اکتوبر 3, 2013

تازہ شمارہ

مجھے کہنا ہے کچھ۔۔۔۔

ایک تاریکی چھائی ہوئی ہے حدِّنظر تک۔ ایک طرف کورونا وبا کا خوف اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ غیر یقینی صورت حال، اور دوسرے اب موت کی دستک قریب قریب سنائی دینے لگی ہے۔ مجتبیٰ حسین کی موت کے غم سے ہم باہر آئے بھی نہیں تھے کہ مزید قریبی لوگوں کی سناؤنی Read more about مجھے کہنا ہے کچھ۔۔۔۔[...]

حمد ۔۔۔ شاہین

ہو خواہ کوئی جم جاہ، لا غالب الاللہ میں ڈھونڈوں تیری پناہ، لا غالب الاللہ   نکلے تو کسی سَمت آہ، لا قیدیتی کی راہ یہ تھر بے آب و گیاہ، لا غالب الاللہ   یہ مطلعِ برق و سحاب، یہ روشنیوں کا حجاب یہ دل یہ سنگِ سیاہ، لا غالب الاللہ   مری جھکی Read more about حمد ۔۔۔ شاہین[...]

غزلیں۔۔۔ راحتؔ اندوری

دلوں میں آگ لبوں پر گلاب رکھتے ہیں سب اپنے چہروں پہ دہری نقاب رکھتے ہیں   ہمیں چراغ سمجھ کر بجھا نہ پاؤ گے ہم اپنے گھر میں کئی آفتاب رکھتے ہیں   بہت سے لوگ کہ جو حرف آشنا بھی نہیں اسی میں خوش ہیں کہ تیری کتاب رکھتے ہیں   یہ میکدہ Read more about غزلیں۔۔۔ راحتؔ اندوری[...]

آخری چار اشعار ۔۔۔ راحت اندوری

نئے سفر کا جو اعلان بھی نہیں ہوتا تو زندہ رہنے کا ارمان بھی نہیں ہوتا   تمام پھُول وہی لوگ توڑ لیتے ہیں وہ جن کے کمروں میں گلدان بھی نہیں ہوتا   خموشی اوڑھ کے سوئی ہیں مسجدیں ساری کسی کی موت کا اعلان بھی نہیں ہوتا   وبا نے کاش ہمیں بھی Read more about آخری چار اشعار ۔۔۔ راحت اندوری[...]

ایک چہرے والا آدمی: نصرت ظہیر ۔۔۔ حقانی القاسمی

تحریر سے جو تصویر بنتی ہے وہ نقش بر آب نہیں نقش کالحجر ہو جاتی ہے۔ علی گڑھ کے زمانہ طالب علمی سے ہی قومی آواز کے ضمیمہ کے وسیلے سے نصرت ظہیر کی تحریروں سے اتنی ملاقاتیں رہی ہیں کہ اگر ان سے شخصی ملاقات نہ بھی ہوتی تو ان کی شخصیت سے مکمل Read more about ایک چہرے والا آدمی: نصرت ظہیر ۔۔۔ حقانی القاسمی[...]

ڈاڑھ کا درد ۔۔۔ نصرت ظہیر

  ڈاڑھ کا درد وہ درد ہے، جسے انسان کا پورا جسم محسوس کرتا ہے، سوائے داڑھ کے! جب یہ ہوتا ہے تو انسان انسان نہیں رہتا۔ سمٹ کر ایک داڑھ بن جاتا ہے، جو یہاں سے وہاں لڑھکتی پھرتی ہے۔ اس مشاہدے کا بیان میں نے میاں عبد القدوس سے کیا تو کہنے لگے Read more about ڈاڑھ کا درد ۔۔۔ نصرت ظہیر[...]

کتے کی زبان ۔۔۔ نصرت ظہیر

تو بات کتے کی زبان کی چل رہی تھی۔ اُس زبان کی نہیں، جسے کتا اکثر منھ سے باہر لٹکائے رکھتا ہے اور یوں لگتا ہے، جیسے ہوا میں موجود رطوبتِ نسبتی Relative Humidity ناپنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ذکر اس زبان کا تھا، جس میں وہ دوسروں کا کہا، سنتا سمجھتا اور اپنی Read more about کتے کی زبان ۔۔۔ نصرت ظہیر[...]

