غزلیں ۔۔۔ ڈاکٹر فریاد آزرؔ

صحرا سے العطش کی صدا آ رہی ہے پھر

تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے پھر

 

پھر بیعتِ یزید سے منکر ہوئے حسین

اور ظالموں کی فوج ستم ڈھا رہی ہے پھر

 

دوبارہ چکھ لیا نہ ہو ممنوعہ پھل کہیں

وہ بے لباسیوں میں گھری جا رہی ہے پھر

 

ہیں لوگ اپنے اپنے ہی خیموں کی فکر میں

اور سازشوں میں قوم بٹی جا رہی ہے پھر

 

اس نے تو جڑ سے کاٹ دیا تھا روایتاً

یہ سبز گھاس ہے کہ اُگی آ رہی ہے پھر

***

 

 

 

بے کراں شہرِ طلسمات سے آزادی دے

مجھ کو خوابوں کی حوالات سے آزادی دے

 

ورنہ ہم سانس بھی لینے کو ترس جائیں گے

سطحِ ’اوزون‘ کو فضلات سے آزادی دے

 

تھک گیا ہوں تری شطرنج کی بازی سے بہت

زندگی مجھ کو شہ و مات سے آزادی دے

 

یہ بدل دیں نہ جہنم میں زمیں کی جنت

اس پرستان کو جنّات سے آزادی دے

 

ایک مدت ہوئی محبوب وطن سے نکلے

اب سکندر کو فتوحات سے آزادی دے

 

میں بھی کچھ زینتِ آفاق بڑھاؤں شاید

تو اگر مجھ کو غمِ ذات سے آزادی دے

 

اِس گھٹا ٹوپ اندھیرے کی سیاہی کو ہٹا

دن دکھا مجھ کو بھی اب رات سے آزادی دے

***

 

 

 

 

تخیلات میں پھر تاج و تخت اُگنے لگے

زمیں ہٹی تو خلا میں درخت اُگنے لگے

 

جہاں فساد میں اعضائے جسم کٹ کے گرے

اُسی زمین سے ہم لخت لخت اُگنے لگے

 

پھر انتخاب کا موسم گزر گیا شاید

پھر اُس کے ہونٹوں پہ لہجے کرخت اُگنے لگے

 

کچھ اِس طرح انھیں بے رحمیوں سے کاٹا گیا

نحیف پودوں کے پتے بھی سخت اُگنے لگے

 

خزاں نصیبی کا بوڑھا شجر بھی خوش ہے بہت

کہ برگ شاخوں پہ کچھ نیک بخت اُگنے لگے

 

تو کیا ہمیں بھی سفر کا پیا م آنے کو ہے

خیال و خواب میں کیوں سبز رخت اُگنے لگے

***

 

 

یم بہ یم صحرا بہ صحرا نقشِ جاں جلتا ہوا

آتشِ نمرود میں سارا جہاں جلتا ہوا

 

پاؤں کے نیچے سلگتی ریت، صدیوں کا سفر

اور سر پر بارِ سقفِ آسماں جلتا ہوا

 

نوحؑ کی امت ہے کاغذ کی سبک کشتی میں اور

خواہشوں کا ایک بحرِ بیکراں جلتا ہوا

 

ایک جانب یاس کی سرحد سے لپٹا شہرِ کفر

دوسری جانب امیدوں کا جہاں جلتا ہوا

 

سارے منظر ایک پس منظر میں گم ہوتے ہوئے

سبز لمحوں کا سنہرا کارواں جلتا ہوا

 

جسم سے باہر سنہرے موسموں کا سبز لمس

روح کے اندر کوئی آتش فشاں جلتا ہوا

٭٭٭

 

 

کلام کرتا تھا میں اُس سے دعا کے لہجے میں

مگر وہ بول پڑا تھا خدا کے لہجے میں

 

زمین پھر اسی مرکز پہ جلد آ جائے

ندائے ’’کُن‘‘ میں سنوں ابتدا کے لہجے میں

 

پرندے لوہے کے، کنکر بموں کے پھینکتے ہیں

عذاب ہم پہ ہے کیوں ابرہہ کے لہجے میں

 

قدم ادھر ہی اٹھے جا رہے ہیں جس جانب

سموم بول رہی ہے صبا کے لہجے میں

 

کشش تو چاند سے کچھ کم نہیں ہے اس میں بھی

مگر وہ ملتا ہے اکثر خلا کے لہجے میں

 

نئی ہواؤں کی یلغار سے نمٹنے کو۔!

میں زہر پینے لگا ہوں دوا کے لہجے میں

٭٭٭

 

 

 

 

حدِّ نظر تک اپنے سوا کچھ وہاں نہ تھا

میں وہ زمین جس کا کوئی آسماں نہ تھا

 

سب میں کرائے داروں کے پائے گیے نشاں

جسموں کے شہر میں کوئی خالی مکاں نہ تھا

 

بچپن کے ساتھ ہو گیے بوڑھے تمام ذہن

ہم مفلسوں کے گھر میں کوئی نوجواں نہ تھا

 

چہرے سبھی کے لگتے تھے مہمانوں سے مگر

خود کے سوا کسی کا کوئی میزباں نہ تھا

 

لذت نہ مل سکی مری تخئیل کو کبھی

ورنہ مرے گناہ کا موسم کہاں نہ تھا

 

سب اُس کو پڑھ سکیں یہ ضروری نہ تھا مگر

تھا کون جسم جس کی اداؤں میں ہاں نہ تھا

 

ہر زاویے سے بول چکے تھے مرے بزرگ

باقی مرے لیے کوئی طرزِ بیاں نہ تھا

 

ان خواہشوں کی چھاؤں میں گزری تمام عمر

جن خواہشوں کے سر پہ کوئی سائباں نہ تھا

٭٭٭00

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے