منفرد لہجہ کا شاعر: فریاد آزرؔ ۔۔۔ احسن امام احسن

دورِ جدید میں چند مختلف اور منفرد شعرا ہیں جو اپنے کلام کے مخصوص انداز کی وجہ سے منفرد کہلاتے ہیں۔ ان ہی منفرد شعرا میں ایک اہم اور معتبر نام ڈاکٹر فریاد آزرؔ کا ہے۔ گذشتہ کئی برسوں سے انھیں پڑھتا آ رہا ہوں۔ وہ واقعی متاثر کرنے والی شاعری کرتے ہیں۔ ان کی غزل کے دو شعر جو میرے ذہن پر نقش ہو گئے ہیں :

 

وہ لے رہا تھا مرا امتحان قسطوں میں

خبر نہ تھی کہ نکالے گا جان قسطوں میں

 

ہم اپنے بچوں کو اردو سے رکھ کے ناواقف

مٹا رہے ہیں خود اپنی زبان قسطوں میں

 

یہ دو شعر میرے ذہن و دل پر چسپاں ہو گئے۔ اس کے بعد فریاد ا ٓزر کا بغور مطالعہ کرنے لگا۔ ان کے مضمون باندھنے کا انداز عمدہ ہے۔ کس طرح کی باتوں کو کس انداز میں پیش کیا جائے، یہ ان کے تخیل کی پرواز سے اندازہ ہوتا ہے۔ میرا اپنا خیال ہے کہ آج کے دور کے شعرا سے بالکل الگ ہٹ کر کہنے کا انداز موصوف کا نرالا ہے۔ ان کی شاعری میں جا بجا اسلامی فکر نظر اتی ہے۔ ادبی محاذ کے مدیر جناب سعید رحمانی فرماتے ہیں :

’’اس حقیقت سے انکار نہیں جا سکتا کہ ڈاکٹر فریاد آزر کی شاعری کا کینوس بے حد وسیع ہے۔ جس میں جدید معاشرہ کے جملہ مسائل اپنی تمام تر سنگینیوں کے ساتھ واضح نظر آتے ہیں تاہم ان کی شاعری کا ایک خوش گوار پہلو ایسا بھی ہے جو ان سب پر حاوی نظر آتا ہے اور وہ پہلو ہے اسلامی فکر جسے ان کی شاعری میں اساسی حیثیت حاصل ہے۔‘‘

فریاد آزر منفرد طریقہ سے اپنے جذبات، محسوسات، اور مشاہدات کو شعری پیکر میں عطا کرنا خوب جانتے ہیں۔ کہتے ہیں ادب زندگی کا آئینہ ہوتا ہے، اس آئینے میں آپ بھی زندگی کی تصویر دیکھیں :

 

عجیب طور کی مجھ کو سزا سنائی گئی

بدن کے نیزہ پہ سر رکھ دیا گیا میرا

 

جو مکا اپنے بزرگوں نے بنایا تھا کبھی

اس مکاں میں ہم کرائے دار ہو کر رہ گئے

 

یہ بلائیں سر سے کچھ ٹلتی نظر آتی نہیں

اب انہیں ہی زندگی کا استعارہ مان لو

 

چلے تو فاصلہ طے ہو نہ پایا لمحوں کا

رکے تو پاؤں سے آگے نکل گئیں صدیاں

 

بدلے میں اس کی موت مرا میں میں تمام عمر

وہ شخص جی گیا مرے حصے کی زندگی

 

آج کے عہد میں یہ کھیل چل رہا ہے کہ بچی کو دنیا میں آنے سے پہلے ہی مار دیا جاتا ہے، کیا کہتے ہیں آزر صاحب، دیکھئے :

 

دفن کر دیتا تھا پیدا ہوتے ہی عہدِ قدیم

رحم ہی میں مار دیتا ہے اسے دورِ جدید

 

