میں کیوں لکھتا ہوں ۔۔۔ رشید امجد

  ’’اور جس نے یہ دعویٰ کیا کہ میں نے اُس کو حقیقتاً پہچان لیا ہے، اُس نے اپنے وجود کو معروف کے وجود سے بھی زیادہ عظیم اور بزرگ تر کر لیا، کیونکہ جو شخص کسی چیز کو اُس کی حقیقت کی تہہ تک پہنچ کر پہچان لیتا ہے وہ دراصل اُس چیز سے Read more about میں کیوں لکھتا ہوں ۔۔۔ رشید امجد[…]

غزل ۔۔۔ حنیف کیفی

  آرزوئیں کمال آمادہ زندگانی زوال آمادہ   زندگی تشنۂ مجال جواب لمحہ لمحہ سوال آمادہ   زخم کھا کر بپھر رہی ہے انا عاجزی ہے جلال آمادہ   کیسے ہموار ہو نباہ کی راہ دل مخالف خیال آمادہ   پھر کوئی نشتر آزما ہو جائے زخم ہیں اندمال آمادہ   ہر قدم پھونک پھونک Read more about غزل ۔۔۔ حنیف کیفی[…]

نثری نظم: ہیئت اور تکنیک کی میزان ۔۔۔ حنیف کیفی

  پچھلی کئی دہائیوں سے اردو میں نثری نظم موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ میرے علم کے مطابق اس بحث کا آغاز 1974 میں ڈاکٹر وزیر آغا کے رسالے ’اوراق‘ میں ’سوال یہ ہے‘ عنوان کے تحت ایک مذاکرے کی شکل میں ہوا تھا۔ اس کے بعد نہ صرف یہ کہ اس موضوع کے دروازے Read more about نثری نظم: ہیئت اور تکنیک کی میزان ۔۔۔ حنیف کیفی[…]

غزلیں ۔۔۔ غالب عرفان

شعور، پیاسا سمندر ہے، کیا کیا جائے یہ کائنات کا منظر ہے، کیا کیا جائے   نفس نفس میں مقّید ہوا کا رخ بن کر حیات، میرا مقدر ہے، کیا کیا جائے   نگاہ دیکھ نہ پائی ہے، آج تک جس کو وہ میری روح کے اندر ہے، کیا کیا جائے   بلا رہا ہے، Read more about غزلیں ۔۔۔ غالب عرفان[…]

غالب عرفان: زندگی کس لحن میں منظوم ہے ۔۔۔ ڈاکٹر غلام شبیر رانا

  کراچی سے خبر آئی کہ کہنہ مشق شاعر غالب عرفان (محمد غالب شریف، پیدائش: 1938) اکیس جنوری 2021ء کو خالق حقیقی سے جا مِلے۔ پر خلوص جذبات اور دردمندی سے سرشار احساسات کو اشعار کے قالب میں ڈھالنے ولا جری تخلیق کار رخصت ہو گیا۔ اپنے ذہن و ذکاوت کو رو بہ عمل لاتے Read more about غالب عرفان: زندگی کس لحن میں منظوم ہے ۔۔۔ ڈاکٹر غلام شبیر رانا[…]

میلا کاغذ ۔۔۔ محمد یعقوب آسی

  ذہن کا کورا کاغذ لے کر کب سے بیٹھا سوچ رہا ہوں دیکھ رہا ہوں کرب و بلا کے خونیں منظر سوچ رہا ہوں کیسے کچھ لکھ پاؤں گا لفظوں کے لب سوکھ رہے ہیں سوچ کے بازو ٹوٹ رہے ہیں!   آج مجھے بھی کوفے سے پیغام آتے ہیں سوچ رہا ہوں میں Read more about میلا کاغذ ۔۔۔ محمد یعقوب آسی[…]

مجھے اک نظم کہنی تھی ۔۔۔ محمد یعقوب آسی

  مجھے اک نظم کہنی تھی مجھے مدت کے پژمردہ تفکر کو لہو دینا تھا صدیوں پر محیط اک عالمِ سکرات میں مرتے ہوئے جذبوں کو پھر سے زندگی کی ہاؤ ہو سے آشنا کرنا تھا ہونٹوں پر لرزتے گنگ لفظوں کو زباں دینی تھی اشکوں کے اجالے سے طلسمِ تیرگی کو توڑنا تھا روشنی Read more about مجھے اک نظم کہنی تھی ۔۔۔ محمد یعقوب آسی[…]

غزلیں ۔۔۔ محمد یعقوب آسیؔ

  غم ہزاروں دِلِ حزیں تنہا بوجھ کتنے ہیں اور زمیں تنہا   بس گئے یار شہر میں جا کر رہ گئے دشت میں ہمیں تنہا   اپنے پیاروں کو یاد کرتا ہے آدمی ہو اگر کہیں تنہا   تیری یادوں کا اِک ہجوم بھی ہے آج کی رات میں نہیں تنہا   وہ کسی Read more about غزلیں ۔۔۔ محمد یعقوب آسیؔ[…]

خواب سے سانجھ تک ۔۔۔ محمد یعقوب آسیؔ

  کچی اینٹوں اور گارے سے بنی چوڑی چوڑی دیواروں والے بغیر پھاٹک کے کھلے کھلے بڑے بڑے احاطے کے اندر چار چار پانچ پانچ گھروں کے کچے کوٹھے اور کچے صحن، گرد سے اٹی کھلی کھلی گلیاں اور سڑکیں، دور تک بکھرے درخت اور کھیت، اور ان سب کے اوپر لمحہ بہ لمحہ رنگ Read more about خواب سے سانجھ تک ۔۔۔ محمد یعقوب آسیؔ[…]

غزلیں ۔۔۔ نصیر ترابی

  زندگی خاک نہ تھی خاک اُڑاتے گُزری تجھ سے کیا کہتے تِرے پاس جو آتے گُزری   دن جو گُذرا، تو کسی یاد کی رَو میں گُذرا شام آئی، تو کوئی خواب دِکھا تے گُزری   اچھے وقتوں کی تمنّا میں رہی عُمرِ رَواں وقت ایساتھا کہ بس ناز اُٹھاتے گُزری   زندگی جس Read more about غزلیں ۔۔۔ نصیر ترابی[…]