غزلیں ۔۔۔ حمایت علی شاعر

بدن پہ پیرہن خاک کے سوا کیا ہے مرے الاؤ میں اب راکھ کے سوا کیا ہے   یہ شہر سجدہ گزاراں دیار کم نظراں یتیم خانۂ ادراک کے سوا کیا ہے   تمام گنبد و مینار و منبر و محراب فقیہ شہر کی املاک کے سوا کیا ہے   کھلے سروں کا مقدر بہ Read more about غزلیں ۔۔۔ حمایت علی شاعر[…]

حریف وصال ۔۔۔ حمایت علی شاعر

عجیب شب تھی جو ایک پل میں سمٹ گئی تھی عجیب پل تھا جو سال ہا سال کی مسافت پہ پرفشاں اس کے سائے میں ایک موسم ٹھہر گیا تھا (کسی کے دل میں تھا کیا کسی کو خبر نہیں تھی) بس ایک عالم سپردگی کا بس ایک دریائے تشنگی تھا کہ جس کی موجیں Read more about حریف وصال ۔۔۔ حمایت علی شاعر[…]

آئینہ در آئینہ ۔۔۔ حمایت علی شاعر

اس بار وہ ملا تو عجب اس کا رنگ تھا الفاظ میں ترنگ نہ لہجہ دبنگ تھا اک سوچ تھی کہ بکھری ہوئی خال و خط میں تھی اک درد تھا کہ جس کا شہید انگ انگ تھا اک آگ تھی کہ راکھ میں پوشیدہ تھی کہیں اک جسم تھا کہ روح سے مصروف جنگ Read more about آئینہ در آئینہ ۔۔۔ حمایت علی شاعر[…]

حمایت علی شاعر: اک جبرِ وقت ہے کہ سہے جا رہے ہیں ہم ۔۔۔۔ امجد اسلام امجد

ساری اُردو دنیا کے لیے حمایت علی شاعر اور ہمارے ادبی حلقوں کے حمایت بھائی بھی ایک خاصی طویل علالت کے بعد اُس علاقے کی طرف رجعت کر گئے جہاں ہر ذی روح انسان کے نام کی تختی اُس کا انتظار کر رہی ہے دیکھنے والی بات صرف یہ رہ جاتی ہے کہ آپ جب Read more about حمایت علی شاعر: اک جبرِ وقت ہے کہ سہے جا رہے ہیں ہم ۔۔۔۔ امجد اسلام امجد[…]

توبہ ۔۔۔ محمد قیوم میؤ

اپنے پچھلے گناہوں اور فریب کاریوں سے بھری زندگی کا احساس پرویز صاحب کو جب ہوا تو انہوں نے حج کا ارادہ کیا اور انہیں کسی قسم کی رکاوٹ اور پریشانی کا سامنا بھی نہیں ہوا۔ دولت ان کے پاس بہت تھی۔ سرکاری اور پرائیویٹ دفتروں سے آج کل اپنے کام کس طرح کرائے جاتے Read more about توبہ ۔۔۔ محمد قیوم میؤ[…]

لائیک ویک ۔۔۔ نثار ناسک

ماں مجھے لوری سنا لوری جو تیرا فرض ہے اور بیس برسوں سے ترے ہونٹوں پہ میرا فرض ہے   بیس برسوں سے میں سکھ کی نیند سو پایہ نہیں میرے زخمیدہ پپوٹوں کو کسی لمحے نے سہلایا نہیں میرے چاروں سمت ٹھہری رات جلتی جنگ کے میدان میں لاشوں پٹے کھلیان ہیں رستوں بھرے Read more about لائیک ویک ۔۔۔ نثار ناسک[…]

منتخب غزلیں ۔۔۔ نثار ناسک

اس سے پہلے کہ مجھے وقت علیحدہ رکھ دے میرے ہونٹوں پہ مرے نام کا بوسہ رکھ دے   حلق سے اب تو اترتا نہیں اشکوں کا نمک اب کسی اور کی گردن پہ یہ دنیا رکھ دے   روشنی اپنی شباہت ہی بھلا دے نہ کہیں اپنے سورج کے سرہانے مرا سایہ رکھ دے Read more about منتخب غزلیں ۔۔۔ نثار ناسک[…]

نند کشور وکرم: منزل ایک بلندی پر… ۔۔۔ مشرف عالم ذوقی

(یہ خاکہ نند کشور وکرم کی حیات میں لکھا گیا تھا)   منزل ایک بلندی پر اور ہم بنا لیتے عرش سے پرے ہوتا کاش کہ مکاں اپنا غالب کے اس شعر کی حقیقت 1985 میں اس وقت کھل کر سامنے آئی جب میں پہلی بار نند کشور وکرم سے ملا۔ یہ وہی سال تھا Read more about نند کشور وکرم: منزل ایک بلندی پر… ۔۔۔ مشرف عالم ذوقی[…]

ید بیضا ۔۔۔ حمایت علی شاعر

مری ہتھیلی کے سانپ کب تک ڈسیں گے مجھ کو مری ہتھیلی کے سانپ جو اب مری رگوں میں اتر چکے ہیں بدن کو زنجیر کر چکے ہیں میں خواب دیکھوں تو کوئی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ دے قدم اٹھاؤں تو کوئی میرے قدم پکڑے پلٹ کے دیکھوں تو کوئی پیچھے نہ کوئی آگے بس Read more about ید بیضا ۔۔۔ حمایت علی شاعر[…]

ایک اور سیتا – افسانہ از نند کشور وکرم

وقت کے سفاک ہاتھوں نے کچھ ایسا ظلم ڈھایا کہ سیتا پاکستان میں رہ گئی اور رام ہجرت کر کے ہندوستان چلے گئے۔ عجیب بن باس تھا جو رام کو سیتا کے بغیر اکیلے کاٹنا پڑا۔ اور کیسے لمحات جدائی تھے ، کیسی ہجر کی گھڑیاں تھیں کہ سیتا دکھ جھیلنے کے لئے وہیں رہ Read more about ایک اور سیتا – افسانہ از نند کشور وکرم[…]