دوسری طرف والدین لڑکیوں کی شادی کے لئے پریشان رہتے ہیں، شاید اسی پریشانی کی وجہ سے اسے رحم میں مار دیتے ہیں لڑکیوں کے ہاتھ پیلے کرنے میں جو پریشانیاں اٹھانی پڑتی ہے شاید اسی کا اثر ہو کیوں کہ جدید دور میں مانگ اتنی بڑھ گئی ہے کہ والدین کی راتوں کی نیند حرام ہو گئی ہے۔ آج ہمارا مزاج ایسا ہو گیا ہے کہ ہم خوب صورت لڑکیوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ آج نیک سیرت لڑکیاں گھر میں بیٹھی ہیں۔ اس جدید دور میں لوگ سیرت لے کر کیا کیا کریں گے، صورت ہی سب کچھ ہے۔ ایک پیارا سا شعر جو یہ سارے منظر کی طرف اشارہ کرتا ہے :

 

ہاتھ ملتی رہ گئیں سب خوب سیرت لڑکیاں

خوب صورت لڑکیوں کے ہاتھ پیلے ہو گئے

 

فریاد آزر کا شعور بالغ ہے، ان کے منفرد ہونے پر مشہور و معروف شاعر، و ادیب رفیق شاہین صاحب لکھتے ہیں :

 

’’نئے لب و لہجہ میں شعر کہنے والے اور بھی ہیں، لیکن فریاد آزر کی بات ہی نرالی ہے، ان کی آواز کے سر میں جو انوکھی دلکشی اور نغمگی کا پر تو ہے وہ کسی بھی شاعر میں موجود نہیں ہے۔ ان کا لہجہ سب سے الگ ہے جو اپنی مخصوص کھنک اور تیکھے پن کی وجہ سے ان کی ایک الگ پہچان بن گیا ہے۔ بہ الفاظِ دیگر ہم انہیں ایک بے مثال اور صاحبِ طرز شاعر کے خطاب سے پکاریں تو اس میں کسی کو اعتراض نہ ہو گا‘‘

رفیق شاہین کی بات میں پختگی لگتی ہے کیوں کہ جس انداز سے فریاد آزر شعر کہتے ہیں وہ دیگر لوگوں سے جدا اور نئے طرز کا ہوتا ہے۔ چند شعر پڑھ کر آپ بھی لطف اندوز ہوں :

 

کیوں نہیں یکبارگی کی موت مرتی زندگی

اے مری جاں کاہ قسطوں میں گزرتی زندگی

 

کن کن صعوبتوں سے گزرنا پڑا مجھے

اس زندگی میں بارہا مرنا پڑا مجھے

 

یہ بلائیں سر سے کچھ ٹلتی نظر آتی نہیں

اب انہیں ہی زندگی کا استعارہ مان لو

 

یہ کیسے جرم کی پاداش ہے یہ زندگی جس سے

رہائی مل تو جاتی ہے سزا پوری نہیں ہوتی

 

ننھے بچپن میں بزرگوں سا تھ جس کا رکھ رکھاؤ

زندگی کی دوڑ میں وہ آدمی بچہ لگا

 

فریاد آزر نے کس کس نظر سے زندگی کو دیکھا ہے، زندگی کے نشیب و فراز کا Analysis خوب صورت انداز میں کیا ہے، زندگی کو استعارہ بنا کر بات کہنے کا انداز بھی ان کا مختلف ہے۔ عمران عظیم کہتے ہیں :

’’شکست و ریخت کے نوحوں کے علاوہ ان کی شاعری میں درد مندی کا احساس بھی ہے۔ فریاد آزر جس زمانی اور مکانی حدود میں رہتے ہیں، ان میں در پیش مسائل کو اپنی شاعری میں بڑی مہارت اور سلیقہ کے ساتھ اپنی شاعری میں بیان کرتے ہیں۔‘‘

واقعی فریاد آزر کی شاعری عمدہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک بلند خیال رکھنے والے معیاری شاعر ہیں، فریاد آزر پر اسرار کیفیات کو رمز و کنایہ کے ذریعہ پیش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ موصوف عام روش سے ہٹ کر بھی معنوی و صوری اعتبار سے منفرد ثابت ہوتے ہیں، موضوعات اور مضامین کے خیال کا خاص آداب رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ فریاد آزر ایک منفرد لب و لہجہ کے شاعر ہیں۔

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے