افسانہ ’بجوٹ‘ کا تنقیدی مطالعہ ۔۔۔ ڈاکٹر عرشیہ جبین

افسانہ’ بجوٹ‘ احمد رشید کا ایک اہم اور دل کو چھونے والا افسانہ ہے۔ یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو بجوٹ ہے اور اولاد نہ پیدا کر نے کے عوض اسے سماج کی زیادتیوں کا شکار ہونا پڑتا ہے اور اپنے شوہر سے بے پناہ محبت کرنے کے باوجود اسے تحفہ میں طلاق سے نوازا جاتا ہے۔ اس کہانی کا پلاٹ سیدھا سادہ اور منظم ہے کہانی میں تجسس اس وقت قائم ہوتا ہے جب ڈاکٹر یہ کہتا ہے کہ عارف باپ نہیں بن سکتا تب قاری اس تجسس میں رہتا ہے کہ اب کیا ہو گا؟ کیوں کہ صابرہ کسی اور کو گود لینا چاہتی ہے اور عارف خود کی اولاد چاہتا ہے۔ لیکن ڈاکٹر کے جواب دینے کے بعد قاری سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ آگے کہانی میں کیا ہو گا؟ اس طرح کہانی میں شروع سے آخر تک تاثر بر قرار رہتا ہے اور کہانی سیدھے سادے اور فطری انداز میں آگے بڑھتی ہے۔

کہانی کا مرکزی کردار صابرہ ہے جو ایک نیک سیرت، شریف النفس، پاک دامن، وفادار شعار اور خدمت گذار بیوی ہے لیکن اسے نہ صرف اپنی محبت اور وفاؤں کا صلہ آخر کار طلاق کی صورت میں ملتا ہے بلکہ قصور نہ ہونے کے باوجود ایک عورت کی بے بسی اور مجبوری پر افسوس ہوتا ہے۔ عورت کی اس معصومیت پر حیرانی ہوتی ہے جب وہ شوہر کے قصور وار ہونے پر بھی خود کو ہی قصور وار گردانتی ہے جو اس کے کردار کی وفا شعاری اور محبت کی عکاسی کرتا ہے۔ مثلاً ایک اقتباس دیکھیے:

’’میں کیوں الزام دوں اپنے شریک حیات کو۔۔ نہیں۔۔ نہیں۔ شریک جز وقتی کو۔۔ جب قصور سب اپنا دکھائی دیتا ہے۔ عورت ہوں تو الاد کیوں نہیں؟ بنجر زمین پر ہل کتنا ہی لگے سر سبز نہیں ہوتی۔ گائے دودھ نہ دے قصائی کے کھونٹے سے باندھ دی جاتی ہے، گھر کے کھونٹے سے بندھے مفت میں دانہ پانی کھائے، دھرتی کا بوجھ کہلائے۔۔ لیکن۔۔ لیکن عورت ہونا خدا ہونا، نہیں ہوتا ہے۔۔ کیسے نادان ہوتے ہیں یہ مرد۔۔ صرف مرد ہی نہیں۔۔ عورتیں بھی۔‘‘

عارف صابرہ کا شوہر ہے جو اس سے محبت کرتا ہے اور اپنی بیوی سے ایک اولاد کی تمنا کرتا ہے۔ لیکن جب صابرہ اسے باوجود منتوں، مرادوں اور دعاؤں کے اولاد نہیں دے پاتی ہے تو اس کے کردار میں تبدیلی آتی ہے اور وہ اسے طلاق دینے پر آمادہ ہو جاتا ہے اور بے دلی سے اسے طلاق دے دیتا ہے۔ یہاں مرد کا ظلم و جبر اور مفاد پرستی جھلکتی ہے جس کی وفائیں عارضی اور وقتی ہیں جو کسی مفاد کے لیے بیوی سے وفائیں رکھتا ہے جب وہ مفاد پورا نہ کر پاتی ہے تو پھر وہ اسے ایک جھٹکے میں خود سے الگ کر دیتا ہے۔ ایک اقتباس دیکھیے جہاں ڈاکٹر جاوید کے پوچھنے پر جب وہ اپنی پہلی بیوی صابرہ کے بارے میں کہتا ہے، وہاں اس کی بے وفائی صاف جھلکتی ہے:

