لا انتہا ابھی ۔۔۔ کرامت علی کرامتؔ

نہ جانے وہ لوگ گم کہاں ہیں چھلک رہی تھی فلک کے ساغر سے رحمت حق کی تند صہبا فضائے ایام میں محبت کی فاختائیں بھی پنکھ پھیلائے اڑ رہی تھیں دیار حرماں میں جھانکتی تھیں امید فردا کی نرم کرنیں مگر یہ آشوب وقت کا ہے اثر کہ جس سے جھلس گئے ہیں تصوروں Read more about لا انتہا ابھی ۔۔۔ کرامت علی کرامتؔ[…]

نعتیں ۔۔۔ اختر شمار

سوچتے سوچتے جب سوچ اُدھر جاتی ہے روشنی روشنی ہر سمت بکھر جاتی ہے   دھیان سے جاتا ہے غم بے سر و سامانی کا جب مدینے کی طرف میری نظر جاتی ہے   اُڑتے اُڑتے ہی کبوتر کی طرح آخرِ کار سبز گنبد پہ مری آنکھ ٹھہر جاتی ہے   میں گذرتا، تو وہاں Read more about نعتیں ۔۔۔ اختر شمار[…]

دن گزرتے جا رہے ہیں ۔۔۔ اختر شمار

دن گزرتے جا رہے ہیں ہم بھی مرتے جا رہے ہیں بعد تیرے ہم دکھوں کے آنسوؤں کے باد و باراں میں نہتے دل کے ساتھ بے پناہی راستوں پر پاؤں دھرتے جا رہے ہیں دن گزرتے جا رہے ہیں لمحہ لمحہ خوف کے مارے ہوئے رات دن کے وسوسوں میں کیا خبر کیا بیت Read more about دن گزرتے جا رہے ہیں ۔۔۔ اختر شمار[…]

اختر شمار کی شاعری۔ ایک لسانیاتی جائزہ ۔۔۔ مقصود حسنی

یہ بات باور کر لینی چاہیے کہ شخص زبان کے لیے نہیں، زبان شخص کے لیے ہوتی ہے۔ جب شخص زبان کا پابند ہو جاتا ہے، خیال اور جذبے کے اظہار کے رستے میں دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔ کسی نہ کسی سطح پر زبان کے اصولوں اور ضابطوں کی پاسداری ہو جاتی ہے، لیکن Read more about اختر شمار کی شاعری۔ ایک لسانیاتی جائزہ ۔۔۔ مقصود حسنی[…]

اختر شمار کے غم میں ۔۔۔ منصور آفاق

صبح پانچ بجے آنکھ کھلی تو اس خبر نے خانۂ دل ویران کر دیا کہ اختر شمار نے اپنی جان آفریں سپردِ حق کر دی ہے۔ بے یقینی سے در و دیوار کو دیکھا۔ زندگی کی بے ثباتی پر نظر ڈالی۔ ڈیپریشن خواب گاہ میں پھیل گیا۔ ارد گرد پڑی ہوئی چیزیں بے مایہ لگنے Read more about اختر شمار کے غم میں ۔۔۔ منصور آفاق[…]

اختر شمار اور اطہر ناسک: چند یادیں، چند باتیں ۔۔۔ رحمان حفیظ

اختر شمار کا وداع بھی اطہر ناسک کی وفات کی طرح ہم میں سے بیشتر کے لئے نا قابلِ یقین ہے۔ اطہر ناسک نے تو چلو کچھ بیماری بھی کاٹی لیکن پہاڑ جیسے مضبوط، پر اعتماد اور دبنگ اختر شمار کی موت کے اچانک اعلان نے تو جیسے انتہائی حیرت و استعجاب سے دوچار کر Read more about اختر شمار اور اطہر ناسک: چند یادیں، چند باتیں ۔۔۔ رحمان حفیظ[…]