کچھ اپنے بارے میں۔۔۔ ارمان نجمی

اپنے بارے میں کچھ بھی لکھنا میرے لئے ایک مشکل کام ہے۔ میں ادب کا ایک طالب علم ہوں، پڑھتا رہتا ہوں سیکھتا رہتا ہوں، بھولتا رہتا ہوں اور یاد بلکہ مکرر یاد کرتا رہتا ہوں۔ لفظوں کی کائنات سے بساط بھر رشتہ جوڑنے کی کوشش میں کیا پایا اور کیا کیا کھویا اس کا Read more about کچھ اپنے بارے میں۔۔۔ ارمان نجمی[...]

نظمیں۔۔۔۔ ارمان نجمی

  فالج ———————–   نیند گہری نیند خاموشی مسلسل، دست و پا حرکت سے عاری چلتے پھرتے ژدمی کا بوجھ ہے بستر پہ بھاری بے بسی کے اک بھنور میں تہ نشیں ہے ذات ساری بے حسی کی دھند میں شام و سحر کی بے کناری مرکز اعصاب پر ہے چوٹ گہری بے نشاں ہر Read more about نظمیں۔۔۔۔ ارمان نجمی[...]

بے چارہ بے کار ۔۔۔ سلطان جمیل نسیم

فہیم اس طرح بھیڑ میں گھر گیا تھا کہ ایک قدم آگے بڑھانا دو بھر ہو رہا تھا۔ بڑی مشکل سے دو قدم آگے بڑھتا تو چار قدم پیچھے دھکیل دیا جاتا تھا۔ ’’میں کس مصیبت میں آن پھنسا۔۔۔؟‘‘ اس ہجوم کے نرغے سے نکلنے کے لئے راہ ملنا تو درکنار اُس کو سوچنے تک Read more about بے چارہ بے کار ۔۔۔ سلطان جمیل نسیم[...]

گور کن ۔۔۔ سلطان جمیل نسیم

گورکن کی مصروفیت میں اضافہ تو اُس وقت سے ہی ہو گیا تھاجب قبرستان شہر کے ایک کنارے سے سمٹ سمٹا کے شہر کی بیچ آغوش میں آن سمایا تھا۔ اب لوگوں نے اسی قبرستان میں عزیز اقارب کی تدفین کو اسٹیٹس سمبل بنا لیا تھا۔ جوں جوں آبادی بڑھ رہی تھی قبرستان کی زمین Read more about گور کن ۔۔۔ سلطان جمیل نسیم[...]

چشمِ بینا ۔۔۔ سلطان جمیل نسیم

(ڈاکٹر الیاس عشقی کے بارے میں چند باتیں اور کچھ یادیں)   جوانی جس کو شاعروں نے زندگانی کہا ہے جب منہ پھیر کر چل دیتی ہے تو پھر ہر حیلے ہر بہانے گزرے دن گزار نے اچھے لگتے ہیں۔یہی حال آج میرا ہے مجھے 1955ء کے وہ دن یاد آ رہے ہیں جب میں Read more about چشمِ بینا ۔۔۔ سلطان جمیل نسیم[...]

اکرام باگ: گم ہوتا ہوا کارواں … مشرف عالم ذوقی

اکرام باگ، قمر احسن مجھ سے کافی سینیر تھے۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب یہ نام افسانے کی دنیا میں عزت و احترام سے لئے جاتے تھے۔ مجھے قمر احسن بھی پسند تھے اور اکرام باگ بھی۔ اس کے باوجود کہ یہ دور فکشن کی بھول بھلیوں کا دور تھا۔ بے سر پیر کی Read more about اکرام باگ: گم ہوتا ہوا کارواں … مشرف عالم ذوقی[...]

