول آپ کے ؛ شاعری صرف اتوار کے دن پوسٹ کی جا سکتی ہے۔ آپ ہی نے تو گروپ کے قوانین مرتب کیے ہیں اور آپ ہی۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔ ؟‘‘ عادل نے فیس بک گروپ Read more about جی بہتر ۔۔۔ عمار نعیمی[...]

غزلیں ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی

  سر تکیے میں لاکھ چھپایا، دیکھ لیا میں نے اپنا اصلی چہرہ دیکھ لیا   دانت کہاں اک مصنوعی بتیسی ہے آنکھ ہے کانی، کان ہے ٹیڑھا دیکھ لیا   اب اک کالی گہری کھائی آئے گی سایہ اپنے قد سے لمبا دیکھ لیا   بند آنکھوں میں آ بیٹھے ہو، بے پردہ ایسے Read more about غزلیں ۔۔۔ مصحف اقبال توصیفی[...]

غزلیں ۔۔۔ کاشف حسین غائر

  یہ کیسی راہ سے کل رات ناگہاں گزرا کہ مجھ کو خود پہ کسی اور کا گماں گزرا   وہ چار روز کی بھی زندگی مزے میں کٹی ذرا سا وقت تھا لیکن کہاں کہاں گزرا   مسافروں کو یہ رستے بھی یاد رکھتے ہیں ابھی فلاں نہیں گزرا، ابھی فلاں گزرا   سفر Read more about غزلیں ۔۔۔ کاشف حسین غائر[...]

غزلیں ۔۔۔ طارق بٹ

نقش تیرا میں جاں سے دھویا نئیں خود کو رویا ہوں، تجھ پہ رویا نئیں   کھو گیا ہے سمے کی دھند میں تو دل کے منظر نے تجھ کو کھویا نئیں   آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ہے جیسا سنتے تھے ویسا ہویا نئیں   سانس لیتی ہیں تیری تصویریں کون تصویر میں تو گویا Read more about غزلیں ۔۔۔ طارق بٹ[...]

غزل ۔۔۔ بھارت بھوشن پنت

کسے دیکھا ہے جو یہ آئینہ حیران لگتا ہے بظاہر تو یہاں ہر آدمی انسان لگتا ہے   بہت دیکھا ہوا سجھا ہوا جانا ہوا چہرہ اسے بھی غور سے دیکھو تو کچھ انجان لگتا ہے   کبھی اس راستے پر بھیڑ کم ہوتی نہیں لیکن نہ جانے کیوں ہمیں یہ راستہ سنسان لگتا ہے Read more about غزل ۔۔۔ بھارت بھوشن پنت[...]

غزل ۔۔۔ جاناں ملک

ندی یہ جیسے موج میں دریا سے جا ملے تم سے کہیں ملوں میں اگر راستہ ملے   ملتی ہے ایک سانس کی مہلت کبھی کبھی شاید یہ رات بھی تری صبحوں سے جا ملے   جو بھی ملا وہ اپنی انا کا اسیر تھا انساں کو ڈھونڈنے میں گئی تو خدا ملے   اس Read more about غزل ۔۔۔ جاناں ملک[...]

غزلیں ۔۔۔ ڈاکٹر وقار خان

شوقِ حسن و ادا، دل لگی معذرت ساقیا معذرت، مے کشی معذرت   میرا احساس عاری ہے جذبات سے چشمِ نَم، سوزِ دل، بے بسی معذرت   قافلہ لوٹنے سے میں قاصر رہا رہبرو معذرت، رہبری معذرت   میں بسر کر نہ پایا تجھے ڈھنگ سے معذرت زندگی، زندگی معذرت   میری حالت کہیں درمیاں Read more about غزلیں ۔۔۔ ڈاکٹر وقار خان[...]

غزل ۔۔۔ عاطف چودھری

خوشی اب اس لئے بھی تم سے مل کر ہو نہیں سکتی کہ پہلے سی کوئی ساعت میسر نہیں ہو نہیں سکتی   بدلتے موسموں کے ساتھ ممکن ہے بدل جائے مگر میری محبت سے وہ منکر ہو نہیں سکتی   اجڑ بھی جائے تو اس میں محبت کی نمو ہو گی یہ میرے دل Read more about غزل ۔۔۔ عاطف چودھری[...]

غزلیں ۔۔۔ نوشین نوشیؔ

  ضروری کیا نہیں اور کیا ضروری ہے بھلا اس بحث میں پڑنا ضروری ہے؟   تو اپنا ظرف تھوڑا اور اونچا کر تعلق کا بھرم رکھنا ضروری ہے   سبھی کچھ جانتے ہو پھر بھی کہتے ہو خموشی سے گزر جانا ضروری ہے   بلندی پر پہنچ کر بھول جاتے ہو کہ نیچے دیکھنا Read more about غزلیں ۔۔۔ نوشین نوشیؔ[...]

مردِ آزاد ۔۔۔ قیصر شہزاد ساقیؔ

بچپن میں کسی شرارت پہ امی کہتیں ’’یوں کرو گے تو اللہ میاں ناراض ہوں گے‘‘ اس جملے کی زیادتی سے میرے معصوم دماغ میں یقین کی حد تک جو اللہ میاں کی تصویر بنتی وہ کچھ یوں تھی: لمبا قد، خوبصورت کھڑی ناک، چوڑی پیشانی اور اس پہ مستزاد نا مٹنے والی لکیریں جیسے Read more about مردِ آزاد ۔۔۔ قیصر شہزاد ساقیؔ[...]

ہزل ۔۔۔ عاطف ملک

ابنِ عاطف ہوا کرے کوئی مجھ کو "ابا” کہا کرے کوئی   گھر سے جب جاؤں کام پر باہر یاد مجھ کو کیا کرے کوئی   لوٹ کر جب میں آؤں دفتر سے کھلکھلا کر ہنسا کرے کوئی ویڈیو گیم کھیلنے کیلیے اپنی ماں سے لڑا کرے کوئی   میری آنکھوں میں دیکھنے کو غرور Read more about ہزل ۔۔۔ عاطف ملک[...]

جبران سے ملیے ۔۔۔ مبصر: غلام ابن سلطان

نام کتاب: جبران سے ملیے مرتبین: شجاع الدین غوری، ڈاکٹر صابر علی ہاشمی، وضاحت نسیم جبران اشاعت گھر، کراچی، اشاعت اول، ۲۰۱۸۔   اس عالمِ آب و گِل کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہاں کی ہر شے مسافر ہے اور ہر چیز راہی ہے۔ جب زندگی کی مسافت کٹ جاتی ہے Read more about جبران سے ملیے ۔۔۔ مبصر: غلام ابن سلطان[...]

’’یادیں باقی ہیں‘‘ : محمد معین الدین کمالی ۔۔۔ مبصر: غلام ابن سلطان

  مکتبۂ دگر گلشن اقبال، کراچی، سال اشاعت، 2018   قحط الرجال کے موجودہ دور میں زندگی کی اقدارِ عالیہ اور درخشاں روایات پر جان کنی کا عالم ہے۔ پیہم شکستِ دِل کے نتیجے میں جان لیوا سکوت اور اعصاب شکن بے حسی نے افراد کو حرص و ہوس کا اسیر بنا دیا ہے۔ پیمان Read more about ’’یادیں باقی ہیں‘‘ : محمد معین الدین کمالی ۔۔۔ مبصر: غلام ابن سلطان[...]