غزلیں– مصحف اقبال توصیفی

غزلیں مصحف اقبال توصیفی ۔۱۔ ہمیں دنیا سے کچھ لینا نہیں تھا ہمارے ہاتھ میں کاسہ نہیں تھا سُنا تھا تو حسیں ہے ، بے وفا بھی تجھے اے زندگی دیکھا نہیں تھا یہی انعام۔ اس کے کام آئیں نہ لیں احساں اگر لیتا نہیں تھا نئے کچھ خواب لے کر رات آئی ابھی بستر Read more about غزلیں– مصحف اقبال توصیفی[…]

دو غزلیں — مدحت الاختر

دو غزلیں مدحت الاختر مدت ہوئی ملے بھی نہیں بات بھی نہ کی اس ے سوا کسی سے ملاقات بھی نہ کی ہم اپنے گوشۂ غمِ دل کے رہے اسیر چشمِ طلب سے سیرِمضافات بھی نہ کی ساری دعائیں صرف ہوئیں ان کے واسطے اپنے لۓ تو ہم نے منا جات بھی نہ کی پر Read more about دو غزلیں — مدحت الاختر[…]

گاہے گاہے باز خواں ۔۔۔۔۔ اسد ﷲ خاں غالب

  گا ہے گا ہے باز خواں ۔۔۔۔۔ اسد اﷲ خاں غالب غزل بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں Read more about گاہے گاہے باز خواں ۔۔۔۔۔ اسد ﷲ خاں غالب[…]