دو نظمیں ۔۔۔ تنویر قاضی

  ہاتھی کھلونے کی تشکیک ___________________________   سفید ہاتھی ڈرے مہابت کو گھُورتا ہے کھلونا ہاتھی رکھا تھا کمرے کی کارنس پر ذرا سرکتا، اُٹھاتا پاؤں پھلانگتا ہانپتا گیا ہے گلی کی جانب گھروں میں بچوں کے کھیلنے کے کھلونے دیکھے تو سارے ہاتھی چنگھاڑتے، روندتے سڑک روک کر کھڑے ہیں دبیز دلدل میں شہر Read more about دو نظمیں ۔۔۔ تنویر قاضی[...]

نظمیں ۔۔۔ عارفہ شہزاد

ساعتیں ادھوری ہیں ________________ ادھورا چہچہا ہاتھوں کی پوروں نے لکھا ہے ادھوری نظم ہونٹوں نے چنی ہے ادھورا گیت رستے میں کھڑا ہے   پرندے راستہ بھولے ہوئے ہیں گھنے جنگل میں کوئل کوکتی ہے کوئی خواہش ہے اندر ہوکتی ہے!   ہوا کے ہاتھ سے بہتی اداسی خوشی بس پور بھر بالکل ذرا Read more about نظمیں ۔۔۔ عارفہ شہزاد[...]

مختصر نظمیں۔۔۔ سلیم انصاری

ایک نظم ____________________________   رات جنگلوں میں اتری تھی لیکن۔۔۔۔۔ جگنوؤں نے اسے شہروں کی طرف دھکیل دیا۔۔۔۔ ! ٭٭٭     سمجھوتہ ____________________________     گوندھ کر جذبوں کی مٹی درد کے پیکر مجھے تشکیل کرنے دو کہ اب تو میرے جینے کی یہی صورت بچی ہے ٭٭٭       برہنگی ____________________________   Read more about مختصر نظمیں۔۔۔ سلیم انصاری[...]

دو نظمیں ۔۔۔ منصف ہاشمی

چاہتوں کا اسیر ________________   جو زیتون اور انجیر کی تسبیح کرتے ہوئے محبتوں، چاہتوں میں تڑپتے ہوئے بنجر زمین کو لہو سے سراب کرتا ہے جو صور اسرافیل کا انتظار کرتا نہیں وہ دار پر لٹکتے ہوئے۔۔۔ سبز کہف کی تلاوت کرتے ہوئے۔۔ وقت سے بہت آگے بہت دور نکل جاتا ہے وہ عزازیل Read more about دو نظمیں ۔۔۔ منصف ہاشمی[...]

اقبال اور منصور حلّاج۔۔۔ ڈاکٹر رؤف خیر

ہمارے اکثر شعرا کے نزدیک حسین بن منصور حلّاج حق گوئی کا نمائندہ ہے جس کی پاداش میں اسے دار و رسن سے گزرنا پڑا۔ اردو اور فارسی شاعری میں منصور حلّاج کے لیے نرم گوشہ پایا جاتا ہے۔ بلکہ کئی صوفیہ کے پاس بھی منصور حلّاج تصوف کی اعلی منازل پر متمکن دکھائی دیتا Read more about اقبال اور منصور حلّاج۔۔۔ ڈاکٹر رؤف خیر[...]

زندگی سے مکالمہ کرنے والا شاعر۔ خوشبیر سنگھ شاد ۔۔۔ سلیم انصاری

خوشبیر سنگھ شاد موجودہ شعری منظر نامے پر نقش ایک ایسا نام ہے جس نے اپنی شاعری میں خوشگوار حیرتوں اور زندگی رنگ خوابوں کا ایک نیا ذائقہ تخلیق کیا ہے۔ ان کی تخلیقی انفرادیت نے بہت کم عرصہ میں سرحدی اور جغرافیائی لکیروں کو مٹا کر عالمی سطح پر اپنی شناخت کے نئے موسم Read more about زندگی سے مکالمہ کرنے والا شاعر۔ خوشبیر سنگھ شاد ۔۔۔ سلیم انصاری[...]

