لیموں کا رس ۔۔۔ خاور چودھری

برفیلی رُت نے ہر شے کو ڈھانپ رکھا تھا۔۔ کوہستانوں پر ایستادہ برف کی چٹانیں اگرچہ معمول کے مطابق تھیں لیکن وادی اور شہری علاقوں میں سردی کی شدت پہلے کبھی اتنی نہ تھی۔۔ اب تو درختوں کی ٹہنیاں بلوریں معلوم ہوتی تھیں اور تو اور ہوا بھی برف کا لبادہ اوڑھ کر سفر کرتی Read more about لیموں کا رس ۔۔۔ خاور چودھری[…]

وبا کے دور کے چار افسانے ۔۔۔ محمد جمیل اختر

وَبا میں ڈوبتا منظر   وہ ایک فوٹو گرافر تھا، شہر شہر، قریہ قریہ گھوم کر قدرتی مناظر کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرنا اُس کا من پسند مشغلہ تھا۔۔ اُسے بچپن ہی سے قدرتی مناظر سے عشق تھا، بارش ہوتی تو قطروں کی جلترنگ کو گھنٹوں سنتا رہتا جیسے یہ کوئی دلفریب ساز ہو، Read more about وبا کے دور کے چار افسانے ۔۔۔ محمد جمیل اختر[…]

فیصلے کا صحرا ۔۔۔ محمد جمیل اختر

’’مجھے بچا لو، مجھے بچا لو، اِس سے پہلے کہ میری سانسیں رُک جائیں اور میں مر جاؤں، مجھے ہسپتال لے جاؤ‘‘ ۔ آدھی رات کو اُس کے سینے میں درد کی لہر اُٹھی تو وہ چِلانے لگا، اُس کے بچے اپنے اپنے کمروں سے دوڑتے ہوئے اُس کے پاس آ گئے۔ ’’کیا ہوا ابا؟‘‘ Read more about فیصلے کا صحرا ۔۔۔ محمد جمیل اختر[…]

امیدِ وصل کا پودا ۔۔۔ شبانہ اسلم

اس نے کچھ عرصے پہلے ہی تو دل کے اس باغیچے میں بے شمار پودے لگائے تھے اور پھر کچھ وقت فراموشی میں ہی گزر گیا۔ وہ خزاں رسیدہ وجود یہ تو بھول ہی چکا تھا کہ چلتی سانسوں کی روانی تبھی ممکن ہے، جب وقت بے وقت ان کی خبر گیری کی جائے۔ وقت Read more about امیدِ وصل کا پودا ۔۔۔ شبانہ اسلم[…]

نِنانوے آنکھوں والی ۔۔۔ اسد علی

وہ ایک عجیب عورت تھی۔ عورت کبھی اپنا محبوب نہیں چُنتی۔ عورت کی تخلیق تو آدم کی پسلی سے کی گئی ہے۔ اس کا مطلب صاف ہے۔ اس کا محبوب اس کی پیدائیش سے پہلے ہی اس کے لئے چُن لیا گیا ہے۔ جیسے ایک سالمن مچھلی ہزاروں سالوں کا سفر کر کے اپنی جنم Read more about نِنانوے آنکھوں والی ۔۔۔ اسد علی[…]

یہ ماجرا کیا ہے! ۔۔۔ محمد علیم اسماعیل

       وہ پورا منظر بڑا ڈراؤنا تھا۔ سورج زمین پر قہر برسا رہا تھا۔ آگ شعلے اگل رہی تھی۔ اور یہ دیکھ کر سبھی کے چہروں پر خوف کی چادر تن گئی تھی۔ ہم ایک عمارت کی چوتھی منزل پر واقع کوچنگ سنٹر میں تھے اور پڑھائی میں محو تھے کہ ہمیں اپنے اطراف ہلکا Read more about یہ ماجرا کیا ہے! ۔۔۔ محمد علیم اسماعیل[…]

آخری بند ۔ ۔ ۔ صفدر علی حیدری

’ابا! سیلاب کا خطرہ کب ٹلے گا؟‘ ’بیٹا! جب دریا کا زور ٹوٹے گا‘ ’ابا یہ دریا کو ہوا کیا ہے؟ اتنے غصے میں پہلے تو کبھی نہیں دیکھا؟‘ ’بہت ناراض ہے ہم سے‘ ’وہ کیوں ابا؟‘ ’ہم اس کے بچوں کی قدر جو نہیں کرتے‘ ’دریا کے بھی کوئی بچے ہوتے ہیں‘ وہ حیرت Read more about آخری بند ۔ ۔ ۔ صفدر علی حیدری[…]

سورج مسیح ۔۔۔ عمار نعیمی

سورج نے رمضان کے پہلے روزے بھی حسب معمول 10 بجے دکان کھولی اور صفائی شروع کر دی۔ مشینیں باہر ڈِسپلے کیں۔ شیشوں کو اخبار سے اچھی طرح صاف کیا۔ وہ قسطوں کی دکان پر ملازمت کرتا تھا۔ مالکِ دُکان شیخ صاحب 11 بجے دکان پر آئے۔ سورج نے ان سے روزے کا احوال پوچھا: Read more about سورج مسیح ۔۔۔ عمار نعیمی[…]

پزّا بوائے ۔۔۔ توصیف بریلوی

پزا بوائے نے اپنی بائیک پارکنگ میں کھڑی کی، وارمر (Warmer) سے پزا نکالا اور لفٹ میں سوار ہو گیا۔ اب وہ ایک ڈور بیل بجا رہا تھا، کچھ ہی دیر میں دروازہ کھلا۔ ایک گورا، خوبصورت اور لمبی انگلیوں کے ناخنوں پر نیل پینٹ والا ہاتھ باہر آیا۔ اس نے پزا بوائے کا گریبان Read more about پزّا بوائے ۔۔۔ توصیف بریلوی[…]

ابتدا کی طرف واپسی ۔۔۔ احمد رشید (علیگ)

میت کی تجہیز و تکفین کے بعد، دعائے مغفرت ہوئی۔ آہستہ آہستہ لوگ واپس ہو گئے کہ واپسی ان کا مقدر ہے۔ قبرستان میں سناٹا پھیل گیا۔ درختوں کے درمیان سے نکل کر سر پر تیز دھوپ کا بوجھ لیے اپنے بوجھل قدموں کو دھیرے دھیرے سمیٹتے ہوئے قبرستان کے دروازے پر آ گیا۔ سر Read more about ابتدا کی طرف واپسی ۔۔۔ احمد رشید (علیگ)[…]