نظمیں ۔۔۔ ستیہ پال آنند
نظمیں ستیہ پال آنند بین کے سُر سانپ سے خوف اب نہیں آتا سانپ کا زہر تو میں جھیل چکا! اب مجھے بین کے سُروں سے بہت خوف آتا ہے۔۔۔ ان کا کاٹا ہوا کبھی تریا ق سے نہیں بچتا ٭٭٭ وقت اور مقام کا تواتر اپنی آنکھوں Read more about نظمیں ۔۔۔ ستیہ پال آنند[…]