’’آپ کی پہلی بیوی کا کیا ہوا‘‘؟ ’’ڈاکٹر نے کریدتے ہوئے پوچھا۔

ضروری نہیں ہے بنجر زمین کی آبیاری کی جائے۔۔ میں نے اسے طلاق دے دی۔ عارف نے کہا۔

’’آپ نے برا کیا‘ ڈاکٹر نے سنجیدگی سے کہا۔

کیوں کہ تمہاری پہلی بیوی ایک صابر محتاط اور خود محفوظ عورت تھی۔

میز پر رکھی ہوئی الحیاتین سیرپ کی بوتل پر بچے کا ہاتھ لگنے سے نیچے گر گئی۔ اچانک چھٹاک کی آواز ہوئی، ڈسپنسری کی خاموشی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئی۔۔‘‘

اس کہانی میں ساس اور جیٹھانی کے کردار بھی ملتے ہیں جیٹھانی چوں کہ ماں ہے اس لیے وہ اکثر صابرہ کے بانجھ ہونے پر طعنہ دیتی ہے اور اسے برا بھلا کہتی ہے یہاں تک کہ اسے وہ عورت تک نہیں مانتی۔ چنانچہ جیٹھانی اور صابرہ کے درمیانی مکالمہ ملاحظہ ہو جہاں وہ اسے طعنہ دیتی نظر آتی ہے:

’’بجوٹ کے سایہ سے بھی نویلی دلہن کو بچنا چاہیے‘‘ جیٹھانی نے کہا تھا۔

’’باجی۔۔ میں کوئی بھوت ہوں‘‘ سہمی ہوئی مسکراہٹ ہونٹوں پر۔

’’میں نے کب کہا کہ تم بھوت ہو۔۔ لیکن عورت بھی نہیں‘‘ فیصلہ کن لب و لہجہ۔

’’یہ سوچ سراسر بدعت ہے۔‘‘

’’حقیقت ہے۔۔ (وقفہ)۔۔ بجوٹ ہونا بدعت ہے۔‘‘

وہ کسمسائی اور سہمے ہوئے انداز میں بولی۔‘‘

عورت کا بجوٹ ہونا یا بانجھ ہونا گناہ نہیں ہے لیکن سماج عورت کو جینے نہیں دیتا۔ اولاد پیدا کرنے کا سارا قصور عورت کا ہی ٹھہر تا ہے اس افسانہ میں تانیثی فکر بھی دکھائی دیتی ہے حالاں کہ احمد رشید ایک مرد افسانہ نگار ہے لیکن تانیثی فکر کو انھوں اس افسانہ میں بڑی خوبی سے دکھایا ہے عورت کا درد اس پر ہو رہے مظالم اور اس کا دھیما احتجاج سبھی صابرہ کی خود کلامی کے ذریعے ہمیں افسانے میں نظر آتا ہے۔ مثلاً جب اس پر طعنے کسے جاتے ہے تب وہ کہنے لگتی ہے:

’’بجوٹ ہونے میں میرا کیا قصور؟ دن رات جلنے کے لیے بجوٹ ہونا از خود نار جہنم ہے۔۔ زندہ رہنا بھی ہے اور جلنا بھی ہے۔۔ کیا میں اپنی مرضی سے بجوٹ ہوں؟ میرا بس چلے، صبح لڑکا، شام لڑکی پیدا کروں! ایسی برکت نازل ہو کہ آدمی کہ بس کر اللہ، رزق کہاں سے آئے؟ اور اللہ کہے رزاق ہوں میں۔۔ رزق کے خوف سے اپنی نسل کو مت قتل کرو۔۔ اے خالق! مجھے تو افسوس ہوتا ہے اپنے ہونے پر کہ مجھے تخلیق کار بنایا اور تخلیق سے ترسایا۔۔ ایسا سوچتے ہوئے میرے دو آنسو آنکھوں سے ڈھلکے۔۔ رخساروں پر پھسلے۔۔ موتی کی طرح دامن میں چنے اور سٹ پٹ زینے سے اتر گئی۔‘‘

اس اقتباس سے جہاں صابرہ کے دکھ درد اور بے بسی اور عورت ہونے کی مجبوری پر احتجاج دکھائی دیتا ہے وہاں سماج کی بالا دستی اور عورت پر ہو رہے مظالم کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی افسانہ نگار کے نقطہ نظر کا بھی علم ہوتا ہے کہ اللہ نے ہمیں الاد جیسی دولت سے نوازا تو ہم اس کی نا شکری بجا لاتے ہیں اور اپنی اولاد وں کو رزق کے ڈر سے پیدا ہونے سے پہلے ہی مار دیتے ہیں ایسے لوگوں کو غور و فکر کی طرف راغب کرنا افسانہ نگار کا خاص منشا معلوم ہوتا ہے کیوں اولاد کی قدر کرنی چاہیے اور اللہ کی نوازی ہوئی عنایت کی قدر کرنی چاہیے۔

افسانہ بجوٹ میں مکالمہ نگاری کے بڑے کامیاب نمونے ملتے ہیں۔ ان کے مکالمے اکثر طویل ہوتے ہیں۔ اکثر وہ اپنی بات کی وضاحت کے لیے طویل مکالموں سے کام لیتے ہیں انھوں نے اپنے مکالموں کے ذریعے کرداروں کی نفسیات اور ان کے جذبات و احساسات کی بھر پور عکاسی کی ہے۔ مثلاً صابرہ کے ابا توہم پرستی کے خلاف تھے اور صابرہ کی دوست منجو کی ماں صابرہ کو خوش نصیب مانتی تھی اور صابرہ کا ہاتھ کسی پنڈت کو دکھا کراس کے مستقبل کا پتہ لگانے کی بات کرتی ہے تب صابرہ کے والد کی ناراضگی ظاہر ہوتی ہے اسی بات کو افسانہ نگار نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ مکالموں کے ذریعے پیش کر کے ان کی نفسیاتی کیفیات کی بڑی عمدہ عکاسی کی ہے۔ مثلاً اقتباس دیکھیے:

’’منجو کی ماں نے کہا تھا‘‘ بھائی صاحب صابرہ بڑی بھاگوان ہے۔‘‘

ابّا جی نے چونک کر دیکھا ’’صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ ہوتا ہے۔‘‘

میں نے پنڈت جی کو ہاتھ دکھا یا تو بولے ’’بٹیا لکشمی پر سوئے گی۔ دودھو نہائے گی پوتو پھلے گی۔‘‘

ابّا جی نے ایک اچٹتی سی نگاہ منجو کی امّی پر ڈالی اور گہری آنکھوں سے سرتا پاؤں تک مجھے دیکھنے لگے۔ منجو کی امّی اس سمے چپ چاپ چلتی بنیں ویسے بھی وہ ابّا جی کی عزت کرتی تھیں اور ڈرتی بھی تھیں۔ وہ دروازے کو عبور کرنے تک انھیں گھورتے رہے۔

’’ہتھیلی دکھانا گناہ ہے‘‘ وہ بڑبڑائے۔ مخاطب ہو کر بولے تم نے تو ہاتھ دکھانا شروع کر دیے۔۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی۔۔ جو ہاتھ دکھاتے ہیں، منھ دکھانے کے لائق نہیں رہتے۔۔ اب تم دسویں درجہ میں ہو۔۔ عمر کے چودھویں سال میں ہو۔۔ چودھویں چاند کی طرح خوبصورت ہو۔۔ غیر مردوں کے ہاتھ میں یوں ہاتھ نہیں پکڑا دیتے۔‘‘

’’جی ابّا جی۔‘‘

’’مرد کا سب کچھ اچھا ہوتا ہے، نظر خراب ہوتی ہے۔‘‘

’’مطلب بینائی‘‘

’’بینائی نہیں۔۔ آنکھ۔۔ حفاظت کرو اپنی اور اپنی آنکھوں کی۔‘‘

’’میں نے سنا گرہ باندھا آج تک گرہ نہ کھولی۔‘‘

مذکورہ اقتباس سے صابرہ اور اس کے والد کے درمیان باپ بیٹی کے رشتے اور ان کے جذبات و احساسات کا علم ہوتا ہے۔ ساتھ ہی باپ کی نصیحت اور ان کی تربیت کے انداز کا بھی پتہ چلتا ہے جس میں صابرہ کی پرورش ہوئی تھی۔ غرض اس طرح کے بہت سے مکالمے اس افسانے میں ملتے ہیں جہاں کرداروں کے طبقے، پیشے، رشتے اور ان کی نفسیاتی و جذباتی کیفیات کی بہترین عکاسی کی گئی ہے۔

افسانہ بجوٹ میں مکالمہ نگاری کے ساتھ ساتھ منظر نگاری کا حسن بھی دکھا ئی دیتا ہے کہیں کہیں منظر نگاری کے ساتھ ساتھ جزئیات نگاری بھی نظر آتی ہے مثلاً اس افسانے میں بنگالی بابا کے یہاں صابرہ اور اس کے شوہر عارف جاتے ہیں تو وہاں کے ماحول کی بڑی حقیقی تصویر کشی کی گئی کہ پورا ماحول سانس لیتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اقتباس ملاحظہ کیجیے:

’’دونوں بنگالی بابا کی طرف چل دیے چوں کے ٹوکن اشراق سے پہلے بٹتے ہیں، دیر ہونے پر بنگالی بابا بیماروں اور بدحالوں کو نہیں دیکھتے، چاہے کتنی ہی ہنگامی ضرورت ہو۔ ایک عجیب سیکولر منظر وہاں طاری تھا۔ گیروے رنگ کے لباس میں ملبوس ایک لحیم شحیم، مٹکے کی طرح پیٹ کرسی پر رکھے شخص کی بڑی بڑی آنکھیں حلقہ سے باہر نکلی پڑ رہی تھیں، بیٹھا۔ ایک چوڑی چکلی میز مختلف رنگوں کی پرچیوں کی گڈیاں رکھی تھیں، ایک چھوٹی سی لکڑی کی پیٹی جس پر ’’دان دیں‘‘ اردو اور ہندی میں لکھا تھا۔ بائیں جانب انسانوں کی لمبی قطار کی طرف ماتھے پر لگے کالے تلک سے اشارہ کرتا۔ ہر شخص اپنی پریشانی بتا کر ایک رنگ کی پرچی لیتا، پیٹی میں سو کا نوٹ موڑ کر ڈالتا، موہ جال سے بچنے کا درس لیتا، بڑھ جاتا۔ عارف نے بھی اپنی ضرورت کے مطابق ہرے رنگ کی پرچی لی، میرے ہاتھ سے سو کا نوٹ پیٹی میں ڈلوایا۔‘‘

اسی سے منسلک ایک اور منظر دیکھیے جس میں پورا ماحول اپنی جزئیات کے ساتھ آنکھوں میں رقص کرتا نظر آئے گا۔

’’دوسرے مرحلے سے گزرنے کے بعد ایک وسیع و عریض کمرے میں داخل ہوئے۔ دروازے کے دائیں طرف ایک تخت جو دیوار سے سٹا ہوا تھا جس پر ایرانی قالین بچھی تھی، دیوار پر پنج تن پاک کا کلینڈر اور اسی کے برابر مکان اور دکان کی برکت کا تعویذ دیوار پر لٹکا تھا۔ تخت پر زعفران کی دوات اور تین قلم اور دو انچ چوڑی کاغذ کی پٹیوں کا بنڈل رکھا تھا۔ دیوار سے چپکی مسند سے کمر لگائے ایک سیاہ فام، سیاہ باریش، ہرے کرتے پائجامے میں ملبوس سر پر سبز رنگ کی ٹوپی لگائے شخص بیٹھا تھا۔ اس کے دائیں ہاتھ میں تسبیح، شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کے اشارے سے صندل کے دانے پلٹ رہا تھا۔ اس کی بند آنکھیں وا ہوئیں، ساکت ہونٹ ہلے، ’’سر پٹک کر مایوسی کی پوٹلی کھولنے آج آئی ہو‘‘ بابا نے لعن کیا۔

ان مذکورہ مثالوں سے منظر کشی اور جزئیات نگاری پر افسانہ نگار کی دسترس کا علم ہوتا ہے اور ساتھ ہی زبان و بیان پر بھی ان کی گرفت کا پتہ چلتا ہے۔ احمد رشید نے اس افسانے میں ماحول اور کہانی کی سچویشن کے اعتبار سے مناظر کو پیش کیے ہیں۔ انھوں نے کرداروں کے مسائل اور کہانی کی ضرورتوں کے تحت ماحول کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔ کرداروں کے جذبات اور ان کی نفسیات کی عکاسی بھی ان کے مناظر کے ذریعے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مناظر حقیقی محسوس ہوتے ہیں اور قاری خود کو کہانی کا ایک جز تصور کرنے لگتا ہے۔

افسانہ’ بجوٹ‘ میں اسلوب نگاری کا بھی کمال نظر آتا ہے۔ احمد رشید کو زبان و بیان پر بھر پور قدرت حاصل ہے انھوں کرداروں کے جذبات اور پیشے کے اعتبار سے زبان کا استعمال کیا ہے مثلاً ساس، جیٹھانی، شوہر، باپ، ماں اور بیٹی کے علاوہ ڈاکٹر اور پھر عارف کے ننھے سے بیٹے حمزہ کی تتلی زبان کے ذریعے مکالمے ادا کروا کر ان تمام کرداروں کی شخصیات اور ان کی نفسیات کی بڑی اچھی عکاسی کی ہے۔ اسلوب کی لطافت اور دلکشی پورے افسانے میں دکھائی دیتی ہے۔ ایک مثال ملاحظہ کیجیے جب ڈاکٹر کے یہاں عارف اور صابرہ جاتے ہیں اور ڈاکٹر عارف کے باپ نہ بن سکنے کی خبر سناتا ہے تب صابرہ کے جذبات کو احتجاجی انداز میں بڑے شگفتہ اسلوب کے ذریعے بیان کیا گیا ہے:

’’اولاد کی تمنا لیے ہم نے کلینک کے لیے راہ نکالی۔ ڈاکٹر نے بڑی احتیاط اور تبحرّ نگاہی سے ایک ایک ٹسٹ کیا دوسرے دن رپورٹ ہاتھ تھماتے ہوئے ٹکا سا جواب دیا ’’آپ باپ نہیں بن سکتے۔‘‘ میں آج بھی حیران ہوں کہ مرد جب باپ نہیں بن سکتا تو عورت کیسے ماں بن جائے گی؟ یوں تو کن سے دنیا فیکوں ہو گئی۔ لیکن آنکھیں کھول کر جب ذرا اس زمین کی روئیداد گی دیکھتی ہوں تو ٹکڑے ٹکڑے بادل آسمان پر آہستہ آہستہ باہم جڑتے ہیں پھر ایک کثیف ابر بنتا ہے اور بارش کے قطرے ٹپکتے ہیں لیکن یہ بھی ضروری نہیں ہے۔ اکثر کثیف بادل ایک دوسرے میں سمٹنے کے بعد بھی زمین بارش سے محروم رہ جاتی ہے۔‘‘

افسانہ نگار نے نہایت خوبصورت استعاراتی انداز میں صابرہ کے جذبات کی عکاسی کی ہے۔ کیوں کہ شوہر کا قصور ہوتے ہوئے بھی اولاد کی محرومی کا دکھ، دنیاو سماج کے طعنے اور بجوٹ ہونے کا الزام سب کچھ صابرہ کے حصے میں آتا ہے لیکن وہ اپنے ہی غم میں ڈوب جاتی ہے، صبر کرتی ہے اور اپنے کردار کی شرافت اور وفا شعاری کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ خود سے احتجاج کرتی ہے مگر خود سے لڑنے کے باوجود بھی وہ جیت نہیں پاتی ہے کیوں کہ یہ ظالم سماج صابرہ کے ساتھ نا انصافی کرتے تھکتا نہیں ہے۔ اسی کی وفاؤں اور پاکیزگی کا صلہ اسے طلاق کی صورت میں ملتا ہے اور قاری افسانے کے اس نا خوشگوار اختتام پر نہ صرف دکھ اور غم سے دوچار ہوتا ہے بلکہ بہت دیر تک اور بہت دور تک اپنی سوچ کے اتھاہ سمندر میں غوطے لگاتا ہے کہ آخر صابرہ کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ افسانے کا اختتام پر تجسس ہے جو قاری کو غور فکر کی دعوت دیتا ہے۔

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے