نظم نامہ: از وحید احمد ۔۔۔ حمیدہ شاہین
وحید احمد! یہ نامہ کن ہواؤں کو تھمایا تھا جو حفظِ راز کی تہذیب سے نا آشنا نکلیں یہ کھولے پھر رہی ہیں نظم نامہ دھیان کی نیلی فضاؤں میں جہاں یہ پَر کُشا نظمیں کبوتر بن کے اُڑتی ہیں یہ فردوسی پرندے ہیں اتر آتے ہیں جو احساس کی خوش رنگ چھتری پر اور Read more about نظم نامہ: از وحید احمد ۔۔۔ حمیدہ شاہین[…]