مشفق خواجہ، اپنے مکتوبات کے حوالے سے ۔۔۔ عطا محمد تبسم

ممتاز محقق، شاعر، نقاد اور کالم نگار مشفق خواجہ نے اردو ادب میں وہ گراں مایہ کارنامے انجام دیئے، جو کسی طور پر ایک ادارے کے کرنے لائق تھے۔ مشفق خواجہ کو کتابوں سے عشق تھا، وہ بہترین فوٹو گرافر تھے، تحقیق ان کا جنون تھا، سچ تو یہ ہے کہ تحقیق کا کام ان Read more about مشفق خواجہ، اپنے مکتوبات کے حوالے سے ۔۔۔ عطا محمد تبسم[...]

اشفاق احمد ورک بطور خاکہ نگار ۔۔۔ صبا رؤف

اردو میں خاکہ نگاری کا با قاعدہ آغاز فرحت اللہ بیگ کی تحریر ’’نذیر احمد کی کہانی کچھ ان کی کچھ میری زبانی‘‘ سے تسلیم کیا جاتا ہے۔ اگرچہ محمد حسین آزاد نے بھی اپنی کتاب ’’آب حیات‘‘ میں مختلف شعراء کے حلیے، ان کے لباس اور بات چیت کے انداز کو تفصیل سے بیان Read more about اشفاق احمد ورک بطور خاکہ نگار ۔۔۔ صبا رؤف[...]

افسانہ ’’خوفِ ارواح‘‘ ایک تجزیہ ۔۔۔ ڈاکٹر نور الصباح

کہا جاتا ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے جو انسانی کی طمانیت کا ذریعہ ہوتی ہے اور یہی طمانیت اسے تکمیلیت کا درجہ عطا کرتی ہے۔ اسی طرح ضرورت کے تحت فرصت کے اوقات میں داستان طرازی نے تولید پائی اور پھر عدیم الفرصتی کے باعث اسی کے بطن سے افسانہ طرازی نے Read more about افسانہ ’’خوفِ ارواح‘‘ ایک تجزیہ ۔۔۔ ڈاکٹر نور الصباح[...]

میری شاعری مصری روٹی کی مانند ہے ۔۔۔ مولانا رومی /ترجمانی: اسنیٰ بدر

شعر ایسے ہیں مرے جیسے کوئی مصری نان نوش فرماؤ انہیں تازہ کہ جب گرم بھی ہوں پیشتر اس کے کہ اک گرد کی تہ جم جائے رات گزری تو اسے کھا نہ سکو گے تم بھی   شعر جو منطق آگاہی کی اک آنچ لئے سرد مہری سے فنا ہوتے ہیں اس دنیا کی Read more about میری شاعری مصری روٹی کی مانند ہے ۔۔۔ مولانا رومی /ترجمانی: اسنیٰ بدر[...]

تہذیب ۔۔۔ ہری شنکر پرسائی/حسان خان

ہندی کہانی   بھوکا آدمی سڑک کنارے کراہ رہا تھا۔ ایک سخی آدمی روٹی لے کر اس کے پاس پہنچا اور اسے دے ہی بھوکا آدمی سڑک کنارے کراہ رہا تھا۔ ایک سخی آدمی روٹی لے کر اس کے پاس پہنچا اور اسے دے ہی رہا تھا کہ ایک دوسرے آدمی نے اس کا ہاتھ Read more about تہذیب ۔۔۔ ہری شنکر پرسائی/حسان خان[...]

غزل ۔۔۔ مدحت الاختر

    رنگ کیا چیز ہے, خوشبو کیا ہے پاس آئے تو کھلے تو کیا ہے   اپنی آواز کا زندانی ہوں میرے معبود یہ جادو کیا ہے   بھول بیٹھا ہوں پرانے قصے شاخ کیا چیز ہے، آہو کیا ہے   روح اور جسم وہی ہیں دونوں کس کو بتلاؤں کہ آنسو کیا ہے Read more about غزل ۔۔۔ مدحت الاختر[...]

غزلیں۔۔. ڈاکٹر رؤف خیر

    ناکام و نامراد تو وہ خود ضرور ہے اس کی انگوٹھیوں میں زمرد ضرور ہے   موصوف کے کلامِ بلاغت نظام میں سرقہ اگر نہیں ہے، توارد ضرور ہے   مانا کمال یہ ہے کہ ہم بے کمال ہیں لیکن بساطِ شعر میں شد بُد ضرور ہے   بے لوث و بے غرض Read more about غزلیں۔۔. ڈاکٹر رؤف خیر[...]

غزلیں ،۔۔ شاہین

    دل لہو ہے نہ مری آنکھ تر افسوس نہیں اک خلش سی ہے کہیں کچھ مگر افسوس نہیں   اپنے پس ماندگاں میں ہوں فقط میں باقی اب کوئی بھی جو نہیں نوحہ گر افسوس نہیں   سرگرانی تھی مکینوں میں در و بام کے بیچ اب جو کم کم ہے غمِ بام Read more about غزلیں ،۔۔ شاہین[...]

غزل ۔۔۔ جمشید مسرور

  ہوتا ہے زندگی کا دبے پاؤں گھومنا ہونٹوں پہ تشنگی کا دبے پاؤں گھومنا دیکھا ہے میں نے اور سمندر نے ایک ساتھ ساحل پہ چاندنی کا دبے پاؤں گھومنا کھو جانا بے نیازیئ پوشاک و شاک میں پھر ریت پہ سبھی کا دبے پاؤں گھومنا جُگنو بُجھا سکی نہ کبھی شام کی ہوا Read more about غزل ۔۔۔ جمشید مسرور[...]

غزل ۔۔۔ نجمہ ثاقب

  چھتوں پہ بازو دراز کر کے لہو سے اپنے بنا کے گارا میں باپ تھا سو پسر کی خاطر بنا میں رکھا وجود سارا   لہو گرے گا تو خاک ٹپکے ہوئے لہو کا حساب لے گی اسی لے تو مرے عدو نے مجھے سمندر میں لا اتارا   میں اپنے پرچم کی دھجیوں Read more about غزل ۔۔۔ نجمہ ثاقب[...]

غزل ۔۔۔ اقبال رضوی شارب

      مرے وجود میں شامل جو سرکشی ہے میاں انا کی شکل میں ظاہر وہ ہو رہی ہے میاں   کشیدگی سے بھری یہ جو زندگی ہے میاں کسی کے لطف سے اسمیں شگفتگی ہے میاں   ہر ایک بات پہ ردِّ عمل نہیں اچھا ذرا سا صبر کہ دنیا تو سرپھری ہے Read more about غزل ۔۔۔ اقبال رضوی شارب[...]

غزلیں ۔۔۔ سلیمان جاذب

      ترے رستے میں بیٹھے ہیں، تو اس میں کیا برائی ہے تجھے ہم دیکھ لیتے ہیں، تو اس میں کیا برائی ہے   ہمارا جرم اتنا ہے، تمہیں اپنا سمجھتے ہیں تمہیں اپنا سمجھتے ہیں، تو اس میں کیا برائی ہے   بچھڑ کر تم سے ہم جاناں تمہارے پاس ہوتے ہیں Read more about غزلیں ۔۔۔ سلیمان جاذب[...]

غزلیں ۔۔۔ محمد صابر

      مرے سفر کا کوئی فاصلہ مقرر ہو میں کس کے ساتھ چلوں قافلہ مقرر ہو   میں بات کر کے بڑا بے لگام پھرتا ہوں مرے بھی سر پہ کوئی سر پھرا مقرر ہو   یہاں ہے پھرتی اجل ایک سے لبادے میں ہماری موت کا بھی حادثہ مقرر ہو   مرا Read more about غزلیں ۔۔۔ محمد صابر[...]

غزلیں ۔۔۔ نوید ناظم

    دل ہے کہ دِیا ہے، کیا ہے آخر؟ کچھ جل تو رہا ہے، کیا ہے آخر؟   شاید یہ کمال ہجر کا ہو کیوں درد اٹھا ہے، کیا ہے آخر؟   کچھ بھی تو رقیب میں نہیں ہے کیوں اُس کا ہوا ہے، کیا ہے آخر؟   زنجیر ہے، دام ہے، کہ شب Read more about غزلیں ۔۔۔ نوید ناظم[...]

غزلیں ۔۔۔ عاطف ملک

    جس دل میں صبر، ضبط، اطاعت، وفا نہیں وہ گھر ہے جو مکین کے لائق بنا نہیں   ایسا مرض نہیں کوئی جس کی شفا نہیں درماں ہی وجہِ درد اگر ہو دوا نہیں   کہنے کو آدمی سے بڑے آدمی بہت سوچو تو آدمی سے کوئی بھی بڑا نہیں   کس نے Read more about غزلیں ۔۔۔ عاطف ملک[...]

رشتوں کی تراش ۔۔۔ ڈاکٹر شائستہ فاخری

    برسات کی شام جتنی خوشگوار ہوتی ہے اکثر کمرے کے اندر کی زندگی اتنی ہی گھٹن بھری ہو جاتی ہے۔ کم سے کم مس زرین ناڈیاولا کا سوچنا یہی تھا۔ اس لئے جب ایسی شام میں ان کی سانسیں گھٹنے لگتیں، جی گھبرانے لگتا، کمرے کی تنہائی کاٹنے لگتی، پیارا چھوٹا سا گھر Read more about رشتوں کی تراش ۔۔۔ ڈاکٹر شائستہ فاخری[...]

سید محمد اشرف کی کہانی روگ کے پاگل ہاتھی اور لکڑ بگھا اور مردے کا سکسر ۔۔۔ مشرف عالم ذوقی

’’ہاں سرکار۔‘‘ وہ رو رہا تھا۔ مرتے مرتے رو رہا تھا۔ گاؤں والے کہہ رہے تھے کہ جنگلی جانوروں کو انہوں نے کبھی روتے نہیں دیکھا، میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سرکار وہ مر رہا تھا، اس کا سینہ زور زور سے ہل رہا تھا اور آنکھوں سے آنسوؤں کی دھار بے Read more about سید محمد اشرف کی کہانی روگ کے پاگل ہاتھی اور لکڑ بگھا اور مردے کا سکسر ۔۔۔ مشرف عالم ذوقی[...]

گُم شُدہ شہر کی کہانی ۔۔۔ محمد جمیل اختر

آدھی رات کو اُس نے اپنے گھر کے دروازے پہ دستک دی تو اُسے یوں محسوس ہوا کہ وہ ساری عُمر دستک دیتا رہے گا اور یہ دروازہ کبھی بھی نہیں کھُلے گا۔۔۔ وہ جوان ہو گیا تھا لیکن اُس کا دل پانچ سال کے بچے جیسا تھا، اُس نے بہت چاہا کہ وہ بڑا Read more about گُم شُدہ شہر کی کہانی ۔۔۔ محمد جمیل اختر[...]

انتہائے کمال سے گوشۂ جمال تک قسط۔ ٢ ۔۔۔ ڈاکٹر قرۃ العین طاہرہ

سفر نامہ عمرہ ۲۰۱۶ء دوسری قسط   بات ہو رہی تھی پہلے عمرے کی۔۔۔۔۔۔ سعی کے لےل صفا و مروہ پہنچے۔ یہاں بھی بہت کچھ بدل چکا تھا۔ راستے وسیع ہو گئے تھے۔ بھیڑ تھی تو سہی لیکن کم کم، صفا پر منہ کعبہ شریف کی طرف کرتے ہوئے سعی کے سات پھیروں کی آسانی Read more about انتہائے کمال سے گوشۂ جمال تک قسط۔ ٢ ۔۔۔ ڈاکٹر قرۃ العین طاہرہ[...]

تکیہ کلام: چاہیے ۔۔۔ ڈاکٹر غلام شبیر رانا

  اِس حیات و کائنات کے دشتِ بلا پر مارچ 2020ء سے کورونا وائرس (Coronavirus: COVID-19) کا آسیب منڈلانے لگا۔ معمولات زندگی کی کایا پلٹ گئی ہے۔ بڑے بڑے طاقت ور ممالک سے بھی امداد کی التجا کی جا رہی ہے۔ اپنے خالق کو نہ پہچاننے والے بھی یاس و ہراس کے عالم میں ’ہل Read more about تکیہ کلام: چاہیے ۔۔۔ ڈاکٹر غلام شبیر رانا[...]