غزلیں ۔۔۔ مقبول حسین

دو غزلہ

 

وُہ جن کے ظلم و ستم کی دُہائی دیتا ہے

تو ووٹ دے کے انہیں پھر خدائی دیتا ہے

 

یہ مَکر کرتا ہے حاکم کہ ہے مسیحا وُہ

وُہ ایسا ہے نہیں جیسا دکھائی دیتا ہے

 

ہر ایک بات پر اب صُوْر پھونکنا ہو گا

کہ میری قوم کو اونچا سنائی دیتا ہے

 

نہ ان کی دوڑ ہے مسجد سے اک قدم آگے

نہ ان کو ناک سے آگے دکھائی دیتا ہے

 

زباں سے آگ لگانا ہی جن کو آتا ہو

خدا کیوں ایسوں کو شعلہ نوائی دیتا ہے

 

میں ایک بند گلی میں کھڑا ہوں یوں مقبول

نہ رَہ نُما ہے نہ رستہ سجھائی دیتا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

وہ میرے ہاتھ میں جب بھی کلائی دیتا ہے

مجھے بہشت کا منظر دکھائی دیتا ہے

 

بھلے وُہ روز ہی داغِ جدائی دیتا ہے

مگر وُہ خواب تک اپنے رسائی دیتا ہے

 

وُہ اک تو دیتا ہے جی بھر کے حسن لوگوں کو

پھر اس کے ساتھ انہیں کج ادائی دیتا ہے

 

سکوں نہ اُن کو ہے، رکھتا ہے جن کو قید میں تُو

نہ ہی وُہ خوش ہیں جنہیں تُو رہائی دیتا ہے

 

مرے ہی زخم کا مرہم نہیں ہے اس کے پاس

جو سارے شہر کو دل کی دوائی دیتا ہے

 

وُہ خوش نصیب ہے ، مقبول تُو ملا اس کو

خدا کسی کو کم ایسے فدائی دیتا ہے

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے