غزلیں ۔۔۔ جلیل حیدر لاشاری

جاگے ہوؤں کو جب بھی جگانا پڑا مجھے

پتھر ہر ایک سمت سے کھانا پڑا مجھے

 

تم سے شکست جیت سے بڑھ کر تھی اس لیے

جشن اپنی ہار کا بھی منانا پڑا مجھے

 

تیری سخاوتوں کی بہت دھوم جب سنی

دست سوال اپنا گرانا پڑا مجھے

 

دیکھو رقابتوں پہ محبت کی سبقتیں

جس نے بھی تیرا پوچھا، بتانا پڑا مجھے

 

تم تو چلے گئے تھے نئے دوستوں کے ساتھ

خوابوں کا شہر پھر سے بسانا پڑا مجھے

٭٭٭

 

 

ابر پیاسوں کے لیے جتنا بھی مینہ برسائے گا

کچھ زمیں پی جائے گی، کچھ آسماں لے جائے گا

 

مہرباں جتنا بھی دریا ہو مگر میرا نصیب

پیاس کا صحرا کہیں سے ڈھونڈ کر لے آئے گا

 

اس قدر ہلکان مت ہو ڈھونڈنے میں اُس کو تُو

بے طلب یونہی کہیں اک روز وہ مل جائے گا

 

دفن کر دو آرزوؤں کو سرابوں میں کہیں

بوجھ ہلکا جانبِ منزل ذرا ہو جائے گا

 

برف پگھلے گی نہیں جب تک پہاڑوں پر جلیلؔ

ابر بھی سوکھے ہوئے دریاؤں کو ترسائے گا

٭٭٭

 

 

 

 

اب کہاں روگ نئے مجھ سے ہیں پالے جاتے؟

غم پرانے ہی نہیں مجھ سے سنبھالے جاتے

 

یہ نحیف اور شکستہ سے دل و جاں اپنے

پھر سے دنیا کے کرم پر نہیں ڈالے جاتے

 

یوں ترستے نہ کبھی دھوپ میں تم سایے کو

دل کے صحرا پہ جو اشکوں کی گھٹا لے جاتے

 

یوں تو دیواروں کے بھی کان ہوا کرتے ہیں

اُن تلک کیوں نہیں پھر میرے یہ نالے جاتے؟

 

اب کہاں اِن کو لیے پھرتا رہوں مَیں حیدرؔ

اپنی یادوں کا یہ ساماں تو اُٹھا لے جاتے

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے