ریت کا چشمہ۔۔۔ آنند لہر

جس برتن میں تم نے سورج کو گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس سے اندھیروں کا ایک ایسا دریا بہہ نکلا ہے جو اپنے سمندر کی تلاش میں پہاڑوں کے معصوم بچوں کو بہا کر لے جائے گا۔۔ اندھی صدی بچھڑے ہوئے لمحوں کو پکڑنے کی جب بھی کوشش کرے گی اس کے ہاتھوں Read more about ریت کا چشمہ۔۔۔ آنند لہر[…]

غلطی کا احساس۔۔۔ سالک جمیل

دیکھتے ہی دیکھتے عارف اور عمران کی بیس سال پرانی دوستی دشمنی میں بدل گئی۔۔ ’’آخر اس کی کیا وجہ تھی۔۔!‘‘ عارف نے کسی سے پوچھا۔ ’’یار۔۔ مجھ سے ایک غلطی ہو گئی تھی؟!‘‘۔۔ عارف نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا۔۔ ’’غلطی۔۔ کیسی غلطی؟!‘‘۔۔ پوچھنے والے نے وضاحت چاہی۔ تقریباً ایک سال پہلے کی بات Read more about غلطی کا احساس۔۔۔ سالک جمیل[…]

افسانچہ۔۔۔ شبیر شاکر

تگرد اور کھجور سے بَنی ایک خوبصورت جھونپڑی جس کی چھوٹی سی پنجرہ نما کھڑکی سے ایک خوبصورت اور معصوم چہرے والی لڑکی حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ بغیر دروازہ والی جھونپڑی میں نہ جانے اُس نے اپنے آپ کو کیوں تنِ تنہا قید کیا حالانکہ نہ دور دراز رکاوٹ تھا اور نہ Read more about افسانچہ۔۔۔ شبیر شاکر[…]

دھند میں لپٹا جنگل۔۔۔ عمر بنگش

یہ ایک خنک صبح کا واقعہ ہے۔ سانے گلیشیر سے رو میں بہہ کر آتی ہوئی یخ بستہ ہوائیں نالتر کے پہاڑوں کے بیچ قدرتی کھائیوں ، گلوں سے یوں بے چین، سنسنا کر پیالہ نما وادی میں داخل ہو تی ہیں گویا آسمان کی وسعتوں میں کوئی امان نہیں ہے۔ پہاڑوں کی چوٹیاں جو Read more about دھند میں لپٹا جنگل۔۔۔ عمر بنگش[…]

دروازے۔۔۔ نیلم احمد بشیر

درخت پہ بیٹھی چڑیا بہت خوش تھی، پیٹ دانے سے بھرا تھا۔ ہر ی ہری گھاس دیکھنے میں بہت بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ مظاہرِ قدرت کے حُسن سے وادی جگمگا رہی تھی۔ گنگناتی ہوئی ہوا اتنی ٹھنڈی تھی جیسے اللہ میاں نے انسان کی کسی بات پر خوش ہو کر جنت کے سارے دروازے Read more about دروازے۔۔۔ نیلم احمد بشیر[…]

ایک کہانی۔۔۔ عابدہ رحمانی

بیوی باورچی خانے سے چلا رہی ہے ،میاں کمپیوٹر ڈیسک ٹاپ پر کانو ں میں ائیر پلگ لگائے بیٹھا ہے "ارے سنتے ہو شام کو راشدہ کے سسرال والے آ رہے ہیں ذرا بازار جا کر یہ سامان تو لے آؤ۔ خدا کی پناہ کیا منہ میں گھنگنیاں ڈال کر بیٹھے ہو بولتے کیوں نہیں Read more about ایک کہانی۔۔۔ عابدہ رحمانی[…]

کافی مگ۔۔۔ سبین علی

رات گئے کچن صاف کرنے کے بعد وہ باہر کچرا پھینکنے گئی تو انواع و اقسام کے کھانے، ادھ کھائے روسٹ اور بچے ہوئے کیک وہاں دیکھ کر اس کا دل کانپ اٹھا۔ پتا نہیں آج بھی پیچھے وطن میں موجود اس کے بچوں نے کچھ کھایا ہو گا یا نہیں ؟ پھر ایک لبمی Read more about کافی مگ۔۔۔ سبین علی[…]

چبوترہ۔۔۔ افتخار حیدر

ریحانہ نے کلو دودھ کا شاپر لیا اور دکان دار کی گرم نظروں سے بچانے کے لئے اپنے ڈھکے ہوئے سینے کو مزید ڈھانپتی ہوئی چبوترے سے نیچے اتر آئی۔ ابھی گھر تک جاتے ہوئے بہت سی نظروں کے آگے بند باندھنا تھا۔ اور عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنی زینت کو چھپائے ہر Read more about چبوترہ۔۔۔ افتخار حیدر[…]

وہ دن، کہ جس کا وعدہ ہے۔۔۔ ظفر عمران

حمید جان بس اسٹینڈ پر اترا تو ہر طرف سے کیچڑ نے اس کا استقبال کیا، پہاڑی علاقوں میں پانی نشیب میں اتر جاتا ہے، لیکن اس چھوٹے سے سے حصے کو بس اسٹینڈ کے لیے ہم وار کیا گیا تھا، اطراف میں بے ڈھب دکانوں نے نکاسی آب کا رستہ روک رکھا تھا۔ طویل Read more about وہ دن، کہ جس کا وعدہ ہے۔۔۔ ظفر عمران[…]

کردار۔۔۔ سکندر حیات

غیر ارادی طور پر میری انگلیوں کی گرفت پین پر اتنی سخت ہو گئی تھی کہ اب باقاعدہ ان میں درد محسوس ہو رہا تھا۔کردار اتنا پیچیدہ تھا کہ میں اس کی شخصیت میں الجھ گیا تھا۔ بات کچھ عجیب سی ہے لیکن سچ ہے کبھی کبھی لکھتے ہوئے کوئی کردار مجھ پر اسقدر حاوی Read more about کردار۔۔۔ سکندر حیات[…]